امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا افتتاحی خطاب
اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ ’’ٹیکنوفیسٹ پاکستان‘‘ نہایت ہی کامیاب اور منظم تقریب تھی جس کا مقصد پاکستان کے نوجوان طلبہ و طالبات کو تکنیکی علوم اور آئی ٹی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس فیسٹیول میں ملک بھر سے ہزاروں طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور اپنے ہنر و صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ٹیکنوفیسٹ پاکستان کے انعقاد کا اہم مقصد نوجوان نسل کو مایوسی اور بددلی سے نکال کر ایک مثبت اور پروگریسو سمت کی طرف گامزن کرنا تھا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب ملک میں روزگار اور تعلیم کے مواقع محدود ہیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے میدان میں اہم اور فعال کردار ادا کیا ہے، اس نے نہ صرف تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا ہے بلکہ طلبہ کی اخلاقی اور فنی تربیت کے میدان میں بھی اپنا حصہ ڈالتی رہی ہے۔ جمعیت نے ہمیشہ یکساں اور معیاری تعلیم کے لیے آواز بلند کی ہے اور ہر فورم پر غریب اور مڈل کلاس طلبہ کے حقوق کے لیے کوششیں کی ہیں، لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے بلکہ اس کا سب سے اہم کارنامہ اور کام یہ رہا ہے کہ اس نے اب تک لاکھوں طلبہ کی نظریاتی تربیت کی ہے جو آج پوری دنیا میں موجود ہیں اور جہاں بھی خیر کا کوئی کام ہورہا ہے اس میں ان کا کردار اور حصہ موجود ہوتا ہے۔
ٹیکنوفیسٹ پاکستان کے انعقاد کے ذریعے اسلامی جمعیت طلبہ نے یہ ثابت کیا کہ یہ تنظیم طلبہ کی فنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بھی بھرپور مواقع فراہم کررہی ہے۔ اس فیسٹیول میں مختلف تکنیکی اور انجینئرنگ پروجیکٹس کی نمائش کی گئی، جنہیں طلبہ نے اپنی محنت اور ذہانت سے تیار کیا تھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اس فیسٹیول کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف تعلیمی بلکہ تکنیکی میدان میں بھی طلبہ کی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمعیت طلبہ اور الخدمت فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ دونوں ادارے مل کر نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان نوجوانوں کو آئی ٹی کے میدان میں ترقی کے مواقع فراہم کرے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت کے تحت ’’بنوقابل‘‘ پروجیکٹ کے ذریعے ہزاروں طلبہ و طالبات کو فری آئی ٹی کورسز کروائے جارہے ہیں، اور ان کورسز کے بعد انہیں جاب انٹرویوز کے مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس کا مقصد پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کو ترقی دینا اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو آئی ٹی کے میدان میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ آہستہ کرنے اور مختلف پلیٹ فارم بلاک کرنے کی وجہ سے آئی ٹی سے وابستہ افراد پریشان ہیں۔ عجیب بات ہے کہ حکمران انٹرنیٹ آہستہ کرکے اپنے ہی ملک کی ایکسپورٹ کم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حکومت وریاست کی ذمہ داری ہے کہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ بڑھائی جائے اور پلیٹ فارم کھولے جائیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت نے بنوقابل کے تحت چھ ہزار طلبہ و طالبات کو فری آئی ٹی کورسز کروائے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کے تعاون سے ’بنوقابل‘ سے کورسز کرنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات کو جاب کے لیے کمپنیوں سے انٹرویو بھی کروائے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کے تحت پورے پاکستان میں 10لاکھ افراد کو آئی ٹی کے مختلف کورسز کروائیں گے۔پورے ملک کے اساتذہ کو بھی فری آئی ٹی کورسز کروائے جائیں گے جو طلبہ کو سکھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کا بجٹ 4سو ارب روپے کا ہے جو کم نہیں ہے۔سندھ کا تعلیم کا بجٹ عوام پر خرچ نہیں کیا جارہا ہے، سارا بجٹ وزراء آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔تعلیم کاروبار نہیں جسے فروخت کیا جائے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو یکساں اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔عوام کے ٹیکسوں کے پیسے حکمرانوں کے پاس موجود ہیں،ہمارے ہی پیسوں سے ہمیں تعلیم فراہم کی جائے۔جماعت اسلامی چوروں اور ڈاکوئوں سے عوام کا حق دلوارہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ مبارک باد کی مستحق ہے جس نے نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے ٹیکنوفیسٹ کا انعقاد کیا۔ جو کام بڑی بڑی کمپنیاں کرتی ہیں وہی کام اسلامی جمعیت طلبہ نے بغیر کسی معاوضے اور کاروباری غرض کے، کیا۔ پاکستان میں 65 فیصد طبقہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں آئی ٹی کے میدان میں لانے کی ضرورت ہے۔ حکومت و ریاست کا کام ہے کہ وہ نوجوانوں کو سہولیات فراہم کریں جس سے نوجوان آگے بڑھیں۔ پاکستان میں 40 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ان 40فیصد لوگوں کے لیے تعلیم کے مواقع نہیں ہیں،
2کروڑ 62لاکھ بچے اسکول ہی نہیں جاتے، صرف35لاکھ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کی جانب سے آئی ٹی کی تعلیم مہیا کی جاتی۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)کا دور شروع ہوچکا ہے، ہمیں اس حوالے سے اپنے نوجوانوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انجینئرنگ کے تمام شعبوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس پروگرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو شروع سے ہی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تعلیم فراہم کرنی چاہیے۔ اسلامی جمعیت طلبہ تعلیمی میدان میں ہمیشہ سے مثبت کردار ادا کررہی ہے، اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے میدان میں بھی فعال کردار ادا کررہی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ اسلامی تحریک کا ہراول دستہ بن کر دکھایا ہے۔ جمعیت نے ہمیشہ یکساں اور معیاری تعلیم کے لیے آواز بلند کی ہے، لیکن غریب اور مڈل کلاس کے لیے الگ تعلیم اور امیر طبقے سے وابستہ افرادکے لیے الگ تعلیم ہے۔مڈل کلاس سے وابستہ افراد اپنی جائدادیں فروخت کرکے تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی عوام کی ترجمان ہیں۔تعلیم کا بجٹ وفاقی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔
ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حسن بلال ہاشمی نے اس موقع پر کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ ہمیشہ ملت کی تعمیر کے لیے کوشاں رہی ہے اور اس کا مقصد اپنے کارکنان کو ایسی تربیت دینا ہے کہ وہ ملت کی خدمت کر سکیں۔ کراچی کے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ حافظ آبش صدیقی نے کہا کہ ٹیکنوفیسٹ پاکستان کا انعقاد طلبہ کی فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور اس میں ہزاروں طلبہ و طالبات کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔
ٹیکنوفیسٹ اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کی جانب سے ایک کامیاب اور اہم قدم تھا جس نے طلبہ کو نہ صرف تعلیمی بلکہ تکنیکی میدان میں بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ اس فیسٹیول نے نوجوانوں کو امید اور ہمت دی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور الخدمت مل کر پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک روشن راہ ہموار کررہی ہیں جس میں نوجوان کلیدی کردار ادا کریں گے۔

