پُرامن احتجاج عوام کا حق ہے !

آئینِ پاکستان 1973ء جس کا حقیقتاً حلیہ بگاڑا جا چکا ہے، وطنِ عزیز کے ہر نام نہاد جمہوری حکمران اور فوجی آمر نے حسبِ توفیق اور حسبِ ضرورت اس میں ترامیم کرکے اس کی روح کو زخمی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ملک کو یہ آئین عطا کرنے کا کریڈٹ لینے والی پیپلز پارٹی نے اس ضمن میں شاید سب سے زیادہ مستعدی اور چابک دستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سات ترامیم تو خود اس آئین کو بنانے کے دعویدار، پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء سے 1977ء تک کے اپنے عرصۂ اقتدار میں کر ڈالی تھیں، اور اب تک کی آخری یعنی چھبیسویں ترمیم کی منظوری کے لیے بھی پارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح سردھڑ کی بازی لگائی، اپنی اور دوسروں کی راتوں کی نیندیں حرام کیں، وہ تو ابھی کل کی بات ہے اور کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کہنے کو تو یہ صرف چھبیس ترامیم ہیں مگر آپ اگر صرف 26 ویں ترمیم کی تفصیلات کا مطالعہ کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ محض اس ایک ترمیم کے ذریعے آئین میں ایک دو نہیں، سیکڑوں تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قطعی غلط یا مبالغہ آرائی نہیں کہ اربابِ اختیار نے من چاہی ترامیم کے ذریعے آئینِ پاکستان 1973ء کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، تاہم اس سب کے باوجود آج بھی یہ آئین ملک و قوم کے لیے ایک قابلِ احترام اور مقدس دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا آئین ہے جس پر ملک کی تمام سیاسی و دینی قوتوں، مکاتبِ فکر اور ہر نقطۂ نظر کے قائدین نے اتفاق کا اظہار کیا تھا اور الحمدللہ تمام تر ترامیم اور ان پر اختلافات کے باوجود 1973ء کے دستور پر یہ اتفاقِ رائے آج تک موجود ہے۔ اگرچہ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہمارے حکمرانوں، اشرافیہ اور مقتدرہ نے کبھی اس آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔ مثال کے طور پر آئین میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ ملک کا کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا، مگر کیا اس امر سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ملک کا سارا نظام قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف چل رہا ہے اور عدالتیں کھلم کھلا غیر اسلامی قوانین کے تحت فیصلے سنا رہی ہیں۔ سود کے خاتمے، اردو کے بطور قومی اور سرکاری زبان نفاذ کی مدت واضح الفاظ میں مقرر کی گئی تھی جسے گزرے سالہا سال ہوچکے ہیں مگر کسی کو پروا نہیں کہ آئین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ آئین محنت کشوں کو اپنی سودا کار یونینوں اور طلبہ کو طلبہ یونینوں کے انتخاب کا جمہوری حق دیتا ہے، مگر یہ حقوق بھی کھلم کھلا پامال کیے جارہے ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک رینگتی محسوس نہیں ہوتی۔ دلچسپ مگر تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ سود کے خاتمے، اردو کے نفاذ، محنت کشوں اور طلبہ یونینوں کی بحالی کے حق میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے بھی موجود ہیں مگر ان فیصلوں پر کوئی عمل کرنے کو تیار ہے نہ ہی عدالتِ عظمیٰ کو اپنے فیصلوں کا احترام کرانے کی فکر ہے، بلکہ افسوس ناک صورتِ حال تو یہ ہے کہ ماتحت عدالتوں سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک آج بھی اپنے فیصلے اردو کے بجائے انگریزی میں جاری کرکے خود توہینِ عدالت کی مرتکب ہورہی ہیں۔ اس مضحکہ خیز حقیقت پر یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ: چوں کفر از کعبہ برخیزد۔ کجا مانند مسلمانی…!!!

1973ء کے دستور ہی میں عوام کو آزادانہ اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق دینے کے لیے الیکشن کمیشن کی آزادی و خودمختاری کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اسی طرح عدلیہ کو ہر طرح کے دبائو سے آزاد رہ کر لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے بااختیار بنایا گیا ہے، مگر ان آئینی اداروں کی آزادی و خودمختاری کا جو عالم ہے اُس کی جھلک ماضیِ قریب میں قوم بخوبی دیکھ چکی ہے۔ اظہارِ خیال اور ذرائع ابلاغ کی آزادی بھی آئینی حقوق میں نمایاں ہیں، مگر اس ضمن میں جو پابندیاں آج کل عائد کی جارہی ہیں ماضی میں فوجی آمریتوں میں بھی ان کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دستورِ پاکستان میں مملکت کے ہر شہری کو آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا ہے، اس حق کے تحت ماضی میں موجودہ حکمران نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جلسے کرتی اور جلوس نکالتی رہی ہیں۔ تحریکِ نجات کی ہڑتال، چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے لیے اسلام آباد کی جانب میاں نوازشریف کا مارچ، مہنگائی مارچ اور بے شمار دوسرے جلسے جلوس اس کی مثال ہیں، مگر آج ان دونوں جماعتوں کے مشترکہ اقتدار میں تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں پُرامن احتجاج کا اعلان کیا تو حکومت نے اس کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا۔ کون سی پابندی ہے جو عائد نہیں کی گئی، اور کون سا حربہ ہے جو اس احتجاج کو روکنے کے لیے آزمایا نہیں گیا؟ حالانکہ پُرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی و قانونی حق ہے، مگر فارم 47 کی پیداوار موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرکے پولیس کی بھاری نفری صرف اسلام آباد ہی نہیں پورے ملک میں سڑکوں پر بٹھا دی۔ رینجرز کے دستے بھی قبل از وقت ہی طلب کرلیے گئے، آخر میں دفعہ 245 کو بلاجواز روبہ عمل لا کر فوج بھی بلالی گئی، انٹرنیٹ اور سماجی روابط کے ذرائع کی بندش کا حربہ بھی آزمایا گیا۔ پہلے سابق خاتونِ اوّل بشریٰ بی بی کو خود احتجاج میں شریک نہ ہونے کا طعنہ دیا، پھر جب انہوں نے کنٹینر پر سوار ہوکر مظاہرین کی قیادت سنبھال لی تو کہا گیا کہ عمران خان دوسرے کے بچوں کو احتجاج کا ایندھن بنا رہے ہیں، اپنے بچے لندن میں بیٹھے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری تو ایسے بوکھلائے کہ یہ بھی بھول گئے کہ خود اُن کے قائد میاں نوازشریف کے بچے بھی لندن ہی میں عیش کررہے ہیں اور پاکستان میں کسی سیاسی احتجاج کا حصہ کبھی نہیں بنے۔ تمام اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان وزرائے کرام نے تحریک انصاف کے احتجاجی کارکنوں کو فتنہ خوارج کا حصہ، دہشت گرد، انتشاری اور نہ جانے کیا کیا نام دیے۔ تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر جو قابو آیا، پکڑ لیا گیا۔ احتجاج کو سختی سے کچل دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، جو سب گیدڑ بھبکیاں ثابت ہوئیں۔ پورے ملک خصوصاً پنجاب اور صوبہ خیبر کے تمام راستوں پر کنٹینر کھڑے کرکے عام لوگوں کی آمدورفت بھی ناممکن بنادی گئی۔ موٹرویز اور ریلوے سروس تک بند کرکے عوام کو اذیت سے دوچار کرنے کی تمام حدیں حکمرانوں نے عبور کرلیں اور وزراء نہایت ڈھٹائی سے یہ دعوے کرتے رہے کہ لوگ احتجاج کے لیے گھروں سے نہیں نکلے اور تحریک انصاف کی کال عوام نے مسترد کردی ہے، مگر جب ہزاروں لوگ تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوگئے تو وزراء کے پاس منہ چھپانے اور بغلیں جھانکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایسے میں حکمرانوں سے یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ ایوانِ اقتدار میں تو تمام حکمران یہی دعوے کرتے ہیں کہ ’’میری کرسی بہت مضبوط ہے‘‘، مگر مصنوعی سہاروں اور مانگے تانگے کی قوت کے ذریعے اقتدار کو زیادہ دنوں تک طول نہیں دیا جا سکتا۔ لوگوں کے مقابل کوئی ٹھیرا ہو تو بتلائو…؟ (حامد ریاض ڈوگر)