پاکستانی بحران کو اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ روایتی اور فرسودہ طور طریقوں سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس بحران کو ایک بڑے سیاسی، سماجی، انتظامی، قانونی فریم ورک میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ پاکستان کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران کو ایک بڑا بحران سمجھتے ہیں، جبکہ ان بحرانوں سے بھی بڑا ریاست کا بحران ہے۔ جہاں ریاست، سیاست، عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا سے جڑے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ بداعتمادی کا مظاہرہ کریں، ٹکراؤ کا منظر پیدا کریں یا ان میں ایک ایسی خلیج پیدا ہوجائے جس میں ایک دوسرے کی قبولیت نہ ہو، وہاں ریاست کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کرجاتا ہے۔ پاکستان حالیہ دنوں میں ایک سنگین بحران سے گزر رہا ہے، لیکن ریاست کے اداروں اور ان سے جڑے دیگر اداروں کو اس بحران کی سنگینی کا کوئی احساس نہیں ہے۔ جب ریاستی ادارے سیاست پر بالادست ہونے کی کوشش کریں یا سیاسی مداخلت میں پیش پیش ہوں تو ایسے میں ریاست کا ٹکراؤ دیگر اداروں کے ساتھ ہونا فطری عمل ہوجاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں ریاست سے مراد ایک مضبوط اسٹیبلشمنٹ ہے، اور پس ِپردہ سے مراد ایک مضبوط فوج کا تصور ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی سیاست پر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ہے، اور جو بھی سیاسی فیصلے ہوتے ہیں ان میں اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار کے طور پر کام کرتی ہیں، اور اگر کوئی سیاسی جماعت اپنی سطح پر مزاحمت دکھانے کی کوشش کرے تو اس کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان کی ریاست یا طاقتور حکمران طبقات کو7 سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
(1) آزاد اور خودمختار عدلیہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو قبول نہیں، اور اس کو نظریۂ ضرورت کے تحت کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدلیہ اگرچہ اپنی طرف سے مزاحمت دکھانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اس کی کوئی سن نہیں رہا، اور اس پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی اور منشا کے مطابق فیصلے لیے جارہے ہیں۔
(2) ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست ٹکرائو ہے، اور 9 مئی کو بنیاد بناکر اس جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان بدستور جیل میں ہیں اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کومختلف مقدمات میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عملی طور پر پی ٹی آئی کے لیے سیاسی راستے بند ہیں اور ان کو کہا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے مطابق اپنا طرزعمل نہیں رکھا تو ان کے لیے مزید سیاسی راستہ نہیں ہوگا۔
(3) سیاسی ادارے اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہیں، اور پارلیمنٹ جیسا ادارہ بھی اس وقت قومی سیاست میں بے بس نظر آتا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پارلیمنٹ سے زیادہ کہیں اور ہورہی ہے، اور پارلیمنٹ کو کچھ مخصوص قوتیں اپنی ڈکٹیشن پر چلانے کی کوشش کررہی ہیں۔ پارلیمنٹ نے کئی مواقع پر اپنی سیاسی بے بسی کا مظاہرہ کیا ہے، مثال کے طور پر پی ٹی آئی کے رہنما اعجاز چودھری جو اس وقت جیل میں ہیں اور سینیٹر ہیں، چیئرمین سینیٹ نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہوئے ہیں، لیکن حکومت ان کو سینیٹ میں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس طرح قومی اسمبلی کے اسپیکر ہوں یا چیئرمین سینیٹ… ان کی کیا سیاسی حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟
(4) آئین اور قانون کی حکمرانی کا تصور صرف کتابوں میں نظر آتا ہے، اس وقت پورے ملک کو آئین اور قانون کی حکمرانی سے بالاتر ہوکر شخصی حکمرانی کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے، اور طے کرلیا گیا ہے کہ ہم کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کام کرنا ہے، آئین اور قانون کیا کہتے ہیں اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔
(5) میڈیا اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے عجلت میں ’’پیکا‘‘ قانون منظور کرلیا ہے، اور اس سے آزادیِ اظہار اور صحافت پر قدغن لگائی جارہی ہے یا صحافیوں کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے، اور ان سے کہا جارہا ہے کہ وہ وہی کچھ لکھیں جو طاقتور طبقوں کی ضرورت بنتا ہے۔
(6) بیوروکریسی اور انتظامیہ کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ وہی کچھ کریں گے جو ریاست کی ضرورت ہے، اور اگر انہوں نے اس سے ہٹ کر کچھ کرنے کی کوشش کی تو انہیں منظر سے ہٹادیا جائے گا۔
(7) پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بھی خاصی تنقید کی زد میں ہے، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں پاکستان کی صورتِ حال پر نہ صرف تنقید کررہی ہیں بلکہ مطالبہ کررہی ہیں کہ پاکستان انسانی حقوق کی صورتِ حال کو بہتر بنائے۔
یہ ہے آج کا پاکستان، جو اپنی ایسی تصویر دکھا رہا ہے جو کسی بھی صورت میں ایک جمہوری ریاست کی نہیں ہے۔ ایسا تو مارشل لا کے دور میں بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ جنرل پرویزمشرف کا غیر اعلانیہ مارشل لا ہمارے سامنے ہے، اُن کے دور میں بھی میڈیا کی آزادیاں اس طرح سلب نہیں ہوئیں۔ لیکن اب تو ہر مخالف آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 7 ججوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا کہ سینیارٹی کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں میں سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کیا جائے۔ ان کے بقول اگر دیگر صوبوں سے جونیئر ججوں کو لاکر اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس لگایا گیا تو اس سے ایک طرف سپریم کورٹ کے پہلے سے موجود فیصلے کی نفی ہوگی اور دوسری طرف یہ آئین کے خلاف ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آئین کی حکمرانی کی کس کو فکر ہے؟ یہاں تو جو کچھ ہورہا ہے، آئین سے بالاتر ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سات ججوں کے اس خط پر چیف جسٹس سپریم کورٹ اور نہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف نے کچھ کیا، اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے اپنی مرضی کے ججوں کو لاکر ایک ایسا تین رکنی پینل بنایا گیا جس کی مدد سے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کیا جارہا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن کو یقین دہانی کروائی کہ وہ پیکا ایکٹ پر فوری طور پر دستخط نہیں کریں گے، اور صحافیوں کے تحفظات کو پہلے دور کیا جائے گا۔ لیکن سب نے دیکھا کہ آصف علی زرداری نے وہی کچھ کیا جو اُن کے سہولت کاروں نے اُن کو کہا، اور انہوں نے اُن ہی کے کہنے پر مولانا فضل الرحمٰن کی بات کو بھی نظرانداز کیا اور فوری طور پر پیکا ایکٹ پر دستخط کرکے ثابت کیا کہ وہ بھی سہولت کاری کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بے بسی بھی یہ ہے کہ اُن کے پاس یہ بڑے عہدے تو موجود ہیں لیکن اختیارات کے معاملے میں وہ بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ اصل اختیارات آج بھی انھی لوگوں کے پاس ہیں جن کے پاس ہونے چاہیے تھے، اور سیاسی لوگ ان معاملات پر خاصے بے بس نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خود سیاسی لوگوں نے اپنے آپ کو سہولت کار کے طور پر پیش کیا جس کا نتیجہ ایک کمزور سیاسی اور جمہوری نظام کی صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔
اس ریاستی بحران کا ایک نتیجہ ہم ملک میں سیکیورٹی کی سنگین صورتِ حال کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر دہشت گرد ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں اور ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی صورتِ حال تشویش ناک ہے، جس کی بڑی وجہ ملک کا داخلی سیاسی اور ریاستی بحران ہے۔ اس وقت کے بحران میں وہ سب عوامل دیکھنے کو ملیں گے جو ایک جمہوری معاشرے کے مقابلے میں مارشل لا میں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی داخلی سیاست پر خارجی عناصر سخت تنقید کررہے ہیں اور بہت سے عالمی اداروں سمیت عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال یا سیاسی صورتِ حال پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اصل میں جمہوری معاشروں میں ریاست کی مضبوطی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن ساتھ ساتھ سیاسی اداروں کی مضبوطی بھی ایک مضبوط ریاست کے زمرے میں آتی ہے۔ بھارت کے ایک معروف مؤرخ انجینئر اصغر علی کے بقول ’’جو ریاستیں سیاست کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوجائیں، یا سیاست پر ان کا کنٹرول ہوجائے اور سیاسی ادارے کمزور شکل اختیار کرلیں وہاں ریاست سیاست کے مقابلے میں زیادہ بالادست ہوجاتی ہے‘‘۔ پاکستان کی صورتِ حال بھی کچھ ایسی ہی ہے جہاں ریاست تو بہت مضبوط ہے یعنی اسٹیبلشمنٹ، جبکہ باقی سارے ادارے کمزور شکل میں نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ جہاں مارشل لا یا سیاسی مداخلتیں ہیں، وہیں سیاسی جماعتوں کی کمزوری نے بھی ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔سیاسی جماعتوں کی کمزوری اور مفاد پرستی پر مبنی سیاست نے ملک کو ایک ایسی جگہ لا کھڑاکیا ہے جہاں سیاست اور جمہوریت کا عمل بھی آگے بڑھتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ سیاسی جماعتوں کی اکثریت اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھتی ہے اور اسی کے ساتھ کچھ نہ کچھ طے کر کے اقتدار کی سیاست کا حصہ بنی ہوئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ریاست جسے نہ تو آزاد عدلیہ درکار ہے، نہ ہی آزاد سیاست، جمہوریت، آزاد بیوروکریسی، آزاد میڈیا، آزاد سول سوسائٹی یا انسانی حقوق کی اچھی صورتِ حال… اس صورت میںہم دنیا میں اپنے ریاستی نظام کی ساکھ کیسے قائم کرسکیں گے؟ سیاسی جماعتوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ اگر سیاست کرنی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کریں گے کیونکہ وہی اصل طاقت ہے اور اسی کی طاقت کی بنیاد پر ہم اقتدار کی سیاست کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو سیاسی جماعتوں کی کمزوری کا سبب بن رہی ہے، اور اس کا نتیجہ ہم کمزور جمہوری معاشرے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ آج کی دنیا ایک جدید دنیا ہے، اور اس بنیاد پر حکمرانی کے جو نظام دنیا میں چل رہے ہیں اس میں پاکستان کے نظام کی کوئی اہمیت نہیں۔ پاکستان اپنے موجودہ طرزِعمل کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اس ملک کا طاقت ور طبقہ جتنی جلدی اس بات کو سمجھ لے یہ اُس کے اور ملک کے مفاد میں ہوگا، کیونکہ ہماری قبولیت کہیں نہیں ہوگی اور ہم خود کو دنیا میں تماشا بنائیں گے۔ مضبوط ریاست کے نام پر سیاست کو کمزور کرنے کے عمل سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ بات بجا کہ سیاست میں سب اچھا نہیں ہے، مگر سیاست کو آزاد کرنا اور اسے پہلے خودمختار بنانا بھی ضروری ہے، اسی بنیاد پر سیاست کا احتساب بھی ممکن ہوسکے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کو ماضی کی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھنا ہے، اور سب ہی کو سیکھنا ہے، اور ضد، اَنا اور شخصی بالادستی کی سیاست سے باہر نکل کر اس ملک کو آئین، قانون اور جمہوریت کی بنیاد پر چلانا ہے۔

