عمران خان کی مزاحمت کامیابی کے امکانات؟

پی ٹی آئی میں اس وقت دو گروپ موجود ہیں۔ ایک گروپ
اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کا حامی ہے، جبکہ دوسرا گروپ اسٹیبلشمنٹ
اور حکومت کے خلاف ایک بڑی مزاحمت کی خواہش رکھتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت پی ٹی آئی پچھلے دو برسوں سے حکومتی اور ریاستی جبر کے سامنے مضبوط مزاحمت کرتے نظر آرہے ہیں۔ اگرچہ خود عمران خان کے بارے میں بھی ان کے سیاسی حمایتی اور مخالفین اس نکتے پر متفق تھے کہ وہ اور ان کی جماعت سیاسی مزاحمت والے نہیں، بلکہ اس جماعت کے سیاسی مخالفین چاہے وہ سیاست میں ہوں یا میڈیا کے محاذ پر، اس جماعت کو ممی ڈیڈی جماعت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ لیکن عمران خان اور ان کی جماعت نے عملی طور پر ریاست اور حکومت کے تمام تر جبر اور زیادتیوں کا سامنا کیا ہے اور اب بھی کررہے ہیں۔ یہ جو کوشش تھی کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کردیا جائے، تمام تر منفی حکمت عملیوں کے باوجود کارگر نہیں ہوسکی ہے۔ بلکہ پی ٹی آئی کے جو لوگ ابتدا میں ریاستی جبر کے سامنے جھک کر جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی سیاست کا حصہ بنے وہ سیاسی اسکرپٹ بھی بری طرح ناکام ہوا، اور اب ان میں سے زیادہ تر لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ ہی کھڑے ہیں اور اپنی باعزت سیاسی واپسی چاہتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ خود عمران خان نے ایک مضبوط مزاحمت دکھائی ہے، اور اس کے نتیجے میں پارٹی نے بھی عملی طور پر مزاحمت کی ہے۔ یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ 8 فروری کے انتخابات کا نتیجہ پی ٹی آئی کے حق میں آیا تھا مگر کس طرح سے نتائج بدلے گئے، اور ووٹر جو خاموش انقلاب ووٹ کی مدد سے لائے تھے اسے قبول نہ کرکے طاقت ور حلقوں نے اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ایک سیاسی بندوبست کیا جو عوامی مینڈیٹ سے محروم نظام ہے۔ اسی طرح وہ تمام تر حکمت عملی اور منصوبہ بندی جو ڈیل کی سیاست میں پی ٹی آئی یا عمران خان کے ساتھ کی جارہی تھی وہ بھی عمران خان کے سخت مؤقف کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ رہی۔ عمران خان کو باہر جانے کی باربار آفر کی گئی اور آج بھی کی جارہی ہے مگر اُن کے بقول اُن کا نام تاحیات ای سی ایل میں ڈال دیا جائے کیونکہ وہ کسی بھی صورت میں اس ملک کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور حالات کا مقابلہ جیل سے بیٹھ کر ہی کریں گے۔ عمران خان کی مزاحمت محض اپنے سیاسی مخالفین تک محدود نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی مزاحمت اہم پہلو ہے، اور اسی بنیاد پر عدلیہ اور میڈیا سمیت تمام ریاستی اداروں نے عمران خان اور ان کی جماعت کو عملی طور پر دیوار سے لگایا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کو کسی بھی سطح پر کھل کر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، اور عدالتی حکم کے باوجود ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اول تو اجازت نہیں اور اگر کہیں اجازت ملتی ہے تو اس میں اس حد تک رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں کہ سیاسی سرگرمی کا اپنا مقصد فوت ہوجائے۔ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری، عمرسرفراز چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ سمیت کئی لوگ اس وقت بھی جیلوں میں ہیں، اور ان تمام لوگوں نے واقعی ثابت قدمی دکھائی ہے۔ اسی طرح سے ایک سو سے زیادہ لوگوں کو فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہے۔ عمران خان اپنی اس مزاحمت میں تمام سیاسی اور غیر سیاسی فریقین کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور آج ان کی سیاسی مقبولیت باقی تمام جماعتوں اور قیادت سے بہت زیادہ ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ فی الحال ان کا سیاسی مقابلہ کرنے کی کوئی جماعت صلاحیت نہیں رکھتی، بلکہ دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے باہمی اتحاد کی ایک وجہ بھی عمران خان دشمنی ہے، اور دونوں جماعتوں کو پی ٹی آئی سے خوف ہے، اسی خوف کی بنا پر یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کی مخالفت میں اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری میں بھی پیش پیش نظر آتی ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کی سیاسی بقا بھی اسی میں ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ اور بداعتمادی موجود رہے تاکہ ان کا اقتدار باقی رہے اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی ان ہی دو جماعتوں پر بھروسا کرنا پڑے۔ اسی سوچ و فکر کی بنیاد پر موجودہ سیاسی بندوبست چل رہا ہے، اور اس بندوبست کی اصل طاقت حکمران طبقہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ ہے اور سیاست کا ریموٹ کنٹرول بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔

عمران خان کو اس بات کا بھی گلہ ہے کہ ان کی جماعت نے اگرچہ ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں اپنی طاقت دکھائی ہے اور پارٹی کے لوگ مجموعی طور پر پارٹی کے ساتھ ہی کھڑے ہیں، لیکن عمران خان سمجھتے ہیں کہ پارٹی کی باہر بیٹھی قیادت، ارکان اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز یا عہدے داران ان کی اور دیگر پارٹی راہنماؤں کی رہائی کے لیے کوئی بڑی تحریک نہیں چلا سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان سمیت پارٹی کے دیگر لوگ تاحال جیلوں میں ہیں اور تمام تر قانونی جنگ کے باوجود ان کو عدالتی ریلیف نہیں مل رہا۔ اسی طرح عمران خان کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ پارٹی کے کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں اور ان کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ ہمیں طاقت ور حلقوں سے ٹکرانے کے بجائے مفاہمت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ ان میں زیادہ تر لوگ پی ٹی آئی کے موجودہ ارکان اسمبلی، پارٹی عہدے دار اور وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا علی امین گنڈا پور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی تمام تر مقبولیت کے باوجود کوئی بھی بڑا احتجاج نہیں کرسکی بلکہ جو بڑے جلسے کرنے کی کوشش کی گئی ان میں خود وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پہنچ ہی نہیں سکے، کہا جاتا ہے کہ ان کا نہ پہنچنا ایک خاص حکمت عملی کے تحت تھا، اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کھیل بھی نمایاں ہے۔ عملی طور پر تمام تر مقبولیت کے باوجود پی ٹی آئی اپنے داخلی بحرا ن میں گھری ہوئی ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی پر خیبر پختون خوا کا قبضہ ہے اور پارٹی کے تمام تر فیصلے کے پی کے وزیراعلیٰ کے گرد ہی گھوم رہے ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان منظر سے غائب ہیں۔ خود وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف اُن کے اپنے صوبے میں پارٹی میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن لگتا ایسا ہے کہ عمران خان بھی اس ساری صورتِ حال میں علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہی کھڑے ہیں جس پر پارٹی میں اختلاف موجود ہے۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ علی امین گنڈاپور عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پُل کا بھی کردار ادا کررہے ہیں، اور اسی طرح پارٹی کی باہر بیٹھی قیادت بھی اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں میں ہے، لیکن عمران خان کو تاحال کیونکہ کوئی ریلیف نہیں ملا، اسی وجہ سے ان میں مایوسی ہے، اور جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے کچھ کرنے کی کوشش کررہے تھے اُن سے بھی اب عمران خان نالاں نظر آتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں ان کی قیادت یا تو جیلوں میں ہے، یا روپوش ہے۔ ان میں ایک بڑا نام سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کا بھی ہے، لیکن عمران خان اُن کو کوئی بڑی ذمہ داری دینے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ وہ موجودہ صورتِ حال میں پارٹی کے تمام تر معاملات میں بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ علی امین کیونکہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، اس لیے اُن سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عملی طور پر کوئی بڑی سیاسی تحریک پیدا کرسکیں گے، غلط حکمت عملی ہوگی۔

پی ٹی آئی میں اس وقت دو گروپ موجود ہیں۔ ایک گروپ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کا حامی ہے، جبکہ دوسرا گروپ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے خلاف ایک بڑی مزاحمت کی خواہش رکھتا ہے۔ اس لیے جب بھی عمران خان ملک گیر احتجاج کی کال دیتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی سخت بات کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کے حامی یا موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ نہ چاہنے والے پی ٹی آئی کے لوگوں کی بانی پی ٹی آئی سے ناراضی فطری ہے۔ اس گروپ کا خیال ہے کہ ہمیں موجودہ حالات میں سڑکوں کی سیاست نہیں کرنی چاہیے، اور یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے مل کر مفاہمت کا راستہ نکالیں اور عدالتوں پر انحصار کرکے قانونی جنگ یا پارلیمانی جنگ تک خود کو محدود رکھیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ کو مجموعی طور پر پارٹی کے حوالے سے مفاہمت کا پیغام جائے۔ اس طبقے کے بقول اگر پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف ملے گا تو وہ مفاہمت کی سیاست سے ہی ممکن ہوگا۔ ان کے بقول اگر ہم نے سڑکوں کی سیاست کی تو اس کے نتیجے میں پارٹی کو ایک بڑے حکومتی اور ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے پارٹی اور زیادہ تقسیم ہوگی۔ جبکہ دوسرے گروپ کا خیال ہے کہ جب تک ہم باہر نہیں نکلیں گے اور لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نہیں ہوں گے ہماری سختیاں کم نہیں ہوں گی بلکہ مزید بڑھیں گی، ریاستی و حکومتی جبر اسی صورت میں ختم ہوگا جب ہم بڑے پیمانے پر ایک بڑا دباؤ پیدا کریں۔ اسی تناظر میں عمران خان کی جانب سے ایک بڑے ملک گیر احتجاج یا دھرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ اسی ماہ 24 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ عمران خان نے اس احتجاج کو حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف حتمی کال کا نام دیا ہے، اور اُن کے بقول یہ احتجاج یا دھرنا اُس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اور اسی طرح ان کے بقول جس پارٹی عہدے دار یا رکنِ اسمبلی نے بھی اس احتجاج میں کاہلی یا سستی دکھائی یا اس میں شرکت نہ کی اس کو مستقبل میں پارٹی میں کسی بھی حیثیت سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کے اس حتمی اعلان کے بعد احتجاج کے مقابلے میں مفاہمت کا حامی گروپ پریشان ہے اور عمران خان کو اب بھی سمجھانے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کریں، اور خاص طور پر بغیر کسی بڑی تیاری کے اس طرح کا احتجاج ہمارے مفاد میں نہیں ہوگا۔ لیکن لگتا ہے کہ عمران خان فیصلہ کرچکے ہیں اور اب پارٹی کے لوگوں کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں یا اس فیصلے کو نیم دلی سے قبول کررہے ہیں۔ عمران خان سے پارٹی کے لوگوں کو شکوہ ہے کہ انہوں نے کسی بڑی مشاورت سے یہ فیصلہ نہیں کیا بلکہ یہ فیصلہ چند لوگوں تک محدود ہے، اوربالخصوص ارکانِ اسمبلی یا جن کے پاس اس وقت پارٹی کی ذمہ داری ہے ان کے مؤقف کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی اسلام آباد میں لاکھوں افراد کا احتجاج ممکن بناسکے گی؟ اور کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ان کو اسلام آباد میں آنے اور بیٹھنے کی اجازت دیں گی؟ اول تو ان کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر عدالتی مداخلت پر اجازت ملتی ہے تو اس میں یہ بات طے ہے کہ حکومت اور ریاست اپنے تمام تر اختیارات استعمال کرکے ان کو نہ صرف اسلام آباد آنے سے روکیں گی بلکہ بڑے پیمانے پر پارٹی کے لوگوں کو گرفتار بھی کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان پارٹی دبائو پر احتجاج کی کال واپس لیں گے یا پھر اس احتجاج کو ہی حتمی کال سمجھا جائے گا۔ پی ٹی آئی کا مصالحت کار گروپ اب بھی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہے اور چاہتا ہے کہ عمران خان کو کوئی فوری ریلیف مل جائے، اس طرح اس بڑے احتجاج سے جان چھوٹ سکتی ہے۔

عمران خان نے اس احتجاج کے لیے جو نکات پیش کیے ہیں ان میں 26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ، آئین کی بحالی اور قانون کی حکمرانی، مینڈیٹ کی واپسی اور گرفتار لوگوں کی رہائی اور مقدمات کے خاتمے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جبکہ علی امین گنڈاپور کے بقول ہمارا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کا یہ احتجاج بھی ناکام ہوجاتا ہے جسے فائنل کال کہا جارہا ہے تو اس کے بعد پی ٹی آئی کے پاس کیا ہوگا، اور پھر ان کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اور کیا اس احتجاج کی ناکامی پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر مزید تنہا نہیں کردے گی؟ حکومت تو پی ٹی آئی کے کسی بھی مطالبے کو اہمیت نہیں دے گی، کیونکہ اس کی اپنی سیاسی بقا اسی میں ہے۔ جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کا تعلق ہے وہ اُس وقت تک کسی مطالبے کو نہیں مانے گی جب تک عمران خان خود کو سرنڈر نہ کردیں۔ عمران خان سرنڈر نہیں کرنا چاہتے، وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے خود کو سرنڈر کیا تو ان کی جگہ بھی نوازشریف اور زرداری کے ساتھ ہوگی جو ڈیل کرکے اپنی سیاست ختم کرچکے ہیں۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں حکومت، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور عمران خان کے تناظر میں خاصی محاذآرائی اور ٹکرائو کی سیاست دیکھنے کو ملے گی۔ دیکھنا ہوگا کہ اس سیاسی رائونڈ میںکون کس پر سیاسی برتری حاصل کرتا ہے۔