وادی میں بھارت نے 5 اگست2019ء کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے عوام پر خوف و دہشت کی رات مسلط کررکھی ہے
فروری کا مہینہ کشمیریوں کے لیے داغ ہائے سینہ کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، جن کے لیے زندگی ایک ایسے خوفناک ڈرامے کا منظر بن کر رہ گئی ہے جو ایک مقام پر رک گیا ہے۔ دہائیوں سے اس منظر کا ایکشن ری پلے جاری ہے۔ جور وستم کا وہی انداز جو روزِ اوّل اپنایا گیا تھا، سر جھکانے اور حوصلے توڑنے کی وہی کوششیں، تعزیر وعتاب کے وہی طریقے ناموں اور کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ جاری ہیں۔ ایک دور میں کسی کردار کا نام مقبول بٹ ہوتا ہے توکچھ مدت گزرنے کے بعد وہ کردار افضل گورو کی شکل میں، اور کچھ عرصے بعد وہی کردار ایک اور اندازسے امتیاز عالم کے نام سے سامنے آتا ہے۔ اسی طرح جبر کا کوڑا تھامنے والے کرداروں کو کسی دور میں اندراگاندھی، تو کسی دور میں من موہن سنگھ اور نریندر مودی کہا جاتا ہے۔ دنیا بدل گئی، سردجنگ ختم ہوگئی، یونی پولر منظر کا عبوری دور بھی اب آخری ہچکیاں لے رہا ہے اور اس کی جگہ ملٹی پولر دنیا کی تشکیل قریب قریب مکمل ہوچکی ہے ۔ وسط ایشیا سے مشرقی یورپ تک آزادیوں کی فیصل کو لہلہاتے ہوئے بھی زمانے گزر گئے مگر کشمیریوں کے لیے وقت تھم کر رہ گیا ہے ۔
11فروری 1984ء کو تہاڑ جیل میں قید کشمیری راہنما محمد مقبول بٹ کو ایسے جرم میں تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا جو اُن سے کوسوں دور برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہوا تھا، جس میں جذبۂ حریت سے مغلوب چند نوجوانوں نے بھارتی سفارت کار رویندر مہاترے کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا تھا، اور اس ردعمل میں اندراگاندھی نے تہاڑ جیل میں قید محمد مقبول بٹ کو راتوں رات تختۂ دار پر چڑھا دیا۔ یہ حقیقت میں کشمیریوں کو خوف زدہ کرنے اور انہیں آنے والے دنوں میں مطالبۂ آزادی سے باز رکھنے کی کوشش تھی، مگر اس عمل کا ایسا ردعمل ہوا جس کی لہریں آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پوری طرح موجزن ہیں۔ اس مجنونانہ فیصلے کے چند ہی برس بعد کشمیر میں ایک ایسی عدیم النظیر تحریک چلی جس نے بھارت کے استخوان ہلا کر رکھ دیے۔ بھارت نے محمد مقبول بٹ کا جسدِ خاکی بھی اُن کے اہلِ خانہ کو نہیں دیا، اور انہیں تہاڑ جیل کے کسی گمنام گوشے میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ لیکن بھارت جس شخص کو بے نام ونشان رکھنا چاہتا تھا، لاکھوں دلوں میں اُس کا مرقد بن گیا۔ وہ اس گمنام گوشے کے اندر سے بھی بول رہا ہے۔
بھارت نے اس واقعے سے کوئی سبق نہ سیکھا اور کئی برس بعد 9 فروری 2013ء کو حریت پسند محمد افضل گوروکو عدالت کے ذریعے پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ افضل گورو1969ء میں سوپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سری نگر کے جہلم ویلی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا، اسی دوران وہ کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کا حصہ بنے۔ بھارتی حکام نے انہیں 13دسمبر2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ بھی ایک ایسا فالز فلیگ آپریشن ہے جسے بھارت نے مغرب کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے’’نائن الیون‘‘ کے طور پر پیش کیا، اور یوں مظلومیت کا ایک مشترکہ رشتہ قائم کرلیا۔ اس حملے کو دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت پر حملہ بناکر پیش کیا گیا۔ بھارت نے افضل گورو پر ’’پوٹا‘‘ کے متنازع اور سیاہ قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا۔ ان کے مقدمے کے ابہامات پر بھارت کی عدالتوں نے کبھی توجہ نہیں دی کیونکہ اُس وقت بھارت میں جمہوری ایوان پر حملے کے نام پر جذباتی ماحول اور فضا بنادی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی ایک کے بعد دوسری عدالت سے اُن کے خلاف فیصلے آنے لگے۔ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزائے موت برقرار رکھی۔
وادی میں بھارت نے 5 اگست2019ء کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے عوام پر خوف و دہشت کی رات مسلط کررکھی ہے، مگر کشمیری عوام سروں کے چراغ ہتھیلیوں پر رکھ کر میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ کشمیری عوام کا روزِ اوّل سے مطالبہ تھا کہ بھارت محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کے اجسادِ خاکی کو کشمیر منتقل کرے تاکہ ان شہدائے وطن کو پورے اعزاز سے خاکِ وطن کا کفن پہنا دیا جائے۔ محمد افضل گورو کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی اور بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی ضمیر کو مطمئن کرنے کا جواز پیش کیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ عدالت نے یہ فیصلہ محض اپنے عوام کو خوش کرنے کی خاطر کیا تھا ۔ظلم کی حد یہ کہ افضل گورو کی پھانسی سے پہلے نہ تو اہلِ خانہ سے ان کی ملاقات کرائی گئی اور نہ ہی ان کا جسدِ خاکی ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ اس سے پہلے 11 فروری 1984ء کو دہلی کی اسی تہاڑ جیل میں معروف حریت پسند محمد مقبول بٹ کو اسی طرح انتقام اور ردعمل میں پھانسی دی گئی تھی اور ان کے جسدِ خاکی کو بھی تہاڑ کے کسی گوشے میں سپردِ خاک کیا گیا تھا۔اُس وقت بھی کشمیر ی عوام ان کا جسدِ خاکی مانگ رہے تھے، مگر بھارتی حکومت ان کے غم زدہ بھائیوں کو گرفتار کررہی تھی ۔بھارت کا یہ رویہ کشمیریوں کے دلوں کو زخمی کررہا تھا، اور ان زخموں کی ٹیسیں بعد میں کشمیریوں کی ایک زوردار مزاحمت کی شکل میں سامنے آئی تھیں۔
اپنے عوام کو خوش کرنے کے لیے بھارت وقفے وقفے سے کشمیری راہنمائوں کو بلی چڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افضل گورو کی پھانسی کو دنیا بھر کے منصف مزاج قانونی اور سیاسی ماہرین نے عدالتی قتل قرار دیا۔ ظلم کی انتہا یہ کہ بھارت کشمیریوں کو پھانسی دیتا ہے تو پھر اُن کی لاشیں بھی اس خوف سے ورثاء کے حوالے نہیں کرتا کہ یہ مزار جدوجہدِ آزادی کے نشان اور علامتیں بنیں گے اور کشمیری عوام ان سے طاقت اور توانائی حاصل کرتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی طاقت اور توانائی حاصل کرنے کے لیے قبروں کا ہونا یا نہ ہونا اہمیت نہیں رکھتا، اصل بات اُس مقصد کی ہوتی ہے جس کی خاطر شہدا نے اپنی جان قربان کی۔
برسوں بعد بھارت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے معروف حریت پسند راہنما امتیاز عالم کو عین اُس وقت شہید کیا جب وہ نمازِ مغرب کی ادائی کے بعد گھر واپس جارہے تھے۔ امتیاز عالم کی ذات اور نظریات میں بھی بھارت کو ایک ایسی چنگاری محسوس ہوئی ہوگی جو شعلہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے انٹیلی جنس کا ایک جال بچھاکر انہیں نشانہ بنایا۔ یہ خون بھی بولتا رہا اور اُن کے جنازے میں لگنے والے نعرے بتا رہے تھے کہ خون نے اپنے قاتل اور جلاد کا پتا پہلے ہی لمحے بتادیا ہے۔ یوں 11 فروری کے بعد 9 فروری اور20 فروری کے پیچھے ایک ہی ذہنیت ہے کہ کسی طرح کشمیریوں کوحالات کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر اِدھر صورتِ حال یہ ہے کہ
بڑھتا ہے ذوقِ جرم یاں ہر سزا کے بعد

