قصہ یک درویش! سرعلی مسلم کلب ،نیروبی کا ایک اہم کردار

کینیا میں قیام کے دوران ہر طرح کی مہم جوئی جاری رہی۔ سر علی مسلم کلب ،نیروبی کا بہت اہم اور معروف ادارہ تھا۔ اس کا اہم ترین شعبہ اس کی کرکٹ ٹیم تھی جوکینیا کے تمام کلبوں کی ٹیموں کے مقابلے پر سب سے مضبوط تھی۔ اس کلب کا بہت بڑا گرائونڈ تھا اور اس کے ساتھ بہت بڑی بلڈنگ اور دفاتر تھے جو شہر کے وسط میں واقع تھے۔ اِن ڈور اور آئوٹ ڈور کھیلوں کے لیے سہولیات قابلِ رشک تھیں۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ کلب کے چیئرمین بشیر مولاداد جو کافی سالوں سے چیئرمین منتخب ہورہے تھے، فری میسن تھے۔ مسلم کلب کی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی بالخصوص کیپٹن ذوالفقار عرف ذُلی میرے بہت قریبی دوست بن گئے۔ کلب میں میرا جانا آنا ہوتا تھا اور وہاں پر عصر کی نماز کا وقت ہوتا تو ہم ایک چبوترے پر نماز ادا کرتے۔ اس چبوترے کی حیثیت ایک مصلّٰی کی سی ہوگئی۔ یہاں دوستوں کے اصرار پر میں مختصر سا درس بھی دیتا تھا۔

ایک روز ینگ مسلم کے ساتھی اور کلب کے کھلاڑی ایک ساتھ میرے پاس بیٹھے تھے۔ اس مجلس میں یہ موضوع زیربحث آیا کہ ہم سب کو کلب کی ممبرشپ لینی چاہیے اور آئندہ انتخابات میں اپنا پینل کھڑا کرنا چاہیے تاکہ کلب کے اندر جوا بازی اور قمار کا خاتمہ کیا جائے اور ساتھ ہی کلب کو فری میسن قیادت سے نکالا جائے۔ سب دوستوں نے اس سے اتفاق کیا۔ بہت سے نوجوان تو پہلے ہی کلب کے ممبر تھے، باقی ہم سب نے بھی کلب کی ممبرشپ حاصل کرلی۔ آنے والے انتخابات میں ہم نے اپنا پینل کھڑا کیا، مگر وہ چند ووٹوں سے ہار گیا۔ اگلے انتخابات تک ہم نے منصوبہ بندی سے کام کیا اور وہ الیکشن بڑے مارجن سے جیت لیا۔ ہمارے امیدوار جاوید اقبال صدر اور دیگر ساتھی تمام سیٹوں پر کامیاب ہوگئے۔ نیروبی کی تاریخ میں یہ ایک عجیب انقلاب تھا۔ بہرحال یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی۔ عجیب بات یہ بھی ہے کہ بشیر مولاداد کے بہنوئی چودھری محمد انور ہمارے حلقے میں بہت متحرک ساتھی تھے۔ ہر درسِ قرآن اور خطاباتِ جمعہ میں باقاعدہ حاضری دیتے تھے۔

مجھے یاد آتا ہے کہ جس طرح جی سی لاہور میں، میں نے ایک چبوترے پر نماز اور درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا اور بعد میں وہاں ایک شاندار مسجد تعمیر ہوگئی، بالکل اسی طرح سر علی مسلم کلب میں بھی اس چبوترے پر کچھ عرصے بعد ایک مسجد تعمیر ہوگئی۔ واپس پاکستان آنے کے بعد جب میں پہلی مرتبہ نیروبی گیا تو اس مسجد کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اب معلوم نہیں کہ اس مسجد کی آبادی کا کیا حال ہے، لیکن جس دور میں مَیں نے اسے دیکھا اُس دور میں وہ مسجد آباد تھی۔ مسلم کلب سے ملحق مسلم گرلز اسکول تھا۔ اس اسکول کی بھی ایک انتظامیہ تھی جو بہت مخلص مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ یہ اسکول شہر اور علاقے کے تمام اسکولوں میں تعلیمی معیار کے لحاظ سے مثالی تھا۔ اس اسکول میں انتظامیہ کی فرمائش پر طالبات اور معلمات کے اجلاسوں میں مجھے تذکیر کے لیے دعوت دی جاتی۔ یہ پروگرام انگریزی زبان میں ہوتے تھے کیوںکہ کئی بچیاں اردو نہیں سمجھ سکتی تھیں۔

نیروبی میں مرکزی جامع مسجد کے بعد سب سے بڑی مسجد لانڈھیز جامع مسجد تھی۔ اس کے چیئرمین محمد یعقوب خالد صاحب بڑی بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے کہ اسلامک فائونڈیشن کے کاموں کے ساتھ آپ جامع مسجد لانڈھیز میں جمعہ کا خطبہ بھی دیا کریں۔ اس مسجد میں عربی خطبے کے علاوہ ایک جمعہ کو سواحلی زبان میں خطاب ہوتا تھا اور دوسرے جمعہ کو اردو اور انگریزی میں ملاجلا خطاب ہوتا تھا۔ چناں چہ مسجد میں میرے اردو اور انگریزی میں خطاب کا سلسلہ شروع ہوا اور حسنِ اتفاق سے نمازیوں کی تعداد میں بہت نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ اسی دوران یہ طے ہوا کہ ہر اتوار کو مغرب سے عشا تک اردو میں درسِ قرآن ہوا کرے۔ یہاں اُس زمانے میں اردو بولنے والے اہلِ ایمان بڑی تعداد میں آباد تھے۔ یہ پروگرام بھی بہت کامیاب رہا۔

ایک بار پورا قرآنِ پاک اوّل سے آخر تک ہفتہ وار درس میں مکمل ہوا تو دوبارہ شروع سے آغاز کردیا گیا۔ میری موجودگی میں دو بار قرآن پاک کی تکمیل ہوئی۔ جب میں پاکستان آتا یا کسی اور ملک کے دورے پر ہوتا تو مولانا محمد امین زاہد مرحوم یہ ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ درسِ قرآن باقاعدہ ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ یعقوب خالد صاحب کے ساتھ اتنا قریبی تعلق قائم ہوگیا کہ مرحوم مجھے اپنے بیٹوں کی طرح عزیز سمجھتے تھے۔ ان کے پانچوں بیٹے محمد ایوب خالد(موجودہ صدر اسلامک فائونڈیشن)، محمد زکریا خالد، محمد شرجیل خالد، محمد ادریس خالد اور محمد الیاس خالد میرے بہت گہرے دوست تھے۔ محمد زکریا تو اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ باقی سب بھائیوں سے الحمدللہ آج تک بہت دوستی اور محبت کا تعلق قائم ہے۔ (محمد یعقوب خالد مرحوم کے حالات ہماری کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ جلد چہارم میں از صفحہ90 تا101 محفوظ ہیں)

میرے کینیا میں قیام کے دوران جب پہلا رمضان آیا تو اس سے قبل یعقوب خالد صاحب نے فرمایا کہ نماز تراویح میں قرآن پاک آپ کو سنانا ہوگا۔ چناں چہ ایک سال کے سوا باقی ہر سال یہاں تراویح میں قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اُس ایک سال ماہِ رمضان میں مجھے خلیجی ممالک کا دورہ کرنا پڑا تھا۔ کینیا سے واپس آنے کے بعد بھی تین سال تک پاکستان سے رمضان سے قبل نیروبی جایا کرتا تھا، اس طرح یہاں پندرہ سال میں چودہ مرتبہ قرآن پاک سنانے کا موقع ملا۔ تراویح کے بعد خلاصۂ مضامین بزبانِ اردو پیش کیا جاتا تھا جسے بہت سے ساتھی ریکارڈ کرلیا کرتے تھے۔

یونیورسٹی اور کالجوں کے طلبہ کی تنظیم کو بھی منظم کیا گیا اور ’’مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘‘ کے نام سے کام کو وسعت دی گئی۔ ان طلبہ کے دعوتی و تربیتی پروگرام مختلف مقامات پر منعقد ہوتے، اور ان میں طلبہ بڑے شوق سے شرکت کرتے۔ اس کام میں مجھے وقت دینا پڑتا کیوں کہ یہ نوجوان ہر پروگرام کے لیے اتنی محبت و اپنائیت کے ساتھ اصرار کرتے کہ انکار کی گنجائش نہ رہتی۔ یہ سب طلبہ و طالبات مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے مسلم نوجوان تھے۔ ان میں بعض نومسلم بھی تھے جن سے مل کر ایمان تازہ ہوجایا کرتا تھا۔ یہ پروگرام انگریزی میں پیش کیے جاتے تھے۔

نیروبی آنے کے چند ہفتوں کے بعد ایک عجیب بات یہ علم میں آئی کہ وائس آف کینیا پہ اردو میں اسلامی پروگرام قادیانی پیش کرتے ہیں۔ اس بات نے مجھے سخت پریشان کیا۔ میں نے فوری طور پر کینیا کے چیف قاضی شیخ عبداللہ صالح فارسی صاحب کے ساتھ نیروبی سے ممباسہ (Mombasa) جا کر ان کے دفتر میںملاقات کی اور ان کے سامنے یہ صورتِ حال رکھی۔ انھیں بھی اس بات کا علم نہیں تھا۔ وہ سخت پریشان ہوئے اور اُسی وقت وزیراطلاعات سے ٹیلی فون پر بات کی اور پُرزور انداز میں احتجاج کیا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں، وہ وائس آف کینیا سے اسلامی پروگرام کس حیثیت میں پیش کرتے ہیں! حوالے کے طور پر انھوں نے پاکستان کی پارلیمان کی قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم کی مثال پیش کی اور مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو اس پروگرام سے فوراً بے دخل کیا جائے۔ ان کی جگہ اسلامک فائونڈیشن نیروبی ان پروگراموں کو خوش اسلوبی سے سرانجام دے گی۔

اللہ تعالیٰ شیخ عبداللہ صالح فارسی کے درجات بلند فرمائے۔ مرحوم بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ کے ارشاد پر حکومت کی طرف سے فوری عمل ہوا اور اگلے ہفتے سے مجھے وائس آف کینیا سے اردو میں ہفتہ وار اور انگریزی میں پندرہ روزہ پروگرام پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ خدمت بھی تقریباً بارہ سال جاری رہی۔ جب میں پاکستان آتا تو کئی پروگرام پیشگی ریکارڈ کروا دیتا جو میری غیر حاضری میں باقاعدہ نشر ہوتے رہتے۔ شروع میں ایک سواحلی مسلمان علی باوزیر پروگرام کی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے۔ ان کے بعد بھارتی نژاد کینین شہری بہادر منگرولا یہ ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ یہ دونوں افراد بہت خوش خلق اور ملنسار تھے۔ بہادر منگرولا ہندو ہونے کے باوجود میرے ساتھ بہت عزت و احترام سے پیش آتا تھا۔

اسلامک فائونڈیشن کا مرکزی دفتر مقامی اور عالمی تحریکی رہنمائوں اور کارکنان کا مرجع ہوا کرتا تھا۔ یہاں میرے ساتھ جو ہمہ وقتی کارکنان کام کرتے تھے ان میں سے ایک کا تعلق تنزانیہ سے تھا اور ایک کا یوگینڈا سے۔ باقی کینیا کے شہری تھی۔ ٹائپنگ کے لیے دو خواتین ملازم تھیں جو پورے اسلامی پردے میں آتیں اور الگ کمرے میں اپنا کام مکمل کرتیں۔ ایک امریکی نومسلم مسٹر عبید شیفرڈسن (Ubaid Shepherdson)دفتر میں میرے ساتھ بطور سیکرٹری کام کرتے تھے۔ بہت محنتی، سنجیدہ اور قابل انسان تھے۔ ان کا تعلق امریکہ کی ریاست میزوری (Mizuri) سے تھا۔ یہ ایک جرمن نومسلم (جو بہت اچھے دوست تھے، مگر عجیب بات ہے کہ اب ان کا نام بھی بھول گیا ہوں)کی وساطت سے ہم تک پہنچے تھے۔ چند سال انھوں نے ہمارے ساتھ کام کیا اور پھر رخصت لی کہ واپس امریکہ جانا چاہتے ہیں۔

مسٹر عبید شیفرڈسن کے قبولِ اسلام کا واقعہ بھی عجیب ہے۔ بتاتے تھے کہ ایک کینین لڑکی سے علیک سلیک ہوئی اور میں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہمیں شادی کرلینی چاہیے۔ اس لڑکی نے جواب دیا کہ میں مسلم ہوں اور تم عیسائی ہو۔ ایک مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی۔ اُس کے اس جواب نے مجھے اسلام کی طرف مائل کیا اور میں نے اسلام کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات حاصل کیں، پھر نماز یاد کی اور آخر ایک دن کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ اس لڑکی سے شادی ہوگئی، مگر زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ باہمی اختلافات پیدا ہوئے اور علیحدگی ہوگئی۔ اس کے باوجود اسلام کے ساتھ وابستگی اور تعلق میں کوئی کمی اور رخنہ پیدا نہ ہوا۔ موصوف کی مادری زبان انگریزی تھی اس لیے ہمیں اُس کی رفاقت سے بہت سے معاملات میں سہولت حاصل ہوجاتی تھی۔ اب معلوم نہیں وہ کس حال میں ہے، زندہ ہے تو اللہ اسے ثابت قدمی عطا فرمائے، اور اگر دنیا سے چلا گیا ہے تو اللہ مغفرت فرمائے۔

میرے کینیا آنے کے کچھ عرصے بعد پاکستان سے اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہونے والے کچھ نوجوان ساتھیوں نے بھی ارادہ کیا کہ افریقہ کے اس ملک میں جائیں۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ اس دھرتی پر کام کرنا آسان نہیں، بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات جان خطرے میں ڈالنا پڑتی ہے۔ ان ساتھیوں میں سے ارادہ تو کئی ایک نے کیا تھا، مگر دو دوست جناب سید احسان اللہ وقاص اور محترم سمیع اللہ بٹ مرحوم نیروبی پہنچے۔ میں نے ان کا استقبال کیا اور ان کو دو مختلف سینٹرز میں ذمہ داریاں ادا کرنے کی درخواست کی۔ سمیع اللہ بٹ صاحب کا مچاکوس میں اور وقاص صاحب کا اسیولو میں تقرر کیا گیا۔

دونوں ساتھی بہت باہمت تھے، مگر ایک سال بھی وہاں نہ گزار سکے اور چھے ماہ بعد واپس آگئے۔ احسان اللہ وقاص صاحب وہاں سے آنے کے بعد سعودی عرب چلے گئے جہاں بہت اچھا وقت گزارا۔ اللہ تعالیٰ نے معاش میں خاصی برکت عطا فرمائی۔ سمیع اللہ صاحب نے واپسی پر لاہور میں پیپر کا بزنس شروع کیا اور اسے کمال تک پہنچایا۔ کئی سال کے بعد جناب ظفر جمال بلوچ صاحب بھی کینیا تشریف لائے۔ آپ نے بھی اپنی خدمات فائونڈیشن کو پیش کیں۔ چناں چہ آپ کا تقرر ممباسہ میں ہوا۔ آپ غالباً ڈیڑھ سال یا کم و بیش عرصہ ہمارے ساتھ رہے۔ آپ نے ممباسہ میں ایک معزز سواحلی خاندان میں شادی بھی کی۔ جب مقامی دوستوں کی وساطت سے انھوں نے رشتے کی بات کی تو لڑکی کے خاندان والوں نے میرے بارے میں کہا کہ جب تک وہ ہمارے پاس نہ آئے، ہم رشتہ نہیں دے سکتے۔

کہانی تو لمبی ہے، لیکن بہرحال میں ممباسہ گیا اور رشتہ طے ہوا۔ نکاح کی تقریب کے لیے تاریخ طے پا گئی اور میں نے نیروبی سے ممباسہ جاکر نکاح پڑھایا۔ یوں یہ شادی ہوئی اور کچھ عرصہ میاں بیوی خوش و خرم رہے۔ جب ظفر جمال بلوچ صاحب نے پاکستان واپس آنے کا ارادہ کیا تو خیال یہی تھا کہ چھٹی گزار کر آجائیں گے، مگر یہاں آکر ان کا ارادہ بدل گیا۔ آخر انتظار کے بعد ان کی وفاشعار بیوی نے ممباسہ سے پاکستان کا سفر کیا اور ان کے پاس جھنگ میں آئیں، مگر بدقسمتی سے بلوچ صاحب نے کچھ عرصے کے بعد ان کو طلاق دے دی۔ وہ دل برداشتہ ہوکر واپس چلی گئیں اور وہاں دوبارہ اچھی جگہ شادی ہوگئی اور اللہ نے ان کو بچوں سے نوازا۔ کئی دیگر تحریکی دوستوں نے بھی پاکستان سے کینیا کر مختلف خدمات سرانجام دیں۔ ان کا تذکرہ بھی آگے آئے گا۔
(جاری ہے)