برعظیم پاک و ہند کے معروف و ممتاز سیرت نگار، محقق اور مؤرخ ڈاکٹر نثار احمد (سابق پروفیسر اور صدر شعبہ اسلامی تاریخ و رئیس کلیہ فنون و تجارت، جامعہ کراچی) 1941ئء میں اٹاوہ (یو۔پی۔ انڈیا) میں پیدا ہوئے، اور17 جنوری2022ء کو کراچی میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔
ڈاکٹر نثار احمد(مرحوم) کے میدان ہائے تعلیم و تدریس، تحریر و تحقیق، تصنیف و تالیف درجِ ذیل موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں:
اسلامی تاریخ، اسلامیات/ دینیات، تفسیر، حدیث، فقہ،کلام، اسلامی تہذیب و تمدن، مستشرقین اور سیرت، نظم و نسقِ اسلامی، مطالعہ پاکستان وغیرہ۔ لیکن اول و آخر آپ کو خاص دلچسپی سیرتِ طیبہ ﷺ سے رہی۔ یہی وجہ ہے کہ جدید علمی تقاضوں کی روشنی میں اسناد، حوالوں، حواشی اور نقشہ جات وغیرہ سے مزین خاص سیرتِ طیبہﷺکے موضوع پر آپ کی مستقل تصنیفات و تالیفات (’’عہدِ نبوی میں ریاست کا نشوو ارتقاء‘‘، ’’نقشِ سیرت‘‘، ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘، ’’دعوتِ نبوی اور مخالفتِ قریش‘‘، ’’النقوش المنورۃ فی سیرۃ المطہرۃ‘‘)کے علاوہ علمی و تحقیقی مضامین و مقالات تسلسل کے ساتھ پاک و ہند کے اہم ترین مجلات کی زینت بنتے رہے۔
پیشِ نظر کتاب ڈاکٹر صاحب کے سیرتِ طیبہﷺ اور اسلامی تاریخ و تہذیب پر تحریر کردہ مضامین و مقالات، تبصرۂ کتب، وفیات، انٹرویو، نقشوں، تاریخی شجروں اور ان کی چند یادگار تصاویر کا مجموعہ ہے، جس کی تدوین و ترتیب کا فریضہ راقم الحروف نے انجام دیا ہے۔
پیشِ نظر کتاب میں درجِ ذیل مقالات و مضامین شامل ہیں:
’’قرآن کا رسم الخط‘‘، ’’دعائے ابراہیمی کا تاریخی منظر، پس منظر اور پیش منظر‘‘، ’’اسلامی فلاحی مملکت‘‘ (تصور، تاریخ، تجزیہ)، ’’عہدِ رسالت میں سماجی انصاف اور فلاحِ معاشرہ… عہد بہ عہد ارتقا‘‘، ’’اطاعت ِرسولؐ اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں قرآن کا نظام عدل و احسان‘‘، پیغمبر اسلام بحیثیت داعیِ امن و اخوت‘‘، ’’دارالندوہ‘‘، ’’شعبِ ابی طالب‘‘، ’’ہجرتِ مدینہ کے اسباب و محرکات‘‘، ’’مواخاۃِ صحابہ‘‘، ’’تعمیر شخصیت و فلاحِ انسانیت… اطاعتِ رسولؐ اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں‘‘، ’’عہدِ نبوی میں انتہاپسندانہ رجحانات کی ممانعت‘‘، ’’اسلامی اندلس میں سیرت نگاری کا ارتقا‘‘، ’’علامہ ابن حزم اندلسی بحیثیت سیرت نگار‘‘، ’’مقدمہ ابن حزم اور ان کی کتابِِ سیرت‘‘، ’’علامہ سید سلیمان ندوی کی تاریخ نویسی‘‘، ’’مشرقی ہندکی پہلی اسلامی تحریک ’’فرائضی‘‘، ’’سید احمد شہید اور ان کی تحریک‘‘، ’’میرِ کارواں کا (ذہنی) سفر! منزل پہ نظر!!‘‘، ’’مغربی سیاسی افکار کی تاریخ پر ایک نظر‘‘،’’اسلامی نظامِ محاصل کے مقدمات‘‘، ’’اسلام اور انتخابات (تحریری بیان روبرو وفاقی شرعی عدالت پاکستان)‘‘، ’’وحی کیا ہے؟‘‘، ’’فہم ِ قرآن کی ضرورت‘‘، ’’قرآن اور تاریخ‘‘، ’’سیرۃ الرسول الکریم ازروئے تاریخ و قرآن‘‘،’’دعائے خلیل اور نوید ِ مسیحا‘‘، ’’ظہورِ قدسی‘‘، ’’(نام و) نسبِ رسول اللہﷺ‘‘، ’’اسمائے رسول احمدﷺ‘‘، ’’جاہلیت،جسے مٹانے کے لیے آنحضورﷺمعبوث ہوئے‘‘، ’’بعد از خدا بزرگ توئی‘‘، ’’صاحبِ خلقِ عظیم‘‘، ’’انسانِ کامل‘‘، ’’عہدِ نبوی کا مثالی معاشرہ‘‘، ’’صبر واستقلال‘‘، ’’ثابت قدمی اور سیرتِ رسولﷺ‘‘، ’’امانت داری اور سیرتِ رسول‘‘، ’’آنحضرتﷺ بحیثیت حکمراں‘‘، ’’دنیا کا پہلا منشورِ حقوقِ انسانی‘‘، ’’غارِ حرا کو چلیے!‘‘، ’’سفرِ ہجرتِ نبوی ﷺ کا مستقراول: غارِ ثور‘‘، ’’17رمضان۔یوم الفرقان‘‘، ’’قرآن اور اصحابِ رسول‘‘، ’’اسلام میں خاندان کی اہمیت‘‘، ’’معاملہ فہمی اسلام کی نظر میں‘‘، ’’حسنِ کلام‘‘، ’’مثالی زندگی‘‘، ’’مساجدکی اہمیت‘‘، ’’حج کی فضیلت‘‘، ’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما‘‘، ’’علامہ شبلی کا قرض!‘‘، ’’المجلس العلمی: برصغیر میں خدمت واشاعتِ حدیث کا قدیم ادارہ‘‘، ’’(مولانا)ڈاکٹر محمد حمیداللہ اور مجلس ِ علمی‘‘۔ جب کہ کتابوں پر تبصرے اور وفیات اس کے علاوہ ہیں۔
راقم الحروف نے ڈاکٹر صاحب کے ادنیٰ طالبِ علم کی حیثیت سے یہ کوشش کی ہے کہ استادِ محترم کی تمام مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریروں کو (علاوہ اُن سلسلۂ مضامین و مقالات کے جو کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں اور بآسانی دستیاب ہیں) مجموعے کی صورت میں ایک ترتیب سے استفادۂ عام کے لیے جمع و محفوظ کردیا جائے۔ اس سلسلے میں راقم نے گزشتہ دو برس استادِ محترم کی تیار کردہ درجنوں فائلوں اور دستاویزات کا دقت ِ نظری سے مطالعہ کیا، اور پرانے رسائل و جرائد کی ورق گردانی کی۔ جو مجلات عام دستیاب نہیں تھے اُن کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور اس کتاب کو ترتیب دیا۔ اس کے باوجود جو تحریریں شامل ہونے سے رہ گئی ہیں، انھیں اس کتاب کی دوسری اشاعت میں شامل کردیا جائے گا۔ اِن شاء اللہ
راقم کو استادِ محترم کی جو شفقتیں، دعائیں اور اعتماد حاصل تھا اور جو تعلق ِ خاطر تھا، یہ ادنیٰ کاوش اس کے اعتراف کی ایک صورتِ اظہار ہے۔ مواد کی فراہمی کے سلسلے میں یہ عاجز مرتب استادِ محترم کے اہل ِ خانہ کے تعاون کا شکر گزار ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر نثار صاحب کی یہ تحریریں سیرتِ طیبہ ﷺ سے دلچسپی رکھنے والے اساتذ و محققین بالخصوص اسلامی تاریخ کے طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرمائے اور استادِ محترم کے حق میں اسے صدقۂ جاریہ اور درجات کی بلندی کا سبب بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
آج استادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد کی تیسری برسی بھی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ انھیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

