مبالغہ اور انتظار

شاعری مبالغے کے بغیر چار قدم نہیں چل سکتی، لیکن مبالغہ شاعری کی بیساکھی نہیں، اس کی روح ہے۔ شاعری کا تعلق اگر زندگی سے ہے تو پھر مبالغے کا زندگی سے گہرا تعلق ہے، لیکن یہ باتیں اب بہت پرانی ہوچکی ہیں۔ مغرب میں جب سے نام نہاد حقیقت پسندی اور واقعیت زدگی کی وبا پھیلی ہے، مشرقی شاعری میں اور خامیوں کے ساتھ یہ مرض بھی تلاش کیا گیا ہے کہ اس میں مبالغہ بہت ہوتا ہے۔

کسی زمانے میں اُردو کے بعض نقاد چونکہ بہت پڑھ لکھ گئے تھے، اس لیے وہ اس بات کو لے اُڑے اور کہا کہ صاحب! مشرقی شاعری واقعتاً مبالغہ آلود ہے اور غزل تو سرتاپا مبالغے میں لتھڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر ہی اس کی گردن مارنے کی ضرورت ہے، اور اگر گردن نہیں مارنی ہے تو اس کی اصلاح ضروری ہے، اور اسے جتنی جلد ”مشرف بہ حقیقت پسندی“ کرلیا جائے اتنا اچھا ہے۔ بیچارے مبالغے سے ڈرنے والے مغالطے کی نذر ہوگئے۔ انھیں مبالغے اور مغالطے کا فرق معلوم ہوتا تو شاید صورتِ حال کچھ اور ہوتی۔ اس سے ظاہر و ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو ”لغت“ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، خواہ وہ لغت ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کردہ کیوں نہ ہو۔

اب شاعری اور خاص طور پر غزل کی شاعری میں مبالغے کی صورتیں کیا کیا ہیں؟ اس کی تفصیل کے لیے تو دفتر درکار ہے۔ البتہ اس تفصیل کے اجمال کے لیے ہمارے ایک دوست کی بات سن لیجیے۔ ایک دن کہنے لگے کہ ”غزل میں محبوب کا بیان سراسر مبالغہ آمیز ہوتا ہے، اسے چاند سورج سے تشبیہ دی جاتی ہے، اس کی زلفیں ساون کی گھٹائیں ہیں، اس کے لیے دریا دریا رویا جاتا ہے اور سمندر سے زیادہ آنسو بہا دیے جاتے ہیں“، وغیرہ وغیرہ۔ ان کی محدودات یہی تھیں۔ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتے تھے۔ چونکہ ہمارے دوست ایک مذہبی ذہن رکھتے ہیں، اس لیے ہم نے ان سے عرض کیا کہ جناب! آپ غالباً اس بات کے تو منکر نہیں ہوں گے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ کہنے لگے کہ اس میں کیا شک ہے؟ ہم نے کہا کہ اور آپ اس امر کے بھی یقیناً قائل ہوں گے کہ اللہ کی تعریف بیان نہیں ہوسکتی۔ کہنے لگے کہ بے شک ایسا ہی ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ جناب! چونکہ ہر شے اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، اس لیے یہ تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اُردو غزل کے محبوب کو بھی اللہ میاں ہی نے خلق کیا ہوگا۔ چنانچہ جب محبوب کی تعریف کی جاتی ہے تو دراصل اس کے خالق ہی کی تعریف کی جاتی ہے، اور اس کی تعریف اس لیے کی جاتی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔

یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ اللہ کی کوئی تعریف ”مبالغہ“ نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کی ہر تعریف اس کی حقیقت سے کمتر ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اُردو غزل میں محبوب کی تعریف ہرگز ”مبالغہ آمیز“ نہیں ہوتی، اور اگر ہوتی ہے تو اس لیے ہوتی ہے کہ محبوب کے بیان کے لیے مبالغے سے بہتر کوئی صورت نہیں۔ ہمارے دوست اس پر پڑھے لکھے نقادوں کی طرح دلیل وغیرہ دینے لگے مگر پھر خاموش ہوگئے ۔

دوستوں کی گفتگو ہی نہیں ان کی خاموشی بھی فیض رساں ہوتی ہے۔ اب مثلاً ہمیں اپنے مذکورہ دوست کی خاموشی سے یہ خیال آیا ہے کہ ہمیں جملہ معترضہ لکھنے کا شوق ہوگیا ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ آج ایک شعر پر بات کریں گے، لیکن مبالغے کی بات شروع ہوئی تو تین پیرا گراف پر پھیل گئی اور اتنی فضول گوئی کے باوجود نہ ہم نے آپ کو شعر سنایا، نہ اس پر کوئی بات کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ”غیبت کانفرنس“ میں بڑی لذت ہوتی ہے، اور جملہ معترضہ ایک طرح کی غیبت کانفرنس ہی تو ہے۔ خیر اب ایک شعر سنیےّ

تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسم بہار رہا

جیسا کہ ظاہر ہے، شعر بہت خوب صورت ہے، مگر اس میں تکرارِ لفظی بھی بہت ہے۔ خیال آیا کہ اس میں تو مبالغہ بھی خاصا ہے۔ آخر غزل کا شعر ہے۔ چلیے شعر میں مبالغہ نکل آیا تو تین پیراگراف کا جملہ معترضہ اکارت نہیں گیا۔ یہ بھی زندگی کا ایک رمز ہے کہ اس میں کوئی چیز اکارت نہیں جاتی۔ معلوم نہیں یہ بات مبالغہ ہے یا حقیقت پسندی، لیکن یہ بات ہمیں ضرور معلوم ہے کہ مذکورہ شعر میں مبالغے کا ایک پہلو تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ شاعر کو اپنے محبوب کا تمام عمر انتظار رہا۔ چونکہ تمام عمر انتظار رہا، اس لیے تمام عمر موسم بہار بھی رہا۔ اب حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو اول تو یہی بات بعید از قیاس نظر آتی ہے کہ کسی کو تمام عمر کسی کا انتظار رہے، اور اگر طوعاً و کرہاً یہ بات مان بھی لی جائے تو شاعر کا یہ دعویٰ سمجھ میں نہیں آتا کہ تمام عمر موسم بہار بھی رہا۔ یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ موسموں کی تعداد چار ہے، اور ایک کے بعد دوسرا موسم آجاتا ہے۔ بہار کے بعد خزاں ضرور آتی ہے، مگر شاعر صاحب فرماتے ہیں کہ تمام عمر موسمِ بہار رہا۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ شاعر قوانینِ فطرت کا کوئی فہم نہیں رکھتا۔ یہ ساری باتیں حقیقت پسندی کے نقطہ نظر سے بہت اہم اور بہت قابلِ توجہ ہیں، لیکن شاید اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے، اور اس پہلو کا تعلق لفظ انتظار سے ہے۔

انتظار ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی تو ہمیں معلوم نہیں، البتہ تجربے سے اتنی بات ہمیں ضرور معلوم ہے کہ بسا اوقات مختصر انتظار بہت طویل معلوم ہوتا ہے، اور بسا اوقات طویل انتظار بہت مختصر لگتا ہے۔ یعنی کبھی تو وقت کاٹے نہیں کٹتا اور کبھی وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ منسلکات یا Associations ہوتی ہیں۔ انسان انتظار کی کیفیت میں ہوتا ہے اور اسے انتظار یا جس شخص کا انتظار ہے اسے اُس کے حوالے سے ہزاروں باتیں یاد آتی ہیں، جن میں خیالات، تفکرات اور اندیشے سبھی کچھ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو جس شخص کا انتظار ہے اُس کے سوا کچھ یاد نہیں آتا، یہ گویا تعلق کی نوعیت کا معاملہ ہے۔ تعلق جتنا گہرا اور استوار ہوگا، انتظار کی زحمتیں اتنی ہی کم ہوں گی۔ انتظار کی زحمتیں دراصل تعلق کی کمزوری اور عدم استواری پر دال ہیں اور طویل اور مختصر انتظار کا یہی رمز ہے۔ اب اگر تھوڑی سی دیر کے لیے یہ فرض کرلیا جائے کہ شاعر کے لیے اس کے محبوب کا وجود اور اس کی آمد کا خیال بہار ہے، تو پھر یہ بات سمجھنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی کہ شاعر کو تمام عمر کسی کا انتظار کیسے رہا ہوگا اور اس کے لیے موسمِ بہار جاوداں کیوں ہوگیا ہو گا۔ لیجیے یہ تو مبالغے سے اچھی خاصی حقیقت برآمد ہوگئی۔

کہتے ہیں کہ مجنوں کا عشق جب مشتہر ہوگیا تو لیلیٰ نے ایک شخص کو مجنوں کا پارئہ گوشت لانے کے لیے مجنوں کے پاس بھیجا۔ مجنوں نے پوچھا کس جگہ کا پارئہ گوشت طلب کیا گیا ہے؟ اُس شخص نے جاکر لیلیٰ سے پوچھا۔ لیلیٰ نے کہا: قیسں ابھی عشق میں کچا ہے۔ مرتبہِ ناسوت میں ہے۔ کچھ عرصے بعد ایک شخص کو پھر پارئہ گوشت کے لیے روانہ کیا۔ مجنوں نے کہا کہ میاں کاٹ کر لے جاؤ۔ اس نے جاکر لیلیٰ کو بتایا۔ کہا کہ ہاں اب عشق میں آیا ہے۔ یہ مرتبہِ ملکوت ہے۔ کچھ دنوں بعد مجنوں نے دعویٰ کردیا کہ میں لیلیٰ ہوں۔ یہ مرتبہِ جبروت ہے۔ پھر مجنوں نے لیلیٰ لیلیٰ کرنا شروع کردیا۔ یہ مرتبہِ لاہوت تھا اور اس کے بعد نہ لیلیٰ رہی نہ مجنوں رہا۔ یہ درجہِ ہاہوت تھا۔ یہ درجے عشق کے ساتھ ساتھ انتظار کے درجے بھی ہیں، مگر یہ بات تو اب شاید انتظار حسین کو بھی معلوم نہیں۔ اس لیے کہ جیمز جوائس والے محمد حسن عسکری تو ان کی سمجھ میں آتے ہیں اور رینے گینوں والے عسکری بھی، لیکن مولانا اشرف علی تھانوی والے عسکری صاحب ان کی سمجھ میں نہیں آتے ۔ یہ مسئلہ بھی مبالغے کے مسائل سے متعلق محسوس ہوتا ہے۔