فرائیڈے اسپیشل کے 22 نومبر 2024ء کے شمارے میں شائع شدہ انٹرویو ’’اسلامی بینکاری: حقیقت کیا ہے؟‘‘ میں ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اسلامی بینکاری کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے یہ اہم نکتہ اٹھایا تھا کہ:
’’اسلامی بینک اپنے کھاتے داروں کو منافع شرعی اصولوں کے مطابق دینے کے بجائے اسٹیٹ بینک کے احکامات کے تحت فراہم کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلامی بینک سودی بینک کے مقابلے میں زیادہ استحصالی ہوتے ہیں اور اسلامی بینکوں کی پروڈکس میں سود کی آمیزش ہوتی ہے۔
اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 26 نومبر 2024ء کو ایک سرکلر جاری کیا ہے، جس کا عنوان ہے:
’’اسلامک بینکنگ کے اداروں کی طرف سے بچت کھاتے داروں کو دی جانے والی شرح میں تبدیلی‘‘۔ یہ نیا بچت فارمولا یکم جنوری 2025ء سے نافذ العمل ہوگا، یہ بات واضح ہے کہ یہ فارمولا 13 برس کے بعد اسٹیٹ بینک نے تبدیل کیا ہے، یعنی گزشتہ 13 برسوں میں اسلامی بینکوں نے اپنے بچت کھاتے داروں کو جو منافع دیا وہ نہ صرف شریعت کے خلاف تھا بلکہ زیادہ استحصالی بھی تھا۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ اس نئے فارمولے کے تحت اسلامی بینکوں کے فرد کے ذاتی کھاتوں، پارٹنر شپ کے کھاتوں اور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کے لاکھوں کھاتے داروں کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر شرح منافع ملے گی۔ اب بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ ان احکامات کے بعد اسلامی بینک کس طرح ان پر عمل درآمد کرتے ہیں تاکہ شریعت کے تقاضے پورے ہوسکیں، اور یہ کہ اسلامی بینکوں کی جس آمدنی سے کھاتے داروں کو منافع تقسیم کیا جارہا ہے وہ کس حد تک شریعت کے مطابق ہے۔ (اے اے سید)

