شہیدِ غزہ یحییٰ ابراہیم حسن سنوار29 اکتوبر 1962ء کو خان یونس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت غزہ پٹی مصر کے قبضے میں تھی۔ یحییٰ سنوار کے والدین کو 1948ء کے نکبہ میں مجدل عسقلان (Ashkelon) سے نکالا گیا تھا جہاں ان کا آبائی گھر تھا۔ یحییٰ سنوار کا بچپن اور لڑکپن خان یونس کے انہی محلوں میں گزرا جہاں کے پناہ گزین کیمپوں میں زندگی کی سہولیات کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یحییٰ سنوار نے ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن یہیں مکمل کیا اور غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی لٹریچر میں گریجویشن کیا۔ آپ یونیورسٹی کی طلبہ کونسل میں پیش پیش رہے۔
25 سال کی عمر میں یحییٰ سنوار فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا حصہ بنے اور اپنی پوری زندگی فلسطین پر قابض اسرائیلی فوجوں کے خلاف مزاحمت کے لیے وقف کردی، جس کے باعث انھیں تین بار (1982ء، 1985ء اور 1989ء میں) گرفتار کیا گیا اور قیدو بند کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ لیکن یحییٰ سنوار نے ہمت نہیں ہاری اور جیل ہی کو مسجد اور مدرسہ میں تبدیل کرنے کا عزم کرلیا۔ جیل میں رہ کر دیگر سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اپنے ساتھ ملایا اور اپنا ایک نظم قائم کرلیا۔ جیل ہی میں رہ کر یحییٰ سنوار نے عبرانی زبان سیکھی، یہودیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ 1995ء میں دورانِ اسیری اسرائیل کی اوپن یونیورسٹی سے سات سال کے عرصے میں پندرہ کورس پاس کیے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی تاریخ اور سیاسیات کے مضامین تھے۔ یحییٰ سنوار نے بعض عبرانی کتابوں کا عربی میں ترجمہ بھی کیا۔ ان میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی شین بیٹ (Shin Bet) کے چند سابق سربراہوں کی خودنوشت سوانح عمریوں کا ترجمہ بھی شامل ہے۔
اسرائیل کی بئر سبع جیل میں دورانِ اسیری (2004ء) یحییٰ سنوار نے ایک کتاب ’’الشوک والقرنفل‘‘ کے عنوان سے عربی میں لکھی۔ پیشِ نظر کتاب بعنوان ’’مزاحمت‘‘ اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ اردو ترجمہ ممتاز محقق، مؤرخ اور مترجم ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر (سابق صدر شعبہ اسلامی تاریخ، جامعہ کراچی) کے قلم سے ہے، جس کے بارے میں وہ رقم طراز ہیں:
’’61 سال کی عمر میں شہید ہونے والے یحییٰ سنوار کی شہادت (16اکتوبر 2024ء) کے بعد اس کی شخصیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے شوق نے مجھے اس کتاب تک پہنچایا، اور میں نے سوچا کہ اس کا حق ہے کہ اس کے خیالات، نظریات اور سوچ کو حبس ِبے جا سے نکال کر خوشبو کی طرح بکھیر دیا جائے۔ وہ اہلِ مغرب اور دشمنوں کی نظر میں دہشت گرد تھا، لیکن تاریخ ِفلسطین میں اسے مزاحمت کے استعارے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ 72 گھنٹے کے فاقے کے باوجود، جس طرح اس نے تل سلطان کی گلیوں میں اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ AK-47 رائفل سے قابض فوجیوں کا مقابلہ کیا، جس طرح زخمی ہوکر ایک گھر کے ملبے میں ٹوٹے ہوئے صوفے پر بیٹھا، جس طرح اس نے اپنے ہاتھ کے زخم سے خون کی روانی کو روکنے کے لیے ملبے سے ایک تار اٹھا کر اپنے بازو پر باندھا، اور پھر جس طرح اس نے اپنے تعاقب میں آنے والے ڈرون کو اپنے زخمی ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی سے مارا… مقاومت و مزاحمت کی ایسی مثال عصری تاریخ میں خال خال ہی ملے گی۔‘‘
اس کتاب کے بارے میں خود یحییٰ سنوار انتساب کے عنوان سے لکھتے ہیں:
’’یہ میری ذاتی کہانی نہیں، اور نہ ہی کسی خاص شخص کی کہانی ہے، لیکن اس کے تمام واقعات حقیقی ہیں، جو کسی نہ کسی فلسطینی کی روداد بیان کرتے ہیں، میرے تخیل نے اسے ایک کہانی کی شکل دے دی ہے، جو مخصوص کرداروں کے گرد گھومتی ہے، اس کے علاوہ ہر بات حقیقی ہے، اس کا بیشتر حصہ میں نے اُن لوگوں کی زبانی سنا ہے، جنہوں نے خود، یا ان کے اہلِ خانہ اور پڑوسیوں نے فلسطین کی مقدس سرزمین پر کئی عشروں تک جھیلا ہے، میں اسے اُن لوگوں کے نام معنون کرتا ہوں جن کے دل سرزمینِ معراج و اسراء سے محبت رکھتے ہیں، بحر محیط سے خلیج تک! بلکہ بحر محیط سے بحر محیط تک۔‘‘
اس کتاب میں پناہ گزین کیمپوں کی زندگی کی جو تصویرکشی ملتی ہے وہ انتہائی متاثر کن ہے۔ ان مہاجر کیمپوں میں پل کر جوان ہونے والے بچوں کی نفسیات، ان کے دکھ، مسائل اور زندگی کو برتنے کا قرینہ ان صفحات میں جا بجا بکھرا ہوا ہے۔ غزہ کے مقامی باشندوں اور مہاجروں کے درمیان جو طبقاتی فرق تھا اس کو اس رپورتاژ میں پوری طرح محسوس کیا جاسکتا ہے۔ پھر غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے نظریاتی اختلافات کے ساتھ فلسطینی سیاست، سماجیات، احتلال (قبضہ) اور مقاومت (مزاحمت) کے سارے رنگ اس میں جھلکتے ہیں۔
ڈاکٹر نگار صاحبہ نے اس رپورتاژ کا اردو ترجمہ متن کے قریب تر رہتے ہوئے ادبی پیرائے میں کیا ہے۔ علاوہ ازیں ترجمہ کرتے ہوئے اہم اصلاحات، شخصیات اور تاریخوں کے بارے میں مختصر لیکن مفید حواشی بھی لکھے ہیں، نیز بعض مواقع پر تشریحی لفظ یا جملہ متن کے اندر ہی قوسین میں دے دیا ہے تاکہ قاری بغیر کسی الجھن اور کم فہمی کے اپنے مطالعے کو جاری رکھ سکے۔
قیامِ اسرائیل (1948ء) سے لے کر دوسرے انتفاضہ (2000ء تا 2004ء) تک کے حقیقی واقعات کو جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے کہ یہ ایک عینی شاہد کے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے جسے حکایتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

