پاکستان کی مالی مشکلات کم کیوں نہیں ہورہی ہیں اور معیشت کسی پائیدار حل کی جانب کیوں نہیں بڑھ رہی ہے؟ کیا اس کی ذمہ دار سول حکومتیں ہیں؟ کیا اس کا ذمہ دار ہائبرڈ سیاسی نظام ہے؟ جاگیرداروں یا بیوروکریسی کی کرپشن اس کی ذمہ دار ہے؟ غیر جانب دارانہ تجزیہ یہی ہے کہ یہ سب، اور ملک کے کمزور ترین پارلیمانی نظام کے ساتھ ساتھ عدلیہ بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور ہائبرڈ نظام میں جب تک بالادستی کے زعم میں مبتلا کوئی ایک فریق بھی مورچے پر کھڑا اپنی کلغی اونچی رکھنے کی کوشش میں رہے گا اور یہ سب فریق باہم تعاون کی ڈگر پر نہیں چلیں گے اُس وقت تک ملک کا معاشی نظام کسی بھی قیمت پر مستحکم نہیں ہوسکے گا۔ انہی بااختیار قوتوں کی وجہ سے پوری قوم کشکول ہاتھ میں لیے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور امیر ملکوں کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ ایک ماہ قبل حکومت نے خوش خبری سنائی تھی کہ آئی ایم ایف قسط دینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ اب آئی ایم ایف دی ہوئی قسط کی شرائط پوری کیے جانے کا جائزہ لینے ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی قسط ’’ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن‘‘ کے قرض جیسی ہے، دوسری قسط اُس وقت ملتی ہے جب پہلی قسط کی شرط پوری کرلی جاتی ہے۔
اسلام آباد پہنچنے والا آئی ایم ایف کا وفد معاشی اہداف کی رپورٹ کا جائزہ لے چکا ہے۔ آئی ایم ایف کو پوری طرح بریفنگ دی گئی ہے۔ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے حکام شریک ہوئے اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران معاشی اہداف سمیت ایف بی آرکے جولائی سے ستمبر تک محصولات اہداف پر وفد کے سامنے تمام تفصیلات پیش کی گئیں۔ اب آئی ایم ایف کا وفد اس رپورٹ کی روشنی میںپڑتال کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں سے بات چیت کرے گا۔
آئی ایم ایف وفد کو ایف بی آر نے بتایا کہ پہلے تین ماہ میں 2652 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا ہے، جولائی تا ستمبر96.6 فیصد ٹیکس ہدف پورا کرلیا، جبکہ ستمبر میں1098 ارب ہدف کے مقابلے میں8 ارب اضافی ٹیکس جمع کیا۔ جولائی تا اکتوبر 4 ماہ میں ٹیکس ہدف میں 190ارب کا شارٹ فال رہا۔ بتایا گیا کہ رواں سال انکم ٹیکس گوشواروں میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے روبروافراطِ زر اور شرح سود میں کمی کی بنیاد پر حکومت کی جانب سے متواتر معیشت کی بہتری اور ملک میں بڑھتی سرمایہ کاری اور خوشحالی کی دل خوش کن تصویر پیش کی گئی ہے، مگر زمینی حقائق اب بھی اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ عام آدمی روزانہ کی بنیاد پر جو اشیاء خریدتا ہے ان کے نرخوں میں کوئی واضح کمی نظر نہیں آتی۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں کا بڑھنا عام آدمی کے لیے مسلسل دردِ سر بنا ہوا ہے۔ جب تک عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں ملتی، عام آدمی کی حالت نہیں سدھرتی، تب تک حکومت کے اعلانات محض طفل تسلیاں ہی نظر آئیں گے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ دوست ممالک مدد کررہے ہیں۔ اگر حکومت اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے معیشت کو حقیقی طور پر استحکام کی جانب نہ لا سکی تو آگے چل کر ہمارے لیے مزید مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی ٹیم وزارتوں اور صوبوں سے براہِ راست بات چیت کے دوران صوبائی زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی شرط پوری کرنے کے لیے قانون سازی پر زور دے رہی ہے۔ صوبائی حکومتوں سے آئندہ ملاقات میں نیشنل فسکل پیکٹ، امدادی قیمتوں کا تعین، بجٹ سرپلس سمیت اہم نکات شامل ہیں۔ قومی مالیاتی معاہدے کے تحت 30 اکتوبر تک زرعی صوبائی قانون سازی کا عمل مکمل کرنا تھا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے قبل پنجاب اور خیبرپختون خوا نے کابینہ سے قانون سازی کی منظوری لی تھی، لیکن صوبائی اسمبلیوں سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کے لیے قانون تاحال منظور نہیں ہوسکا ہے۔
آئی ایم ایف شرط کے مطابق صوبوں کو جنوری 2025ء سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانا ہے، جس کے بعد زرعی آمدن پر 5 فیصد سے 45 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک صوبائی اسمبلیوں سے قانون سازی نہ ہونے پر آئی ایم ایف کی شرط پوری نہیں ہوئی۔ یہ قانون سازی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ قومی مالیاتی معاہدے کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس صوبے ہی جمع کریں گے، لیکن قانون سازی ہونے کے بعد ہی یہ کام ہوگا۔
جس طرح کے اعدادو شمار حکومت سامنے لائی ہے اس سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں ٹیکس کا مطلوبہ ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ سے حکومت ایک منی بجٹ لانے کی تیاری میں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اصلاحات لائے بغیر منی بجٹ بھی کیا کرے گا؟ اگر ایک منی بجٹ حکومت کو ابھی تک ٹریک پر رہنے کے قابل بناتا ہے، تو یہ اگلے مالی سال کیا کرے گا؟ اور اس کے بعد؟ یہ مسئلہ مزید بڑھتا ہی جا رہا ہے کیونکہ حکومت نے نہ صرف ایف بی آر اصلاحات کے بارے میں کچھ نہیں کیا بلکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سے بھی صاف انکار کردیا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکس سے جی ڈی پی کا اوسط تناسب 18 فیصد کے لگ بھگ ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان غریب ممالک میں بھی کتنا کمزور ہے۔ بنیادی ڈھانچے یا لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ہے، جو اہم سماجی اشاریوں کو بھی نیچے دھکیل رہا ہے۔ اسے ایک قومی ہنگامی صورتِ حال شمار کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو ایک ایکشن پلان کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا جو ایف بی آر میں اصلاحات لائے، اور زیادہ منصفانہ ٹیکس پالیسی کو یقینی بنائے۔ یہ شرمناک ہے کہ محنت کش طبقے کے چند ایمان دار لوگ جو اپنا ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن سے زیادہ سے زیادہ بٹورا جاتا ہے، یہاں تک کہ حالیہ برسوں کی تلخ ترین مہنگائی اور بے روزگاری نے ان کی حقیقی آمدنی اور بچتوں کو کھا لیا ہے، جب کہ سب سے زیادہ کمانے والے شعبے اس سے بچے ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وعدہ کیا تھاکہ وہ سب سے پہلے رئیل اسٹیٹ، زراعت، ریٹیل اور ہول سیل سیکٹرز پر ٹیکس لگائیں گے، لیکن انہوں نے وزارتِ خزانہ کی روایت کو زندہ رکھنے کا انتخاب کیا اور ان شعبوں پر ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ اب کسی کو فکر ہی نہیں کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب گر رہا ہے، آمدنی میں کمی ہے، ای ایف ایف خطرے میں ہے، اور منی بجٹ کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک حکومت ایف بی آر کو فوری طور پر نظرانداز نہیں کرتی، اور زیادہ وسیع ٹیکس نیٹ کو نافذ نہیں کرتی، EFF کے راستے سے ہٹ جانے، IMF کے ہمیں چھوڑنے، اور ڈیفالٹ میں گرنے کا حقیقی خطرہ موجود رہے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک عطیات سے نہیں چلتے، ٹیکسز پر چلتے ہیں۔ لیکن ملک اس طرح بھی نہیں چلتے جس طرح وزیر خزانہ چلانا چاہتے ہیں کہ صرف تنخواہ دار طبقے پر ہی ٹیکس بڑھاتے چلے جاؤ۔ یہ بات بھی درست ہے کہ حکومت کا کام صرف پالیسی دینا ہے، کاروبار چلانا صرف نجی شعبے کا کام ہے، لیکن پسے ہوئے طبقات کا تحفظ بھی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے، حکومت اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ حکومت آئے روز تیل اور بجلی کے علاوہ گیس کے نرخوں میں ردو بدل کرتی رہتی ہے لیکن کاروباری طبقہ اسپیڈ منی جیسے قبیح دھندے میں ملوث ہے، حکومت اسے روک نہیں سکتی۔ کئی برسوں سے سنا جارہا ہے کہ ایف بی آر میں مکمل اصلاحات کی جائیں گی لیکن ابھی تک تو یہ کام نہیں ہوا۔ حکومت یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض معاہدے میں کوئی چیز خفیہ نہیں، لیکن اس حکومت پر کوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔

