کتاب کے اوپر درج ہے ’’مکاتیب نیّر‘‘، اور اس کے نیچے لکھا ہے ’’حصہ اول‘‘۔ یہ مکاتیب محترمہ نیّر بانو کے ہیں جو انہوں نے اپنی بیٹی سلمیٰ یاسمین نجمی اور داماد کے نام لکھے ہیں۔
مکاتیب کی تعداد ڈھائی سو ہے، جبکہ یہ حصہ اول ہے، یقیناً یہ ایک بڑی تعداد ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اُس زمانے میں موبائل نہیں تھا اور خطوط ہی کے ذریعے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی جاتی تھی۔
جماعت اور جمعیت میں تو باقاعدہ اس کی ترغیب دی جاتی تھی کہ ایک شہر میں رہنے کے باوجود اور ایک دوسرے سے ملنے جلنے کے مواقع موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو خطوط لکھیں، اور خطوط کے ذریعے کچھ اچھی عادتوں کو اپنانے اور بری عادتوں کو چھوڑنے کی طرف توجہ دلائیں، کہ منہ پر اس طرح کی باتیں کہنا مشکل ہوتا ہے۔
بڑے لوگوں کے خطوط تو نصاب میں شامل کیے جاتے ہیں۔ مرزا غالب کے خطوط اُس وقت کی تہذیب کا خوب اظہار کرتے ہیں۔ نیّر بانو کے خطوط میں بھی اُس زمانے کی تہذیب کا خوب اظہار ہے۔
یہ خطوط بیٹی کے نام تو درست ہیں لیکن داماد کے نام سے کان کھڑے ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ کیا باتیں ہیں جو ساس اپنے داماد سے کررہی ہیں۔ اس کی تفصیل تو آپ کو کتاب کے مطالعے سے ہی حاصل ہوگی، البتہ یہ بات یقینی ہے کہ پڑھنے والوں کو ہر صفحے پر کئی جواہر جڑے نظر آئیں گے۔ لعل و جواہر بھی وہ کہ آپ انہیں اپنے حافظے اور ڈائری میں محفوظ کرسکتے ہیں، پھر آگے اپنے پیاروں کو منتقل کرسکتے ہیں، اور وہ بھی ایسے کہ ان کے لشکارے وقت کی دھول میں نہ کم ہوں گے اور نہ ہی گم۔
سلمیٰ یاسمین نجمی کا ابتدائیہ ’’اعتراف‘‘ بھی ایسا نثرپارہ ہے کہ مسکراہٹ کی لہریں آپ کو اپنی گرفت میں لیتی رہیں گی۔ ہاں حسن آرا کے پردے میں نیّر بانو صاحبہ نے بیٹی کی خوب خبر لی ہے، لیکن بقول سلمیٰ یاسمین نجمی کے، خبر بس خبر ہی رہی عمل نہ بن سکی۔ یہ حصہ اوّل ہے، مزید حصہ دوم کب آئے گا کہ کتنے خط اب بھی ترے نام لکھے رکھے ہیں۔
ان خطوط کو مائیں اپنی بیٹیوں کو ضرور تحفے میں دیں، خود بھی پڑھیں اور غور و فکر کریں کہ پہلے کی دانش ور مائیں بچوں کی تربیت میں کن نکات پر توجہ دیتی تھیں۔

