خطاطی دنیا کے قدیم ترین فنون میں سے ایک ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ چھاپے کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، اہلِ فن خوش نویسی و خطاطی کی بہت قدر کرتے تھے۔ خوش نویسی تہذیب و شائستگی کا جزو لاینفک خیال کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس زمانے میں خوش نویسی سیکھنا ہر صاحبِ کمال کے لیے ضروری تھا۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح اس کی بھی مشق و تعلیم ہوتی تھی۔ اس کے بغیر تعلیم مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ امیر اور شریف لڑکوں کے علاوہ بادشاہ اور شہزادے بھی خوش نویسی سیکھتے تھے اور اس کی مشق جاری رکھتے تھے۔
فنِ خطاطی نے خصوصاً عروجِ اسلام میں زیادہ ترقی کی۔ کوفی اور مکی خطوط اس دور کے بہترین نمونے سمجھے جاتے ہیں۔ پھر عباسی، ایوبی اور مملوک دور میں اس نے مزید عروج پایا۔ آخر میں عثمانیوں نے اس فن کو بہت نکھارا اور اسے ایک خاص ترک انداز دیا۔ اسی طرح صفوی دور میں نستعلیق خط اور دیگر مشرقی اور مغربی خطوط مشہور ہوئے۔
پیشِ نظر کتاب ’’نہج الکتابۃ‘‘ مبادیاتِ کتابت سے جمالیاتِ خطاطی تک فن ِ خطاطی کی تاریخ، اصول و قواعد اور اسرار و رموز کی ایک دلآویز جھلک ہے۔ اس کتاب کے مولف و محقق جناب محمد حسن سیال ہیں، جن کا تعلق شورکوٹ (پنجاب) سے ہے۔ محمد حسن بائیولوجیکل سائنسز کے طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ شاعراور ادیب بھی ہیں، جب کہ فنِ خطاطی سے فطری مناسبت رکھتے ہیں۔ فنِ خطاطی سے محبت ان کے لہو میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کی سطر سطر اور ورق ورق سے اُن کی اس فن سے عقیدت اور ذوق و شوق نمایاں ہے۔
فاضل محقق و مولف فنِ خطاطی سے اپنی وابستگی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’جہاں تک اس فن سے میری ذاتی وابستگی کا تعلق ہے تو یہ وابستگی کوئی حادثاتی یا اتفاقی نہیں بلکہ فطری و روحانی ہے۔ البتہ اس دلچسپی کے برائے تسکین قلبی چند ایک فکری مدارج ضرور ہیں، جن میں ایک درجہ اس فن کے ذوق و دلچسپی کا وراثتی طور پر نسل در نسل منتقل ہونا ہے۔ جو شے آپ کے خمیر میں شامل اور خون میں دوڑ رہی ہو اُس کے پیغام کو آپ اپنے داخل میں واضح طور پر محسوس کرسکتے ہیں۔ میرے پردادا حضرت مولانا علی محمد ؒ کی پونے سوسالہ پرانی قلمی بیاض میں نستعلیق کا نمونہ ان کے خوش خط اور خوش ذوق ہونے پر گواہ ہے۔ یہ احساس ہر ایک دیگر عملی تربیت سے مقدم ہے جہاں کسی کو اس فن کی تحصیل کے لیے فکری میلانِ طبع کے بجائے مشقی سرگرمیوں میں سرکھپانا اور وقت لگانا پڑتا ہے۔ مثل معروف ہے کہ گزرتا ہوا پانی اپنی جگہ آپ بنالیتا ہے۔ فنِ خطاطی سے میری فکری دلچسپی بھی اسی نوعیت کی ہے جو میرے ماحولیاتی اور سماجی فکری رجحان سے بے نیاز، میرے اندر جاری ساری، اپنا رستہ آپ بناتی جارہی ہے۔ اس فن سے میری تخلیقیت کا سارا تعلق داخل سے خارج کی طرف ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی روحانی سفر یا خودشناسی کے مراحل میں رب کی نشانیاں پہلے انفس یعنی اپنی داخلی ذات اور پھر آفاقی یعنی مظاہر قدرت میں نظر آتی ہیں۔‘‘
پیشِ نظر کتاب چار فصلوں پر مشتمل ہے۔ فصلِ اول: بعنوان ’’تاریخ فن خطاطی‘‘ کے ضمن میں ابجدی ترتیب سے الف بائی ترتیب اختیار کرنے کے اسباب، خط نویسی(ابتدا وارتقاء)، عربی رسم الحظ کے متعلق ابن خلدون کی آرا کا محاکمہ، حجازِعرب میں خط نویسی کے منتقل ہونے کی کہانی: بلاذری کی زبانی، خلافتِ راشدہ اور خلفاء بنوامیہ و بنوعباس کے ادوار میں خطاطی کا فروغ، فن خطاطی، فضیلت و مرتبت، مدارسِ خطاطی، وزیر محمد بن علی مقلہ، ابوالحسن علی بن بلال المعروف ابن البواب اور خطاطی کے ارتقاء پر ایک طائرانہ نظرکے عنوانات کے تحت گفتگو کی گئی ہے۔
فصل دوم بعنوان: ’’اصنافِ خط‘‘ میں خط کی چند معروف اقسام، خط کوفی (کوفی البسیط، کوفی مورق)، خط نسخ، خط ثلث، خط رقعہ، خط رقاع، خط ریحانی، خط دیوانی، خط توقیع اور خط الاجازۃ، خط المغربی، خط ا لمبسوط، خط مجوہر، خط المسند یا خط زمامی، خط سنبلی، خط سیاقہ، خط طغراء اور فن خطاطی پر تحقیق کے لیے چند اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
فصل سوم بعنوان: ’’ابنِ مقلہ کا نظامِ خطاطی‘‘ میں مشہور خطاط ابن مقلہ شیرازی (جنھیں اہلِ مغربProphet of Calligraphy کہتے ہیں) کی مہارت اور خط نسخ کی دریافت، ابن مقلہ کے نزدیک اقسام کتاب اور مکتوب نگاری کی درجہ بندی، حسنِ کتابت، حسنِ تشکیل، حسن الوضع اور ابن مقلہ کے نظام خطاطی کو بیان کیا گیا ہے۔ جب کہ چوتھی فصل بعنوان: ’’فنِ خطاطی کے ابتدائی قواعد‘‘ میں ابن مقلہ کے رسالۃ فی علم الخط و القلم کا متن اور اردو ترجمہ، اورابن قتیبہ کے رسالۃ الخط والقلم کا متن اور اردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں عکسیات اور چند کراسات دیے گئے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد ندیم(سابق صدر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف سرگودھا) رقم طراز ہیں:
’’جناب محمد حسن کی زیر نظر تصنیف پاکیزگیِ قلب اور طہارتِ نظر کا عملی اظہار ہے۔ انھوں نے سرورق کی تحریر سے مصادر و مراجع تک جس صوفیانہ طرزعمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس کتاب کو فنِ خطاطی سے بلند تر کردیتا ہے۔ خطاطی کی قدیم تاریخ، خطاطی کے ادوار، خطاطی کے مدارس، معروف خطاطین، خط کی اقسام کے بیان کے ساتھ ساتھ فنِ خطاطی سے محدثین، شعرا، ادبا، صوفیہ، علما اور شاہانِ وقت کی وابستگی کے بعض دلچسپ و سبق آموز واقعات کو بیان کرکے کتاب کی دلچسپی میں اضافہ کردیا ہے۔ مزید برآں، اس فنِ شریف کی برکات اور استاد شاگرد کے تعلقات کی صوفیانہ توجیح سے اس کتاب کی سرحدیں تصوف، تذکرہ نگاری اور تاریخ نویسی سے جاملتی ہیں۔ فاضل محقق و مولف نے ابن مقلہ کے فن پر خصوصی باب اور فنِ خطاطی پر ان کے رسالۃ فی علم الخط و القلم اور ابن قتیبہ کے رسالۃ الخط والقلم کا متن اور اردو ترجمہ شامل کرکے اس کی اہمیت سہ چند کردی ہے۔‘‘
بلاشبہ ’’نہج الکتابۃ‘‘ فنِ خطاطی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک نہایت عمدہ تحفہ ہے۔ ورلڈ ویو پبلشرز (لاہور) نے اسے بڑے سلیقے سے شائع کیا ہے اور قیمت بھی بہت مناسب ہے۔

