قصہ یک درویش!فوجی عدالت میں پیشی کا قصہ

انتیسویں قسط

باتوں ہی باتوں میں، جنرل صاحب سے میں نے عرض کیا کہ اگر کبھی آپ کی اس طالب علم سے ملاقات کرا دی جائے تو کیسا رہے؟ فرمانے لگے کہ کوئی حرج نہیں ہے، مجھ سے رابطہ کرکے ٹائم لے لو اور ملاقات کرا دو۔ اس دوران بارات آگئی۔ رجسٹرار نے فارم پُر کیے اور نوازترین صاحب نے اعلان کیاکہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر …نکاح پڑھائیں گے۔ نکاح کے بعد کھانے کی میز پر بیٹھے تھے۔ ظاہر ہے نیازی صاحب کو اس طالب علم کا نام کہاں یاد رہا ہوگا جس کے امتحان میں آپ نے مدد کی تھی۔ اب میں نے کہا: جنرل صاحب! اگر اس درخواست گزار طالب علم سے ابھی ملاقات ہوجائے تو کیسا رہے؟ کہنے لگے: وہ یہاں موجود ہے؟ میں نے کہا: نہ صرف موجود ہے بلکہ آپ سے بہت دیر سے ہم کلام ہے۔ اس پر انھوں نے خوشگوار قہقہہ لگایا اور کہا: آپ تو جماعتیے ہیں پھر آپ نے اتنا سسپنس کیوں پیدا کیا؟ میں نے کہا: بس آپ سے کچھ مزید باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا۔

اسی نشست میں جنرل صاحب نے مجھ سے ایک سوال کیا: آپ جماعت میں کیا کیا کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ تنظیمی، دعوتی، تربیتی اور سیاسی امور و معاملات کے ساتھ کچھ لکھنے پڑھنے کا کام بھی کرتا ہوں اور سیرتِ نبویؐ، سیرتِ صحابہؓ کے ساتھ افسانہ نویسی اور سفرنامے لکھنا بھی میرا خاص موضوع اور مشغلہ ہے۔ یہ سن کر جنرل صاحب نے ایک سوال پوچھا: مؤرخین لکھتے ہیں کہ جنگ موتہ میں تین ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ سے زیادہ رومیوں کو شکست دی تھی۔ کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی! نہ صرف تسلیم کرتا ہوں بلکہ اس پر میرا ایمان ہے اور حسنِ اتفاق سے میں ان دنوں سیرت کا یہی حصہ لکھ رہا ہوں جو ان شاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔ اس پر جنرل صاحب نے فرمایا: میرے نزدیک یہ ناممکن ہے اور میں اس پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: ضرور لکھیں۔ آپ بھی اپنی تحریر لکھ کر مجھے عنایت فرمائیے گا اور میں بھی اپنی معروضات آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔

میں نے تو ’’رسولِ رحمتؐ تلواروں کے سائے میں‘‘ کی پانچ جلدوں میں تمام غزوات اور اہم جنگوں خصوصاً جنگِ موتہ کا تفصیلاً ذکر کردیا ہے، مگر جنرل صاحب کو غالباً لکھنے کا موقع نہ ملا کہ اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد یکم فروری2002ء کو 89سال کی عمر میں وہ اللہ کے ہاں چلے گئے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ میری کتاب ’’رسولِ رحمت تلواروں کے سائے میں‘‘ (جلدسوم) میں جنگ موتہ کا تذکرہ ہے۔ میں نے اس کتاب کا ابتدائی مسودہ تو 2003ء میں تیار کرلیا تھا، مگر مصروفیات کی وجہ سے اسے حتمی شکل دینے میں مزید کچھ سال لگ گئے۔ پھر اس کی طباعت میں بھی تاخیر ہوتی رہی تاآنکہ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 2011ء میں شائع ہوسکا۔

اس مجلس میں اتنی دلچسپ باتیں ہوئی تھیں کہ ان پر میں نے اپنے بعض مضامین میں کچھ روشنی ڈالی تھی، جو نیازی صاحب کی زندگی میں مختلف اخبارات و رسائل میں چھپے تھے۔ میں نے اسی نشست میں جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ جنگ میں بطور سپاہی شریک تھے۔ آپؓ نے تینوں سپہ سالاروں حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی شہادت کے بعد جب کمان سنبھالی تو حالات واقعی بہت مشکل تھے۔ اللہ کی تائید اور نصرت سے آپ نے رات کے وقت اہل الرائے صحابہؓ سے مشاورت کے بعد ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ جس سے دشمن کی ہوا اکھڑ گئی۔

آپؓ نے 500کے قریب گھڑ سواروں کو چار حصوں میں تقسیم کرکے سب کے کمانڈر مقرر کیے اور فرمایا کہ راتوں رات مختلف سمتوں میں کچھ فاصلے پر چلے جائو۔ صبح جوں ہی جنگ شروع ہو تو ایک دستہ اپنے کمانڈر کی نگرانی میں گھوڑے دوڑاتا ہوا تکبیر کے نعروں کے ساتھ ہماری مدد کے لیے آجائے۔ کچھ دیر کے بعد اسی طرح دوسرا دستہ بھی میدانِ جنگ میں آجائے، پھر تیسرا اور آخر میں چوتھا دستہ آئے۔ اس جنگی حکمتِ عملی نے دشمن کو اتنا ہراساں کردیا کہ وہ سمجھے عرب سے مسلسل تازہ دم فوجیں چلی آرہی ہیں۔ پس وہ دم دباکر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

آپ کو یقیناً علم ہوگا کہ صحابہ کرامؓ کی جنگی مہارتیں بھی آنحضورؐ کی تربیت کی وجہ سے بے مثال تھیں اور ان کی جرأت و بہادری اور ایمان کی مضبوطی بھی ایسی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنا نہیںجانتے تھے۔ یہ الفاظ میری زبان سے نکل گئے تو مجھے احساس ہوا کہ جنرل صاحب اس کا غلط مفہوم سمجھ لیں گے اور شاید غصہ کریں گے، حالاںکہ میرے ذہن میں وہ مفہوم نہیں تھا، مگر اس سے ایسا نتیجہ اخذ کرنے کا جواز بہرحال موجود تھا۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جنرل صاحب نے فرمایا: ’’تم نے مجھے Tauntکیا ہے‘‘ یعنی میرا مذاق اڑایا ہے۔ حالاںکہ میرے ذہن میں یہ تصور نہیں تھا کہ وہ اس بات کو سقوطِ ڈھاکہ کے معنوں میں لے جائیں گے۔ بہرحال میں نے معذرت کی جس پر آپ نے فرمایا: ڈھاکہ میں وہ واقعہ جو ہوا تھا اس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پھر اپنے فوجی کیرئیر کے حوالے سے اپنی بہادری کے بہت سے واقعات سنائے، ساتھ ہی فرمایا کہ مجھے ٹائیگر کا خطاب جنگِ عظیم دوم کے دوران ملا تھا۔ گفتگو کے کافی حصے مجھے اچھی طرح یاد ہیں، مگر طوالت کے خوف سے ان سب کو چھوڑتا ہوں۔ جنرل نیازی مرحوم کے حق میں دعاگو ہوں کہ اللہ ان کی مغفرتِ تامہ فرمائے۔

جنرل محمد حسین انصاری مرحوم بھی 1971ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ آپ 2001ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے اور مرکز جماعت میں اعزازی خدمات سرانجام دیں۔ جماعت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران آپ کی وفات 14 جنوری 2004ء کو ہوئی۔ مرکز میں قیام کے دوران مرحوم سے بہت قریبی تعلقات قائم ہوئے، جن کی حسین یادیں اب تک دل میں موجزن ہیں۔ آپ کی وفات پر میں نے مضمون لکھا جو میری کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ (جلد اول) صفحہ 145تا 156میں دیکھا جا سکتا ہے۔

آپ سے ایک دن سقوطِ مشرقی پاکستان کے موضوع پر بات ہورہی تھی، تو جنرل نیازی صاحب کے ہتھیار ڈالنے کا تذکرہ ہوا۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا: بلاشبہ یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا المیہ تھا لیکن بدقسمتی اور بدتدبیری سے مشرقی پاکستان میں معروضی حالات ایسے ہوگئے تھے کہ کوئی فوج بھی جنگ جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔ البدر اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے سوا پورے مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش اور عوامی لیگ کی حمایت میں ساری آبادی پاکستان کے خلاف ہوچکی تھی۔ مغربی پاکستان سے رابطہ ٹوٹ چکا تھا اور حالت یہ تھی کہ فوج کے لیے سبزی بھی مغربی پاکستان سے آیا کرتی تھی۔ بہت سے کردار پردے کے پیچھے سقوطِ ڈھاکہ کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے۔ باہر کے دشمنوں کے ساتھ اپنوں کی سازشیں بھی دشمن کا کام آسان کرنے کا ذریعہ بن رہی تھیں۔ جنرل نیازی صاحب کی جگہ کوئی اور جرنیل ہوتا تو بھی ہتھیار ڈالنا پڑتے۔ البتہ اپنا پستول اپنی کمر سے کھول کر خود دشمن کو پیش کرنا کوئی اچھا کام نہیں تھا۔ میں جس محاذ (جیسور) پر ذمہ داری ادا کررہا تھا وہاں میں نے اپنے ہم منصب بھارتی فوجی افسر سے کہا کہ ’’میں نہ تو ہتھیار پھینکوں گا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے اپنا پستول کمر سے کھول کر تمھارے حوالے کروں گا، البتہ تم اتارنا چاہو تو اتار لو۔‘‘ جنرل نیازی صاحب نے اپنا پستول خود اپنے ہاتھ سے اتار کر جنرل جگجیت سنگھ اروڑاکے حوالے کردیا۔ یہی اصل غلطی تھی، ورنہ باقی تو حالات واقعتاً ہاتھ سے نکل چکے تھے۔

بات چل رہی تھی عبدالمالک شہید کی شہادت اور اس کے نتیجے میں میری گرفتاری کی۔ عبدالمالک کی شہادت پر مغربی پاکستان سے میرے علم کی حد تک جمعیت کے ذمہ داران اور ارکان و کارکنان میں سے صرف میں ہی گرفتار ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان میں میری گرفتاری پر بڑے عظیم الشان احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس دور میں مشرقی پاکستانی طلبہ بھائی جب کبھی مغربی پاکستان آتے تو میرا نام سن کر چونک اٹھتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ میری گرفتاری پر حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے زور زور سے نعرے لگاتے تھے: ’’ادریس بھائی… مکتی چائی‘‘۔ میں اس کیس میں اللہ کے فضل سے باعزت طور پر بری ہوا۔ کیس سمری ملٹری عدالت منعقدہ پیپلزہائوس میں سنا گیا اور میجر عزیز بھٹی نامی فوجی افسر نے سماعت کی (موصوف میجر عزیز بھٹی شہید کے ہم نام تھے، مگر یہ فردِ دیگر تھے کیوںکہ معروف میجر عزیز بھٹی (نشانِ حیدر) تو 1965ء کی جنگ میں شہادت پا چکے تھے۔)

میں نے کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ جو فقرات میری طرف منسوب کیے گئے تھے، میں نے وہ کہے ہی نہیں تھے۔ تقریر ریکارڈ تو نہیں کی گئی تھی البتہ اُس وقت تک مجھے پوری طرح ازبر تھی اور دفاع میں شہادت دینے والے سب گواہوں کو بھی یاد تھی۔ دوتین طلبہ کے علاوہ جناب چودھری جیلانی بی اے اور ایک مشرقی پاکستانی بھائی جو قاری تھے اور جن کا نام یاد نہیں رہا، وہ بھی بطور گواہ پیش ہوئے۔ میجر صاحب نے کئی سوالوں کے بعد جیلانی صاحب سے یہ سوال بھی پوچھا کہ یہ طلبہ کا پروگرام تھا تو وہ وہاں کیوں شامل ہوئے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں ایک ہفت روزہ جریدے ’’ایشیا‘‘ کا ایڈیٹر ہوں اور اس میں رپورٹنگ کے لیے بطور صحافی وہاں گیا تھا۔

میجر صاحب سنجیدہ افسر تھے۔ ان کی گفتگو بڑی سپاٹ اور سادہ تھی۔ انھوں نے دوسرے گواہ قاری صاحب سے سوال کیا کہ وہ کس حیثیت میں اس پروگرام کا حصہ بنے؟ قاری صاحب نے کہا کہ وہ جمعیت کے سابق کارکن ہیں اور ان کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے۔ اس کے ساتھ چوںکہ ان کے عبدالمالک سے دوستانہ تعلقات تھے، اس وجہ سے اس پروگرام میں انھوں نے شرکت کی۔ میجر صاحب نے پھر ان سے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ البتہ مجھ سے کئی ایک سوال کیے جن کی تفصیل اب یاد نہیں۔

میں تقریباً سوا ماہ جیل میں رہا۔ برأت کے فیصلے سے دو روز قبل فوجی عدالت میں مجھے پیش کیا گیا اور عدالت نے میری ضمانت منظور کی۔ ضمانت کے وقت جماعت اسلامی کے بزرگان، چودھری غلام جیلانی بی اے، حاجی محمد سلیم، ملک محمد اسلم، یوسف خان، صفدر حسن صدیقی، عبدالحمید کھوکھر اور پہلوان عبدالستار صاحبان کے علاوہ جمعیت کے کارکنان کی بڑی تعداد پیپلزہائوس میں موجود تھی۔ لاہور کے تمام اخبارات کے نمائندے اور فوٹوگرافر بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کررہے تھے۔

اس ضمانت کے اگلے روز اسلامی جمعیت طلبہ نے برکت علی اسلامیہ ہال میں پہلے سے ایک جلسہ رکھا ہوا تھا، جس کی خوب پبلسٹی کی گئی تھی۔ میرے جیل میں ہونے کی وجہ سے مقررین میں میرا نام نہ تھا، مگر ضمانت کے بعد جمعیت کے ساتھیوں اور دیگر طلبہ کا شدید اصرار تھا کہ مجھے بطور ناظمِ لاہور جمعیت ضرور خطاب کرنا چاہیے۔ چناںچہ میں نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا اور میری تقریر کی رپورٹنگ اور فوٹو ’’نوائے وقت‘‘، ’’کوہستان‘‘ اور دیگر اردو روزناموں میں چھپے۔ جلسے کے اگلے روز میں جب فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں پہنچا تو میجر عزیز بھٹی نے اپنی حلیم طبیعت کے باوجود سخت برہمی کے انداز میں اخبار میری طرف بڑھاتے ہوئے سرزنش کی۔ فرمانے لگے: ’’تمھاری ابھی ضمانت ہوئی تھی، حتمی فیصلہ ابھی ہونا تھا کہ تم نے باہر جاکر تقریر جھاڑ دی۔ تمھیں علم ہے کہ یہ مارشل لا کا دور ہے!‘‘ میں نے اپنی بے احتیاطی پر میجر صاحب سے معذرت کی تو وہ بالکل نارمل ہوگئے۔

میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ بحیثیتِ مجموعی یہ فوجی افسر شریف النفس تھے اور اصولی طور پر ان کا یہ مؤقف بھی درست تھا۔ میں ضمانت پر رہا ہوا تھا، مجھے احتیاط برتنا چاہیے تھی، مگر ساتھیوں نے مجبور کردیا تو میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ بہرحال فیصلہ وہی تھا جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، یعنی باعزت بری۔ میں اس دور میں لاہور جمعیت کا ناظم تھا، جب بھی جیل جاتا تو کسی ساتھی کو قائم مقام ناظم مقرر کردیتا۔ اُس وقت غالباً عبدالوحید سلیمانی قائم مقام ناظم مقرر کیے گئے تھے جو لاہور جمعیت کے معتمد اور سینئر رکن تھے۔ جیل میں قیام کے دوران اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خاصی دوستی پیدا ہوگئی تھی۔ یہ غالباً سات یا آٹھ طلبہ تھے، ان میںسے ایک پیپلزپارٹی کا بڑا سرگرم کارکن تھا اور اس کا نام تھا فاروق اعظم۔ دیگر طلبہ کسی تنظیم سے وابستہ نہیں تھے۔ یہ طلبہ فاروق اعظم کی عجیب گت بناتے تھے، مگر میں ان کو اس حرکت سے منع کرتا تھا۔
(جاری ہے)