جماعت اسلامی کا لاہور میں’’حق دو کسان مارچ‘‘ اور دھرنا

پنجاب میں گندم کے بحران کے خلاف جماعت اسلامی لاہور کے زیراہتمام مسجد شہداء سے وزیراعلیٰ پنجاب ہائوس تک شدید گرمی میں احتجاجی مارچ کیا گیا اور علامتی دھرنا بھی دیا گیا۔ ’’حق دو کسان مارچ‘‘ کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان، امیرالعظیم، لیاقت بلوچ، صدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین خان، جاوید قصوری، ضیاء الدین انصاری، رائو محمد ظفر، رسل خان بابر، نصراللہ گورائیہ، ڈاکٹر طارق سلیم اور دیگر نے کی۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے کسان بورڈ کے پلیٹ فارم سے ہزاروں کسان اس مارچ کا حصہ تھے جنہوں نے سرکاری طور پر کسانوں سے گندم نہ خریدنے کو ان کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ کسان مارچ میں شرکاء کا شدید غصہ اس بات کا غماز تھا کہ کسان حکومتی رویّے سے خوش نہیں ہیں۔ جس طرح ریت کو مٹھی میں قید نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح پنجاب کا کسان اب دبنے والا نہیں، حافظ نعیم الرحمان نے کسانوں کو بھی زبان دے دی ہے۔ جماعت اسلامی کا حق دو کسان مارچ مکمل طور پر پُرامن رہا۔ مارچ کی راہ میں پنجاب اسمبلی، گورنر ہائوس اور دیگر عمارتیں بھی آئیں لیکن ڈسپلن دیدنی تھا جو قابلِ تعریف ہے۔

وزیراعلیٰ ہائوس کے باہر علامتی دھرنا دیا گیا جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سمیت پوری قیادت نے پُرجوش خطابات کیے جن میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے مریم نواز کو ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب ماننے سے انکار کرتے ہوئے فارم 47 کی پیداوار کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو برباد کرنے والے کبھی خوشحال نہیں رہ سکیں گے۔ اب کسانوں کو چار سو ارب بانٹنے کے نام پر دھوکہ دیا جائے گا۔ حکمرانوں نے زیادہ سے زیادہ مہمات چلائیں کہ کسان گندم اگائے۔ جب کسان نے زیادہ گندم اگانے کے لیے کام شروع کیا تو یوریا موجود نہیں تھی، جعلی ادویہ مارکیٹ میں کسانوں کو مہنگے داموں دی گئیں۔ یہ تمام مافیا حکومت کا حصہ ہوتے ہیں جو کسان کی محنت اور کمائی کھا جاتے ہیں۔ کسان نے گندم اگالی، جب کاٹنے کا وقت آیا تو حکومت نے کہا کہ ہم خریداری نہیں کریں گے۔ حکومت نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی مسلم لیگ (ن) سے پورا حساب لے گی، مسلم لیگ (ن) کسانوں کو برباد کرکے خود برباد ہوجائے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے مریم نواز کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بھتیجی صاحبہ نے کہا کہ 400 ارب روپے کسانوں کو دیں گے۔ اگر تم 400 ارب روپے کی گندم خرید لیتیں تو یہ مسئلہ ہی حل ہوجاتا۔ کسان اب اگلی فصل کی تیاری میں مصروف ہوتا۔ خزانہ خالی ہے، اب یہ 400 ارب روپیہ کہاں سے آئے گا؟ صرف چند فیصد کسانوں تک آپ کا کیش پہنچے گا، باقی سب لوٹ مار ہوگی اور فراڈ ہوگا۔ یہ مافیا ہے جس کے خلاف بڑی تحریک چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ لوگ پہلے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک ملک پر مسلط رہے، پھر نگران حکومت بھی انہی کا تسلسل تھی، اور اب پھر ان کی حکومت ہے، ان چوبیس مہینوں میں ساڑھے تین ہزار ارب روپے ملک سے باہر لے گئے، انہوں نے دبئی میں ساڑھے تین ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ تم حکومت تو پاکستان میں کرو لیکن سرمایہ کاری باہر کرو! حکمران لوگوں سے کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ لے کر آئو، جب کہ ہمارے خون پسینے کی کمائی باہر لے جاتے ہیں۔ یہ دہرا معیار اب مزید نہیں چلے گا، سب کو حساب دینا پڑے گا۔ فوج کے جرنیلوں کو بھی حساب دینا پڑے گا۔ بیوروکریٹس کو بھی حساب دینا پڑے گا۔ جاگیرداروں کو بھی حساب دینا پڑے گا۔ مسلم لیگ (ن) کو حساب دینا پڑے گا۔ صدر آصف زرداری اور ان کے پورے ٹبر کو حساب دینا پڑے گا۔ تم نے ہمارے پیسے یہاں سے دبئی کیوں ٹرانسفر کیے ہیں؟ حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تو صرف ایک دبئی ہے۔ آسٹریلیا، انگلینڈ، امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں ان حکمرانوں کی سرمایہ کاری اور دولت ہے۔ یہ لوگ سیاست اور حکمرانی یہاں کرتے ہیں جب کہ اپنی دولت محفوظ مقامات پر منتقل کرکے عوام کا لہو چوستے ہیں۔ اب ان کا مزید قبضہ اس ملک پر نہیں رہے گا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کسان اور عوام پیٹرول اور گیس پر ٹیکس دیتے ہیں، لیکن پھر بھی بجلی کے بم انہی پر گرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے غلام اپنی عیاشیوںکے لیے عوام کو لوٹ رہے ہیں جب کہ ان کی تجوریاں بھر رہی ہیں، ان سے اپنا حق چھین کر لینا ہوگا۔ عوام خیرات نہیں حق مانگ رہے ہیں۔ مسئلہ صرف گندم تک محدود نہیں ہے۔ آگے مسئلہ چاول، گنے اور شوگر مافیا کا ہے۔اسلام آباد آنے کی جلد کال دیں گے جہاں عوام اور کسان کے حق کی آواز توانا طریقے سے بلند کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی 25 کروڑ لوگوں کا مقدمہ لڑے گی۔ یہ مقدمہ عدالتوں اور شاہراہوں پر لڑا جائے گا۔ گھروں اور ایوانوں میں بھی مافیا کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور ان ایوانوں کا گھیرائو بھی ہوگا۔ کسان ایک بڑی تحریک اور جدوجہد کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوجائیں۔ اس تحریک میں گرمی، سردی اور برسات ہوگی، قید و بند کی صعوبتیں بھی ہوں گی۔ کسان اپنے نقصانات کا اندراج جماعت اسلامی کے دفاتر میں کروائیں۔ حکومت سے کسانوں کی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ پنجاب کے علاوہ سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کا بھی کسان پریشان ہے۔ ہر جگہ معاشی دہشت گردی ہے۔ مظلوموں کو دبایا جارہا ہے۔ ہر تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر کسانوں کے نقصانات کا اندراج کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے ملک بھر کے دفاتر اب کسانوں کے دفاتر ہیں جہاں مظلوم کسانوں کی دادرسی کی جائے گی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت اب مزید 400 ارب روپے کی لوٹ مار کیسے کرتی ہے۔ یہ چار سو ارب روپیہ کسی کے والد کی کمائی نہیں بلکہ عوام کا پیسہ ہے جس کو جماعت اسلامی ضائع نہیں ہونے دے گی۔ ہم اپنے تمام اداروں اور فوج کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ چند لوگ فوج کے پورے ادارے کو یرغمال بناکر نفرتیں سمیٹ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر سے سبق کیوں حاصل نہیں کرتے؟ اپنے دشمنوں کو کیوں موقع خود فراہم کیا جاتا ہے؟ تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں واپس چلے جائیں ورنہ تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جج بھی انصاف فراہم کریں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے جب ان کو ان کا فرض یاد کروایا جاتا ہے۔ آج کیوں عام انسان کو انصاف نہیں ملتا؟ حق دار کو اس کا حق نہیں ملتا؟ کیوں دھرنے دینے پڑتے ہیں؟

حافظ نعیم الرحمان نے قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنا کیوں ناراض ہوتے ہیں، ذرا ہمت کریں اور اعلان کریں کہ فارم 45 لے کر آجائو ہم جوڈیشل کمیشن بناتے ہیں، جس کا فارم 45 ہوگا ہم اس کو کامیاب قرار دیں گے۔ یہ کوئی ناجائز بات نہیں ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اگر ہمت ہے تو یہ کام کرو۔ اگر آپ لوگ کہیں اور سے ڈکٹیشن لیتے ہیں تو اب یہ نہیں کرسکتے۔ اگر عدلیہ ملک کے عوام کو عدل و انصاف فراہم نہیں کر سکتی تو بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان افسران ان کرسیوں کو فی الفور چھوڑ دیں۔ مظلوم عوام کو اگر یوں ہی چھوڑ دیا گیا تو ملک بھر میں انارکی پھیل جائے گی۔