امیرجماعت اسلامی لاہور کا بڑی تحریک چلانے کا اعلان
بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف نہ دینے کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں پریس کلب کے باہر جماعت اسلامی نے شدید احتجاج کیا اور علامتی دھرنا بھی دیا جس میں طلبہ، کسان، مزدور، اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلاء سمیت تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔ لاہور میں احتجاج کی قیادت امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، انجینئر اخلاق احمد، محمود الحدد، جبران بٹ اور دیگر نے کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے جہاں بڑھتی مہنگائی کے خلاف شدید نعرے بازی کی، وہیں ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھاکر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت فی الفور بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان کرے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے وعدہ خلافی کرکے اپنے لیے مسائل پیدا کرلیے ہیں۔ عوام کو درپیش مسائل اور بجلی کے ہوشربا بلوں کے خلاف جماعت اسلامی نے 14 دن کا تاریخی دھرنا دیا تھا۔ حکومت کے خلاف تحریک کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہم امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی کال کے منتظر ہیں۔ موجودہ فارم 47 کی جعلی حکومت عوام کی نہیں، وہ اپنے لانے والوں کے اشاروں پر چل رہی ہے جن سے خیر کی توقع نہیں ہے۔ ضیاء الدین انصاری نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صحافت کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے۔ زبانوں کو تالے لگا دینے سے سچ نہیں چھپتا۔ لاہور پریس کلب میں صحافیوں کے احتجاج کی وکلاء اور جماعت اسلامی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی کے جائے محض ڈنگ ٹپائو اقدامات سے عوام کو ریلیف فراہم نہیں ہوسکتا، اس لیے ضروری ہے کہ سودی نظام معیشت کا خاتمہ کرکے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ 76 برس بیت گئے، ملک کے اندر ہر نظام کو اختیار کرکے دیکھ لیا۔ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اور نام نہاد مقبول قیادتیں فیل ہوچکی ہیں۔ حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ معاشی بدحالی نے قوم کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ جو جتنا بڑا کرپٹ ہے اُس کے پاس اتنا ہی بڑا عہدہ ہے۔ جب تک حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے والے اقتدار میں نہیں آئیں گے اُس وقت تک بہتری کی امید نہیں۔ ضیاء الدین انصاری کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے پاکستان کے عوام کی غیرت کا سودا کیا، عوام کی ترقی اور خوشحالی کو گروی رکھا، ناجائز آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے جن کے نتیجے میں اس ملک کے عوام کو اُس بجلی کی بھی ادائیگیاں کرنی پڑ رہی ہیں جو نہ ہم استعمال کرتے ہیں اور نہ خریدتے ہیں۔ ایک پارٹی نے تین درجن سے زیادہ آئی پی پیز سے معاہدے کیے، پھر دوسری پارٹی کی حکومت آئی تو ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کرواتے رہے، ایک دوسرے کو چور کہتے رہے، نیب کے چکر لگواتے رہے، لیکن آئی پی پیز کے ساتھ ظالم معاہدوں سے صرفِ نظر کرتے رہے۔ پروگرام یہ بنایا کہ سابق حکومت نے خوب مال بٹورا تھا لہٰذا ہم بھی خوب مال بٹوریں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے تین درجن سے زائد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے، اپنے اردگرد کے لوگوں کو خوب نوازا اور عوام کا خون نچوڑا۔ جب یہ دونوں حکومتیں ختم ہوئیں تو تبدیلی کے نام پر ایک تیسرے صاحب عمران خان پاکستان کے اقتدار پر قابض ہوئے۔ چور چور کا نعرہ لگانے والے عمران خان نے اقتدار لینے کے بعد ساڑھے تین سال محض چور چور کے نعرے ہی لگائے، کوئی مثبت کام نہ کرسکے۔ عمران نیازی نے بھی سوچا کہ یہ آئی پی پیز تو دودھ دینے والی گائے ہیں، انہوں نے بھی تین درجن سے زائد آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے اور اپنے اے ٹی ایمز کو نوازا۔ بجلی کے یونٹ کی قیمت بڑھائی اور عوام پر ظلم کیا۔ جو ہزاروں ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں وصول کررہے تھے ان کا انکم ٹیکس بھی معاف کردیا۔ آج پوزیشن یہ ہے کہ کوئی ملازم جو 60 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے وہ سالانہ انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن ان ہزاروں ارب روپے وصول کرنے والے آئی پی پیز کو تحریک انصاف نے انکم ٹیکس سے بھی مبرا قرار دے دیا۔ اس ملک کے عوام پر کسی ایک حکومت نے ظلم نہیں کیا بلکہ تمام حکومتیں ظلم کرنے میں برابر کی شریک ہیں۔ پچھلے سال 26 ویں آئینی ترمیم موجودہ حکمرانوں نے منظور کی، ان کو اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں عدالتیں عوام کو ریلیف نہ فراہم کردیں، کہیں یہ عدالتیں ہم سے نہ پوچھ لیں کہ تم نے آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے معاہدے کیوں کیے؟ کہیں عدالتیں ہمارے فیصلوں پر سوال نہ اٹھا دیں کہ تم نے آئی پی پیز کے مالکان کا انکم ٹیکس کیوں معاف کردیا؟ 26 ویں آئینی ترمیم کو منظور کرانے میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، مولانا فضل الرحمان سمیت تحریک انصاف بھی شامل تھی۔ تحریک انصاف نے بھی نجانے کون کون سے مفادات سمیٹے۔ پہلے مذاکرات میں شامل ہوتے رہے، پھر ٹیکنیکل طریقے سے 26 ویں آئینی تریم کو منظور کروایا گیا۔ یہ ظالم حکمران اب سرکاری ملازمین کے پیچھے ہیں اور ان سے اربوں روپے انکم ٹیکس کی مد میں حاصل کرتے ہیں لیکن وڈیروں، جاگیرداروں اور نوابوں کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں، ان سے کسی قسم کا ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔
امیر جماعت اسلامی لاہور کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے ’’کارناموں‘‘ کی طویل فہرست ہے کہ کس طرح کسانوں کو بدحال کیا گیا۔ گندم کی فصل نہ خرید کر کسانوں کو معاشی طور پر مفلوج کیا گیا۔ کسان جو محنت کرتا ہے وہ آج بھی رو رہا ہے۔ حکومت کے کالے کرتوت سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ان کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ اب یہ پیکا ایکٹ کے ذریعے سوشل میڈیا کا بھی منہ بند کردینا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو جمہوریت کی بڑی چیمپئن بنتی ہے اُس کے صدر نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد وہ نافذالعمل ہوگیا ہے۔ ماضی میں ضیاء الحق کو بھی اپنی کرسی بڑی مضبوط اور عزیز نظر آتی تھی، لیکن پھر پتا نہیں چلا کہ ضیاء الحق کہاں چلا گیا۔ پھر ایک اور ڈکٹیٹر پرویزمشرف کی صورت میں مسلط ہوا، جس نے پیارے پاکستان کی ثقافت پر حملہ کیا، اس ملک کی بیٹیوں کو فروخت کرنے کی بات کی، امریکہ کو ہوائی اڈے دیے، وہ بھی کہتا تھا کہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘، اس کو بھی اپنے ڈکٹیٹر ہونے پر بڑا ناز تھا۔ پوری دنیا نے پرویزمشرف کا انجام بھی دیکھا۔ سسک سسک کر پرویزمشرف اس فانی دنیا سے رخصت ہوا۔ عمران خان یہ کہہ کر اس ملک کے اقتدار پر براجمان ہوئے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ان کا کام کرتی ہے، ان کے لیے ممبرز قومی و صوبائی اسمبلی خرید کر لاتی ہے، ان کے ایوان کی حاضری کو مکمل کرتی ہے۔ لیکن پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان سے منہ پھیرا۔ میں ان حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ اور مقتدر قوتیں کسی کی نہیں۔ تم کو ان پر بڑا ناز ہے، تم کو فارم 47 کی بنیاد پر حکومت دی گئی ہے۔ یاد رکھو نہ انہوں نے ماضی میں عوام کا ساتھ دیا ہے اور نہ یہ سیاست دانوں کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ یہ اسٹیبلشمنٹ تو مشرقی پاکستان کے محب وطن عوام کے ساتھ بھی کھڑی نہ ہوسکی۔ یہ پاکستان کے محب وطن لوگوں کے ساتھ کھڑی نہ ہوئی۔ مسلم لیگ ن کو بڑی غلط فہمی ہے کہ یہ ان کے ساتھ ہے۔ جماعت اسلامی اس کو وارننگ دیتی ہے کہ ان کا پیچھا چھوڑ کر غریب لوگوں کو ریلیف دے۔ اگر تم نے عوام کو ریلیف نہیں دیا تو کوئی تم کو یوم حساب سے نہیں بچا سکے گا۔ جب عوام سڑکوں پر ہوں گے، اسلام آباد میں عوام کا سمندر ہوگا تو یہ اسٹیبلشمنٹ تم کو بھی ذلیل کرے گی اور تمہارے منہ پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرے گی۔ تم ہوش کے ناخن لو۔ اقتدار تمہارا بھی دائمی نہیں ہے، اسے جلد یا بدیر ختم ہوجانا ہے ۔
جماعت اسلامی یوتھ ونگ پنجاب کے صدر جبران بٹ (فرزند حافظ سلمان بٹ) کا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ غریب بجلی کے بلوں سے پریشان ہے جو اپنے گھروں میں خوشحالی کا منتظر ہے۔ غریب کے گھر کے چولہے ٹھنڈے ہیں لیکن ان حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد غریب اور عام پاکستانی کے لیے ہے۔ لاہور شہر جدوجہد کی تاریخ رکھتا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے ہمیشہ شہر لاہور میں ہر عوامی مسئلے پر سب سے پہلے آواز اٹھائی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں عوام اپنا حق لے کر رہیں گے۔
