پاکستان کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ایک اہم موقع ہے جس میں پاکستان وسط ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ کاروباری معاملات مزید بہتر بنا سکتا ہے
کثیرالاشاعت سندھی روزنامہ ’’پنھجی اخبار‘‘ کراچی کے ادارتی صفحے پر کالم نگار ڈاکٹر اسلم پرویز عمرانی نے بروز اتوار 6 اکتوبر 2024ء کو جو خامہ فرسائی کی ہے، اس کا ترجمہ قارئین کی معلومات اور دل چسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔
’’اکتوبر کی 15 اور 16 تاریخ کو اسلام آباد میں ’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ کے 10 ممالک کے سربراہوں کی سمٹ یا اجلاس ہورہا ہے۔ پاکستان میں امن وامان کی صورتِ حال یہ ہے کہ ایک ماہ قبل 11 ممالک کے سفارت کاروں کے قافلے پر سوات میں حملہ ہوا تھا، نیز بلوچستان اور کے پی کے میں دہشت گردی کے بہت سارے واقعات ہوچکے ہیں۔ اس وقت عمران خان کے حکم پر ملک بھر میں جلسے، جلوس اور احتجاج ہورہے ہیں، اور ان کے خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ نے ریاستی تشدد کا جواب عوامی تشدد کے ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں روس، چین اور دیگر ممالک کے سربراہان کی شرکت درحقیقت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، خصوصاً اس وقت جب دنیا میں اسرائیل اور ایران کے مابین کشیدگی اور روس، یوکرائن کی جنگ کے باعث صورتِ حال بہت زیادہ خراب ہے۔ اگر پاکستان نے یہ اجلاس کامیابی کے ساتھ اسلام آباد میں منعقد کرا لیا تو بلاشبہ یہ اس کی ایک بڑی سفارتی اور سیاسی کامیابی گردانی جائے گی۔ لیکن اجلاس میں سربراہانِ مملکت کی بڑی تعداد نے شرکت نہ کی، اور ان کی طرف سے محض وڈیو لنک کے توسط سے ہی شرکت پر اکتفا کیا گیا تو اسے پاکستان کی کوئی بڑی کامیابی تصور نہیں کیا جائے گا، بلکہ اگر خدانخواستہ دورانِ اجلاس پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوگیا تو اس کے نتائج پاکستان کے لیے حد درجہ خراب ثابت ہوں گے۔ اسلام آباد کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو 5 تا 17 اکتوبر اسلام آباد کی سیکورٹی کی ذمہ داری دی ہے۔
شنگھائی تعاون کی تنظیم کے قیام سے پہلے 1996ء میں چین کے شہر شنگھائی میں چین، روس، قازقستان، کرغیزستان اور تاجکستان، یعنی پانچ ممالک نے ایک مشترکہ گروپ بنایا تھا جو 2001ء میں ازبکستان کی ممبر شپ کے بعد موجودہ نام (شنگھائی تعاون تنظیم) میں تبدیل ہوگیا ہے۔ بھارت اور پاکستان 2017ء سے اس کے باقاعدہ ممبر ملک بنے ہیں۔ ایران 2023ء میں رکن بنا اور جولائی 2024ء میں بیلا روس نے ممبرشپ حاصل کی ہے۔ یہ تنظیم یورپ اور ایشیا کے ممبر ممالک کی سیاسی، اقتصادی، عالمی سلامتی اور دفاعی تعاون کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ اس کا سب سے اہم ادارہ علاقائی دہشت گردی کے خاتمے کا ادارہ ہے۔ اس ادارے کا کام دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور ممالک کو توڑنے سے روکنا ہے۔ اس سلسلے میں روس اور چین ممبر ممالک کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کو روکنے کے لیے مالی وسائل اور کاروبار کو نشانہ بناتے ہیں جس میں خاص طور پر منشیات کا کاروبارشامل ہے۔
اس تنظیم کے ممبر ممالک دنیا کی آبادی کا 40 فیصد ہیں، اور ان کی مجموعی حقیقی پیداوار دنیا کی کُل پیداوار کا 32 فیصد ہے۔ اس علاقائی تنظیم کے پاس دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ کیوں کہ اس تنظیم کی قیادت چین اور روس کرتے ہیں اس لیے امریکہ اور اس کے اتحادی شنگھائی تعاون تنظیم کو اپنے سامراجی مفادات کی مخالف تنظیم سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں قازقستان میں منعقدہ تنظیم کے کونسل سیشن میں ایک نئے جمہوری انصاف پر مشتمل سیاسی اور اقتصادی ورلڈ آرڈر کے قیام کی بات کرکے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قائم ورلڈ آرڈر کو چیلنج کرکے انہیں اور زیادہ چونکا کردیا گیا ہے، جب کہ ان دس ممالک کے مابین ان کی اپنی کرنسی یا سامان کے بذریعہ بارٹر سسٹم (چیز کے بدلے چیز) کاروبار کو فروغ دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔ حال ہی میں پاکستانی کمپنی نے چاول، پھلوں اور آلوئوں کے بدلے میں روس کی کمپنی سے دالیں اور دیگر سامان خریدنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ اس نوعیت کا کاروبار ڈالر کی اجارہ داری کو بہت بڑے نقصان سے دوچار کرتا ہے، اور اس سے دوسری جانب روس پر عائد کردہ امریکہ کی معاشی پابندیاں بھی بے اثر ہوجاتی ہیں۔
اس تنظیم میں اضافے اور اس کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ دراصل بھارت کی خارجہ پالیسی ہے۔ ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم میں زور دینے پر شامل ہوا تھا، اور اس کی خارجہ پالیسی کے ماہرین کا خیال یہ تھا کہ روس اور اس کی سابقہ سوویت یونین والی چار ریاستوں کی موجودگی میں چین سے توازن برقرار رہے گا، لیکن اب نریندر مودی کی حکومت چین مخالف چار ممالک کے فوجی اتحاد کا حصہ ہے جس میں امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور بھارت شامل ہیں۔ اسی طرح سے نریندر مودی کی حکومت ہمہ وقت اسی کوشش میں لگی رہتی ہے کہ عالمی فورم پر پاکستان کی حکومت پر دہشت گردی کے الزامات لگاکر اسے تنقید کا نشانہ بنائے۔ بھارت کی اس پالیسی کی وجہ سے شنگھائی تعاون کی یہ تنظیم ماضیِ قریب میں کوئی بھی عملی فیصلے نہیںکرسکی ہے۔ بھارت چین پر یہ بھی الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ اس تنظیم اور دیگر پراجیکٹس کو استعمال کرکے وسط ایشیا، افریقہ اور دوسرے ممالک میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی وجہ سے بھارت کا علاقائی توازن خراب ہورہا ہے۔ درحقیقت بھارت خود ان علاقوں کے اندر اپنا سیاسی اور اقتصادی اثر بڑھانا چاہتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس ساری صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ جن علاقائی اتحادوں میں چین اور بھارت شامل ہیں، وہ ان میں تضادات کو اجاگر اور نمایاں کرکے ان اتحادوں کو غیر مؤثر بنانے کی سعی کرتے ہیں۔
مئی 2023ء میں بھارت کے شہر گوا میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کی پی ڈی ایم کی حکومت کی طرف سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے شرکت کی تھی۔ اس میٹنگ سے امید تھی کہ بلاول بھٹو کی شرکت سے پاک، بھارت تعلقات میں قدرے بہتری آئے گی۔ لیکن توقعات کے برعکس بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو دہشت گردوں کا ترجمان قرار دے ڈالا۔ اس سیاسی جھگڑے نے بھارت میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے ماحول کو بہت زیادہ خراب کردیا تھا۔ اب بھی بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اپنے ملک کی نمائندگی کرنے آرہے ہیں اور ممکن ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی بھی بذریعہ وڈیو لنک تقریر کریں، جس طرح سے شہبازشریف نے بھارت میں ہونے والی سمٹ میں کی تھی۔ اس وقت بھارتی خارجہ پالیسی کے مطابق پاکستان ایک دشمن ملک ہے اور چین سفارتی اور معاشی میدانوں میں مخالف ملک ہے۔ اس لیے بھارت شنگھائی تعاون تنظیم میں روس، ایران اور وسط ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کاروباری اور سفارتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔ چین کے ساتھ وہ مسابقت یا مقابلہ کرتا ہے اور پاکستان پر وہ دہشت گرد ملک ہونے کا الزام عائد کرکے اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ امریکہ کے ورلڈ آرڈر کے بجائے طاقت کا مرکز زیادہ ممالک ہوں، جن میں برصغیر سے لے کر وسط ایشیا تک بھارت کی کاروباری، سیاسی اور سفارتی اجارہ داری ہو۔ اُس کے اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ چین کی ہے جس کی وجہ سے بھارت امریکہ کے چین مخالف اتحادوں کا حصہ بنا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے مقابلے میں بھارت پانچ ممالک کی قائم کردہ تنظیم برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ جو ترتیب وار ہر ملک کے پہلے انگریزی حرف کی وجہ سے بی، آر، آئی، سی اور ایس (برکس) کے نام سے پکاری جاتی ہے‘ میں کہیں زیادہ سرگرم ہے۔ ایران، مصر، متحدہ عرب امارات کی شمولیت کے بعد اس گروپ میں بھارت کا اثر زیادہ ہے، اسی لیے بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کو بے اثر یاختم کرنے کا خواہش مند ہے۔
پاکستان میں اب ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں بھارتی وزیراعظم مودی کی شرکت پاکستان کی حکومت کے لیے اہم تھی۔ پاک، بھارت سفارتی تعلقات 2019ء میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کرنے کے باعث سخت خراب ہیں۔ بھارت نے پاکستان کی جانب سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا کبھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ مودی کی شرکت سے مذاکرات شروع کرنے کا کوئی راستہ نکل آتا، لیکن بھارتی وزیر خارجہ جے پرکاش کی شرکت سے یہ موقع نہیں مل پائے گا۔ بھارت کی سفارتی اور معاشی محاذوں پر پاکستان کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن عمران خان کی پارٹی کیوں پاکستان کی حکومت بلکہ ریاست کی ہر اہم سیاسی اور معاشی کوششوں کی مخالفت کرتی ہے؟ اس میں اصل غلطی کس کی ہے؟ 2014ء میں جب چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے دورے کا پروگرام بنایا تھا تب عمران خان نے اُس وقت کی ’’خلائی مخلوق‘‘ کے تعاون اور مدد سے اسلام آباد پر حملہ کرکے طویل دھرنا دے ڈالا تھا، جس کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوگیا تھا۔ اُس وقت امریکہ اور بھارت چین کے صدر کے دورۂ پاکستان سے خوش نہیں تھے۔ 2023ء میں جب پاکستان کے معاشی دیوالیہ سے نکلنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے تھے اُس وقت بھی عمران خان کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین اور کے پی کے کے صوبائی وزیر خزانہ تیمور ظفر جھگڑا نے عمران خان کے کہنے پر آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے کے لیے الگ الگ خطوط لکھے تھے۔ اس موقع پر بھارت نے بھی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ اب جب کہ پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں کئی غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی آمد کی توقع ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سب سے خطرناک بیان پی ٹی آئی کے‘ کے پی کے کے وزیر بیرسٹر سیف نے دیا ہے جس میں موصوف نے مبینہ طور پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اس نوع کا بیان اگر سندھ یا بلوچستان کا کوئی سیاست دان دیتا تو شاید مسنگ پرسن بن چکا ہوتا۔
پاکستان کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ایک اہم موقع ہے جس میں پاکستان وسط ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ کاروباری معاملات مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ چین کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت، زراعت کی ترقی اور پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے کاروبار میں اضافے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سمٹ میں افغانستان پر دبائو بڑھانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کوئی قرارداد بھی منظور کروائی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال سے لگتا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کے کچھ اہم سربراہان شاید اس میٹنگ میں شرکت کے لیے نہ آئیں اور وہ بذریعہ وڈیو لنک شرکت کریں۔ لیکن اس سے پاکستان کے دو طرفہ تعلقات مضبوط نہیں ہوں گے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کی عدم شرکت سے ان سے دو طرفہ مذاکرات کی پاکستانی حکومت کی خواہش بھی پوری نہیں ہوگی۔‘‘
(نوٹ: کالم کے تمام مندرجات سے مترجم یا ادارے کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔)

