اسرائیلی وزیراعظم کی بددیانتی پر دستاویزی فلم
عالمی فوجداری عدالت کو متاثر کرنے کی سازش طشت ازبام
اسرائیلی فوجی جرنیل کی جانب سے عسکری ناکامی کا اعتراف
نیتن یاہو قیدیوں کی ہلاکت چاہتے ہیں، مارے جانے والے قیدی کا تاثر
غزہ نسل کُشی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے اعصاب کی جنگ بن گئی ہے۔ دو انتہاپسند وزیروں کے سوا اُن کی پوری کابینہ اور فوجی قیادت تسلیم کرچکی ہے کہ سارے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنادینے کے باوجود اسرائیل اپنا عسکری ہدف حاصل نہیں کرسکا اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ سارے ملک میں جنگ بندی کے لیے مظاہرے ہورہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹر کے گھیرائو کے دوران مظاہرین جو بینر لیے کھڑے تھے اُن پر لکھا تھا ’’فوجیو! تمہارے پاس (جنگ سے) انکار کا راستہ موجود ہے‘‘۔
اتوار 15 ستمبر کو یمن سے پھینکے جانے والے منجنیقی (Ballistic) میزائل نے اسرائیلیوں کو سراسیمہ کردیا ہے۔ صبح 6 بج کر 21 منٹ پر جیسے ہی یہ میزائل یمن سے روانہ ہوا امریکی ساختہ دفاعی نظام نے اسے پہچان لیا اور اس کے ’’استقبال‘‘ کے لیے ایرو (Arrow) میزائل شکن گولہ داغ دیا گیا۔ گیارہ منٹ بعد یمنی میزائل کے اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایرو میزائل نے اس کا راستہ روکا۔ لیکن اسرائیل کا یہ تیر یمنی میزائل کو فضا میں مکمل طور پر تحلیل نہ کرسکا اور اس کے دامن میں چھپے راکٹ بن گوریان ائرپورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گرے جس سے کئی جگہ آگ بھڑک اٹھی۔ ایرو نظام کا ناکام ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں۔ ماہرین کے خیال میں اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ میزائل کچھ ایسے حساس آلات سے لیس تھا جنہوں نے ایرو کا راستہ کھوٹا کردیا اور وہ یمنی میزائل کو جزوی نقصان پہنچاسکا، یا یہ آواز سے پانچ گنا تیز Hypersonic میزائل تھا کہ اسرائیلی تیر کے پہنچنے سے پہلے ہی میزائل کا سامنے والا حصہ آگے نکل چکا تھا جس نے زمین پر اپنے ہدف کو نشانہ بنایا لیکن کنٹرول سسٹم ناکارہ ہوجانے کی وجہ سے راکٹ اپنے ممکنہ ہدف یعنی بن گوریان ائرپورٹ تک نہ پہنچ سکے۔ کچھ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ ایرانی ساختہ Hypersonicمیزائل کی آزمائش تھی جس کے لیے اسرائیل کو بطور ہدف چنا گیا۔
عسکری کمزوری کے ساتھ نیتن یاہو کے ذاتی کردار پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ملک میں ان کی خیانت کے قصے تو مشہور تھے ہی، ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹول (TIFF24) میں The Bibi Filesکے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی منظرِعام پر آگئی۔کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 5 ستمبر سے شروع ہونے والا یہ فلم میلہ اس مہینے کی 15 تاریخ تک جاری رہا۔ سوا گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل یہ دستاویزی فلم امریکہ کی مشہور ہدایت کار و فلم ساز محترمہ الیکسس بلوم (Alexix Bloom)کی زیر ہدایت تیار ہوئی۔ امریکی فلم ساز الیکس گبنی (Alex Gibney) اوراسرائیلی صحافی رویوڈرکر (Raviv Drucker) فلم سازوں میں شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کو اُن کی اہلیہ پیار سے ’’بی بی‘‘ کہتی ہیں، اور یہ دستاویزی فلم بی بی، ان کی بیوی اور صاحب زادے یار نیتن یاہو کی بے ایمانی، مالی خوردبرد اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار کے دلچسپ قصوں پر مشتمل ہے۔ جہاں اس میں اسلحے کی خریداری، تعمیراتی منصوبوں اور بھرتی کے بھتوں کی ہوشربا داستانوں کا ذکر ہے، وہیں ان کی سرکاری رہائش گاہ کے مالیاتی آڈٹ کے دوران چھوٹی موٹی چوریوں کی دلچسپ وارداتوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے، جیسے خاتونِ اول سارہ نیتن یاہو نے ایوانِ وزیراعظم کے لیے مختص رقم سے اپنے ذاتی گھر کے لیے فرنیچر خریدا، ایک لاکھ ڈالر اُن کے ضعیف والد کے علاج پر خرچ ہوئے اور 6300 ڈالر محترمہ نے اپنے پرس میں ڈال لیے۔ خوش خوراک سارہ ایوانِ وزیراعظم آنے والے مہمانوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر لکھواتی تھیں اور اسے بنیاد بناکر انھوں نے سرکاری مطبخ کے لیے دو تین اضافی باورچی بھرتی کروا لیے جو دراصل خاتونِ اوّل کے پسندیدہ پکوان کے ماہر تھے۔ موصوفہ ونیلا اور پستے کی آئسکریم بہت شوق سے کھاتی ہیں۔ سارہ نیتن یاہو کی فرمائش پر سالانہ بجٹ میں وزیراعظم ہائوس کے لیے آئسکریم کی خریداری کی مد میں 2700 ڈالر مختص کیے گئے تھے، لیکن محترمہ مئی تک 2000 ڈالر کی آئسکریم چٹور گئیں، جس کے بعد آئسکریم کے لیے ضمنی بجٹ منظور ہوا۔
نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات پر کئی پرچے کٹ چکے ہیں لیکن وزیراعظم ہونے کے ناتے موصوف کو عدالت میں اصالتاً پیشی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ غزہ خونریزی بند نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی نئے عام انتخابات ہوں گے جن میں نیتن یاہو اور اُن کے انتہاپسند اتحادیوں کی شکست یقینی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ سے علیحدگی پر جیسے ہی استثنیٰ کی چھتری ہٹی، میاں بیوی کو کرپشن کے الزام میں جیل جانا ہوگا، یعنی ’’جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے‘‘۔
مالی بدعنوانی پر مبنی دستاویزی فلم کے ساتھ اسرائیلی میڈیا پر بھی ان کے مکروفریب کا شرمناک انکشاف ہوا ہے۔ معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ وزیر انصاف یاریف لیون (Yariv Levin) نے اٹارنی جنرل محترمہ غالی باہراومیارا (Gali Baharav- Miara) سے غزہ جنگ میں انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں اور اس میں وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع سمیت دوسرے ملوث افراد کے خلاف مجرمانہ (criminal) تحقیقات کی درخواست کی۔ بادی النظر میں یہ بات بڑی خوش آئند لگی، بلکہ مسلم دنیا کے اسرائیل نواز روشن خیالوں نے اسے خود احتسابی کی عظیم مثال بھی قرار دینا شروع کردیا۔ لیکن اس کے دوسرے ہی دن اسرائیلی ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے اسرائیلی جمہوریت کے پھولتے غبارے میں انکشاف کی سوئی چبھو دی۔ چینل نے وزارتِ انصاف کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا کہ اپنے خلاف تحقیق کی فرمائش وزیراعظم نے خود کی ہے جس کا مقصد عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں چلنے والے مقدمے پر انداز ہونا ہے۔ منصوبے کے مطابق چھان بین شروع ہونے پر ICC کو درخواست دی جانی تھی کہ اسرائیلی عدلیہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، لہٰذا اس کے نتائج کے انتظار تک ICCکی کارروائی معطل کردی جائے۔ وزیراعظم کی سیاست طشت ازبام ہوجانے سے پہلے ہی اٹارنی جنرل صاحبہ نے وزیرانصاف کے نام یادداشت میں قانونی رائے دے دی تھی کہ اسرائیلی وزارتِ انصاف کی تحقیق سے ICCمطمئن نہیں ہوگی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تحقیقات کا ڈول ڈال کر نیتن یاہو ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے۔ یعنی ایک طرف تو ICCکی تحقیقات کو معطل کراکے نئے پینترے کے لیے مہلت حاصل کی جائے، اور دوسری طرف طوفانِ اقصیٰ کی تحقیق کے لیے جو اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ ہورہا ہے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا جائے کہ وزارتِ انصاف نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔ وزیرانصاف کی درخواست پر اپنے جوابی مکتوب میں فاضل اٹارنی جنرل نے لکھا کہ 7 اکتوبر کا سانحہ حد درجہ سنگین اور وزارتِ انصاف کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ اٹارنی جنرل صاحبہ اس کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ریاستی کمیشن بنانے کی تجویز پہلے ہی دے چکی ہیں۔ خبر سامنے آنے پر اسرائیلی حزبِ اختلاف نے نیتن یاہو کی سستی سیاست گری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اپنے ذاتی مفاد کے تحفظ کے لیے اسرائیل کی ساکھ کو دائو پر لگارہے ہیں۔
فتح مبیں کے بلند بانگ دعوے کے ساتھ فوج میں بے چینی بھی بڑی واضح ہے۔ جمعرات 12 ستمبر کو اسرائیلی انٹیلی جنس کور (Intelligence Corps) کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل یوسی ساریل (Yossi Sariel) نے استعفیٰ دے دیا۔ یونٹ 8200 کہلانے والی اس کور کے سربراہ نے اپنے افسران اور ماتحتوں کے نام خط میں کہا کہ ’’میں اپنا مشن پورا کرنے میں ناکام رہا ہوں، لہٰذا اس منصب پر برقرار نہیں رہنا چاہتا‘‘۔ خفت مٹانے کے لیے فوجی قیادت نے وضاحت کی کہ 7 اکتوبر کے حملے سے بے خبری کی بنا پر جنرل صاحب کی سبک دوشی کا فیصلہ پہلے کیا جاچکا تھا۔
قیدیوں کو بزور چھڑانے کی کوششوں میں ہلاک ہونے والے الیکس لوبانوو (Alex Lobanov)کے سمعی و بصری پیغام نے وزیراعظم کے لیے مزید شرمندگی کا سامان کردیا۔ الیکس اُن پانچ قیدیوں میں شامل تھا جو اس زور زبردستی میں مارے گئے۔ 13 ستمبر کو الیکس کی اہلیہ نے وہ پیغام اشاعتِ عام کے لیے جاری کردیا جو آنجہانی نے اپنی موت سے چند روز پہلے ریکارڈ کرایا تھا۔ ویڈیو میں دوسالہ بچے کا یہ باپ سسکیاں بھرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو 7 اکتوبر کو ہماری حفاظت میں ناکام رہے اور اب لگتا ہے کہ وہ ہمیں زندہ واپس لانے میں بھی ناکام رہیں گے‘‘۔ اپنی حاملہ بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ’’شاید خاندان میں اس خوبصورت نئے اضافے کا دیدار میری قسمت میں نہیں‘‘۔ بہت ہی دوٹوک لہجے میں الیکس نے کہا ’’حکومت چاہتی ہے کہ ہم یہیں مرجائیں تاکہ انہیں امن معاہدہ نہ کرنا پڑے‘‘۔
اس ویڈیو کے بعد وزیراعظم پر تنقید میں اضافہ ہوگیا تو حالات کا رخ موڑنے کے لیے نیتن یاہو نے قومی حکومت کی تجویز پیش کردی۔ نیشنل یونٹی پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز کے نام ایک خط میں انھوں نے کہا کہ ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے قومی حکومت کی ضرورت ہے۔ ان کی اس پیشکش کو بینی گینٹز اور قائدِ حزبِ اختلاف یار لیپڈ نے فوراً مسترد کریا۔ کنیسہ (پارلیمان) میں تقریر کرتے ہوئے بینی گینٹز نے کہا کہ اتحاد و یکجہتی کے لیے قومی حکومت نہیں بلکہ منتخب حکومت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم اور اُن کا انتہاپسند جتھہ حقِ حکمرانی کھوچکے ہیں۔ نااہل حکومت میزائلوں کی بارش روک سکی نہ غزہ پر قابو ان کے بس کی بات ہے۔ اب غربِ اردن میں بھی شورش برپا ہے۔ بی بی (وزیراعظم) کو نوشتہِ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔
اسرائیلی حکومت کو ملک کے اندر سخت پریشانی کا سامنا ہے لیکن صدر بائیڈن سفاکی، نسل کُشی اور قتلِ عام کی پشتیبانی کے لیے اب تک پُرعزم ہیں۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے ٹینکوں کی نقل و حمل کے لیے اسرائیل کو ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹرالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چند ہفتہ پہلے صدر بائیڈن نے اسرائیل کے لیے 20 ارب ڈالر کے F15 بمبار طیاروں کی منظوری دی تھی۔
جہاں اسرائیل کے اتحادی اُس کی وحشت و خونریزی میں سہولت کاری کے لیے پُرجوش ہیں، وہیں دنیا بھر میں مستضعفین کی سیاسی و اخلاقی حمایت میں بھی کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ جامعات، سیاسی اجتماعات، نمائش و میلہ… ہر جگہ فلسطینیوں کی نصرت اور ظالموں کی مذمت کے لیے تحریکی عناصر موجود ہیں۔ امریکہ میں صدارتی مباحثے کے دوران بھی ہال کے باہر زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران ایک تقابلی کتبہ لوگوں کی نگاہ کا مرکز بنا رہا جس میں بتایا گیا تھا کہ نسل کُشی، ماحول دشمنی اور تارکینِ وطن سے تضحیک آمیز برتائو کے حوالے سے ٹرمپ اور کملا ایک ہیں اور ان دونوں نے سیاست و ایوانِ حکومت کو بڑی کارپویشنوں کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔
آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر میلبورن میں 11 سے 13 ستمبر تک آسٹریلین آرمز کنونشن کے عنوان سے اسلحے کی نمائش ہوئی۔ اس موقع پر ’طلبہ برائے فلسطین‘ اور ’جنگ بند کرو محاذ‘ نے زبردست مظاہرہ کیا۔ گھڑ سوار پولیس نے لوگوں کو رگیدا، جواب میں مظاہرین نے پولیس پر ٹماٹر اورانڈے پھینکے۔ متانت اور باوقار صبر کے ساتھ پولیس تشدد کا سامنا کرتے ہوئے طلبہ نے نمائش کے آخری دن تک مظاہرہ جاری رکھا۔
اخراج، اجرائے اسناد سے انکار اور گرفتاریوں کے باوجود موسم گرما کی تعطیلات کے بعد امریکی جامعات کھلتے ہی غزہ نسل کشی کے خلاف طلبہ کے مظاہرے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات کہ ہارورڈ، ایم آئی ٹی، جامعہ پنسلوانیا (Upen)،جامعہ جنوبی کیلی فورنیا جیسے انتہائی مؤقر ادارے اس تحریک کا مرکز ہیں۔ گزشتہ ہفتے طبی تحقیقات کے لیے مشہور جامعہ جان ہاپکنز میں زبردست مظاہرہ ہوا۔
دوسری طرف ایک لاکھ ٹن بارود برسادینے کے بعد بھی مزاحمت باقی ہے۔ 12 ستمبر کو عسکری قیادت نے نوید سنائی کہ اہلِ غزہ کا رفح بریگیڈ نیست و نابود کردیا گیا۔ اس پر مبارک سلامت کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ دوسرے دن رفح میں اسرائیلی ہیلی کاپٹر گرجانے سے اس پر سوار دو فوجی ہلاک اور سات شدید زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ تھا یا دشمن کی کارروائی؟ عسکری ترجمان نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا، لیکن ملبے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے میزائل مار کر گرایا گیا ہے۔
مکمل تباہی کے باوجود غزہ میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے اسکولوں کو چن چن کر نشانہ بنایا لیکن ایک دن کے لیے بھی غزہ میں تعلیم کا سلسلہ بند یا معطل نہیں ہوا، اور ملبے پر چادروں سے بنے ’اسکول‘ شاد و آباد ہیں۔ یعنی حسرتؔ کی طرح آتش و آہن کی موسلا دھار بارش میں بھی ’مشقِ سخن‘ جاری ہے۔ اس کے مقابلے میں شمالی اسرائیل کے چاروں اضلاع عکا، یزرعیل، کینیرت اور صفد کے علاوہ مقبوضہ جولان کے اسکول گزشتہ سال اکتوبر سے بند پڑے ہیں۔
شوق و انہماک سے قلم و قرطاس کے اسلحے کو صیقل کرتے فلسطینی بچے سفاک حملہ آوروں کو اپنے معصوم لیکن پُرعزم لہجے میں پیغام دے رہے ہیں کہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
(احمد فراز)
………………………………
آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

