موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر اثرات

بروز اتوار 2 فروری 2025ء کو کثیرالاشاعت سندھی روزنامہ ’’کاوش‘‘ حیدرآباد کے ادارتی صفحے پر معروف کالم نگار مصطفیٰ ایاز مہیری نے جو خامہ فرسائی کی ہے وہ چونکا دینے والی بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ اقتدار کی سیاست میں باہم الجھے ہوئے ہمارے اربابِ اختیار کو اس تحریر کا نوٹس لیتے ہوئے فی الفور اور ٹھوس نوعیت کے اقدامات کرنے چاہئیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

’’محکمۂ موسمیات کی سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک خبر کے مطابق جنوری گزر گیا لیکن پورے مہینے میں سندھ کی طرف بارش برسانے کا سسٹم نہیں آیا۔ شمالی، جنوبی سندھ اور کراچی کے ایک دو مقامات پر، اور کھپرو، سکرنڈ سائیڈ پر ہلکی بوندا باندی یا چند منٹوںکے لیے نارمل بارش ہوئی۔ جنوری خشکی کی لپیٹ میں رہا اور سردی کی لہریں بہت کم آئیں۔ موسمِ سرما میں دو ہفتے باقی رہے ہیں اور وہ اب اختتام پزیر ہونے ہی کو ہے۔ ان دو ہفتوں کے دوران کوئی بھی برساتی سسٹم سندھ کی جانب آتا دکھائی نہیں دیتا۔ اب ہر روز ہی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوگا۔ فروری کے دوسرے ہفتے سمندری ہوائیں داخل ہوجائیں گی۔ یہ سب کلائمیٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کے اثرات ہیں جس کی وجہ سے ساری دنیا پریشان ہے ماسوائے ہمارے ملک کے، جس نے اس خطرناک صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے کوئی بھی سنجیدگی ظاہر نہیں کی، اور یہی وجہ ہے کہ ہم بڑی تیزی کے ساتھ اس وقت خطرناک صورتِ حال کی طرف گامزن ہیں۔ اس عرصے میں ہمارا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا، کیوں کہ ان حالات کا سامنا ساری دنیا ہی کو کرنا پڑے گا۔ ہر ایک اپنے آپ کو بچانے کے جتن کرے گا۔ جہاں پر ترقی یافتہ ممالک کے لیے صورتِ حال بہت زیادہ باعثِ پریشانی ہے، وہاں غربت میںگھرے ہمارے ملک کا آخر کیا بنے گا؟ بس اب اللہ ہی ہماری حالت پر رحم فرمائے۔

سندھ میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت پر منفی اثرات پڑنے شروع ہوچکے ہیں۔ اس بار چاول اور کپاس کی فصل کاشت کرنے والے آبادگاروں کو جو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کی وجہ سے ان کی ایک طرح سے کمر ہی ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔ ضلع لاڑکانہ تا دادو چاول کی فصل کاشت کرنے والے آبادگاروں کے لبوں پر بس اب یہی ایک پکار اور فریاد ہے کہ ’’چاول کا ہائبرڈ بیج کاشت کرنے کے باوجود ان کی فی ایکڑ پیداوار 7 تا 14 من ہوئی ہے۔‘‘ دوسری جانب لاڑ (زیریں سندھ کے اضلاع تھرپارکر، ٹھٹہ، میرپورخاص، بدین) میں دھان کی فصل کاشت کرنے والے آبادگاروں کے بقول ایک تو ساریوں (دھان) کی فصل کو ایک مرض نے گھیر لیا ہے اور دوسری طرف ساریوں کی مناسب قیمت بھی انہیں نہیںملی ہے۔ یہاںپر یہ امر بھی تعجب خیز ہے کہ رائس مل پہنچنے والی ساریوں سے جب چاول نکالے جاتے ہیں تو وہ چاول ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ زراعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ساریوں کو کیوں کہ مطلوبہ گرمی نہیں ملی ہے اس لیے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اس بات کو بھی بہرحال نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 30 برس قبل لاڑ میں اپریل کے مہینے میں دھان کا بیج بویا جاتا تھا اور مئی تک رونبہ (پنیری) کا عمل بھی ہوجایا کرتا تھا۔ اس کی اہم وجہ دراصل یہ تھی کہ اُس وقت بروقت بارشیں ہوا کرتی تھیں۔ گرمی اور سردی معمول کے مطابق آیاکرتی تھیں۔ یہ فطرت کی وہ نعمت تھی جس کی دنیا نے قدر نہیں کی، لہٰذا اب اس پر ماسوائے پچھتانے کے ہمارے پاس کچھ اور باقی نہیں رہا ہے۔ آلودگی نے پورے قدرتی نظام کو مفلوج کر ڈالا ہے۔ نہ ہوا زہر سے پاک ہے اور نہ ہی پانی اب پینے جیسا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک تو اس مشکل صورتِ حال کا سامنا کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اس کا مقابلہ بھی کررہے ہیں۔ وہ ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ جن ممالک کی گزربسر کے بہت سارے ذرائع ہیں ان کے لیے یہ امر زیادہ پریشانی کا باعث نہیں ہے، کیوں کہ وہاں پر کوئی بھی بھوکا نہیں مرے گا، لیکن ہمارے ملک کی تو گزر اوقات ہی زراعت پر ہے، اور اگر یہ شعبہ متاثر ہوا تو بھوک سے خلقِ خدا کو مرنے سے کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔

زراعت کو بچانے یا اسے اہمیت دینے کے لیے ہماری کوئی بھی حکومت کبھی تیار اور سنجیدہ نہیں ہوئی ہے، بلکہ ہر حکومت ایک طرح سے زراعت دشمنی ہی میں مصروف رہی ہے۔ ہمارے ہاں ایگری کلچر منسٹری محض نام کی حد تک ہی رہی ہے۔ زرعی توسیع کھاتے (محکمۂ توسیع زراعت سندھ) کا بھی کہیں پر کوئی عملی کردار ہمیں نظر نہیں آیا ہے، آپ ایگری کلچر ڈپارٹمنٹ کے ویب پیج سرچ کرلیں۔ رہی بات بجٹ کی، تو وہ بھی خواہ وفاقی ہو یا صوبائی… ماسوائے اقربا پروری یا من پسند افراد کو نوازنے کی پالیسی کے، کچھ بھی نہیں ہے۔ کپاس اور چاول کی فصل کو شدید ترین نقصان پہنچنے کے بعد امسال مطلوبہ سردی نہ پڑنے کے باعث گندم کی فصل کاشت کرنے والے آبادگار کہتے ہیں کہ فی ایکڑ پیداوار کم ہوگی۔ جب کہ لاڑ میں پہلی مرتبہ سورج مکھی کی فصل بھی بیماری سے متاثر ہوئی ہے۔ لاڑ کے آبادگاروں کو تربوز وغیرہ سے امید تھی کہ ان سے چار پیسے ہمیں آمدنی ہوجائے گی، لیکن تربوز بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اس پر المیہ یہ ہے کہ علاج تو ٹھیرا ایک طرف، تربوز کی فصل کو لگی ہوئی بیماریوں کی درست تشخیص کے لیے بھی کوئی ماہر میسر نہیں ۔ اگرچہ سندھ زرعی یونیورسٹی سے ہزاروں افراد محکمۂ زراعت میں اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں لیکن اتنا ماہر کوئی بھی نہیں ہے کہ وہ اس مرض کی بعد از تشخیص، علاج بھی کرسکے۔ سندھ کی زراعت موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب بہت بری طرح متاثر ہے جس پر اب ریسرچ کی ضرورت ہے کہ آبادگار فصلوں کو امراض اور بیماریوں سے بچانے کے لیے کون سے اقدامات کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر کون سی فصلیں کاشت کریں جن پر گرمی اور سردی کے اثرات کم پڑیں؟ سندھ کی جنوبی پٹی کو اس وقت سمندر تیزی کے ساتھ نگل رہا ہے، اور بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات بڑی تیزی کے ساتھ جنوبی سندھ کے لیے خطرے کا باعث بنتے چلے جارہے ہیں۔ ڈائون اسٹریم میں مطلوبہ پانی کی عدم دستیابی الگ سے ایک پریشانی ہے۔ زیر زمین پانی بھی زہر بن چکا ہے اور سنکھیے کی مقدار خطرناک ہونے کے باوجود انسان یہ زیر زمین پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ٹھٹہ، بدین، سجاول، ٹنڈو محمد خان کے اضلاع میں سیاہ یرقان (ہیپاٹائٹس بی، سی) کی بیماری ایک وبائی صورت اختیار کرچکی ہے، اور آنے والے چند برسوں میں ٹنڈوالٰہ یار، حیدرآباد، ہالا تک اس سے بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں، جس ایک سبب بارشوں کا کم پڑنا بھی ہے جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کے ذخائر بھی کم اور سنکھیے سے متاثر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ بارشیں کم پڑنے کی وجہ سے کوٹری سے نیچے ڈائون اسٹریم میں پانی نہیں ہوگا۔

ماحولیاتی آلودگی بڑھنے کی وجہ سے پنجاب بھی گزشتہ چند برس سے فطری عذاب بھگت رہا ہے۔ دھند کے باعث ہر برس ہی امورِ زندگی بہت بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ لاہور کے شہری صاف آب و ہوا کے لیے سخت پریشان ہیں۔ پنجاب میں بھی زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوچکے ہیں اور پہلے کے مقابلے میں امسال باسمتی چاول کی فصل سخت متاثر ہوئی ہے۔ باغوں کی پیداوار اور آمدنی میں بھی کمی آگئی ہے۔ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھنے کی وجہ سے دمہ اور الرجی کی بیماریوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تمام فطری عمل کے پسِ پردہ ماحولیاتی آلودگی ہے جو ابھی آگے چل کر اپنے مزید برے اثرات دکھائے گی اور زندگی کو دشوار بنا ڈالے گی۔

دنیا اس کلائمیٹ چینج کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف ایک پروجیکٹ پر کام کررہی ہے جو بالکل آسان ہے۔ محض درخت لگایئے۔ دھواں دینے والی فیکٹریوں کو ماحول دوست فلٹر کا پابند کیا جارہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرانک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی کو بھی خاص اہمیت دی جارہی ہے۔ یہ کام تو ہم سے ہو نہیں سکتے، ہم صرف ایک کام کرسکتے ہیں اور وہ ہے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں درخت لگانا۔ یاد رہے کہ پہلے زمیندار درخت کاٹنا اور انہیں فروخت کرنا ایک عیب سمجھتے تھے۔ لہٰذا ایک مرتبہ پھر سے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ زراعت کا بچائو اور تحفظ ممکن ہوسکے۔ دوسری صورت میں مستقبل بہت زیادہ بھیانک ہوگا۔‘‘