پاکستانی ادب کے معمار پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل شخصیت اور فن

’’پاکستانی ادب کے معمار‘‘ سیریز کی تازہ تصنیف ڈاکٹر معین الدین عقیل کی شخصیت کے حوالے سے شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب علم و ادب کی بین الاقوامی شخصیت ہیں، وہ بہ یک وقت محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات، ماہر ِادبیات اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی علمی، تخلیقی اور تدریسی زندگی کو نصف صدی گزر چکی ہے۔ ان کی علمی خدمات کی وجہ سے ان کی شخصیت اور فن پر کتاب بہت پہلے شائع ہونا چاہیے تھی، تاہم ’’دیر آید درست آید‘‘ کی مانند یہ خوش آئند ہے۔

مصنفہ ڈاکٹر صائمہ ذیشان نے جو خود اردو ادب کی تدریس سے وابستہ ہیں اس کتاب میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کے فکر و فن کے تمام اہم پہلوئوں کا احاطہ بڑی کامیابی سے کیا ہے۔ ابھی حال ہی میں ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ’’اردو ادب کی تحریک… ارتقائی و فکری مطالعہ‘‘ مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے جو آج کے عمومی رجحان سے مختلف ہے۔ اس مقالے نے اکابرِ علم و ادب سے داد و ستائش حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منتخب کردہ تحقیقی تصنیف کا ایک خاص مقصد و غایت مطالعہ ہے جس میں غیر جانب داری، سچائی اور نظریہ پاکستان کی حقیقی روح کے ساتھ کامل مطابقت نظر آتی ہے۔ یہ کتاب تحقیقی کام کرنے والوں اور خصوصاً طلبہ کے لیے مفید ہے۔ کتاب سفید کاغذ پر بہترین شائع کی گئی ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔