ایک غیر منظم اور انتظامی و سیاسی طور پر منتشر افغانستان ہمسایوں کے مفاد میں نہیں
افغانستان میں اپریل1978ء میں سردار دائود حکومت کے خلاف مسلح بغاوت، اور نظام پر قبضہ افغان وحدت کے خلاف گہری تخریب کا منصوبہ تھا۔ افغانستان کے فارسی بولنے والوں میں پشتون مخالف عصبیت کو ابھارا گیا۔ سردار دائود کے دورِ حکومت میں اس عصبیت کو کھلے اظہار کا موقع نہیں ملا۔ سردار دائود کی گرفت مضبوط تھی۔ تاہم ”سازمان ڈیموکریٹک خراسان“ زبان اور نسل کی اساس پر قائم تنظیم تھی۔ یہ پشتون حکمرانی کو استبداد تصور کرتی تھی۔ بعد ازاں اسی گروہ نے ”ستم ملی“ کا روپ دھار لیا، جس کے سربراہ طاہر بدخشی تھے۔ طاہر بدخشی کمیونسٹ دور کے وزیراعظم سلطان علی کشتمند کے بہنوئی تھے۔ مارکسی فکر کے حامل تھے۔ طاہر بدخشی افغانستان کی کمیونسٹ پارٹی ”افغان خلق ڈیموکریٹک پارٹی“ کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔ ستم ملی کی بنیاد روس کے تعاون اور رضا سے رکھی گئی۔ یہ تنظیم پشتون مخالف افکار کی ترویج کرتی تھی۔ مطمح نظر افغانستان کے شمال میں ایک الگ ملک کا قیام تھا۔ افغان صدر حفیظ اللہ امین کے دور میں طاہر بدخشی قتل ہوا۔ افغانستان کی کمیونسٹ پارٹی خلق و پرچم میں تقسیم ہوئی۔ پرچمی دھڑے کے دری (فارسی) بولنے والے فوجی افسر، دانشور اور سیاسی رہنماء بھی افغانستان کی تقسیم کا منظم ارادہ رکھتے تھے۔ دسمبر1979ء میں روسی افواج نے افغان صدر حفیظ اللہ امین کو ان کی رہائش گاہ پر ہوائی اور زمینی حملہ کرکے قتل کردیا۔ اس کے ساتھ روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئیں۔ ببرک کارمل کو صدارت کی کرسی پر بٹھادیا گیا، جس کے ساتھ ہی فارسی بالادستی کے لیے کام شروع ہوا۔ سرکاری اور دفتری طور پر پشتو اصطلاحات کی جگہ فارسی اصطلاحات کو اپنایا گیا۔ چناں چہ افغانستان کی تقسیم کا منصوبہ اب اقتدار کے ایوانوں میں زیر بحث رہا۔ البتہ خلق دھڑا ان ارادوں کا مخالف تھا۔ یہ دھڑا پشتونوں پر مشتمل تھا۔ پرچم دھڑے میں بھی پشتون شامل تھے، تاہم غلبہ غیر پشتون فوجیوں اور سیاسی رہنماؤں کا تھا۔ اس بنا پر منصوبہ مخفی رکھا جاتا تھا۔ فارسی بولنے والے سیاسی لوگ امیر عبدالرحمان خان، سردار دائود، نور محمد ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین کو فاشسٹ کہہ کر پکارتے تھے۔ ببرک کارمل کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ صدر بنائے گئے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ ان کے آگے بے بس تھے۔ نیز وہ اقتدار کے لالچ میں مصلحتوں سے کام لیتے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے ان کے خلاف زبان بند رکھی تھی۔
پرچم گروہ کے فارسی بولنے والے سیاست دان اور فوجی روسی افواج کے نکلنے کے بعد مجاہدین پر مشتمل عبوری حکومتوں میں بھی اثر و نفوذ کے حامل تھے۔ اس گروہ نے آخرکار ڈاکٹرنجیب کو محصور کردیا اور ملک سے باہر جانے نہ دیا، جس کے بعد ڈاکٹر نجیب نے اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لے لی۔ ڈاکٹر نجیب اللہ حکومت کے وزیر خارجہ عبدالوکیل نے ریڈیو کابل پر پیغام نشر کیا، جس میں کہا گیا کہ فوج نے نجیب اللہ کے ملک سے فرار کی کوشش ناکام بنادی۔ یہ گروہ جس کو احمد شاہ مسعود اور حزب وحدت اسلامی (ہزارہ مذہبی تنظیم) کی حمایت حاصل تھی، صبغت اللہ مجددی اور برہان الدین ربانی کی حکومتیں چلاتا تھا۔ شمال میں جبل السراج کے مقام پر زبان کی بنیاد پر اجلاسوں میں افغانستان کی تقسیم کے منصوبے کے خدوخال وضع کیے گئے۔ الگ دارالخلافہ کا تعین بھی کیا گیا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ نجیب سے استعفیٰ لیا جائے گا، نہ دیا تو اسے راستے سے ہٹادیا جائے گا۔ عبوری حکومتوں کا غیر پشتونوں کی حکمرانی میں قیام طے شدہ منصوبہ تھا جو روس اور امریکہ کی ہدایت پر لاگو کیا گیا۔ اسے پاکستان اور ایران کی حمایت حاصل تھی۔ روس اور امریکہ نے اقوام متحدہ کے نمائندے بینن سیوان کو ہدایت کی تھی کہ اگر مجاہدین اتحادی حکومت پر متفق نہ ہوئے تو عبوری حکومت کے ساتھ فوجی شوریٰ بنائی جائے جس کے سربراہ ڈاکٹر نجیب دور کے فوج کے سربراہ پرچمی دھڑے کے جنرل نبی عظیمی ہوں۔ ایران اور پاکستان نے بھی غیر پشتون سربراہِ حکومت کی پالیسی اپنائی۔ پاکستان نے یہ خدشہ پیش نظر رکھا کہ پشتون سربراہِ حکومت ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ کھڑا کرسکتا ہے۔ افغانستان کے کمیونسٹ وزیراعظم سلطان علی کشتمند اور ہزارہ شیعہ تنظیم حزب وحدت اسلامی اس درمیان ہزارہ علاقوں پر مشتمل الگ ملک کے قیام کی بات کرتے۔ صبغت اللہ مجددی کی عبوری صدارت میں غیر پشتون ملیشیائیں کابل پر قابض ہوگئیں۔ صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں مجاہدین پر مشتمل عبوری حکومت نام نہاد تھی۔ برہان الدین ربانی کی حکومت دراصل شمال کی حکومت تھی۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کے آخری ایام، بعد ازاں صبغت اللہ مجددی اور ربانی کی حکومت میں پرچمی فارسی بولنے والے فوجیوں، مسلح گروہوں، رشید دوستم، احمد شاہ مسعود کی ملیشیاؤں کو کابل میں داخل کرایا گیا۔ ببرک کارمل کے بھائی محمود بریالئی نے کہاکہ ہم نے کابل سے پشتو کا خاتمہ کردیا۔ محمود بریالئی نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ اب ڈاکٹر نجیب اللہ اپنے جرائم کا جواب عوام کو دیں۔ ببرک کارمل، اس کا بھائی محمود بریالئی، رشید دوستم، جنرل نبی عظیمی، سابق وزیر خارجہ عبدالوکیل اور دوسرے فوجی و سیاسی رہنماء ڈاکٹر نجیب اللہ کو مارنا چاہتے تھے، اس بنا پر اُسے ملک سے جانے نہیں دیا۔ افغانستان کی تحلیل کی تحریک کے آگے گلبدین حکمت یار کھڑے تھے۔
جب خانہ جنگی شروع ہوئی تو طالبان کا ظہور ہوا اور انہوں نے کابل پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح افغانستان کی تقسیم کا منصوبہ ناکام بنادیا۔ البتہ طالبان نے ڈاکٹر نجیب اللہ کو قتل کرکے انتہائی حماقت کرڈالی۔ اکتوبر2001ء میں افغانستان پر امریکی قبضے کے ساتھ شمال کے گروہوں کی پھر حکمرانی قائم ہوئی۔ یہ گروہ منظم کرکے طالبان پر چھوڑے گئے۔ امریکی قبضے کے ان بیس سالوں میں ان کا طوطی بولتا رہا ہے۔ فارسی اکثریت کے دعوے کیے جاتے تھے۔ پشتون چہرے گویا علامتی تھے۔ اس دور میں بھی کابل میں پشتو کی حیثیت ثانوی تھی۔ اگست 2021ء میں غنی رجیم فرار ہوا تو اس اثنا احمد شاہ مسعود کے قریبی ساتھی قائم مقام افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی نے افغانستان کی تقسیم اور الگ ملک کا مطالبہ کیا۔ طالبان نے برسر اقتدار آکر نسل اور زبان کی تفریق پھر سے ختم کردی ہے۔ فوج کے سربراہ قاری فصیح الدین نسلاً تاجک ہیں۔ ان کی حکومت میں میں ہر زبان اور نسل کے لوگ شامل ہیں۔ ایک بار پھر افغانستان کے ہمسایہ ممالک ان تعصبات کو ابھارنے کی لاحاصل کوششیں کررہے ہیں۔ شمال سے تعلق رکھنے والے فوجی اور سیاسی رہنماء خودساختہ طور پر تاجکستان، ترکیہ، ایران، دبئی، برطانیہ اور دوسرے ممالک میں جلا وطن ہیں۔ یہ ان بیس سالوں میں بہت دولت کما چکے ہیں۔ موجودہ حکومت کی جانب سے ان پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
اب اگر کوئی چاہتا ہے کہ انہیں طالبان کے خلاف مسلح کرے اور اپنے مقاصد حآصل کرے تو اول تو یہ ممکن نہیں، دوسری صورت میں یہ خطہ ایک اور آزمائش سے دوچار ہوجائے گا۔ ایک غیر منظم اور انتظامی و سیاسی طور پر منتشر افغانستان ہمسایوں کے مفاد میں نہیں۔

