ڈرامہ: (تاریخ ،روایت اور عصری تقاضے)

گزشتہ چند ماہ قبل جناب جلیس سلاسل نے ایک کتاب تبصرے کے لیے دی۔ سیاست کے علاوہ ڈرامہ، فلم، تھیٹر بھی ہماری دلچسپی کا محور رہے ہیں، بالخصوص اپنے دورِ طالب علمی میں پی ٹی وی کے ڈرامے یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دلجمعی سے دیکھتے جیسے ہمیں ڈرامے میں پی ایچ ڈی کرنا ہو۔ کتاب ”ڈرامہ“ جب ہاتھ میں آئی تو مطالعہ شروع کیا۔ اپنے سرہانے کتابوں کے ڈھیر میں اس نے بھی جگہ بنالی۔ آہستہ آہستہ کتاب کو چاٹتے ہوئے یہ ذہن میں تھا کہ اس پر تبصرہ لکھنا ہے، پھر خیال آیا اتنی جلدی بھی کیا ہے! لکھ دیں گے، کتاب سے تو فائدہ اٹھالیں۔ جون کے آغاز میں تبصرہ لکھنے کا پورا موڈ اور فرصت تھی کہ اچانک لاہور چلے گئے۔ سرہانے پر دھری کتابیں الماری میں اور ہم لاہور میں۔ وہاں سے آنے کے بعد اور کارہائے دراز میں مصروف رہے جبکہ کتاب ”ڈرامہ“ دماغ سے ہی نکل گئی۔ اچانک جلیس صاحب کا خیال آیا تو ڈرامہ بھی در آیا۔ کتابوں کی الماری کا رخ کیا جہاں کچھ کتابیں تو بڑے سلیقے سے براجمان ہوتی ہیں لیکن کچھ ہم نالائقوں کے سبب دھلے ہوئے کپڑوں کی طرح الماری میں ٹھونس دی جاتی ہیں۔ لیکن کتاب ”ڈرامہ“ کے خوبصورت سرورق نے فوراً اپنی چھب دکھا دی۔ یوں پھر چند ماہ بعد یہ کتاب ہمارے ہاتھوں میں تھی۔ سب سے پہلے تو ہم اس کتاب کی پبلشنگ کی تعریف کریں گے۔ بہترین کاغذ، خوبصورت و عمدہ کمپوزنگ کے ساتھ کتاب کے مندرجات میں بھی بہترین نفاست کا بھرپور اظہار موجود ہے۔ کتاب کا انتساب اسلم اظہر کے نام ہے۔ مصنف نے ڈرامے کی الف ب سے لے کر ی تک کی کہانی کو مختلف پیرائے اور سرخیوں میں بیان کیا ہے۔ ظفر معراج اور اصغر ندیم سید کے معرکۃ الآرا تبصرے و تعارف نے ڈرامہ کی دریافت کو تخلیق کار کی تحقیق سے اس طرح جوڑ دیا ہے کہ قاری کتاب کو شروع سے آخر تک ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اصغر ندیم سید لکھتے ہیں ”افضل مراد نے ڈرامے پر تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی کام کرکے ایک بہت بڑی کمی کو پورا کیا ہے۔ ہمارے ہاں اردو میں شاید ایسی کتاب نہیں ہے۔“

حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو ”ڈرامہ“ کیا ہے، مصنف کے خیال میں خیال کی گفتگو کی نئی جہت کا عکس ہے۔ افضل مراد نے کتاب لکھنے سے قبل ڈرامے کے موضوع پر سیر حاصل تحقیق کی ہے جس کی جابجا جھلکیاں آپ کو اس کتاب میں ملیں گی۔ ڈرامے کے تاریخی تناظر میں پاکستان میں ڈرامے کی تاریخ بالخصوص بلوچستان میں ڈرامے کی روایت پر بھی قاری کو بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ کوئٹہ ٹی وی کے اردو ڈراموں کے بارے میں بھی مصنف نے ڈراموں کے نام، پروڈیوسرز اور فنکاروں کے نام تحریر کیے ہیں۔ افضل مراد کی یہ تحقیقی و تاریخی کاوش ہم جیسے ڈرامہ لورز کے لیے ہی دلچسپ نہیں ہے بلکہ یہ کتاب شعبہ ابلاغیات کے طلبہ و اساتذہ کے لیے بھی بہترین ریفرنس بک ہے، ساتھ ہی ساتھ اگر ڈراموں میں کام کرنے والے فنکاروں کو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرایا جائے تو نہ صرف انہیں ڈرامے کی اصل بنیاد سے آگہی ہوگی بلکہ وہ ڈرامہ جیسی صنف میں مزید بہتر کام کرسکیں گے۔

کتاب کا سرورق بہت ذومعنی ہے پتلی تماشہ کی طرح۔ کیا ڈرامہ گر بھی کوئی اور ہے؟ کتاب علم وادب پبلشرز کراچی نے شائع کی ہے۔ کتاب کی قیمت پانچ سو روپے ہے جو قطعی زیادہ نہیں۔ جس ملک میں ہزار پانچ سو کی پاکٹ منی سے بچے زنگر برگر کھالیتے ہوں وہاں اچھی کتاب کے لیے ہر مہینے کم از کم ہزار پانچ سو تو خرچ کرنے چاہئیں۔