مہنگی بجلی، ظالمانہ ٹیکس، عوام دشمن معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا

جماعت اسلامی نے مہنگی بجلی کے خلاف راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر طویل دھرنا دیا۔ جو حکومت کے ساتھ تحریری معاہدے پر ختم ہوا ۔ معاہدے میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور دیگر حکومتی شخصیات شامل تھیں جنہوں نے یقین دلایا تھا کہ معاہدے پر سو فیصد عمل درآمد ہو گا کیونکہ وزیر اعظم شہباز شریف عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے فکر مند ہیں۔ معاہدے کے بعد جماعت اسلامی نے جلسے جلوس جاری رکھے تاکہ حکومت پر دبائو برقرار رہے۔ 28 اگست کو جماعت اسلامی نے تاجران کے ساتھ مل کر ملک گیر کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال کی جس کا مقصد بھی مہنگائی اور ناجائز ٹیکسز کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے 45 دن کی مہلت مانگی تھی جو پوری ہو گئی لیکن حکومت تحریری معاہدے کے باوجود بھی عوام کو کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر تیار نہیں۔ آئی ایم ایف کے اشاروں پر چلنے والی حکومت جہاں عوام کا خون چوس رہی ہے وہیں مہنگی بجلی سے ہر شخص پریشان ہے لیکن حکومت کے کام پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر حکومت کی جانب سے راولپنڈی معاہدے کو پورا نہ کرنے، مہنگی بجلی و آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں و ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف ملک گیر دھرنے دیے گئے۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، لاڑکانہ، جامشورو، مردان، چارسدہ ہری پور، مالاکنڈ، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، چترال، کرک، مانشہرہ، دیر اپر ، دیر لوئر، دیر بوٹر، مستونگ، ننکانہ صاحب، شکار پور، سرگودھا، لیہ، بہاولپور، ملتان، بھکر، سوات، اسلام آباد، قصور، جھنگ، اوکاڑہ، میانوالی، میر پور خاص، سانگھڑ، گڈاپ، ٹھٹھہ، جیکب آباد، قنبر علی خان، سکھر، بدین، مٹھی، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، بہاولنگر، راجن پور، کوٹ ادو، مظفر گڑھ، وہاڑی، صوابی، بونیر، بٹگرام، شانگلہ، جڑانوالہ، تورغر، ایبٹ آباد، مہمند سمیت دیگر شہروں میں دھرنے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ جہاں عوام اور جماعت اسلامی کی قیادت نے مہنگی بجلی کے خلاف معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غریب انسان کو زندہ درگور کرنا چاہتی ہے مہنگی بجلی سے عوام کی چیخیں نکل رہیں ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے والا فاسق ہے ۔ حکومت عوام دشمن بن چکی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ دوسری جانب گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مظہر اقبال رندھاوا سمیت درجنوں کارکن گرفتار کر لیے گئے۔ جڑانوالہ میں جماعت اسلامی کا احتجاجی کیمپ کو اکھاڑ دیا گیا اور سامان ضبط کر لیا گیا۔ پنجاب پولیس نے صوبہ بھر میں فسطائیت کا مظاہرہ کیا جب کہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے حکومتی جبر سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔ راجن پور میں بھی پنجاب حکومت نے پنجاب پولیس کی مدد سے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلعی امیر ڈاکٹر عرفان اللہ ملک نائب امیر جماعت اسلامی ضلع راجن پور عبدالرشید خان سمیت کئی کارکنان گرفتار کر لیے۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اسلام آباد میں دھرنے، لانگ مارچ اور ریفرنڈم کا آپشن موجود ہے۔ مہنگی بجلی کے خلاف باقی تمام سیاسی جماعتیں کیوں خاموش ہیں۔ ہم حکومت کو پاکستانی عوام سے مہنگی بجلی کی صورت میں مزید لوٹ مار نہیں کرنے دیں گے۔ ان کو بھگتنا پڑے گا۔ مہنگی بجلی 25 کروڑ لوگوں کے سروں پر عذاب ہے جس کے خلاف کوئی ایک بھی سیاسی جماعت کھل کر بات نہیں کر رہی۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے پر جو مزید ٹیکس لگا ہے اس پر بھی کوئی ایک سیاسی جماعت بات نہیں کر رہی۔ جماعت اسلامی اپنا فرض ادا کرے گی ہر گلی محلے، شہر شہر ہماری احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ ہم عوام سے ریفرنڈم کی صورت میں یہ پوچھیں گے کہ کیا بجلی کے بل ہمیں ادا کرنے چاہیے کہ نہیں؟ حکومت عوام سے پہلے ہی اربوں روپے بجلی کے بلوں میں زائد وصول کر چکی ہے جو ظلم ہے جس کے خلاف ہر پاکستانی کو نکلنا ہو گا۔ کیپسٹی پیمنٹ (Capisty Paymant) کے نام پر ہزاروں ارب روپے عوام سے لیے گئے ہیں وہ بجلی پاکستان میں کنزیوم تو کیا بنی ہی نہیں۔ جو بجلی بنی نہیں اس کے پیسے پاکستانی قوم ادا کر چکی ہے۔ جو پیسے ہم پہلے ادا کر چکے ہیں اب مزید ہم ادا نہیں کر سکتے۔ جماعت اسلامی عوامی ریفرنڈم میں قوم کی رائے حاصل کرے گی اور اس کے بعد اپنی احتجاجی تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی۔

دوسری جانب حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کر کے یہ عندیہ دیا کہ حکمران سچ کا پاس رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ امانت و دیانت کا معیار ان کے پاس سے بھی نہیں گزرا۔ جماعت اسلامی جیسی جمہوری اور ملک گیر جماعت سے مسلم لیگ ن نے معاہدہ توڑ کر اپنا منہ ہی کالا کیا۔ مسقبل میں ان کی قیادت سے کسی قسم کا معاہدہ یا ڈائیلاگ کرتے وقت ایک بار نہیں ہزار بار سوچنا ہو گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی جو اپنے آپ کو صحافت کا علمبردار کہتے ہیں معاہدہ کے وقت وہ پیش پیش تھے اور راولپنڈی میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت جلد عوام کو سستی بجلی کی صورت میں بڑا ریلیف دے گی۔ ان کے معاہدے سے انحراف کی صورت میں محسن نقوی کی ساکھ بھی شعبہ صحافت میں متاثر ہو گی کیونکہ جو میڈیا مالکان معاہدے کا پاس رکھنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں تو ان سے کبھی بھی سچ بات کرنے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ حافظ نعیم الرحمن باہمت اور بلند حوصلہ رکھنے والے عوامی لیڈر ہیں جو یقینا ہمت نہیں ہاریں گے مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے ایشو کو ہائی لائٹ کرنا ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ اس ایشو پر حکومت کو جلد یا بادیر گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔ حافظ نعیم الرحمان حکومت پر مزید پریشر کس طرح ڈیولپ کرتے ہیں اب یہ ان کی قیادت کا امتحان ہے اگر جماعت اسلامی شہباز حکومت کو پریشرائز کرنے میں جلد کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ حافظ کی کامیابی ہو گی ورنہ حافظ نعیم الرحمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں اگر اس تحریک کو روکا گیا تو حکومت گرائو تحریک بھی شروع ہو سکتی ہے۔