پاکستان کا سیاسی منظرنامہ عدم استحکام کے بڑھتے خدشات

سیاسی و سرحدی صورتحال ٹھیک نہیں معیشت کو درپیش چیلیجز بڑھ سکتے ہیں

پورا ایک عشرہ مکمل ہوگیا ہے، وقت دس سال آگے بڑھ گیا ہے مگر ملک ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ ملکی سیاست آج بھی احتجاج، دھرنوں، جیل، اور سیاسی راہنمائوں کو سبق سکھانے کے لیے سزائیں دیے جانے کا منظر دکھا رہی ہے۔ نوازشریف کو جب اقتدار سے الگ کیا گیا اور انہیں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو کہا گیا کہ بس اب شریف خاندان کی سیاست کا باب بند ہوگیا ہے۔ ساڑھے تین سال کے بعد عمران خان بھی اسی کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ انہیں بھی درجنوں مقدمات کا سامنا ہے، متعدد میں سزا ہوچکی ہے، کچھ کی سزا معطل ہوچکی ہے اور القادر ٹرسٹ کیس ابھی باقی ہے جس میں عمران خان کی قسمت کا فیصلہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ پیپلزپارٹی اس صورتِ حال سے دوچار ہوا کرتی تھی، اُس نے تو فیصلہ کرلیا ہے کہ ملک کی سیاست کے خالقوں اور اصل مالکوں کے ساتھ ہاتھ ملالیا جائے کہ بھلائی اسی میں ہے۔ مسلم لیگ(ن) بھی یہ فیصلہ کرچکی ہے، حال ہی میں اس نے ملکی سیاسی جماعتوں سے رابطے بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے، پیر پگارا سمیت متعدد راہنمائوں سے ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ بہرحال اس سب کے باوجود تحریک انصاف ابھی تذبذب میں ہے، تین قدم آگے بڑھاتی ہے اور پھر دو قدم پیچھے چلی جاتی ہے، وہ کبھی مغرب کے پار، کبھی مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی جانب دیکھتی ہے۔ پارٹی میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ایسا شخص جس کا دو بار مواخذہ کیا گیا، اسے مجرم تک لکھا گیا، وہ دوبارہ دنیا کا سب سے طاقتور آدمی بن گیا ہے، لہٰذا ووٹ بینک بچایا جائے اور لچک نہ دکھائی جائے۔ یہ بہت عرصے تک فیض حمید پر انحصار کرتی رہی، حتیٰ کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے اہم اجلاس میں شریک ہوئے۔ ایک طرف یہ رویہ، دوسری جانب وہ ’’راولپنڈی‘‘ کی جانب بھی دیکھتی ہے اور ابھی حتمی فیصلہ نہیں کرپائی کہ اسے کیا کرنا ہے۔ بہرحال اسے اگر دریا میں رہنا ہے تو مگرمچھ سے بیر کیسا؟

2013ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے ایک غیبی قوت کے سہارے مسلم لیگ(ن) کو چلتا کرنے کی منصوبہ بندی کی، تاہم یہ کوشش تحریک انصاف کو اقتدار تو نہ دلاسکی لیکن نوازشریف کو ایک لنگڑی بطخ ضرور بنادیا، اسی سبب انہیں اقتدار سے بے دخل کرنا بھی ممکن ہوا۔ 2018ء میں تحریک انصاف کو اقتدار ملا، لیکن 2022ء میں اقتدار اس سے چھن گیا۔ اب تحریک انصاف خود اسی مکافاتِ عمل سے گزر رہی ہے۔ سیاسی جماعتوںکی ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی ہوس نے ہی مگرمچھ کو طاقت ور بنایا ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتیں آئین کے نیچے جمع ہوجائیں، ایک دوسرے کو قبول کرلیں اور عوام کے ووٹ سے اقتدار تک پہنچنے کا تہیہ کرلیں تو یہ ’’میثاقِ برداشت‘‘ انہیں مگرمچھ سے زیادہ طاقت ور بنا سکتا ہے۔

ملک کا سیاسی منظرنامہ یہ خبر دے رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، یہی وجہ ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات اب ’’مذاق رات‘‘بنتے جارہے ہیں۔ مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں، تیسرا دور ہونے جارہا ہے، اندازہ یہی ہے کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا انجام یقینی طور پر وہی ہوگا جس کا خدشہ ہے، کیونکہ انتشار کی سیاست، سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیے جانے والے حربے اب تحریک انصاف کے اپنے اندر آزمائے جارہے ہیں، پوری پارٹی باہمی اختلافات کے باعث ٹکڑوں میں بٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ تحریک انصاف تنظیم نہیں، محض عمران خان کی شخصیت کا دوسرا نام ہے، اور خود عمران خان نے بھی اسے تنظیم نہیں بننے دیا۔ عمران خان کے جیل چلے جانے کے بعد پارٹی میں راہنمائوں کی کارکنوں سے دوریاں بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر احتجاج اور لانگ مارچ میں کارکنوں کو بے یارو مددگار چھوڑ جانے کے عمل نے یہ دوری اپنی معراج کو پہنچا دی ہے۔ پارٹی میں سرد جنگ اب صاف نظر آنے لگی ہے۔ اس کے لیڈرز ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، اور باہمی اختلافات اور اختیارات کی چھینا جھپٹی کے لیے آپس میں دست و گریباں ہیں۔ پارٹی کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری کا جب بھی تعین ہوگا، دوسرے راہنمائوں کے ساتھ بشریٰ بی بی کا نام بھی لیا جائے گا، وہ جانشین بننے کے لیے میدانِ سیاست میں کود پڑی ہیں، اب وہ ایک گھریلو خاتون نہیں رہیں۔ پارٹی کے لیے نیک جذبات رکھنے والے سیاسی حلقے مسلسل ایک ہی بات کررہے ہیں کہ تحریک انصاف کے اپنے ہی لوگ عمران خان کے جیل میں رہنے کے خواہش مند ہیں اور خدشہ ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی کو سزا ضرور ہوگی۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس بڑا واضح کیس ہے، یہ اختیارات سے تجاوز کا کیس ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا یہ محض پروپیگنڈا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بیرونی ممالک سے کوئی دباؤ آرہا ہے۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ اب غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، باہر سے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جارہا ہے، بہت سی چیزیں واضح ہوچکی ہیں۔ یہ پروپیگنڈا چلانے کی بھی کوشش کی جارہی تھی کہ کیس میں تاخیر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری مذاکرات کے باعث ہورہی ہے، اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ تحریک انصاف آئین و قانون سے بالاتر کوئی آسمانی مخلوق نہیں ہے، اس نے دھرنے کرکے دیکھ لیے، جلسے جلوس کرکے دیکھ لیے، 9 مئی اور 26 نومبر بھی کرکے دیکھ لیا، ریاست کے خلاف بغاوت، جلاؤ گھیراؤ بھی کرکے دیکھ لیا، لیکن وہ وہیں کی وہیں کھڑی ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مذاکرات میں دو مطالبات دہرا رہی ہے، پہلا یہ کہ 9 مئی کے واقعات، اور26 نومبر کو ڈی چوک میں جو کچھ بھی ہوا، اس کی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں۔ 26 نومبر کو پارٹی کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ سنگجانی میں احتجاج کرکے، دھرنا دے کر کچھ حاصل کرلیتی، لیکن بشریٰ بی بی نے ڈی چوک جانے پر اصرار کیا، اور وہاں جو کچھ ہوا اب تحریک انصاف اس کی ایک عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے، اور حکومت کو تحریری مطالبات دیے بھی جارہے ہیں۔جب تک تحریک انصاف اپنے تحریری مطالبات نہیں دے گی مذاکرات ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ وہ کیوں ایسا کررہی ہے؟ اس کا جواب صرف تحریک انصاف کی لیڈرشپ ہی دے سکتی ہے۔ اس بارے میں کوئی تجزیہ کرنا، اندازہ لگانا بے کار کام ہے۔ تاہم آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ26 نومبر کو جس طرح علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ڈی چوک سے گئے ہیں، اُن کا یہ فیصلہ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے اور کارکنوں کو اس کا کوئی جواب نہیں مل سکا۔ اس طرزعمل سے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

جہاں تک عمران خان کے مقدمات کے لیے وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کا تعلق ہے، اس ضمن میں بھی پارٹی میں بہت گروہ بندی ہے۔ بشریٰ بی بی، علیمہ خان، پارٹی سے وابستہ سینئر وکلاء اور انصاف لائر فورم ایک پیج پر نہیں ہیں۔ توشہ خانہ تھری کیس میں تو ایک وکیل نے عدالت میں پارٹی کے اپنے ہی وکلاء کی جانب سے اعتراض کیے جانے کے بعد روسٹرم پر کھڑے کھڑے فائل غصے میں پھینک دی تھی اور عدالت سے باہر نکل گئے، تاہم انہیں عمران خان کی مداخلت پر واپس لایا گیا۔ پارٹی میں یہ صورتِ حال عمران خان کو کیا ریلیف دلائے گی؟ تحریک انصاف ان دنوں جس صورت حال کا شکار ہے اس سے اندازہ یہی ہے کہ یہ پارٹی کسی ایسے گروہ کے قابو میں ہے جو نظر تو نہیں آرہا تاہم فیصلوں کے لیے سکہ اسی گروہ کا چلتا ہے۔ اب جب کہ مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہونے کی امید اور امکان ہے، دیکھتے ہیں کہ حتمی رخ کیا اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن اہم ترین نکتہ یہی ہے کہ عمران خان کی جانب سے 9مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی شرط پر عمل درآمد کیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔

اسلام آباد میں دوسرا اہم ترین موضوع پاک افغان تعلقات ہیں۔ دونوں ملک ان دنوں بداعتمادی کا شکار ہیں۔ کابل حکومت اپنی تنہائی سے نکلنے اور اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے علاقائی ریاستوں تک پہنچ رہی ہے۔ اگرچہ کسی نے بھی طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن ریاستیں کابل حکومت کے ساتھ کاروبار کررہی ہیں۔ ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ طالبان کے وزیر خارجہ نے حال ہی میں دبئی میں ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ ماضی میں نئی دہلی نے ’تعمیرنو‘ کے نام پر مختلف منصوبوں کے لیے افغانستان کو 3 بلین ڈالر دیے تھے، اور اُس وقت کے شمالی اتحاد سے اس کے تعلقات تھے۔ اب ہندوستان نے طالبان کے ساتھ ملاقات کی ہے، یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ پاکستان میں اس پیش رفت پر تشویش ہے۔ پاکستان اپنے مشرق اور مغرب میں بیک وقت دو خطروں کی تلوار لٹکی ہوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ افغانستان سے پاکستان کے اندر دراندازی کی روک تھام کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا ہے کہ پوری یکسوئی کے ساتھ حقیقی طاقت سے جواب دیا گیا ہے، تاہم پاکستان سرحدی مسائل پر افغانستان کے ساتھ بات چیت بھی چاہتا ہے اور تیزی سے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرچکا ہے۔ اب تجزیہ کچھ اس طرح سے کیا جارہا ہے کہ افغان تاریخ کے پہلے سرے پر کھڑے ہوکر سوچا جائے کہ یہ خطہ ماضیِ بعید میں کیسا تھا؟ عین ممکن ہے کہ تاجک، ازبک اور دیگر بھی متحرک ہوجائیں۔ یہ بھی سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ اسلام آباد کو دیگر علاقائی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس بات پر زور دینا چاہیے کہ طالبان کو دہشت گردی کے خلاف مضبوط اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ عسکریت پسند گروپ افغانستان کے پڑوسیوں کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔

اسلام آباد میں تیسرا بڑا منظر نامہ معیشت سے متعلق ہے۔ حکومت مطمئن ہے کہ ڈیفالٹ سے بچ گئی ہے، ملک کی معیشت تقریباً تین سال کے مکمل بحران کے بعد مستحکم ہوئی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر 11 بلین ڈالر سے زیادہ، اور کرنٹ اکاؤنٹ بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر اور کسی حد تک بہتر برآمدات کے باعث سرپلس چل رہا ہے، شرح سود میں کمی آرہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہباز حکومت کا قرضوں پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے، حکومت کے ابتدائی 9 ماہ (مارچ تا نومبر 2024ء) کے دوران حکومتی قرضے مجموعی طور پر 5 ہزار 556 ارب روپے بڑھ گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق نومبر 2024ء تک وفاقی حکومت کا قرضہ 70 ہزار 366 ارب روپے رہا جو فروری 2024ء میں 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔ دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے 9 ماہ میں مقامی قرض میں 5ہزار 556 ارب روپے کا اضافہ ہوا، تاہم اسی مدت میں مرکزی حکومت کے غیرملکی قرض میں 356 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ دستاویز کے مطابق نومبر 2024ء تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 48 ہزار585 ارب اور غیر ملکی قرضہ 21 ہزار 780 ارب روپے تھا، جبکہ فروری 2024ء تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 42 ہزار 675 ارب روپے اور غیرملکی قرضہ 22 ہزار 134 ارب روپے تھا۔ موجودہ حکومت میں نگرانوں کے مقابلے میں مجموعی طور پرقرضوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ واضح رہے کہ نگران دورکے 6 ماہ یعنی ستمبر 2023ء سے فروری 2024ء کے دوران وفاقی حکومت کا قرضہ 840 ارب روپے بڑھا تھا،دستاویز کے مطابق فروری 2024ء یعنی نگران دور کے آخری مہینے میں وفاقی حکومت کاقرضہ 64 ہزار 810 ارب روپے تھا اور اگست 2023ء میں وفاقی حکومت کا قرضہ 63ہزار 970 ارب روپے تھا، اور اب کہا جاتا ہے کہ نجی قرضے میں تیزی آرہی ہے، اس کے باوجود آج معاشی ماحول چند ماہ پہلے کے مقابلے میں بہت کم غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے، کیونکہ سارا نظام ہی دو طرفہ قرضوں کی واپسی اور آئی ایم ایف کی بیساکھیوں پر منحصر ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ترقی کچھ برسوں تک غیر یقینی رہے گی، معیشت ابھی بحال نہیں ہوئی ہے، حکومت بھی اصلاحات نافذ کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کررہی ہے، اور اس بے عملی کی قیمت شہریوں اور منظم کاروباری اداروں کو برداشت کرنا پڑرہی ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے وعدہ کردہ سرمایہ کاری سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، پالیسی سازوں کو توقع ہے کہ بہتری آجائے گی، لیکن یہ خدشہ موجود ہے کہ آئی ایم ایف اور اے ڈی بی جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر امریکہ کے نمایاں اثر رسوخ کے ساتھ خلیجی ممالک سے اقتصادی امداد اور ترسیلات ِزر کو پاکستان کو تعمیل پر مجبور کرنے کے لیے ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے، جس نے تاریخی طور پر فلسطینی کازکی حمایت کی ہے، یہ نیا منظرنامہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ ابھرتے ہوئے اسرائیل نواز بلاک کے خلاف عرب دنیا کے ساتھ اپنے روایتی اتحاد کو متوازن کرنے کے لیے باریک بینی کی ضرورت ہوگی۔ تاہم ایسا اقدام خطرات سے بھرا ہوگا۔ یہ بات یقینی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت پاکستان کی معیشت پر اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔ اقتصادی تحفظ اور دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر ٹرمپ کی توجہ پاکستان جیسے ممالک کو پسماندہ کرسکتی ہے۔ صرف سعودی ترسیلات پاکستان کی کُل ترسیلات کا 25 فیصد بنتی ہیں۔ اس پر انحصار پاکستان کی معیشت کے لیے ایک لائف لائن بناتا ہے۔ لیکن یہ نکتہ غور طلب رہے گا کہ امریکی پالیسیوں کے ساتھ سعودی عرب کی صف بندی پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرسکتی ہے جس سے پاکستان کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت کو درپیش چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ 125 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ادائیگیاں آئی ایم ایف کی امداد اور ترسیلات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کا ممکنہ انخلا اور پاکستان کے مالی معاملات کی جانچ میں اضافہ اس کے کمزور معاشی نظام کو مزید غیر مستحکم کرسکتا ہے۔ لیکن ہم احساس سے عاری لوگ ہیں۔ ہم نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کچھ نہیں سیکھا تو اب کیا سیکھیں گے! بقول شاعر

میں بھی عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں