یہ بینک اپنے کھاتے داروں کو منافع شرعی اصولوں کے مطابق دینے کے بجائے اسٹیٹ بینک کے احکامات کے تحت فراہم کرتے ہیں
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی سے سود و ربا کے خاتمے کے حوالے سے پچھلے انٹرویو کے دوران چند اہم نکات سامنے آئے تھے جنہوں نے مزید سوالات کو جنم دیا۔ ان سوالات کا مقصد پاکستان میں بلا سود معاشی اور مالیاتی نظام کو سمجھنا ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن نے پچھلے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگلی کئی دہائیوں میں سود کے خاتمے کا امکان نظر نہیں آتا۔ اس پس منظر میں قارئین جن میں علماء بھی شامل ہیں، نے استفسار کیا کہ پاکستان میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے آپ کے خیال میں کون سے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے؟ اور کون سی پالیسیاں اور اقتصادی قوانین متعارف کرانے چاہئیں تاکہ معیشت کو سودی اثرات سے پاک کیا جا سکے؟ اور پھر راستہ اور طریقہ کار کیا ہوگا؟
اس پس منظر میں جب میں نے پوچھا کہ آپ نے پچھلے انٹرویو میں یہ فرمایا تھا کہ اگلی کئی دہائیوں تک سودی نظام کے خاتمے کا امکان نظر نہیں آتا۔ اس تناظر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے آپ کے خیال میں کون سے انقلابی اقدامات درکار ہوں گے؟ آپ کس طرح کی پالیسیاں اور اقتصادی قوانین تجویز کریں گے جن کی مدد سے معیشت کو سودی اثرات سے آزاد کیا جا سکے؟
اس پر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ:
’’پاکستان کی معیشت اشرافیہ کی معیشت ہے، چنانچہ متعدد اہم ترین معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں (اشرافیہ، مافیا، کارٹلز وغیرہ) کے دباؤ پر یا اُن کے مفاد میں بنائی جاتی ہیں۔ اس کے لیے خواہ آئین و قانون کو توڑنا پڑے یا نئی قانون سازی کرنا پڑے۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بااثر، مال دار اور فیصلہ ساز طبقے نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ معیشت اور بینکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہو اور معیشت سے سود کا خاتمہ ہو، کیونکہ اس سے ان کے ناجائز مفادات پر کاری ضرب پڑے گی۔ مگر ملک کے کروڑوں افراد کی قسمت بہرحال بدل جائے گی اور پاکستان ایک طاقتور اسلامی فلاحی مملکت کی حیثیت سے عالمی برادری میں اپنا جائز مقام حاصل کر لے گا۔
ملکی اشرافیہ میں پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، سیاست دان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف بی آر، ایس ای سی پی وغیرہ، سول و ملٹری بیوروکریسی، تاجر، صنعت کار، برآمد کنندگان، وڈیرے، پراپرٹی اور اس سے متعلقہ کاروبار کرنے والے، بڑے اسٹاک بروکرز، بینک (بشمول اسلامی بینک)، ٹیکس چوری کرنے والے، کالا دھن کمانے والے، کرپشن کرنے والے، قرضہ معاف کرانے والے، غیر شفاف نجکاری کے ذریعے قومی اثاثے ہڑپ کرنے والے، اسمگلرز، ذخیرہ اندوز، ناجائز منافع خور، اور ناجائز دولت قانونی و غیر قانونی طریقوں سے اکٹھی کرنے والے شامل ہیں۔ اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ ملک سے باہر منتقل کرنے والے، دینی، مذہبی و سیاسی جماعتیں، اسلامی نظریاتی کونسل، متعدد علماء و مفتیان، اعلیٰ عدلیہ، متعدد شعبوں کے ماہرین، دانشور اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا وغیرہ بھی اس اشرافیہ کا حصہ ہیں۔ ان سب طبقوں میں ایک گٹھ جوڑ ہوچکا ہے، جبکہ ملکی اشرافیہ کا بیرونی اشرافیہ سے بھی عملاً گٹھ جوڑ ہوچکا ہے۔ بیرونی اشرافیہ میں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور وہ طاقتیں شامل ہیں جو ان اداروں کے اکثریتی حصص کی مالک ہیں اور ان کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
پاکستان کے عوام کی بڑی اکثریت چاہتی ہے کہ ملک میں اسلامی نظامِ معیشت اور بینکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہو اور معیشت سے سود کا خاتمہ ہو، تاکہ اسلامی نظام کی برکتیں حاصل ہوں۔ آئین بھی یہی کہتا ہے کہ معیشت سے سود کا خاتمہ کیا جائے، مگر حکمتِ عملی کے تحت ایک ایسا نظام گزشتہ 22 برسوں سے وضع کیا گیا ہے جو اسلامی نظام بینکاری کے نام پر سودی نظام کے نقشِ پاپر ہے اور اس میں سود کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔ ایک طرف عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا ہے کہ اسلامی بینکاری نافذ کی جارہی ہے، لیکن دوسری طرف اسلام کا نظامِ عدل نافذ نہ ہونے کے باعث اشرافیہ کے ناجائز مفادات کو تقویت ملتی رہتی ہے اور وہ بدستور مزے میںرہتے ہیں۔‘‘
ایک ضمنی سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ:
’’پاکستان میں شرعی عدالتوں میں سود سے متعلق مقدمہ تقریباً 33 برسوں سے التوا کا شکار ہے، اور سپریم کورٹ نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں دیا کہ سود ہر شکل میں ربا کے زمرے میں آتا ہے، حالانکہ قرآن مجید نے ربا کو صریحاً حرام قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت ابھی تک ربا کی جامع تعریف پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔‘‘
میں نے ڈاکٹر شاہد حسن سے جب یہ پوچھاکہ موجودہ اسلامی بینکاری نظام کو بھی جب آپ عام سودی بینکاری نظام جیسا ہی کہتے ہیں تو اس کو کیسے درست کیا جاسکتا ہے تاکہ سود کا متبادل فراہم کیا جا سکے؟
اس پرآپ کا ایک بار پھر کہنا تھا کہ:
’’اسلامی بینکنگ کے حوالے سے بھی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ اسلامی بینک سودی بینکاری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی کچھ پروڈکٹس( مصنوعات) میں سود کی آمیزش کرتے ہیں۔ یہ بینک اپنے کھاتے داروں کو منافع شرعی اصولوں کے مطابق دینے کے بجائے اسٹیٹ بینک کے احکامات کے تحت فراہم کرتے ہیں، یہ امر افسوس ناک ہے کہ اسلامی بینک سودی بینکوں کے مقابلے میں زیادہ استحصالی ثابت ہورہے ہیں۔ یہ اپنی مصنوعات اور طریقہ کار میں نہ صرف شریعت کے اصولوں سے انحراف کرتے ہیں بلکہ اسلامی نظامِ معیشت کے مقاصد کی تکمیل میں معاون ہونے کے بجائے، استحصالی رجحانات کو فروغ دیتے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اسلامی بینکنگ کو اپنے بنیادی اصولوں پر آنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
آپ کا مزید کہنا تھا کہ:
’’یہ امر مسلمہ ہے کہ اسلامی بینکوں کی کئی پروڈکٹس میں سود شامل ہوتا ہے اور یہ سودی بینکوں کے مقابلے میں زیادہ استحصالی ہیں، جبکہ اسلام میں استحصال کی قطعی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینکوں کو اسلامی بینک کہنا درست نہیں۔ البتہ ان کو بلا سودی بینک کہا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ان کے کاروبار میں سود کا شائبہ نہ ہو۔
چنانچہ آج 22 برس بعد بھی پاکستان میں سودی معیشت اور سودی بینکاری پوری آب و تاب سے جاری ہے، اور یہ صرف ہم ہی تواتر کہتے رہے ہیں کہ یہ غیر اسلامی ہے، اور وہ علماء و مفتی صاحبان جو اس غیر اسلامی متوازی نظام کی پشت پر ہیں اور اس کی حمایت کررہے ہیں، اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ 22 برسوں سے نافذ یہ نظام قطعی غیر اسلامی ہے لیکن انہوں نے بوجوہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ہم نے پاکستان میں سب سے پہلے کہا تھا کہ اس متوازی نظام کی موجودگی میں اگر کبھی اسلامی بینک چاہیں بھی تو وہ سودی نظامِ بینکاری سے پیدا ہونے والے ظلم اور ناانصافی کو ختم نہیں کرسکتے، جبکہ اسلام ایک ایسا عادلانہ اقتصادی نظام تجویز کرتا ہے جس میں ہر فرد کو سماجی انصاف میسر ہو۔‘‘
بلا سودی بینک یا اسلامی بینک؟ کے تناظر میں جب میں نے سوال کیا تو آپ کا کہنا تھا:
’’یہ بہت اہم سوال ہے۔ گزشتہ بیس سے زائد برسوں سے ہم یہ کہہ رہے ہیں اور اس پر قائم ہیں کہ اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینکوں کو حقیقی معنوں میں اسلامی بینک نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ ان بینکوں کو بلا سودی بینک کہا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ان کے کاروبار میں سود کا شائبہ تک نہ ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلامی بینکوں میں سود کا عنصر سرایت کرچکا ہے۔ اسلام نے سود کو اس لیے حرام قرار دیا ہے کہ یہ ظلم اور ناانصافی کا سبب بنتا ہے۔ اسلام ہر قسم کے ظلم، ناانصافی اور استحصال کے خلاف ہے اور ایک ایسا عادلانہ اقتصادی نظام پیش کرتا ہے جس میں ہر شخص کو سماجی انصاف میسر ہو۔
اسلامی نظام بینکاری دراصل اسلامی نظامِ معیشت کا صرف ایک اہم حصہ ہے۔ اسلامی نظام معیشت اپنائے بغیر اسلام کی حقیقی روح کے مطابق اسلامی بینکاری نافذ نہیں ہوسکتی۔ اگر کوئی بینک اپنے آپ کو اسلامی کہتا ہے تو اس میں تین بنیادی چیزیں لازمی ہونی چاہئیں: اس کے کاروبار میں سود کا شائبہ تک نہ ہو، اسلامی بینکاری کے ذریعے سودی بینکاری سے ہونے والے ظلم، ناانصافی اور استحصال کا خاتمہ لازمی کیا جانا چاہیے، اور اسلامی بینکاری کے نفاذ سے اسلامی نظامِ معیشت کے مقاصد کی تکمیل میں معاونت ہو اور تمام فریقوں کو سماجی انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔‘‘
کیا اسلامی بینکاری اصل میں سودی بینکاری ہی ہے؟ اس سوال پرآپ کا کہنا تھا:
’’اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی بینکوں کی پروڈکٹس میں سود سرایت کرچکا ہے ۔ اسلامی بینک سودی نظام سے ہونے والے ہر قسم کے ظلم، ناانصافی اور استحصال کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بلکہ اسلامی بینک بعض اوقات سودی بینکوں کے مقابلے میں زیادہ استحصالی ہوگئے ہیں۔
اسلامی بینکاری کے تحت جو پروڈکٹس پیش کی جارہی ہیں، وہ خاص حد تک سودی بینکوں کے نقشِ قدم پر ہیں۔ ان پروڈکٹس میں شریعت کے اصولوں کو حقیقی معنوں میںمدنظر رکھنے کے بجائے زیادہ زور منافع کمانے پر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی معیشت کے اصولوں کے خلاف ہے اور اسلامی بینکاری کے اصل مقاصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘
اسلامی بینکاری کے نفاذ کے پس منظر میں کیے جانے والے سوال پر آپ کا کہنا تھا:
’’یہ بات واضح ہے کہ اسلامی بینکاری کے مقاصد صرف اُس وقت حاصل ہوسکتے ہیں جب اس کی بنیاد نفع و نقصان میں شراکت پر ہو۔ اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی جائے، جو کہ ایک مستقل عمل ہونا چاہیے۔ گزشتہ 22 برسوں میں اسلامی بینکاری اور تکافل کے فروغ کے لیے تو بہت سی باتیں ہوتی رہیں اور اقدامات بھی کیے گئے، لیکن معاشرے کی اصلاح کے لیے عملاً کوئی اضافی کوشش شروع نہیں کی گئی۔
اسلامی بینکاری دراصل اسلامی نظام معیشت کا جیسا کہ میں نے کہا، صرف ایک حصہ ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی نظام معیشت کو مکمل طور پر اپنایا جائے۔ اسلام میں دولت اور اختیارات کو اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیا گیا ہے، اور ان کی تقسیم اسلامی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ملکی قوانین کو شریعت کے مطابق بنایا جائے، کیونکہ اس کے بغیر اسلامی بینکاری کا تصور ممکن نہیں۔ آئینِ پاکستان کی شق 227 میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں اسلامی بینکاری کے فروغ کی باتوں کے باوجود شریعت کے مطابق قوانین بنانے کی طرف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اس دوران اسلامی بینک بے تحاشا منافع کما رہے ہیں، لیکن شریعت کے مطابق ملکی قوانین بنانے کے لیے آئین کے اس پہلو پر عمل کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ نہ علماء کرام اور مفتیانِ کرام کی طرف سے کوئی مطالبہ کیا گیا، نہ کوئی درخواست سامنے آئی۔ نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر ہی اسلامی بینکاری کا نظام استوار ہوسکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکسوں کا نظام استحصالی ہے۔ معیشت کو دستاویزی بنانے میں حکومت اور ادارے مخلص نہیں ہیں، اور کالے دھن کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ افراد اور ادارے اپنا صحیح منافع ظاہر نہیں کرتے، اور ملک میں کئی ہزار ارب روپے کے ناجائز اثاثے موجود ہیں۔ حکومت ان ناجائز اثاثوں کو قانون کے دائرے میں لانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
ایف بی آر نے پراپرٹی کی مالیت دانستہ طور پر مارکیٹ کے نرخوں سے کم رکھی ہوئی ہے، اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111(4) بھی اسلامی بینکاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بدقسمتی سے مشارکہ اور مضاربہ کے تحت بڑے پیمانے پر فنانسنگ کرنے کے بجائے دوسرے طریقوں سے فنانسنگ کی جا رہی ہے، جو شریعت کے مقاصد کے حصول میں قطعی معاون نہیں ہیں۔
’بینک اسلامی‘ پاکستان میں ایک اسلامی بینک کے طور پر کام کررہا ہے، لیکن 2015ء میں اس نے ایک سودی بینک ’کسب بینک‘ کو خرید کر اپنے اندر ضم کرلیا۔ کیوں کہ غیر معمولی حالات پیدا ہوئے ہیں اس کی وجہ سے اس سودی بینک کے انتظامات کو چلانے کے لیے بینک اسلامی کے شرعی بورڈ نے اجازت دی کہ چھ ماہ تک سودی بینک کی آمدنی اور اخراجات کو بینک اسلامی کی قطرینہ میں رکھیں۔ اس غیر اسلامی فیصلے پر اسٹیٹ بینک کے شرعی بورڈ اور علماء و مفتی صاحبان نے مکمل خاموشی اختیار کی۔
یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک کی شرعی کمیٹی کی منظوری سے کیا گیا، لیکن ہم اس فیصلے پر شروع سے ہی تنقید کرتے رہے ہیں۔ علماء اور مفتیان کے مطابق اضطراری کیفیت میں اسلام نے حرام اشیاء کے استعمال کی اجازت انتہائی مجبوری کی حالت میںدی ہےمثلاً جان بچانے کے لیے۔ تجارتی ادارے یا بینک اپنا منافع بڑھانے کے لیے اسے استعمال نہیں کرسکتے۔‘‘
ایک اور سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ
’’یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ موجودہ اسلامی بینکاری نظام میں مشارکہ کے ذریعے سرمایہ فراہم کرنے میں نفع اور نقصان کی حقیقی معنوں میں شراکت کی بنیاد پر عمل نہیں ہو رہا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف سماجی انصاف کا مقصد حاصل نہیں ہو رہا بلکہ اسلامی بینکاری کے مثبت ثمرات بھی عوام کے سامنے نہیں آ رہے۔ موجودہ نظام میں نفع کی تقسیم کا تناسب باہمی رضامندی سے طے کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ بھی سودی نظام کی مشابہت ہی ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ سودی نظام میں قرض کی عدم واپسی کی صورت میں قرضے کی واپسی تک بینک سود وصول کرتا رہتا ہے، جبکہ اسلامی بینکاری میں، مثال کے طور پر مرابحہ کے تحت، رقم کی واپسی اگر مقررہ تاریخ تک نہ ہو تو بینک اضافی رقم وصول نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ کے23 دسمبر 1999ء کو دیے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس موقع پر مناسب ہوگا کہ ماہرینِ معیشت اور بینکاروں کی جانب سے پیش کی گئی معروضات کا نوٹس لیا جائے، خاص طور پر محمد عمر چھاپرا اور شاہد صدیقی کی گزارشات کا، جو کہتے ہیں کہ قانونی ذرائع اور عدالتوں کے ذریعے قرضوں کی واپسی کا نظام اس طرح بنایا جائے کہ ان کی واپسی مقررہ تاریخ کے بعد ہفتوں میں ممکن ہوسکے۔ بدقسمتی سے گزشتہ 22 برسوں میں علماء حضرات، اسٹیٹ بینک، اور بینکوں کی شریعت کمیٹیوں نے اس ضمن میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ البتہ علماء اور شریعہ کمیٹیوں نے بینکوں کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ اضافی مدت کا جرمانہ پارٹی سے وصول کرکے اسے خیرات کردیں۔
اس عمل میں بہرحال شفافیت نہ ہونے کا امکان ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کھاتے داروں کے مفادات متاثرہوتے ہیں، حالانکہ قصور سرمایہ لینے والی پارٹی، غیر مؤثر قوانین، یا بینک کی ناکامی پر مبنی کوششوں کا ہوتا ہے، جو کہ غیر اسلامی عمل ہے۔ اسی طرح بینکوں کی شریعہ کمیٹی کی جانب سے خیرات کے فیصلوں پر زبردست تنقید ہوتی رہی ہے اور یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ بعض معاملات میں خیراتی رقم مخصوص اور من پسند پارٹیوں کو دی گئی ہے، جو اسلامی بینکاری کے لیے مناسب نہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جون 2024ء میں بھی اسلامی بینکوں نے سودی بینکوں کے مقابلے میں کم منافع دیا، جو کہ ناانصافی اور استحصال کی واضح مثال ہے۔ امریکہ کے مشہور میگزین ’نیوز ویک‘ نے ایک مضمون میں لکھا کہ اسلامی بینکاری کا مقصد صرف سود سے بچنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں سماجی انصاف کی فراہمی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ شاہد صدیقی اور دوسرے کٹر مسلمان چاہتے یہ ہیں کہ اسلامی بینکوں کو اسلامی اقدار کے مطابق کام کرنا چاہیے، جیسے سماجی انصاف کی فراہمی اور دولت کی منصفانہ تقسیم۔ وہ ایسی اکاؤنٹنگ کو مسترد کرتے ہیں جس میں اسلامی بینک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سود نہیں لے رہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ:
’’ان حالات میں یہ بات نظر آ رہی ہے کہ گزشتہ برسوں میں اسلامی بینکوں کی کارکردگی مزید متاثر ہوئی ہے۔ چنانچہ مروجہ اسلامی بینکاری پر عام آدمی کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور کچھ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ سود سے پاک معیشت اور اسلامی بینکاری صرف کتابی باتیں ہیں جو کہ موجودہ زمانے میں قابلِ عمل نہیں ہیں۔ مگر حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اسلام اور قرآن کے جو احکامات ہیں، وہ ہر وقت اور ہر زمانے میں قابلِ عمل ہیں۔
پاکستان میں اسلامی بینکوں کی بہت سی پروڈکٹس حتمی نتائج کے اعتبار سے سودی نظام سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہوتیں، چنانچہ اسلامی بینکاری مغربی بینکوں میں بھی بہت زیادہ مقبول ہورہی ہے اور مسلمانوں کی دولت اسلامی بینکاری کے نام پر ان مغربی ملکوں کے بینکوں میں بھی منتقل ہورہی ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے مروجہ اسلامی بینکاری کے نام پر جو نظام ہے، اس کا جائزہ لیا تھا اور آئی ایم ایف کے ماہرین کی سوچ بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان کو قرض مروجہ اسلامی بینکوں کے طریقوں کے مطابق دے سکتے ہیں۔ عالمی بینک کا ایک ذیلی ادارہ انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن ہے، جس کے صدر نے کہا تھا کہ آئی ایف سی نے اسلامی طریقوں کے مطابق قرضے دینے پر غور کیا تھا، مگر حکومتِ پاکستان کی سوچ یہ ہے کہ بیرونی قرضوں کے ضمن میں وہ موجودہ طریقوں کو ہی برقرار رکھے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے سے لیے گئے قرضوں کے معاہدات کے تحت پرانے بیرونی قرضوں کو سودی بنیاد پر ہی رکھا جا سکتا ہے ، مگر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ نئے قرضے سودی بنیاد پر نہ لیے جائیں اور پرانے قرضوں کو جلد از جلد واپس کیا جائے، لیکن اس ضمن میں حکومت کی کوششیں ہمیں نظر نہیں آ رہیں۔
میرا سوال تھا کہ پاکستان میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے کن انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے اور کیا کرنا چاہیے؟
آپ نے اس ضمن میں اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا:
’’آئین کی شق 38 (ایف) میں فوری طور پر ایک اور ترمیم کرکے یہ اضافہ کیا جائے کہ ’’سود ہر شکل میں ربا کے زمرے میں آتا ہے‘‘، تاکہ یہ مسئلہ آئندہ زیر بحث نہ آئے، نہ ہی عدالتوں یا کسی اور فورم پر اس کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔‘‘
ڈاکٹر شاہد حسن کا کہنا تھا کہ ’’موجودہ اسلامی بینکوں کو یکم جنوری 2025ء سے بلا سودی بینک قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ان بینکوں کی تمام مصنوعات اور کاروبار سے سود کو مکمل طور پر ختم کرنے کی حکمت عملی تین ماہ کے اندر وضع کی جائے اور اس پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے۔ ان بینکوں کو کھاتے داروں کو منافع صرف نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر دینا ہوگا۔
اسی طرح تمام سودی بینکوں اور مالیاتی اداروں بشمول مائیکرو فنانس بینکوں کو ایک سال کے اندر مکمل طور پر بلا سودی بینک بنادیا جائے، اس طرح کہ ان بینکوں کی کسی بھی پروڈکٹ میں سود کا شائبہ بھی نہ رہنے دیا جائے۔ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ پہلے تمام بینکوں کو، خواہ وہ سودی ہوں یا بلا سودی، ایک اچھا بینک بنایا جائے، وگرنہ کامیابی کا امکان نہیں ہوگا۔‘‘
آپ کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان میں ٹیکسوں کا نظام غیر منصفانہ ہے، ملک میں بڑے پیمانے پر کالا دھن موجود ہے، اور حکومت کی پالیسیوں سے کالے دھن کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ کالے دھن کو سفید کرنے کا راستہ بھی موجود ہے۔ معیشت دستاویزی نہیں ہے اور اسے دستاویزی بنانے کا سیاسی عزم بھی نظر نہیں آتا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111 (4) کالے دھن کو سفید بنانے کا بڑا ذریعہ ہے۔ پراپرٹی کی مالیت کو مافیا کے دباؤ پر مارکیٹ کے نرخوں پر نہیں لایا جارہا، اور پراپرٹی میں کئی ہزار ارب روپے کا کالا دھن پاکستان کے اندر موجود ہے۔
بجٹ خسارہ جسے اُم الخبائث کہا جاتا ہے، مسلسل بلند رہتا ہے۔ اسلامی نظامِ معیشت کے تقاضوں کے مطابق مالی پالیسیاں وضع کرنے کا سیاسی عزم نظر نہیں آرہا۔ آئین کی شق 3 (کرپشن پر قابو پانے) اور شق 227 (تمام قوانین کو شریعت کے تابع بنانے اور آئندہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ بنانے) پر عمل درآمد کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ یہ تمام عوامل اور دیگر کئی مسائل معیشت سے سود کے خاتمے اور اسلامی بینکاری کے نفاذ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔‘‘
آپ کا مزید کہنا تھا کہ ’’اسٹیٹ بینک کی موجودہ مانیٹری پالیسی اور دیگر تمام مالیاتی پالیسیاں جلد از جلد سود سے مکمل پاک کی جائیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایک ماڈل اسلامی بینک بنایا جائے۔ اس ماڈل اسلامی بینک میں ڈپازٹ، سرمایہ کاری اورفنانسنگ صرف نفع و نقصان میں سرمائے کے تناسب سے شرکت کی بنیاد پر ہو۔مضاربہ و مشارکہ کے تحت فنانسنگ بھی صرف نفع و نقصان میں سرمائے کے تناسب سے شرکت کی بنیادپر ہو۔ یہ بینک یقینی طور پر کھاتے داروں کو بہتر منافع ادا کرے گا۔
اس ماڈل بینک کی کامیابی دوسرے تمام بلاسودی بینکوں کو مجبور کرے گی کہ وہ بھی اپنے کھاتے داروں کو منافع دینے کے لیے اسی اصول پر اپنی کاروباری حکمتِ عملی تیزی سے بنائیں اور ممکن حد تک اس پر عمل کریں۔‘‘
آپ کا کہنا تھا کہ ’’حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مسئلہ سود‘‘ میں سودی بینکوں کے متعلق لکھا تھا: ’’پوری ملت کا سرمایہ چند بڑے بینک والوں کا لقمہ بن گیا‘‘۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے والدِ محترم کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھا: ’’اس طرح ہمارے (سودی) بینک درحقیقت پوری قوم کے بلڈ بینک بنے ہوئے ہیں، جہاں سے یہ سرمایہ دار پوری قوم کا خون چوس چوس کر پھولتے رہتے ہیں، اور پوری قوم اقتصادی اعتبار سے نیم جان لاش بن کر رہ جاتی ہے۔‘‘
آپ ذرا ان اعداد و شمار کو دیکھیں جو اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں، اور یقیناً چشم کشا ہیں:
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں تمام بینکوں (سودی بینک اور اسلامی بینک) نے جون 2024 میں اپنی ایکویٹی پر ٹیکس سے قبل 42.6 فیصد منافع کمایا۔ اس کے مقابلے میں اسلامی بینکوں نے جون 2024 میں اپنی ایکویٹی کے مقابلے میں منافع کی شرح 70.6 فیصد حاصل کی۔ یعنی تمام بینکوں کا ٹیکس سے قبل منافع 42.6 فیصد تھا، جبکہ اسلامی بینکوں کا 70.6 فیصد۔ تاہم، اسلامی بینکوں نے سودی بینکوں کے مقابلے میں اپنے کھاتے داروں کو مجموعی طور پر بہت کم شرح سے منافع دیا۔ یہ استحصال کی بدترین شکل ہے۔
یہ اعداد و شمار اور اسلامی بینکوںکی کارکردگی کی متعدد رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ سودی بینکوں کے ضمن میں حضرت مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا تقی عثمانی کے مذکورہ ریمارکس دراصل اسلامی بینکوں پر زیادہ صادق آتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر شاہد حسن کا کہنا تھا کہ:
’’اگر سیاسی عزم ہو تو پاکستان میں داخلی معیشت، بشمول بینکوں اور مالیاتی اداروں سے سود کا خاتمہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر کوئی بینک، ادارہ یا مالیاتی ادارہ اپنی مصنوعات سمیت تمام کاروبار میں مکمل طور پر سود سے اجتناب کرتا ہے، تو وہ بلا سودی بینک یا ادارہ کہلائے گا، خواہ وہ سٹے بازی، ذخیرہ اندوزی یا حرام اشیاء کے کاروبار میں ہی ملوث کیوں نہ ہو۔ یہ بات تکنیکی طور پر درست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں بھی ’’اسلامی بینکاری‘‘ تیزی سے پھیل رہی ہے، حالانکہ پاکستان اور دنیا بھر میں اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے جو کاروبار ہورہا ہے، وہ درحقیقت اسلامی بینکنگ نہیں ہے۔ البتہ ان بینکوں کو بلاسودی بینک کہا جا سکتا تھا، بشرطیکہ ان کے کاروبار میں سود کی آمیزش نہ ہو۔‘‘
آپ کا مزید کہنا تھا کہ ’’اسلامی بینکاری دراصل اسلامی نظامِ معیشت کا ایک حصہ ہے، اور اسلامی نظامِ معیشت کے رہنما اصول ہمیں قرآن و سنت میں ملتے ہیں۔ قرآن شریف میں 300 سے زائد آیات موجود ہیں جو معیشت اور اقتصادیات کے شعبے کے لیے رہنمائی، ہدایات اور احکامات فراہم کرتی ہیں۔ یہ احکامات نہ صرف فرد اور اداروں بلکہ حکومتوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔‘‘
آپ نے کہا کہ ’’اسلامی بینکوں کو مکمل طور پر سود سے بچنا ہوگا۔ نہ صرف سود سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا بلکہ اسلام کے نظامِ معیشت کو بھی اپنانا ہوگا اور ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے تابع بنانا ہوگا۔ چنانچہ فرد، اداروں اور حکومت کو اپنے اختیارات اور وسائل کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال اور خرچ کرنا ہوگا۔ اسلامی بینکاری کو مکمل طور پر شریعت کی روح کے مطابق وضع کرنے اور نافذ کرنے کے لیے یقیناً بہت سی انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں اور فیصلے کرنے ہوں گے، جو آسان کام نہیں ہوگا۔
ہم بہرحال یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اگلے دو برسوں میں ہم صرف صحیح معنوں میں بلاسودی بینک کامیابی سے چلا سکیں اور ملکی معیشت سے ہی سود کا خاتمہ کرسکیں، تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ اسلامی بینکاری کے ضمن میں اہم ترین مشکلات اور ممکنہ حل کے لیے ہم نے اپنی گزارشات آپ کے سوالات کے جواب میں پہلے ہی پیش کردی ہیں۔‘‘

