کتاب: مسئلہ قادیانیت
مؤلف: جمیل اطہر قاضی (چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’جرأت‘‘ لاہور)
معاون: عرفان اطہر قاضی
صفحات: 1080 قیمت: 2500روپے
ناشر: قلم فائونڈیشن، بنک اسٹاپ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ
0300-8022484, 0333-4128743
اللہ تعالیٰ نے نہ صرف نبی کریم سیّدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دینی تعلیمات کو ایک مکمل اسلام کے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپؐ کو خاتم النبیین قرار دے کر ہر قسم کی نبوت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ قرآن کریم فرقانِ حمید کی آیات اور احادیثِ نبویہؐ میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے بارے میں ہر قسم کی وضاحت کردی گئی ہے کہ رحمۃ للعالمین رسول اکرمؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حدیث ِنبویؐ ’’انا خاتم النبیین …لانبی بعدی‘‘ میں ’’لا‘‘ نفی جنس کا ہے جس کے بعد کسی قسم کی گنجائش قیامت تک باقی نہیں رہی۔
ربّ العزت کی توفیقِ خاص سے ہی نبوت کے زمانے کے علاوہ بعدمیں بھی صحابہ کرامؓ، ائمہ و محدثین، علمائے کرام، حکمرانوں اور عام مسلمانوں نے ہمیشہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی مکمل طور پر حفاظت کی۔ جب بھی کسی بدبخت نے ختمِ نبوت پر ضرب لگانے کی مذموم کوشش کی، مسلمانوں نے علمائے کرام کی زیر قیادت ایسے فتنے کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریز استعمار نے اپنی سازشوں اور گھناؤنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے جہاں دیگر بہت سے ہتھکنڈے استعمال کیے وہیں انھوں نے ایک بدبخت اور کاذب انسان مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’جھوٹا نبی‘‘ بنانے کی سازش بھی کی۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت اور اس کی غیراسلامی اور غیراخلاقی سرگرمیوں کے خلاف اُس کی زندگی میں اور بعد میں بھی علمائے اسلام نے مل کر عملی، علمی، تحریری ہر قسم کے میدان میں اس کو شکست سے دوچار کیا۔
’’فتنہ قادیانیت‘‘ چونکہ انگریز کا پروردہ تھا اس لیے قادیانی قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی سرگرمیوں کے ساتھ مسلمانوںکے خلاف ہر میدان میں پیش پیش رہے۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت اور اُس کے بعد 1974ء میں ’’واقعہ ربوہ‘‘ کے بعد اس معاملے نے نہایت سنگین صورت اختیار کی۔ لیکن ربّ العزت کے خاص فضل و کرم، علمائے اسلام اور دیگر اہلِ علم و فضل کی کاوشوں، اور مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں اُس دور کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زیرقیادت پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو ’’غیرمسلم ‘‘ قرار دے کر اقلیتوں میں شمار کردیا۔ لیکن یہ بدبخت آج تک قومی اسمبلی اور پاکستانی آئین کے اس فیصلے یعنی ’’اقلیت ہونے‘‘ کا عملاً انکار کرتے ہوئے کسی نہ کسی شکل میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس فتنے کی سرکوبی کے لیے آج بھی مسلمان ہر محاذ پر ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔
زیر نظر کتاب ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ معروف صحافی، ادیب، محقق اور کئی اخباروں کے چیف ایڈیٹر جناب جمیل اطہر قاضی کی مایہ ناز تالیف ہے۔ آپ صحافتی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں، لیکن اس کتاب کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کا شمار محققین کے علاوہ علما میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں اُنھوں نے اس مسئلے کی ابتدا سے لے کر آج تک ہونے والے مختلف واقعات، تحریکوں اوردیگر سرگرمیوں کو ایک خاص انداز میں پیش کیا ہے کہ مسلمان تو مسلمان، اگر غیر مسلم بھی غیر جانب دار ہوکر اس کا مطالعہ کرے تو وہ اس ’’فتنہ قادیانیت‘‘ کے مختلف پہلوئوں سے آگاہ ہوتے ہوئے یہ فیصلہ کرے گا کہ ان لوگوں کا ’’دینِ اسلام‘‘ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں، یہ مسلمانوں سے الگ ایک مذہب اور عقیدہ رکھتے ہیں۔
جناب جمیل اطہر قاضی اپنی زیر نظر کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’1953ء اور 1974ء کی تحفظِ ختمِ نبوت کی عظیم الشان، ایمان افروز اور عشقِ رسولؐ کی خوشبو میں گندھی ہوئی تحریکوںکا تذکرہ مختلف کتابوں اور کتابچوں میں بکھرا ہوا ہے۔ راقم کو اپنی کم علمی اور کوتاہ قلمی کا پورا احساس اور ادراک ہے اور سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد جو مواد دستیاب ہوسکا ہے، وہ ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ کے آنے والے صفحات میں شامل کردیا ہے، ہر ممکن سعی کے باوجود ہر علمی کام میں غلطی اور کوتاہی کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
قاضی اطہر کی زیر نظر عظیم الشان تالیف ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ میں اس موضوع پر قدیم و جدید مقالات کا ایک حسین گلدستہ اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ اس فتنے کی ابتدا سے اب تک کے مراحل و مسائل اور اُن کا حل ایک نظر میں سامنے آجاتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد اشرف ’’حرفے چند‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’7ستمبر2024ء کو قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کو پچاس سال مکمل ہونے کو [ہوچکے]ہیں ۔ یوں یہ سال اس تاریخ ساز فیصلے کا گولڈن جوبلی برس ہے۔ اس موقع پر ملک کے نام ور صحافی، شہرۂ آفاق مصنف، قابلِ قدر قائدِ صحافت اور ظاہری و باطنی جمال سے آراستہ شخصیت جناب جمیل اطہر قاضی نے ایک ضخیم اور وقیع دستاویز ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ کے نام سے ترتیب دی ہے، جو پوری قوم اور اُمتِ مسلمہ کے لیے گولڈن جوبلی سال کا انتہائی خوبصورت، ظاہری و معنوی دونوں اعتبار سے تحفہ ہے۔‘‘
زیرنظر کتاب کو سات ابواب یعنی ’عظمتِ رسالتؐ‘، ’عقیدہ ختم نبوت‘، ’اسلام اور قادیانیت‘، ’تحاریک تحفظِ ختم نبوت‘، ’قادیانی مسئلہ: آئین اور عدالتی فیصلے‘، ’تحفظِ ختمِ نبوت اور جماعتیں‘، ’مجاہدینِ تحفظِ ختمِ نبوت‘… کے تحت تقسیم کرکے مضامین کو مرتب کیا گیا ہے۔ کتاب میں چند اہم مساجد کی تصاویر و تعارف بھی دیا گیا ہے۔ ہر باب کے تحت تمام مکاتبِ فکر کے نامور علمائے کرام، صحافیوں، دانش وروں اور دیگر اہلِ علم کی تحریروں کوالگ الگ باب کے تحت پیش کیا گیا ہے۔ شان ِ رسالتؐ، عقیدۂ ختمِ نبوت، قادیانیت کی تاریخ و ابتدا، اس کے حوالے سے چلنے والی تحاریک، ان کے بارے میں قانونی، عدالتی اور آئینی فیصلوں کے علاوہ جماعتوں اور ختم ِنبوت پر کام کرنے والے شاہینوں اور مجاہدین کے بارے میں تحریریں اس انداز میں پیش کی گئی ہیں کہ اس مسئلے کی ابتدا، درمیانی مراحل اور اختتام جب انہیں باقاعدہ طویل بحث و مباحثے کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی کے ذریعے ’’غیرمسلم قرار دے کر‘‘ اقلیتوں میں شامل کردیا گیا … کی تمام تاریخ ایک نظر میں سامنے آجاتی ہے۔

