گول میز کانفرنس”سرکاری اسکولوں کی نجکاری… خدشات، نتائج اور مستقبل“

تنظیم اساتذہ پاکستان صوبہ خیبر پختون خوا کے زیراہتمام صوبے میں ”سرکاری اسکولوں کی نجکاری… خدشات، نتائج اور مستقبل“ کے موضوع پر ایک گول میز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں اساتذہ تنظیموں اور اگیگا خیبر پختون خوا میں شامل تمام تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت تنظیم اساتذہ پاکستان صوبہ خیبر پختون خوا کے صدر ڈاکٹر محمد ناصر نے کی، جب کہ کانفرنس کے کوآرڈی نیٹر اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی سیکرٹری تنظیم اساتذہ صوبہ خیبر پختون خوا محمد عثمان نے انجام دیے۔ سیکرٹری جنرل تنظیم اساتذہ پاکستان فرمان علی عباسی نے تنظیم اساتذہ پاکستان اور صوبہ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ گول میز کانفرنس میں مرکزی سیکرٹری فنانس تنظیم اساتذہ پاکستان مصباح الاسلام اور سیکرٹری نشر و اشاعت فیاض احمد کاکا خیل بھی شریک رہے۔ کانفرنس کے دیگر شرکاء میں پشاور کی معروف سماجی شخصیت و چیئرمین انسٹی ٹیوٹ اف ریجنل اسٹڈیز ڈاکٹرمحمد اقبال خلیل، مرکزی چیئرمین اگیگا پاکستان و نمائندہ آڈیٹر ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا حیدر علی خان استانیزئی، سرپرستِ اعلیٰ اگیگا و صدر اسکولز آفیسرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا سمیع اللہ خلیل، صدر شعبہ بہبود تنظیم اساتذہ اسکولز سکندر خان یوسف زئی، صوبائی سیکرٹری آل ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا نوید گل ہزار خوانی، اکرام داؤدزئی، نائب صدر وحدتِ اساتذہ خیبر پختون خوا ملک شاد محمد، ایس ایس ٹی ویلفیئر ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کے ضلعی صدر اورنگزیب خان، آل ٹرائبل ٹیچرز ایسوسی ایشن سابقہ فاٹا کے سیکرٹری محمد آصف خان آفریدی، دی ایس ایس ٹی ویلفیئر کے صوبائی صدر طفیل محمد خان، ملگری استاذان کے ضلعی عہدیدار بابا خان خلیل، صدر تنظیم اساتذہ ضلع مہمند ڈاکٹر محمد الیاس، نائب صدر ضلع پشاور دست علی خان مہمند، حکیم سید سیکرٹری مالیات، لیاقت حسین باچا جوائنٹ سیکرٹری، ابو اعلیٰ یوسفی نوشہرہ، ساجد خان سیکرٹری ضلع پشاور، نواب گل سیکرٹری نشر و اشاعت ضلع پشاور، فضل کریم پشاور، غنی الرحمٰن پشاور اور عبدالرزاق داوڑ سیکرٹری نشر و اشاعت تنظیم اساتذہ خیبر پختون خوا شامل تھے۔

سکندر خان یوسف زئی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 25/A کے تحت 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان کی ہے۔ پاکستان کی شرحِ خواندگی 62.8 فیصد ہے جو کہ ہمسایہ ممالک بھارت اور چین سے بھی کم ہے۔ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے بعد صوبہ خیبر پختون خوا شرح خواندگی کے لحاظ سے پاکستان میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح غربت کی وجہ سے بھی لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ملک میں 1972ء سے پہلے پرائیویٹ اسکولز کا تصور نہیں تھا۔ امیر اور غریب کے بچے یکساں نصاب اور یکساں نظام تعلیم کے تحت سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے، اُس وقت کی تعلیم کا موازنہ اگر آج کے دور سے کیا جائے جس میں پرائیویٹائزیشن نے جنم لیا تو ذاتی فوائد کے حصول کے لیے تعلیمی اداروں کے مالکان بورڈز میں موجود مافیاز کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں نقل کے بڑھتے ہوئے رجحان، ذاتی دوستیوں اور سفارش کلچر کی وجہ سے سابقہ تعلیمی دور موجودہ دور سے خاصا بہتر تھا۔ اس لیے حکومت کو سرکاری تعلیمی اداروں میں پرائیویٹائزیشن کی نہیں آپریشنلائزیشن کی ضرورت ہے۔ حکومت اپنے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے سرکاری اداروں خصوصاً تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرکے ملک کے غریب عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی مرتکب ہورہی ہے۔ حکومت آئی پی پیز طرز کے معاہدوں سے گریز کرے اور صوبہ خیبر پختون خوا جو پہلے ہی سے دہشت گردی کا شکار ہے، یہاں پر نجکاری کے عمل کے بجائے مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائے۔

چیئرمین اگیگا پاکستان و نمائندہ آڈیٹر ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا جناب حیدر علی خان استانیزئی نے کہا کہ عدالت میں انصاف اور تعلیم سے ہی قومیں بگڑتی اور سنورتی ہیں۔ تعلیم ہماری قوم کی بنیادی ضرورت ہے۔ تعلیم اور انصاف پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ غیر ملکی این جی اوز کے اثر رسوخ نے ہمارے نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ہے، اس لیے حکومتِ وقت نجکاری کے عمل سے گریز کرے۔

صدر اسکول آفیسرز ایسوسی ایشن و سرپرستِ اعلیٰ اگیگا خیبر پختون خوا سمیع اللہ خان خلیل نے کہا کہ نجکاری کے عمل کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے تمام تنظیموں کا اکٹھا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کا تعلیم کے محکمے سے آغاز ان لوگوں کا ابتدائیہ ہے، اگر آج یہ لوگ نجکاری کے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوئے تو پھر محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، قدرتی وسائل اور دیگر محکموں کی باری بھی ہوگی اور اسی طرح سارے سرکاری ادارے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ گورنمنٹ نے پرائمری اسکول کی سطح سے نجکاری کا آغاز کیا جس کے بعد یقیناً مڈل، ہائی اسکولوں اور پھر کالجوں کی باری ہوگی۔ پرائیوٹائزیشن کے اس عمل کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آئی ایم ایف کی ایماء پر آگے بڑھایا جارہا ہے تاکہ تعلیم کو بھی غریب کی پہنچ سے دور کیا جاسکے۔ ابتدا میں حکومت کچھ رسمی سی رقم بچوں اور طلبہ کے والدین کو دے گی، لیکن پھر مستقبل میں فنڈز کی کمی کا بہانہ بناکر سارا بوجھ والدین پر ڈال دیا جائے گا۔

سیکرٹری نشر و اشاعت آل ٹیچرز ایسوسی ایشن سابقہ فاٹا محمد آصف خان آفریدی نے گول میز کانفرنس کے شرکاء سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے اجتماعی شعور کا حال یہ ہے کہ پہلے زمانے میں جوتے زمین پر اور کتابیں الماریوں میں رکھی جاتی تھیں، آج کل جوتے الماریوں میں اور کتابیں زمینوں پر پڑی نظر آتی ہیں۔ سابقہ فاٹا میں آج بھی دو یا زیادہ سے زیادہ تین اساتذہ پرائمری اسکولوں میں پڑھاتے ہیں جہاں مزید اساتذہ کی اشد ضرورت ہے۔ تعلیمی زبوں حالی کا شکار علاقوں میں پرائیویٹائزیشن کے اس عمل سے قبائلی بچے مزید تاریکی میں چلے جائیں گے۔ ملک میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا محکمہ ختم کیا گیا اور پھر وہی محکمہ بی آر ٹی کی شکل میں دوبارہ سرکاری تحویل میں شروع کیا گیا۔ سرکاری اسکولز اور ادارے اچھی اور کمرشل جگہوں پر واقع ہیں جن پر ملک کی اشرافیہ کی نظر ہے، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو نظامِ تعلیم کو بچانا ہوگا تاکہ نوجوان نسل غیر ملکی این جی اوز کے ہاتھوں میں جانے سے بچ سکے۔

اسکولز لیڈرز کے صوبائی سیکرٹری حافظ فیض ربانی نے کہا کہ1980ء سے ملک میں طبقاتی نظام نے منظم انداز میں جڑیں پکڑنا شروع کیں جبکہ 1990ء میں پرائیویٹائزیشن کا عمل شروع کیا گیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیلا دیا گیا۔ آج اگر خیبر پختون خوا میں 8 اسکولوں کو پی پی پیز کے تحت دے رہے ہیں تو مستقبل میں یہ تعداد 80 اور پھر 800 ہوجائے گی۔ تعلیمی شعبے کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دے کر ہم خود اپنے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نصابِ تعلیم غیروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور ہمارے نوجوان اخلاقی، نفسیاتی، معاشرتی اور سماجی برائیوں میں مبتلا ہوجائیں گے۔

دی ایس ایس ویلفیئر ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کے صوبائی صدر طفیل محمد نے کہا کہ تنظیم اساتذہ نے اس اہم اور نازک موضوع پر گول میز کانفرنس کا انعقاد کرکے ہمیں اس حساس نوعیت کے مسئلے سے آگاہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جس پر تنظیم اساتذہ داد کی مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے معاشرے میں عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی ادارے کمیونٹی سینٹر ہوتے ہیں، جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نفع اور نقصان کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں، اس لیے کمیونٹی لیول پر والدین کو آگاہ کیا جائے، اس نجکاری کے خلاف پی ٹی سی ممبرز کے ذریعے منظم مہم چلائی جائے جس میں سوشل میڈیا اورپرنٹ میڈیا کا استعمال کیا جائے۔

وحدتِ اساتذہ کے نائب صدر ملک شاد محمد نے کہا کہ انگریز کے دور میں مشنری اسکول ہوتے تھے، اور ان مشنری اسکولوں کے ذریعے وہ دینِ اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوتے تھے۔ آج اگر حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیویٹ کررہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت ملک کا تعلیمی نظام بیچ رہی ہے۔ یہ ادارے عیسائی، ہندو، قادیانی، سکھ اور دیگر غیر مسلم خرید کر وہاں پر اپنا من پسند نصاب رائج کریں گے جو یقیناً اسلام دشمن نصاب ہوگا، جس سے ملک کی وحدت اور تشخص کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ اس لیے اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ سیاسی لوگ بھی اس مسئلے پر بات کریں۔ محبِ اسلام اور محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناتے حکومتی اہلکاروں اور نمائندگان کو نجکاری کے عمل سے گریز میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

صوبائی سیکرٹری آل ٹیچرز ایسوسی ایشن نوید گل ہزار خوانی نے کہا کہ نجکاری کا مسئلہ اہم نوعیت کا مسئلہ ہے، اساتذہ کی تنظیمیں خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں میں اسکولوں، پی ٹی سی ممبرز، ایم این ایز، ایم پی ایز اور کونسلرز وغیرہ سے اس معاملے میں خصوصی رابطے استوار کریں اور اُن کے ذہنوں میں تعلیمی اداروں کی نجکاری کے مضر اثرات سے واقفیت پیدا کریں۔ اسمبلی کے فلور پر بھی حکومتی نمائندوں کو اس اہم ایشو پر بات کرنی چاہیے۔ اگر ہماری بات کو اہمیت نہیں دی گئی تو عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے اور احتجاج کا راستہ بھی اختیار کریں گے۔

چیئرمین آئی آر ایس ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے کہا کہ ہم اپنے ادارے میں اس اہم مسئلے پر بہت جلد سیمینار کا انعقاد کریں گے، اور اس سیمینار میں سیاسی و سماجی افراد کو دعوت دیں گے کہ وہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کے اس عمل کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ عوام نے تعلیمی اداروں کے لیے جو مفت زمینیں دی ہیں وہ اس لیے نہیں دیں کہ باہر سے لوگ ان قیمتی زمینوں کو مفت میں حاصل کریں اور ذاتی فوائد کے لیے ان سے فائدے اٹھائیں۔ صوبائی اور قومی اسمبلی میں بھی اس بات کو اجاگر کرنا چاہیے کہ موجودہ حکومت کے ارادے خطرناک ہیں، وہ صرف تعلیم کو ہی نہیں بلکہ دیگر اداروں کو بھی پرائیویٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے میری تجویز ہے کہ آپ سب اساتذہ تنظیمیں مل کر اگیگا کے پلیٹ فارم سے منظم جدوجہد اور تحریک چلانے کا فوری طور پر اعلان کریں۔

ملگری استاذان کے ضلعی رہنما بابا خان خلیل نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خوا پہلے ہی سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور اب تعلیم اور علم کی دعوے دار صوبائی حکومت تعلیمی اداروں کو نجی ملکیت میں دینے کے لیے قانون سازی کررہی ہے، اور یونیورسٹیوں کی زمین فروخت کرنے پر تلی ہوئی ہے، اس لیے اس عمل کو روکنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

سیکرٹری جنرل تنظیم اساتذہ پاکستان جناب فرمان علی عباسی نے کہا کہ تنظیم اساتذہ خیبر پختون خوا کا اس اہم ایشو پر گول میز کانفرنس منعقد کرنا لائقِ تحسین امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1998ء میں جب میاں محمد نوازشریف برسراقتدار تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ حزبِ اختلاف کی لیڈر تھیں تو ان دونوں نے مل کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ایماء پر معاہدے کیے جو آج تک چل رہے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت محکمہ تعلیم کو پہلے اور محکمہ صحت کو مرحلہ وار بنیادوں پر پرائیویٹائز کیا جائے گا، اور اسی طرح صوبہ پنجاب میں ایسی فضا پیدا کی جائے گی کہ تعلیم اور صحت کو پرائیویٹ کیا جاسکے۔ اُس وقت سے لے کر آج تک جتنی بھی حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں وہ اسی پالیسی کو اپناتے ہوئے سرکاری اداروں کو اونے پونے داموں فروخت کررہی ہیں۔ 2012ء میں اس رفتار میں تیزی آئی اور بہت سے نیشنلائزڈ اداروں کو ڈی نیشنلائزڈ کیا گیا۔ پنجاب میں پرائیویٹائزیشن کا تجربہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ناکام رہا۔ بھاری بھرکم فیس میں پرائیویٹ اسکولوں کی بہ نسبت گورنمنٹ اسکولوں کی کارکردگی اور رزلٹ بہت بہتر رہا۔ موجودہ حکومت پنجاب میں 13000 تعلیمی ادارے پرائیویٹ کررہی ہے۔ حکومت نے سرکاری اداروں میں ڈیلی ویجز پر اساتذہ بھرتی کیے اور مزدوروں کی طرح اُن سے کام لیتی رہی۔ پھر ان ڈیلی ویجز اساتذہ نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیے جس پر انہیں ریگولر کردیا گیا۔ اب بھی صوبہ پنجاب میں دو بڑی اساتذہ تنظیمیں موجود ہیں۔ ان تنظیموں نے فیصل آباد میں ایک مشاورتی اجلاس کیا، اور اس اجلاس میں دونوں گروپ اس بات پر متفق ہوئے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی پرائیویٹائزیشن کے عمل کو روکنے کے لیے باہم مل کر جدوجہد کریں گے۔ پنجاب میں لینڈ آونرز نے محکمہ تعلیم کو زمینیں عطیہ کی ہیں اور اب حکومت ان لوگوں کی مفت زمینیں دوسروں کو بیچنے پر تلی ہوئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 2017ء سے اساتذہ کی نئی بھرتی نہیں ہوئی، ایک لاکھ 18 ہزار مختلف پوسٹیں جبکہ 70 ہزار پرائمری اساتذہ کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ اسی طرح 6 ہزار اسکول بغیر سربراہ کے چل رہے ہیں۔ پنجاب میں پرائیویٹائزیشن کا تجربہ بالکل ناکام رہا، اور اب یہی تجربہ خیبر پختون خوا میں کیا جارہا ہے جس کے منفی اثرات ہماری روایات، اقدار اور نوجوان نسل پر پڑیں گے۔ پرائیویٹائزیشن سے ہمارے تعلیمی ادارے این جی اوز کے رحم و کرم پر ہوں گے، اور اس طرح وہ لوگ جو غلط عقیدے اور نظریے کے حامل ہوں گے وہ ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کریں گے۔ لیکن یہاں کے غیور مسلمان اساتذہ کرام اُن کی اِن چالوں کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس لیے میری تجویز ہے کہ لینڈ اونرز کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کا سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف خوب استعمال کیا جائے۔ حکومتی اہلکاروں، تعلیمی وزراء اور منتخب نمائندوں تک آپ لوگ اپنی آواز پہنچائیں تاکہ یہ عمل فوری طور پر ختم ہوسکے۔

صدرِ مجلس ڈاکٹر محمد ناصر نے اپنے اختتامی خطاب میں کانفرنس کے تمام شرکاء اور مختلف تنظیموں کے صوبائی ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری پاکستان کے آئین میں واشگاف الفاظ میں درج بھی ہے، اگر سرکاری ادارے ناکامی سے دوچار ہیں تو حکومت فوری طور پر جزا و سزا کے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے انکوائری کرے جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ حکومت اپنی شاہ خرچیاں کم کرے، ملکی وسائل کو بہتر طور پر استعمال میں لایا جائے۔ صدرِ مجلس نے فورم کے سامنے مختلف تجاویز قرارداد کی شکل میں پیش کیں جو فورم نے متفقہ طور پر منظور کیں۔ صدرِ مجلس نے کہا کہ ہم عوام کے منتخب نمائندوں اور صوبائی اور قومی سطح کی شخصیات کوسرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے قبیح عمل سے آگاہ کریں گے اور اگیگا کے پلیٹ فارم سے اس فیصلے کو عدالت میں بھی چیلنج کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔