(وفات مورخہ 21 اگست 2020ء پر لکھی گئی تحریر)
ایسا لگتا ہے کہ شانِ خداوندی جلال میں آگئی ہے، مختصر وقفے سے کسی نہ کسی قریبی یا قیمتی شخصیت کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی خبریں آرہی ہیں۔ خبریں بھی اس تیزی سے مل رہی ہیں کہ ہم ماتم کرنا بھی بھولتے جارہے ہیں۔ کتنی قیمتی شخصیات تھیں کہ جن کی خدمات اور رہنمائی کی امت شدید ضرورت محسوس کرتی تھی، آناً فاناً اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ کورونا کا قہر کچھ ایسا ٹوٹا ہے کہ زیادہ تر بڑے بڑے اسپتالوں میں مریضوں کے داخل ہونے کے بعد ان کی میتیں ہی واپس آرہی ہیں، مریضوں کو اسپتال لے جاتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ معمولی سے نمونیہ کا اثر ہے، لیکن جب اسپتال سے میت لوٹی تو اسپتال والوں نے بھاری بھرکم بل کا بوجھ بھی اس پر لاد دیا۔ اب دماغ نہ الجھے، غم دوبالا نہ ہو تو کیوں کرِ؟ ان حالات میں آخر دماغ ماؤف نہ ہوجائے تو حیرت ہوگی۔
ابھی دو چار روز قبل خبر آئی تھی کہ جناب مرتضیٰ ساحل تسلیم کی صحت کچھ خراب ہوگئی ہے، اور آج رات گئے آناً فاناً خبر ائی کہ وہ اللہ کو پیارے ہوچکے۔ ایک ایسا شخص جس نے زندگی کے اڑسٹھ سال میں سے پچاس سال نونہالانِ قوم کو فکری غذا پہنچانے، ان کی سوچ کے دھاروں کو بلندیوں کی طرف پرواز کرانے اور انہیں اپنی مادری زبان اردو سے جوڑنے کے لیے صرف کیے تھے، اس طرح دنیا سے رخصت ہوگیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت ایک بہانہ ہو، قدرت نے اسے زندگی میں کام کرنے کے لیے جو مہم دی تھی، اسے سر کرنے کے بعد مزید اس مسافر خانے میں ٹھیرانے کی ضرورت نہ محسوس کی گئی ہو۔ گزشتہ چند سالوں میں جو حالات گزرے ہیں، ان سے تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ بچوں کا ”ہلال“ جو آپ کی ادارت میں 1973ء میں شروع ہوا تھا، پینتالیس سال بعد گہن کی زد میں آگیا، یہ گہن کچھ ایسا گہرا تھا کہ پھر اس سے روشنی پھوٹنے کی امید جاتی رہی، اور آپ کے ساتھ جو ٹیم دن، رات ایک کررہی تھی، وہ بے کار ہوگئی، اس کی رفتار میں یکدم بریک لگ گیا، اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے کوئی پلیٹ فارم بھی باقی نہیں رہا، اور نہ ان کا قدردان۔ اب جب کوئی زندگی کا ایک نصب العین لے کر آگے بڑھے، جو روز وشب اس کے حصول کے لیے جان کھپادے، اور مرور زمانہ سے اس کے سوا کسی اور کام کا وہ عادی نہ بن سکے، جب اس کی راہیں مسدود ہوجائیں، تو نفسیات اور اعضاء و جوارح پر اس کا جو منفی اثر ہوگا، اس کی تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔ انتھک محنتوں کے بعد آنکھوں کے سامنے ہی جب خواب چکناچور ہوں اور وقت کی آندھیوں سے بچائی گئی شمع سامنے ہی بجھ جائے تو اس کا دل و دماغ پر جو اثر ہوتا ہے، وہ زندگی کے آخری دنوں میں اپنی اولاد کی موت کے غم سے کچھ کم تو نہیں ہوتا!
مرتضیٰ ساحل تسلیمی اور ان کے ساتھیوں نے جس مقصد کے لیے اپنے شب و روز کا فرق نہ سمجھا، اور جس کے لیے اپنا خون جلایا، حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی صحیح قدر نہیں ہوئی۔ یہ اردو والوں کا بڑا المیہ ہے کہ بچوں کے ادیب ان کے یہاں نہ کوئی قدر و منزلت رکھتے ہیں، نہ ان کے پرچوں کی کوئی اہمیت سمجھی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بچوں کے جتنے پرچے نکلتے ہیں زیادہ تر وہ کسی بڑے ادارے کی بیساکھیوں پر ہی کھڑے ہوپاتے ہیں، چاہے وہ مکتبہ جامعہ کا ”پیام تعلیم“ ہو یا پھر مکتبہ الحسنات کا ”نور“ اور ”ہلال“، یا پھر شمع والوں کا ”کھلونا“۔ اور بچوں کے لیے لکھنے والوں کی اتنی بے قدری ہوتی ہے کہ یہ لکھنے والے دو چار سال بعد ہی اپنی راہ بدل دیتے ہیں اور وہاں چلے جاتے ہیں جہاں سے انہیں شہرت ملتی ہے اور زندگی کی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ اردو دنیا میں بچوں کے ادیبوں میں راجا مہدی علی خان منفرد مثال ہیں، جنہوں نے اپنے فلمی گانوں کی مقبولیت اور اس دنیا کی چکاچوند کے باوجود بچوں کے لیے لکھنا بند نہیں کیا، ہر ماہ ”کھلونا“ کے لیے بچوں کی ایک نظم پابندی سے لکھتے رہے۔
مرتضیٰ ساحل تسلیمی نے1952ء میں رامپور میں آنکھیں کھولی تھیں۔ یہاں آپ نے گورنمنٹ رضا کالج سے گریجویشن کیا۔ 1972ء میں آپ مکتبۃ الحسنات رامپور سے بحیثیت کلرک وابستہ ہوئے۔ یہ ادارہ جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ایک اہم شخصیت مولانا ابوسلیم عبدالحئی مرحوم نے قائم کیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد 1948ء میں جب الٰہ آباد میں جماعت کی ازسرنو داغ بیل رکھی گئی، تو اس کا پہلا دفتر مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں تھا، جہاں مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی امیر جماعت تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہاں سے ملیح آباد، اور پھر جب یہ رامپور منتقل ہوا تو یہاں تحریک کے چوٹی کے دماغ یکجا ہوگئے، اور ملیح آباد میں جو منصوبے ابتدائی شکل میں تھے، ان کی تکمیل کا کام یہاں شروع ہوا، ان میں درسگاہ اسلامی اور ثانویہ کا قیام، اور ماہنامہ ”زندگی“ کا آغاز شامل ہے۔ ان ہی ایام میں مولانا ابو سلیم عبدالحئی مرحوم نے مکتبۃ الحسنات کی بنیاد ڈالی، جس کے ماتحت ماہنامہ الحسنات، نور، بتول، ہلال، ہندی ماہنامہ ہادی وغیرہ جاری ہوئے، اور نصف صدی تک متوسط طبقے سے نچلے طبقے تک کی نسلوں کو متاثر کرتے رہے۔ مولانا نے نسواں کی دینی تعلیم کے لیے جامعۃ الصالحات کے نام سے اپنی نوعیت کا پہلا دارالعلوم قائم کیا، جو آج تک مستورات میں علم دین کی روشنی پھیلا رہا ہے۔
”الحسنات“ اور ”نور“ 1952ء میں تسلیمی صاحب کے سالِ پیدائش میں جاری ہوئے، نور پہلے پندرہ روزہ تھا اور مستطیل شکل میں چھپتا تھا، اپنے بانی مدیر مولانا مائل خیرآبادی مرحوم کے زمانے میں اس نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی تھی۔ مائل صاحب کو اب لوگ کم ہی یاد کرتے ہیں، بڑے چوٹی کے ادیب تھے، لیکن مظلوم۔ آپ نے بچوں کے لیے صحیح اسلامی فکر کو بنیاد بناکر جس پائے کی کہانیاں لکھیں اُس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے۔ 1968ء کی بات ہے، اردو کا پنج سالہ نصاب ختم ہوکر اب عربی درجے میں داخلہ ہورہا تھا، ہمارے کنڑی اور انگریزی کے استاد تھے ماسٹر احمد نوری مرحوم، کنڑی زبان میں قرآن مجید کے اولین مترجم۔ آخری کلاس میں جب طلبہ بور ہورہے ہوتے تو وہ مائل خیرآبادی کی کہانیاں بچوں سے پڑھواکر سننے، جن سے کبھی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں، کبھی بانچھیں کھل اٹھتیں، وہ ”نور“ کا تازہ پرچہ بھی پڑھواتے تھے، جس میں ریڈیو نورستان کے نام سے ایک سلسلہ ہوتا جو قرآن کی چند آیات، اور ترجمہ، حمد و نعت، اور خبروں پر مشتمل ہوتا، اسے طلبہ بڑی دلچسپی سے سنتے، اور نئے شماروں کا انتظار کرتے تھے۔ انہی دنوں ہم نے مائل صاحب کی جملہ کہانیاں مسلم کی کہانی، ترکستان سے ترکی تک، اور نور کی سلسلہ وار کہانیاں سنیں، اور اسی کے اثر سے سنکیانگ کے مسلم مجاہد عثمان بطور کی سوانح عمری تلاش کرکے پڑھی تھی۔ اللہ غریق رحمت کرے ان دونوں کو، لاشعور کے دور میں سنی ہوئی ان کہانیوں کا اثر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ذہن میں ابھی تازہ ہے۔ مائل صاحب بڑے مظلوم تھے، ان کی کتابیں مصنف کا نام حذف کرکے ان کے سامنے دھڑلے سے اُن لوگوں نے شائع کیں جن سے کم ازکم اس کی امید نہیں تھی۔ رحلت کے بعد انہیں بھلا دیا گیا۔ ڈاکٹر احمد سجاد صاحب نے بتایا تھا کہ ان کی نگرانی میں مائل صاحب پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ تیار کیا گیا تھا۔ سجاد صاحب کو ان کی زندگی میں بھلادیا گیا ہے تو اب اس پرانے مقالے کو کون یاد رکھے گا؟
مائل صاحب کے بعد خالدہ تنویر نے ”نور“ کو بخوبی چلایا، لیکن جلد ہی وہ امریکہ چلی گئیں۔ 1972ء میں مرتضیٰ ساحل تسلیمی بیس سال کی عمر میں بحیثیت کلرک مکتبۃ الحسنات سے وابستہ ہوئے۔ کام کا جذبہ تھا، مولانا عبدالحئی صاحب نے اعتماد کیا، اور ”نور“ کو ڈائجسٹ کی شکل دی گئی، اور یہ پرچہ اب ابتدائی جماعت کے طالب علموں کے بجائے ثانوی درجات کے معیار کا بن گیا، یہاں اطفال کے معیار کے ایک پرچے کی ضرورت محسوس ہوئی اور مرتضیٰ ساحل تسلیمی مرحوم کی ادارت میں 1973ء میں ”ہلال“ شروع ہوا، جو اپنی نوعیت کا اردو کا بچوں کا پہلا اور شاید آخری رسالہ تھا، بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر اس میں رنگوں اور تصاویر کا خوب استعمال کیا گیا تھا، اور اسے اس معیار کا بنایا گیا تھا کہ درجہ اطفال کے بچے بھی اس میں دلچسپی لیں۔ اس طرح اردو والوں کی طرف سے ایک فرضِ کفایہ ادا کیا گیا تھا۔ تسلیمی صاحب اس پرچے کی وجہ سے بچوں کے ادب کی تاریخ میں زندئہ جاوید رہیں گے۔
مکتبہ الحسنات کے ماتحت ہندی ماہنامہ ”ہادی“ اور 1974ء میں ماہنامہ ”بتول“ بھی جاری ہوئے، ان پرچوں نے اپنے وقت میں ایک اہم خلا پُر کیا، لیکن اسے بدنصیبی ہی کہیے، یہ سبھی پرچے اردو کے نام لیواوں اور اس کی روٹی کھانے والوں کی عدم دلچسپی سے یکے بعد دیگرے مرحوم ہوتے چلے گئے۔
مولانا عبدالحئی مرحوم کے بعد ان کے جانشین عبدالملک سلیم نے انہیں بہت دنوں تک سنبھالے رکھا، لیکن اپنی وفات سے دو سال قبل وہ بھی ہمت ہار بیٹھے، اور یہ عظیم سلسلے تیسری نسل کے ہاتھوں تک منتقل نہ ہوسکے۔
”تجلی“ دیوبند، ”الایمان“ دیوبند، ”نئی نسلیں“ لکھنؤ، ”دوام“ ٹانڈہ، معلوم نہیں ”ذکری“ رامپور کا کیا حال ہے؟ یہ وہ پرچے تھی جو اقامتِ دین اور تعمیری ادب کے علَم بردار تھے، جماعت کی فکر کو نظم سے باہر پھیلانے میں ان کا بڑا کردار تھا، لیکن یہ سبھی اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، کوئی ان پر فاتحہ بھی پڑھنے والا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل خبر آئی تھی کہ سہ روزہ ”دعوت“ مرحوم ہوچکا، اور آج خبر آئی ہے کہ انگریزی کا شام نامہ ”نیوز ڈائجسٹ“ بھی بند ہوچکا۔ یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے، کیا وہ تحریک جو خالص لٹریچر پر کھڑی ہوئی تھی، اس کی نسبت پڑھے لکھوں کی طرف ہوتی تھی، کیا اس کا رشتہ قلم اور صحافت سے ٹوٹ رہا ہے؟ اپنے دل سے پوچھیں، اور اس رویّے سے امت کو پہنچنے والے نقصان اور خسارے کا اندازہ لگائیں۔ مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب اپنے خالق کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں، انہوں نے ملت کے نونہالوں کی رہنمائی اور ان میں تعمیری افکار پروان چڑھانے اور امت اقراء بنانے کے لیے اپنی جملہ صلاحیتیں اور عمر عزیز کے لمحات لگادیے، اب سوال ہے کہ ہم اُن کے حق میں صرف کاغذی دعائیں کرتے رہیں گے، یا پھر اس کے تئیں ہماری بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے۔ سوچیے، غور کیجیے، آپ کے عملی جواب میں ملت کی بہتری پوشیدہ ہے، اور مجھے اجازت دیجیے، اللھم اغفرلہ وارحمہ

