فلسطینی مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی لاہور میں ریلیاں

جامعہ پنجاب سمیت 200 سے زائد مقامات پر احتجاج
لبرٹی چوک لاہور میں حلقہ خواتین کا احتجاج… غبارے فضا میں بلند

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر اہلِ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ ایک سال سے جاری اسرائیلی ظلم وسفاکی کے خلاف جہاں سرکاری سطح پر اہلِ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا وہیں جماعت اسلامی کی جانب سے لاہور میں دو سو سے زائد مقامات پر ضلعی قیادت نے ریلیوں کا انعقاد کیا جن میں خواتین، طلبہ، مزدوروں، کسانوں، ڈاکٹرز، اساتذہ، محنت کشوں، تاجروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پیش پیش تھے۔ صوبائی دارالحکومت کے اسکولوں کے بچوں کی جہاں بہت بڑی تعداد فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکلی، وہیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اسلامی جمعیت طلبہ نے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے جہاں اسرائیلی ظلم پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا وہیں 57 اسلامی ممالک کی قیادت کی خاموشی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے جامعہ پنجاب کے علاوہ مال روڈ پر بڑا فلسطین مارچ کیا جس میں طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس کو ’’اسٹوڈنٹس غزہ مارچ‘‘ کا نام دیا گیا۔ احتجاجی مارچ پی ایچ جی چوک سے شروع ہوکر پنجاب اسمبلی پر اختتام پذیر ہوا جس کی قیادت ناظم لاہور حافظ ساجد محمود نے کی۔ طلبہ نے ہاتھوں میں فلسطین کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مارچ کا اختتام پنجاب اسمبلی پر ہوا جہاں ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حسن بلال ہاشمی، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری اور موٹیویشنل اسپیکر قیصر احمد راجا نے خطاب کیا۔ مارچ کے دوران مقررین نے فلسطین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے، اور حماس اور فلسطینی مجاہدین کی جرأت و بہادری کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنا ہیرو قرار دیا۔ طلبہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حسن بلال ہاشمی کا کہنا تھا کہ قبلہ اوّل سے مسلمانوں کی قلبی عقیدت کو اسرائیل ختم نہیں کرسکتا۔ لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو اسرائیل اب تک قتل کرچکا ہے لیکن عالمِ اسلام میں قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ فلسطین عرب یا عجم کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے۔ اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عالمِ اسلام کا اتحاد ناگزیر ہے۔ اسرائیل معصوم بچوں و خواتین کا قتلِ عام کررہا ہے، لاکھوں بچے اور شہری زخمی ہیں۔ اسرائیل نے جنگ کو بڑھا دیا ہے تاکہ عالمی جنگ شروع ہوجائے۔ پاکستان کو اس صورتِ حال میں خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔ اسلامی ممالک کی کانفرنس بلا کر امتِ مسلمہ کو سخت فیصلہ کرنا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری کا کہنا تھا کہ پندرہ لاکھ فلسطینیوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اسرائیل ایک وحشی درندہ ہے جو مظلوم مسلمانوں کا خون چوس رہا ہے۔ 90 فیصد عمارتیں تباہ ہیں جب کہ اسپتال بھی اسرائیلی ظلم سے محفوظ نہیں۔ مسلمان حکمرانوں کی بے حسی امتِ مسلمہ کی وحدت پر سوالیہ نشان ہے۔ حکمران مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے قتلِ عام پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کریں بلکہ امریکہ کو خبردار کریں کہ اس ظلم کا جواب دینا ہوگا۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور حافظ ساجد محمود کا کہنا تھا کہ طلبہ کی کثیر تعداد نے اہلِ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے باہر نکل کر یہ ثابت کردیا کہ امت جاگ چکی ہے لیکن ہمارے بزدل اور بے غیرت حکمران نہیں جاگے۔ پوری امتِ مسلمہ کے حکمران خاموشی اور بے غیرتی کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے، وہ غزہ کے بعد لبنان میں ہونے والی جارحیت کے خلاف دوٹوک اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ مسلم امہ کا غم و غصہ دور کیا جا سکے۔ ساجد محمود کا مزید کہنا تھا کہ بیت المقدس سے ہمارا تعلق لا الٰہ الا اللہ کا ہے جو کبھی کمزور نہیں ہوسکتا، مسلمان مر تو سکتا ہے لیکن اپنے مظلوم مسلمان بھائی بہنوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔
جامعہ پنجاب وہ عظیم درس گاہ ہے جہاں سے ہمیشہ مظلوم مسلمانوں کے لیے سب سے پہلے آواز بلند ہوتی ہے۔ ہر دینی و ملّی تحریک کا آغاز پنجاب یونیورسٹی میں تقویت پایا۔ مظلوم فلسطینی مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غزہ مارچ کا انعقاد اسلامی جمعیت طلبہ نے کیا جس میں پلے کارڈز اور فلسطینی پرچم تھامے ہزاروں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ یہ مارچ اسلامک سینٹر سے براستہ ہیلے کالج، لا کالج، کیمیکل ڈیپارٹمنٹ سے ہوتا ہوا فیصل آڈیٹوریم پر اختتام پذیر ہوا۔ دیواروں پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف پینٹنگ بھی کی گئیں۔ اس موقع پر ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حسن بلال ہاشمی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی اظہر اقبال، ناظم جامعہ پنجاب انعام الرحمان گجر اور دیگر مقررین بھی موجود تھے۔ طلبہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنما جماعت اسلامی اظہر اقبال حسن کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے تمام ظلم و جبر کے باوجود بھی ناکام ہوچکا ہے۔ تمام مسلمانوں کا دشمن اسرائیل ہے۔ دشمن کا میزائل شیعہ یا سنی نہیں دیکھتا۔ اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ کو اسرائیلی میزائل نے نشانہ بناکر یہ بتایا کہ ہر مسلمان اس کا دشمن ہے، ہمیں صرف آزاد فلسطینی ریاست کی بات کرنی چاہیے۔ قابض اسرائیل کو ہم سرے سے ہی تسلیم نہیں کرتے۔

طلبہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ناظم جامعہ پنجاب انعام الرحمان گجر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے لیکن ہماری بزدل قیادت خاموش ہے۔ فاسفورس بموں کے ذریعے فلسطینی بچوں، مائوں اور بیٹیوں کو مارا جارہا ہے، جہاں اسپتال بھی اب محفوظ نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہو جائیں تاکہ دشمن کو ہماری طاقت کا پتا چل سکے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وحشیانہ قتل عام کے خلاف جماعت اسلامی حلقہ خواتین بھی میدان میں نکل آیا۔ لبرٹی چوک میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کیا گیا۔ خواتین نے فلسطین کا 16 میٹر لمبا جھنڈا تھام کر نعرے بازی کی۔ اس موقع پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی عہدیداران نے امتِ مسلمہ پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ سب مسلم ممالک کو مجرمانہ خاموشی توڑ کر دہشت گرد اسرائیل کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحدہ ایمانی، سفارتی و اخلاقی جدوجہد وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اس موقع پر اہلِ فلسطین سے محبت بھرے پیغام کے ساتھ غبارے بھی فضا میں بلند کیے گئے۔