اکیسویں قسط
یہ ایوبی مارشل لا کا دور تھا اور مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان سرکاری اداروں اور ملازمین کے بارے میں اس طرح کے فیصلے صادر کرتے رہتے تھے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں ڈاکٹر صاحب کو اپنی ذمہ داری پر بطور پرنسپل بحال کردیا گیا۔ جب آپ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے تو ذمہ داری سے فارغ ہوگئے۔ طلبہ اور اساتذہ نے بڑی عقیدت کے ساتھ آپ کو الوداع کہا۔ آپ کے بعد پروفیسر محمد رشید پرنسپل مقرر ہوئے۔ آپ بھی ایک علمی شخصیت تھے، مگر ڈاکٹر نذیر احمد کی طرح عوامی مزاج نہیں رکھتے تھے۔ آپ کا شعبہ معاشیات تھا۔ راقم کے کچھ زیادہ مراسم تو ڈاکٹر نذیر سے قائم نہ ہوسکے کیوں کہ ہمارے داخلے کے مختصر عرصے کے بعد آپ کی ریٹائرمنٹ ہوگئی اور آپ کی جگہ نئے پرنسپل کا تقرر ہوگیا، تاہم سرِراہے کالج کیمپس میں مرحوم سے ایک دو مرتبہ ملاقات ہوئی، سلام کیا اور ہاتھ ملایا تو احساس ہوا کہ آپ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک اور طلبہ سے پیار کرنے والے استاد ہیں۔
نئے پرنسپل پروفیسر محمد رشید سے دو سال کے عرصے میں بہت دفعہ ملاقاتیں ہوئیں اور کئی معاملات پر ان سے رہنمائی اور تعاون حاصل کیا۔ ہمارے عربی زبان کے استاد آغا عبدالستار تھے۔ ان کے علاوہ پروفیسر عبدالقیوم بٹ نے بھی ہمیں عربی پڑھائی۔ دونوں اساتذہ بہت علمی و ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ کالج کے تمام اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ بہت اعلیٰ قابلیت اور مہارت بھی رکھتے تھے۔ سبھی اپنے اپنے مضامین میں بہترین مدرس تھے۔ بہت سے اساتذہ کے چہرے آنکھوں کے سامنے آتے ہیں، مگر نام یاد نہیں رہے۔ انگریزی کے استاد اپنی کلاس میں ایسا دلچسپ ماحول پیدا کرتے تھے کہ زبان اور اس کی باریکیاں سمجھنے کے ساتھ طلبہ کو امتحان میںکامیابی کے لیے رہنمائی بھی ملتی تھی۔
مختلف مضامین میں ہمارے کلاس فیلوز مختلف سیاسی و معاشی پس منظر کے مالک تھے۔ کئی طلبہ اپنی مرسڈیز اور شورلیٹ گاڑیوں میں کالج آتے اور واپس جاتے۔ بعض کے ڈرائیور انھیں چھوڑ کے جاتے اور پھر انھیں چھٹی کے وقت واپس لے کر جاتے، جب کہ بعض خود اپنی گاڑیاں ڈرائیو کرتے۔ ٹیوٹا، ہنڈا اور مزدا گاڑیاں بھی اساتذہ و طلبہ کے زیر استعمال ہوتی تھیں۔ آج کل تو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ اُس زمانے میں عام کالجوں میں چند ایک طلبہ ہی ایسے ہوتے تھے جو موٹرسائیکل پر تعلیم گاہوں میں آتے ہوں۔ عام طور پر بائیسکل ہی استعمال ہوتی تھی۔ جی سی میں البتہ پارکنگ میں بڑی چھوٹی گاڑیوں، اسکوٹروں اور موٹر سائیکلوں کی بھرمار ہوتی تھی۔
عبدالغنی ثمین، شاہد محمود ندیم، اجمل نیازی، اعجاز جنجوعہ، حق نواز سکھیرا، جاوید ممتاز دولتانہ (سابق وزیراعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ کے فرزند)، حسین فاروق مودودی ابنِ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، نواب زادہ غضنفر علی گُل(سابق مرکزی وزیر)، بشیر فاروقی (سابق بیوروکریٹ)، سید شبیر بخاری (صدر اسٹوڈنٹس یونین جی سی کالج)، عطا محمد مانیکا(سیاست دان، سابق وزیر)، سلیم کیانی، سرمد صہبائی اور بہت سے دیگر اہم لوگ ہمارے کلاس فیلو یا کالج اور ہاسٹل فیلو اور بے تکلف دوست تھے۔ غضنفر علی گُل کا تعلق ضلع گجرات سے ہے۔ کئی سال تک پیپلزپارٹی کے ایم این اے اور وزیر رہے۔ آج کل بھی موصوف میدانِ سیاست میں ہیں، مگر پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر نون لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ زبان میں لکنت ہے، مگر اس کے باوجود پنجابی زبان کے مباحثوں میں کالج میں پوزیشن حاصل کرلیا کرتے تھے۔ بڑے بے تکلف اور مخلص دوست ہیں۔ کالج کے زمانے میں کلین شیو اور مکمل انگریزی کلچر کے نمائندے تھے۔ برطانیہ گئے تو واپسی پر بھرپور داڑھی سے چہرہ مزین تھا جو اب تک ان کی بزرگی کی ترجمانی کرتا ہے۔ گوجر برادری کے ناتے بڑی محبت کیا کرتے تھے، اگرچہ میں برادری کو محض تعارف تصور کرتا ہوں۔
جاوید دولتانہ غیر معمولی طور پر بھاری بھرکم جسم اور انتہائی سادہ طبیعت کے مالک، بڑے سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے طالب علم تھے۔ ان کے والد میاں ممتاز دولتانہ ملک کے چند چوٹی کے سیاست دانوں اور اہلِ اقتدار میں سے تھے۔ اُس دور کا ایک عجیب اور افسوس ناک واقعہ جو اب تک یاد ہے، جاوید دولتانہ اور حسین فاروق مودودی سے متعلق ہے۔ جب ہماری پولیٹکل سائنس اور انگلش کی کلاس ختم ہوتی تو حسین فاروق پچھلی صف میں آکر جاوید دولتانہ، جو ابھی تک کرسی پر بیٹھے ہوتے تھے، کے سر پہ زور زور سے تھپڑ مارتے۔ دولتانہ بے چارہ بھاری بھرکم ہونے کی وجہ سے بھاگ دوڑ نہیں سکتا تھا، اس لیے زبان سے جو گالیاں دینا شروع کرتا تو ہم جمعیت کے ساتھیوں کو سخت کوفت ہوتی۔ میں نے ایک روز جاوید دولتانہ سے کہا کہ وہ گندی زبان نہ استعمال کیا کرے، تو اس نے بجا طور پر جواب دیا کہ آپ اس…کو بھی سمجھائیں نا، وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائے۔
ایک دن میں نے حسین فاروق کو اس کام سے روکا اور ہاتھ پکڑ کر کلاس سے باہر لایا۔ حسین بعد میں تو ہمارے اچھے دوست بن گئے تھے، مگر اُس زمانے میں موصوف کے اندر بڑی اکڑفوں تھی۔ میرے سمجھانے پر وہ کہنے لگے: آپ کو اس مسئلے سے کیا غرض ہے! میں جو مرضی کروں۔ میں نے کہا: اللہ کے بندے! جب وہ تم کو ننگی گالیاں دے رہا ہوتا ہے اور سب لڑکے لڑکیاں سن رہے اور کئی قہقہے بھی لگا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں انتہائی اذیت پہنچتی ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ وہ تمھیں ہی نہیں ہمیں بھی گالیاں دے رہا ہے۔ تمھاری ماں بہن کو سید مودودیؒ کی نسبت سے ہم اپنی ماں بہن سمجھتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے تو یہاں تک کہا کہ بھائی! اگر تم نے یہ حرکت نہ چھوڑی تو ہمیں کچھ اور کرنا پڑے گا۔
یاد پڑتا ہے کہ نیوہاسٹل میں سپرنٹنڈنٹ پروفیسر محمد امجد تھے جو بہت نفیس انسان تھے۔ [ہمارے دوست محمد یونس کا خیال ہے کہ ان کا نام کچھ اور تھا۔ بہرحال میرے ذہن میں تو یہی نام آتا ہے۔] ہاسٹل کا نظم و ضبط مثالی تھا۔ طلبہ رات کو ایک طے شدہ وقت کے بعد ہاسٹل کے اندر داخل نہیں ہوسکتے تھے، اِلاّ یہ کہ وہ چھٹی لے کر گھر یا کہیں اور گئے ہوں اور واپسی پر دیر ہوگئی ہو۔ اسی طرح میس میں ناشتے، ظہرانے، عشائیے کا بھی ٹائم ٹیبل طے شدہ اور منظم تھا۔ ایک یادگار بات یہ تھی کہ ہاسٹل کے اندر مغرب کی جانب بیرونی دیوار کے ساتھ ایک مسجد تھی جہاں طلبہ اور ملازمین پانچ وقت باجماعت نماز ادا کرتے تھے۔ مسجد کے اندر باقاعدہ سرکاری اسکیل کے ساتھ ایک امام صاحب متعین تھے جو دینی علوم کے ساتھ عصری علوم بھی پڑھے ہوئے تھے۔
امام صاحب کا مزاج قدرے سخت تھا۔ بعض معاملات میں طلبہ کو اُن سے کوئی اختلاف ہوتا تو وہ بات سننے کے بجائے سختی پر اتر آتے اور بلاوجہ درشت الفاظ استعمال کرتے۔ ایک دن کچھ طلبہ نے سپرنٹنڈنٹ صاحب سے شکایت کی تو آپ نے ایک معاون دفتر کو امام صاحب کی خدمت میں بھیجا کہ وہ سپرنٹنڈنٹ صاحب کے دفتر میں تشریف لائیں۔ جب ان کو پیغام دیا گیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ میں چپڑاسی اور چوکیدار نہیں ہوں، امام ہوں! مجھ سے کوئی کام ہے تو محترم پروفیسر صاحب خود میرے پاس تشریف لے آئیں۔ جب پروفیسر صاحب کو یہ پیغام ملا تو آپ مسکرائے اورفرمایا: امام مسجد نہ ہوئے امام ابوحنیفہؒ ہوگئے۔ پھر غالباً امام صاحب کی چھٹی کرا دی گئی، یا کہیں اور تبادلہ ہوگیا، اچھی طرح یاد نہیں ہے۔
گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج سول لائنز ساتھ ساتھ تھے۔ دونوںکے درمیان کھیل اور دیگر شعبوں میں مقابلے بھی ہوتے تھے۔ ہمیں ان مقابلوں سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اسلامیہ کالج میں ہمارے کئی جمعیتی ساتھی زیر تعلیم تھے، وہاں جانا آنا رہتا تھا۔ اسلامیہ کالج کیمپس کے کانفرنس ہال اور سول لائنز ہاسٹل کی مسجد میں ہمارے اچھے تنظیمی و دعوتی پروگرام ہوجایا کرتے تھے۔ برادر محترم چودھری محمد صدیق اسلامیہ کالج میں زیر تعلیم تھے۔ آپ تحریک اسلامی کے مشہور پنجابی شاعر جناب عبداللہ شاکر کے قریبی عزیز تھے۔ صدیق صاحب کالج میں حلقۂ رفقا کے ناظم تھے۔ ناظم صاحب اور ان کی ٹیم کی دعوت پر مجھے اکثر وہاں کے پروگراموں میں شرکت کا موقع ملتا تھا۔ 1966ء کے آغاز میں معاہدۂ تاشقند کے موقع پر پورے ملک میں، تاشقند کانفرنس میں حکومت کی ناکام سفارت کاری کے خلاف احتجاج ہورہے تھے۔ اُس دور میں بہت سے اہلِ قلم نے اس موضوع پر تجزیے اور مضامین اخبارات و رسائل میں لکھے تھے۔
اتفاق سے میرا اس روز اسلامیہ کالج میں بعد نمازِ فجر پہلے سے طے شدہ ایک درسِ قرآن تھا۔ میں نے مظلومینِ کشمیر کے حق میں قرآن مجید سے سورۂ نساء کی آیات 75-76کا درس دیا۔ اس درس کے دوران میں نے معاہدۂ تاشقند اور اس میں حکومتِ پاکستان کی نااہلی کو ہدفِ تنقید بھی بنایا اور طلبہ سے درخواست کی کہ ہم قتال تو نہیں کرسکتے، زبانی احتجاج اور ظلم و ستم اور منافقت و بزدلی کے خلاف اظہارِ خیال تو کرسکتے ہیں۔ بھائیو! اٹھو سب مل کر باہر نکلیں اور مظاہرہ کریں۔ اس کے بعد جی سی میں آکر بھی میں نے سب طلبہ سے اس مظاہرے میں شرکت کی درخواست کی۔ مجھے خوشگوار حیرت بلکہ مسرت ہوئی کہ گورنمنٹ کالج کے وہ طلبہ جو ہمارے حریف گروپ سے تعلق رکھتے تھے، وہ بھی ٹولیوں کی صورت میں کھڑے معاہدہ تاشقند کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ یوں اس روز ہر کالج سے عام طلبہ بھی اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوئے۔
مال روڈ پر تقاریر بھی ہوئیں اور پولیس سے طلبہ کی اچھی خاصی جھڑپ بھی ہوئی۔ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باوجود طلبہ مختلف ٹولیوں میں نعرے لگاتے رہے۔ اس روز (ماہ جنوری 1966ء) میری پہلی گرفتاری ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ پہلی گرفتاری پر بھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ گرفتاری کے وقت میں نے پولیس کے کارندوں کو کہا تھا کہ ہم نہ بھاگیں گے، نہ مزاحمت کریں گے مگر کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناروا زیادتی یا بدتہذیبی ہوئی تو یہ ناقابلِ برداشت ہوگی۔ الحمدللہ! پولیس کا رویہ بھی ہمارے گروپ کی حد تک مہذبانہ رہا۔ میرے ساتھ بہت سے دیگر طلبہ مختلف تھانوں کی حوالاتوں سے ہوتے ہوئے کیمپ جیل میں محبوس تھے۔ ان میں گورنمنٹ کالج کے بیس پچیس طلبہ تھے۔ گورنمنٹ کالج کے طلبہ اس سے قبل اور نہ ہی اس کے بعد اتنی بڑی تعداد میں کبھی گرفتار ہوئے۔
اکثر طلبہ حوصلے میں تھے مگر چند طلبہ جو پریشان تھے ان کو ہم نے تسلی دی کہ فکر نہ کرو، اِن شاء اللہ ہم سب ایک ساتھ رہیں گے اوراللہ کی مدد بھی جلد آجائے گی۔ ایک یادگار بات یہ تھی کہ جیل انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اسکولوں کے چھوٹی عمر کے طلبہ کو الگ بیرکوں میں عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے گا۔ یہ چھوٹی عمر کے طلبہ اس بات کو سن کر سہم گئے اور بعض رونے لگے۔ گرفتاری کے بعد تھانے سے جیل آنے تک وہ ہمارے ساتھ خاصے مانوس ہوچکے تھے۔ ہم نے انتظامیہ سے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ان طلبہ کو ہم سے جدا کرکے کسی دوسری بیرک میں منتقل کیا جائے۔ ہمارا سخت اور بے لچک مؤقف سن کر پہلے تو انتظامیہ نے غصے کا اظہار کیا، مگر ہمارے عزم کو دیکھ کر انھیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ اسکولوں کے نوعمر طلبہ ہمارے ساتھ رہے۔
ہم میں سے اکثر طلبہ روزے سے تھے۔ ہمارے ہاسٹل میس سے افطاری اور سحری کا آنے والا سامان خاصا وافر ہوتا تھا۔ دیگر طلبہ بھی ہمارے ساتھ شریکِ طعام ہوتے تھے۔ پہلے دن روزہ کھلنے سے قبل کالج ہاسٹل سے ہماری افطاری آگئی۔ گورنمنٹ کالج کے طلبہ کا کھانا ہاسٹل میس سے آتا تھا اور کوئی نہ کوئی استاد کھانا لے کر میس کے ملازمین کے ساتھ تشریف لاتے تھے۔ یہ ماہِ رمضان کا وسط تھا اور مجھے جیل میں دس بارہ دن کے قیام میں قرآن پاک کا کافی حصہ تراویح میں سنانے اور خلاصۂ مضامین پیش کرنے کی سعادت ملی۔ عید سے ایک روز پہلے کالج انتظامیہ کی کاوش سے ہماری ضمانتیں ہوگئیں اور ہم رہا ہوکر گھروںکو چلے گئے۔ دیگر طلبہ کو بھی اس روز رہا کردیا گیا۔ (جاری ہے)

