جماعت اسلامی سندھ کے تحت پانی کانفرنس

’’دریائے سندھ اور زراعت، سندھ کی بقا کا ذریعہ… درپیش خطرات اور حل‘‘ کانفرنس

اسلامی جمعیت طلبہ سندھ کے سابق ناظم اور جماعت اسلامی سندھ کے کئی برس تک قیم رہنے والے موجودہ جواں سال امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ پیپلز پارٹی کے سیاسی قبلے اور گڑھ لاڑکانہ سے آبائی تعلق رکھنے کی وجہ سے اُس کی قیادت کی کہہ مکرنیوں، تضاد فکری، دوعملی، تضاد بیانی، بدعنوانی اور مکمل طور پر مفاد پرستی پر کی جانے والی سیاست سے نہ صرف خود بہ خوبی آگاہ ہیں بلکہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مسلسل مختلف النوع پروگرامات کے انعقاد کے توسط سے اس حوالے سے اہلِ صوبہ کو بھی آگہی دینے اور بیدار کرنے کی مساعی میں مصروفِ عمل ہیں۔ عوامی سطح پر بھی جماعت اسلامی کی ان کوششوں کو بہ نظرِ تحسین دیکھا جارہا ہے، جو بہرحال ایک خوش آئند امر ہے۔ اِس وقت جماعت اسلامی سندھ کی قیادت کی جانب سے مسلسل عوامی ایشوز کو اجاگر کرنا، ازخود تمام سیاسی، سماجی اور قوم پرست رہنمائوں سے رابطہ کرکے انہیں اپنے قریب لانا وقت کی ضرورت بھی ہے اور جماعت کی دعوت کا تقاضا بھی۔ جماعت اسلامی سندھ اس سلسلے میں متواتر اور مستقل مزاجی کے ساتھ کوشاں ہے۔ اس کی جانب سے بروز جمعہ 31 جنوری کو صوبے بھر میں مرکزی امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کی صارفینِ بجلی کے ساتھ روا رکھی گئی زیادتیوں، حکومت کی اس حوالے سے ظالمانہ بے توجہی پر مقامی پریس کلبوں کے سامنے زبردست احتجاج کیا گیا۔ قبل ازیں 28 جنوری بروز منگل کو بھی سندھ کے بدامنی سے بری طرح متاثرہ اضلاع جیکب آباد، شکارپور، کندھ کوٹ، کشمور، قنبر شہداد کوٹ، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور میرس، نوشہروفیروز اور گھوٹکی میں صوبائی قیادت اور امرائے اضلاع کی قیادت میں ایس ایس پی ہیڈ کوارٹرز کے سامنے بڑے بڑے احتجاجی دھرنوں کا انعقاد کیا گیا جن میں دیگر سیاسی، سماجی، دینی اور وکلا برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس احتجاج کو بھی عوام اور سندھی میڈیا کی جانب سے بہت زیادہ پزیرائی نصیب ہوئی ہے۔

سندھ کے عوام پانی کے بحران کی وجہ سے عرصۂ دراز سے پریشان اور متفکر ہیں۔ وہ اس امر کے شاکی ہیں کہ ان کی فصلوں اور کھیتوں کو ضرورت کے مطابق پانی وقت پر دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں بے پناہ مسائل اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سندھ کا ہر شعبہ ہی پانی کی نایابی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے۔ سندھ کا بیشتر زیر زمین پانی زہر آلود ہوچکا ہے اور اس میں سنکھیے جیسے مہلک زہر کی آمیزش کی، لیبارٹریز میں ٹیسٹ کے بعد رپورٹس میں بھی، تصدیق ہوگئی ہے۔ سندھ کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں بھی عوام کو پینے کا صاف پانی بہ مشکل مہنگے نرخوں پر ہی دستیاب ہوپاتا ہے۔ حسبِ سابق اور حسبِ روایت پی پی کی قیادت منافقت کا ثبوت دیتے ہوئے سندھ میں تو دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کی سندھ کے قوم پرستوں کی مانند پوری طرح سے مکمل مخالفت کررہی ہے، جب کہ وفاق میں اس کے برعکس عملاً بااثر قوتوں کا دل و جان سے ساتھ دے رہی ہے۔ واپڈا چیئرمین سجاد غنی نے بھی حال ہی میں اس امر پر صاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں حکومتِ سندھ نے بھی دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔‘‘ اس وجہ سے پی پی کی قیادت کی دوہری پالیسی اور دوغلا معیار سندھ بھر میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی سندھ میں 57 فیصد کم بارش ہونے کی وجہ سے تمام فصلیں بری طرح سے متاثر ہوئی تھیں، اور امسال بھی صوبے میں خشک سالی کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے۔ یاد رہے کہ دریائے سندھ پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر، اس سے 6 نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ، اور پانی کی تقسیم میں روا رکھی گئی سندھ کے ساتھ مسلسل زیادتیاں اہلِ سندھ کے لیے ایک بے حد حساس مسئلہ ہے، اگر دریائے سندھ سے چھے نئی نہریں نکالی گئیں تو اس کے نتیجے میں ماحول، زراعت، معیشت اور عام افراد کی زندگی پر بے حد خطرناک نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں دریائے سندھ کا بہائو کم ہوجانے سے ٹھٹہ، سجاول، بدین سمیت زیریں سندھ کی زمینیں بھی غیر آباد ہونے کا خدشہ ہے۔ انھی شکایات اور مسائل کو زبان دینے اور اہلِ سندھ کی ترجمانی کرنے کے لیے جماعت اسلامی سندھ کی جانب سے حیدرآباد کے ایک مقامی ہوٹل میں بہ عنوان ’’دریائے سندھ اور زراعت، سندھ کی بقا کا ذریعہ… درپیش خطرات اور حل‘‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام سیاسی، دینی، سماجی، قوم پرست جماعتوں سمیت صحافی، وکلا، اساتذہ، زرعی اور ماہرینِ آب پاشی، آبادگار رہنما، اقلیتی برادری کے نمائندے معتدبہ تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر دورانِ خطاب امیر صوبہ سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ ماضی کی طرح اب بھی پی پی کی قیادت دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے معاملے میں وفاق اور مقتدرہ کی سہولت کار کا کردار نبھانے میں مصروف ہے۔ اس دوہری پالیسی اور سندھ کے وسائل کی لوٹ مار اور کرپشن پر اہلِ سندھ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اہلِ سندھ تمام تر وسائل سے مالامال ہونے کے باوصف بھوک، بدحالی، بدامنی اور ڈاکو راج کا شکار ہیں۔ سندھ کی خوش حالی کا سارا انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اسے پہلے ہی سابقہ معاہدوں کے مطابق پانی نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے سندھ کی زراعت اور قیمتی ترین زمینیں تباہ ہو رہی ہیں۔ جماعت اسلامی اہلِ سندھ کے ساتھ ہے۔ ہم وفاق کی سندھ کے ساتھ روا رکھی گئی مسلسل زیادتیوں پر خاموش نہیں رہیں گے اور ہر میدان میں آئینی، قانونی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ روڈوں اور راستوں پر بھی پُرامن احتجاج کرکے اپنے جائز حقوق حاصل کرکے رہیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی تا کشمور عوام کی طاقت سے اہلِ سندھ کے مسائل اور مصائب کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

کانفرنس میں مرحومہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی نامور صحافی دستگیر بھٹی سمیت ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی اور معروف سیاسی رہنمائوں سید زین شاہ، صاحب زادہ ابوالخیر زبیر، سردار رحیم، نواز خان زنئور، اسداللہ بھٹو، ندیم شاہ سمیت تمام مقررین نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور سندھ میں بحالیِ امن، بدعنوانی، بے روزگاری جیسے مسائل کو ختم کرنے کے لیے پی پی حکومت سے اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے پرزور دیا۔

جماعت اسلامی کے تحت حیدرآباد میں منعقدہ کانفرنس کے شرکا نے مشترکہ اعلامیے میں دریائے سندھ پر ارسا ایکٹ کے برعکس نہریں نکالنے کے فیصلے کو قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کی زمینوں کو بااثر کاروباری کمپنیوں اور طاقتور قوتوں کو دینے کی مذمت کرتے ہوئے 1991ء کے معاہدے کے تحت سندھ کو اپنے حصے کا جائز پانی نہ ملنے کی شکایت کا ازالہ کرنے کے لیے کسی عالمی شہرت یافتہ ادارے کی جانب سے آڈٹ کروانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ علاوہ ازیں نہروں اور واٹر کورسز کی پیمائش اور پانی چوری ختم کرنے سمیت سندھ کی زراعت، پانی اور دیگر مسائل سے وابستہ ایسے مطالبات بھی کیے گئے جو اہلِ سندھ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ بہرکیف یہ ایک بے حد کامیاب کانفرنس تھی۔