مقبوضہ کشمیر اسمبلی انتخابات:کشمیر کے عوام کا ریفرنڈم؟

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے کُل 90 نشستوں میں سے 40 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کی۔ بی جے پی وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں سے ایک نشست بھی حاصل نہ کرسکی، جبکہ جموں کی 43 میں سے اسے صرف 29نشستیں حاصل ہوئیں

مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں وادی کشمیر، جموں اور پونچھ کے مسلم بیلٹ نے ووٹ کا کامیابی سے استعمال کرتے ہوئے تاریخی حیثیت کی حامل اپنی ریاست کے حوالے سے نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے فیصلوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنادیا، جس کے مطابق وادیِ کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نشست بھی حاصل نہ ہوسکی، بلکہ وادی میں جس جماعت اور شخصیت پر بی جے پی کی پراکسی کا شک گزرا، کشمیری عوام نے اُسے بھی نشانِ عبرت بنا ڈالا۔ یوں وادی کے عوام نے ایک ایسی جماعت کو اپنے ووٹ کا حق دار جانا جو برسرِعام ریاست کی شناخت چھیننے کی نہ صرف مخالف ہے کہ اس شناخت کی بحالی کو اپنے منشور کا حصہ بنائے ہوئے ہے بلکہ بھارت پر زور دے رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرکے مسئلہ کشمیر کے حل کا اہتمام کرے۔ اس کے برعکس بی جے پی کی قیادت انتخابی مہم میں یہ مؤقف دہراتی رہی کہ 5 اگست 2019ء کا فیصلہ کشمیریوں کے مفاد میں لیا گیا، اور کشمیری عوام اس فیصلے سے خوش ہیںاور اس فیصلے کی واپسی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ نریندر مودی نے جموں میں کھڑے ہوکر کہا کہ جب تک بی جے پی موجود ہے کوئی بھی دفعہ370کو بحال نہیں کرسکتا۔ وادیِ کشمیر کے مسلم عوام نے اس پیغام کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھ کر نریندرمودی کی جماعت سے سارے قرض چکانے کا راستہ اپنایا۔

انتخابی نتائج کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے کُل 90 نشستوں میں سے 40 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کی۔ بی جے پی وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں سے ایک نشست بھی حاصل نہ کرسکی، جبکہ جموں کی 43 میں سے اسے صرف 29نشستیں حاصل ہوئیں۔ محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی بھی صرف 4 نشستیں حاصل کرسکی، اور اُن کی بیٹی التجا مفتی بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔ محبوبہ مفتی نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نئی دہلی ان کی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کو ہوا دے رہا ہے اور ان کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جو پاکستان میں عمران خان کے ساتھ ہورہا ہے۔ کانگریس بھی ہندو اکثریتی علاقوں میں کوئی نشست نہیں جیت سکی بلکہ اس نے 6 نشستیں مسلم اکثریتی علاقوں سے حاصل کیں۔ یوں کانگریس نے نیشنل کانفرنس کی اتحادی ہوتے ہوئے ہندو ووٹ کو تقسیم نہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کرکے عملی طور پر بی جے پی کی مدد کی۔ اسی حکمتِ عملی کو بھانپتے ہوئے کشمیری عوام نے رنگ برنگی جماعتوں کے باوجود مجموعی طور پر اپنا وزن نیشنل کانفرنس کے پلڑے میں ڈال دیا۔ کشمیریوں کی بی جے پی سے نفرت کا ثبوت یہ تھا کہ کشمیر میں ہر کوئی اپنے سیاسی مخالفین کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی پراکسی قرار دیتا رہا۔ اس کا صاف مطلب مخالف کو عوام میں ڈس کریڈٹ کرنا تھا۔ ظاہر ہے عوام جس قوت سے نفرت کرتے ہیں اس سے وابستگی بھی اتنی ہی نفرت کا نشان بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں اکثر لوگ یہ وضاحتیں دیتے رہے کہ ان کا بھارتیہ جنتا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ الطاف بخاری کی اپنی پارٹی، غلام نبی آزاد کی عوامی جمہوری پارٹی اور انجینئر رشید کی نوزائیدہ جماعت بھی انتخابات میں شریک تھیں۔ انجینئر رشید جو کچھ ہی عرصہ پہلے تہاڑ جیل کی قید کے دوران بھاری اکثریت سے لوک سبھا کے ممبر منتخب ہوچکے تھے، ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ محض دوماہ بعد ہی عوام کی رائے میں اُن کے حوالے سے بڑی تبدیلی محض اس بنا پر آئی کہ لوگوں کو اُن کی ضمانت پر رہائی اور انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت کا انداز کچھ مشکوک سا دکھائی دیا، اور یوں عوام نے اُن کی جماعت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ انجینئر رشید کے ساتھ ساتھ حریت پسندوں کے جن عزیر واقارب نے انتخابات میں حصہ لیا انہیں بھی بری طرح شکست ہوئی۔ ان میں افضل گورو کے چھوٹے بھائی اعجاز گورو، اور اسیر حریت راہنما سرجان برکاتی المعروف آزادی چاچا کی صاحب زادی بھی شامل تھیں۔ جانے مانے حریت پسند گھرانوںکے افراد کو زبردستی انتخابات میں گھسیٹنے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ مودی کی کامیاب کشمیر پالیسی کے باعث اب حریت پسند بھی مین اسٹریم میں شامل ہونے لگے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے قائد ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے انتخابی کامیابی کے ساتھ ہی اعلان کردیا کہ ان کی پارٹی کی طرف سے کشمیر کی وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار عمر عبداللہ ہوں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی پہلی ترجیح جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی ہے۔ کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے سابق مہاراجا کشمیر ہری سنگھ کے بیٹے ڈاکٹر کرن سنگھ نے بھی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے وادی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو بی جے پی نے جموں میں اچھی کارکردگی دکھائی، اب نیشنل کانفرنس کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان دوخطوں کے درمیان سیاسی تقسیم پر قابو پانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کرن سنگھ یہ کہہ رہے تھے کہ وادی میں ہندو اور مسلم تقسیم گہری ہوئی ہے اور ہندو علاقوں میں اکثریت سے محروم نیشنل کانفرنس محض انتظامی طور پر اس علاقے کو کنٹرول نہیں کرسکے گی۔ یوں لگتا ہے کہ اس تقسیم کو ایک گہری منصوبہ بندی کے ساتھ وسیع کیا گیا۔ کانگریس نے ہندو اکثریتی علاقوں پر اپنا فوکس کرنے کے بجائے وادی کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ہدف بناکر عملی طور پر نیشنل کانفرنس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ وادی میں کئی مقامات پر کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا اور سوپور کے حلقے میں راہول گاندھی نے نیشنل کانفرنس کے خلاف تقریر کرڈالی، حالانکہ توقع یہ تھی کہ کانگریس جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں پر فوکس کرکے بی جے پی کے لیے چیلنج کھڑا کرے گی۔ سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ کانگریس اگر جموں کے علاقوں میں کامیاب حکمتِ عملی اختیار کرے تو بی جے پی کو دس سیٹوں تک محدود کرسکتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے اشارے بتاتے ہیں کہ دہلی نے ہندو مسلم تقسیم اور وادی، جموں تقسیم کو گہرا کرنے کی منظم کوشش کی۔ اس کے پیچھے جموں اور وادی کو دو الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی خواہش ہے۔ جموں میں کچھ سخت گیر ہندو گروپ پہلے ہی جموں کو الگ ریاست کے طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ اس طرح نیشنل کانفرنس کی حکومت کے لیے جموں کی سیاسی نمائندگی کے بغیر حکومت چلانا ایک مشکل کام ہوگا، اور اس سے دونوں علاقوں کی تقسیم کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔

بی جے پی کے ساتھ وادی اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں جو کچھ ہوا وہ قطعی غیر متوقع نہیں تھا، اس کی ایک جھلک لداخ کی ہل کونسل کے انتخابات میں بہت پہلے دیکھنے کو ملی تھی جہاں بی جے پی بری طرح ہار گئی تھی اور نیشنل کانفرنس نے میدان مار لیا تھا۔

دوسری بار لوک سبھا کے انتخابات میں بھی اسی انداز کے نتائج سامنے آئے تھے جب بی جے پی وادی سے ایک نشست بھی حاصل نہ کرسکی تھی۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں یہی عوامی رجحان برقرار رہا۔ اس طرح بی جے پی جو کشمیریوں کو خاندانی سیاست سے نجات دلانے کا دعویٰ کررہی تھی، ایک قدیم خاندانی جماعت کے ہاتھوں انتخابی شکست کا داغ سہنے پر مجبور ہوئی۔ یوں اسے فی الوقت کشمیر میں ہندو وزیراعلیٰ لانے کا شوق پورا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، مگرہندو وزیراعلیٰ لانے کا یہ شوق پورا کرنے کے لیے بی جے پی جموں کو الگ ریاست بنانے کے مطالبے میں شدت پیدا کرسکتی ہے۔