ملک کے سارے ہی عوام اس وقت ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور صرف اشرافیہ ہی موجوں میں ہے
معروف کالم نگار منظور کھوسو نے بروز اتوار 19 جنوری کو اپنے زیر نظر کالم میں وطنِ عزیز کے معاشی حالات کے تناظر میں کثیر الاشاعت سندھی روزنامہ ’’عبرت‘‘ حیدرآباد کے ادارتی صفحے پر جو خامہ فرسائی کی ہے اس کا اردو ترجمہ قارئین کی معلومات اور دل چسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔
’’فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق دسمبر 2024ء تک 97 فیصد ٹیکس عوام سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کردیا گیا ہے، اور اس خزانے کو عرفِ عام میں قومی خزانہ بھی کہا جاتا ہے، جب کہ 31 دسمبر 2024ء تک آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ٹیکس وصولی کا ہدف 6.009 ٹریلین مقرر تھا۔ وطنِ عزیز میں مختلف اقسام کے ٹیکس عوام سے وصول کیے جاتے ہیں جن میں جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ شامل ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق ملک میں صرف 45 لاکھ فائلر ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو فائلر اور نان فائلر کی گردان فضول ہے۔ درحقیقت ملک کا ہر باشندہ کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اگر محض ایک عام مزدور ہی کو دیکھا جائے تو وہ ماچس کی ڈبیا، دودھ، دہی، بسکٹ، کھانے کی دیگر اشیاء، موٹر بائیک کے لیے پیٹرول کی خریداری، گیس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں… غرض یہ کہ روزمرہ استعمال کی شاید ہی کوئی چیز ایسی ہوگی جس پر وہ جنرل سیلز ٹیکس (یہ ٹیکس 1948ء میں ایک ایکٹ کے ذریعے سے عوام پر مسلط کیا گیا تھا اور 1952ء میں اسے مستقل طور پر وفاق کی جانب منتقل کردیا گیا تھا) یا اس قسم کے کچھ دوسرے ٹیکس ادا نہ کرتا ہو۔
ملک کے سارے ہی عوام اس وقت ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور صرف اشرافیہ ہی موجوں میں ہے۔ اربوں روپے کی جائدادیں اور بے شمار کالا دھن رکھنے والے سیٹھوں کو تو حکومت تاحال ٹیکس نیٹ میں لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے، اور ٹیکس کا زیادہ تر بوجھ ایک عام آدمی ہی سہنے پر مجبور ہے۔ کاروباری افراد بھی ٹیکس کوئی اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے، بلکہ وہ بھی خود پر عائد کردہ ٹیکس دراصل عوام ہی سے وصول کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں کیوں کہ کسی طرح کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، اس لیے خود پیدا کردہ مہنگائی کی آفت اور مصیبت بھی خریداروں پر نازل ہوتی رہتی ہے۔ ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس ادائیگیوں میں ملک میں تیسرے نمبر پر بڑا شعبہ تنخواہ دار طبقہ ہے، اور اس طبقے سے سال 2023-24ء کے دوران 368 ارب روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے ہیں، جب کہ یہ مالیت 2022-23ء کے مقابلے میں 103 ارب 74 کروڑ روپے زیادہ ہے، یعنی صرف ایک برس میں تنخواہ دار طبقے پر 39.3 فیصد زائد ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ درحقیقت حکومت کے لیے بھی ٹیکس وصولی کا کام ملازمین کے توسط سے لینا بے حد آسان ہے، جس کے سبب عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پوری کرنے کے لیے ہر مرتبہ ٹیکس کا بوجھ ملازمین ہی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ملازمین کو بجٹ میں معمولی سا ریلیف دے کر دوسری طرف ٹیکس بڑھا دیا جاتا ہے، اور اس طرح سے حکومت گویا ایک طرح سے حساب برابر کردیتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کچھ ایسے بھی شعبے ہیں جو تنخواہ داروں سے بھی کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایکسپورٹر 90 تا 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ 19 فیصد لیکن ٹیکس ادائیگی ایک فیصد ہے۔ سروسز کا شعبہ جس میں ریٹیلرز اور ڈاکٹرز وغیرہ آجاتے ہیں، اُن کا جی ڈی پی میں حصہ 60 فیصد لیکن ٹیکس ادائیگی 29 فیصد ہے۔ حکومت کو اربوں روپے ٹیکس دینے والے عوام کی حالت یہ ہے۔ پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہمارے ہاں بے روزگاری کی شرح بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زائد ہوکر 25.3 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ایک اعلامیے کے مطابق ہمارے ملک کا کُل قرض جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کے 65 فیصد تک جا پہنچا ہے اور اس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہر پاکستانی بچہ بلا سبب ہی یعنی بغیر کچھ کھائے پیے ہی 3 لاکھ 2 ہزار روپے کا مقروض بن چکا ہے۔ افلاس، بھوک، بیماریوں، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، پہاڑوں جیسے اندرونی اور بیرونی قرضے اس پر مستزاد ہیں۔ تاہم طرفہ تماشا دیکھیے کہ یہ سب کچھ ہوتے دیکھ کر بھی ہمارے حکمرانوںکی شاہ خرچیوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے، بلکہ اس کے برعکس ان کے غیر ضروری شاہانہ اخراجات دن بہ دن بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔
ایک تازہ خبر کے مطابق ایف بی آر نے 6 ارب روپے مالیت کی 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ گاڑیاں فیلڈ میں جاکر ٹیکس وصول کرنے کے لیے افسران کو دی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاسکے۔ ایک طرف تو وفاقی حکومت اخراجات کم کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ اسامیاں ختم کررہی ہے، مختلف محکموں کو باہم ضم کرنے، نج کاری کرنے اور رائٹ سائزنگ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تو دوسری طرف ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کے نام پر اربوں روپے مالیت کی حامل 1010 نئی قیمتی گاڑیاں بھی دی جارہی ہیں۔ ہے نا یہ بہت ہی زیادہ حیران کن بات! ایک ملک جس کے لاکھوں بچے ہر رات بھوکے ہی سوجاتے ہیں، لاکھوں بلکہ کروڑوں عوام تعلیم، صحت اور چھت کی سہولیات تک سے محروم ہیں، جہاں بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیںاور عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری شرح سود پر قرضہ لیے بغیر ملک کا بجٹ تیارکرنا ناممکن امر ہے، اور پھر ان کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عوام پر ٹیکس در ٹیکس مسلط کرنے کا ایک ہولناک سلسلہ قائم ہے…کیا ایسے کسی ملک میں حالات مذکورہ نوع کی شاہ خرچیوں کی اجازت دیتے ہیں؟‘‘

