نڈر،محب وطن سیاست دان باقی بلوچ سے عبدالحق بلوچ تک

(گزشتہ سے پیوستہ)
باقی بلوچ اور مولانا عبدالحق بلوچ دونوں اہم شخصیات تھیں، دونوں کا تعلق مکران ڈویژن سے تھا، اور اب تیسری شخصیت مولانا ہدایت الرحمٰن کی ہے۔ ہدایت الرحمٰن نے بڑی شخصیت کو شکست دی اور بلوچستان اسمبلی میں گئے۔ ان میں دو کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ ہدایت الرحمٰن بلوچ امیر جماعت اسلامی بلوچستان مقرر ہوئے ہیں، اور مولانا عبدالحق بھی امیر صوبہ بلوچستان اور نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان رہے ہیں۔ عبدالحق بلوچ کے والد عالمِ دین تھے، باقی بلوچ کے والد اسکول ٹیچر تھے، اور مولانا کے والدِ مرحوم عالم دین اور اپنے علاقے کی ممتاز شخصیت تھے۔ مولانا عبدالحق بلوچ پر ان کے اثرات زیادہ تھے۔ مولانا عبدالحق نے جتنی تقریریں قومی اسمبلی میں کی ہیں ان میں صوبے کا کم ذکر ہوا ہے، جبکہ باقی بلوچ نے مسلسل بلوچستان کے حوالے سے بہترین ترجمانی کی ہے۔ مکران ڈویژن سیاسی اور علمی لحاظ سے بلوچستان کا ممتاز ڈویژن ہے۔ ان کے علاوہ مکران ڈویژن سے جو سیاسی شخصیات منتخب ہوئی ہیں ان میں ایک ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہیں، وہ سینیٹ آف پاکستان کے ممبر بھی بنے ہیں، ادیب اور شاعر بھی ہیں، ایک لحاظ سے وہ دانشور بھی ہیں۔ ان کا کلام بلوچی زبان میں ہے۔ اتفاق سے بولان میڈیکل کالج میں وہ میرے طالب علم رہے ہیں۔ وہ بہت خاموش طبع طالب علم تھے۔ عبدالمالک بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتِ حال میں عبدالمالک بلوچ اور اختر مینگل دواہم شخصیات ہیں۔ جناب اختر مینگل شہبازشریف کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں، ان کی کارکردگی سے بلوچ قوم پرست مطمئن نہیں ہیں۔ موجودہ سیاسی نقشے میں ہدایت الرحمٰن، سردار اختر مینگل اور عبدالمالک بلوچ صوبے کی نمائندگی کررہے ہیں۔

میں یہ تجزیہ باقی بلوچ اور مولانا عبدالحق بلوچ کے حوالے سے قارئین کے لیے پیش کررہا ہوں۔ دونوں کی سیاست ماضی کے حوالے سے ہے۔ ایک شخصیت کا کردار ایوب خان کے دور پر مرتکز ہے۔ وہ ایوب خان کے حریف اور حزبِ اختلاف کے ممتاز سیاست دان تھے۔ باقی بلوچ کے مدمقابل نواب خیر بخش خان مری، سردار عطا اللہ مینگل اور بزنجو تھے۔ ان کے درمیان باقی بلوچ ابھر کر پاکستان کی سیاست میں نمایاں ہوگئے تھے۔ باقی بلوچ کا دور پاکستان کے ممتاز سیاست دانوں کا دور تھا۔ جنرل ایوب خان سیاست میں داخل ہوچکے تھے، انہوں نے سرکاری سیاسی جماعت مسلم لیگ کنونشن بنالی تھی، اور یہ دور ولی خان، سید مودودیؒ‘ ممتاز دولتانہ، شیخ مجیب الرحمٰن، فاطمہ جناح، نواب کالا باغ، رائو خورشید علی، خواجہ صفدر، نبی بخش زہری، مشتاق گورمانی، قاضی عیسیٰ، پروفیسر غفور، خان عبدالقیوم خان کا تھا۔ محمد رفیق لورالائی سے صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے، ان کا آبائی تعلق پنجاب سے تھا۔ بی ڈی ممبرز کے ذریعے انتخابات ہوئے تھے۔ مولانا بھاشانی کا تعلق نیپ چین نواز سے تھا۔ ملک غلام جیلانی بھی باقی بلوچ سے متاثر تھے۔ پروفیسر خورشید صاحب بھی اسی دور میں ابھرے تھے۔ غوث بخش بزنجو نیپ میں تھے۔ سیاست کی دنیا اتفاقات کی دنیا ہے، اس میں نہ دوستی کا پتا چلتا ہے نہ دشمنی کا، اور نہ سیاسی سوچ کا۔ پاکستان کی سیاست اتفاقات اور حادثات کی سیاست ہے۔ ایوب خان کے دور میں کراچی سے ہارون خاندان کا ممبر قومی اسمبلی میں تھا۔ وہ سفارت کی طرف گیا تو کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست خالی ہوگئی۔ اس دور میں جنرل ایوب خان اور نواب کالا باغ میں سیاسی کھنچائو بڑھ گیا۔ ہارون خاندان کی نشست خالی ہوگئی، نواب خان سیف اللہ پراچہ کے والد بیدار خان پراچہ کو اس نشست کے لیے کھڑا کیا گیا۔ حبیب اللہ خان اور اُن کے مدمقابل نیپ کے ممتاز سیاست دان غوث بخش بزنجو بھی اس نشست پر کھڑے کیے گئے۔ ایوب خان صدرِ پاکستان اور گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ کی کشمکش اس نشست پرکھل کر سامنے آگئی۔ افسر شاہی نواب کالا باغ کی طرف تھی، یہ جنرل ایوب خان اور نواب کالا باغ کے درمیان مقابلہ تھا۔ ایوب خان کا نمائندہ اس نشست پر بری طرح ہار گیا اور غوث بخش بزنجو جو نیپ کے ممتاز قوم پرست سیاست دان تھے، وہ ہارون کے ہاتھوں استعمال ہوگئے اور نیپ کے ممتاز سیاست دان ہارون خاندان کی حمایت پر ممبر بن گئے۔ یہ نیپ کا تاریخی انحراف تھا۔ اندرونِ خانہ نیپ بیوروکریسی کے ہاتھوں استعمال ہوئی۔ غوث بخش بزنجو قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے۔ ہارون فیملی نے 1970ء کے انتخابات میں نیپ کی بھرپور سیاسی اور مالی معاونت کی۔ جب نواب بگٹی اور نیپ کے اختلافات شدید ہوگئے تو نواب نے مجھے بتایا کہ ہارون نے نیپ کو ایک بھاری رقم عام انتخابات کے لیے دی۔ یہ اشارہ 1970ء کے انتخابات کی طرف تھا۔

نواب بگٹی اور نیپ کے درمیان 1970ء میں بہت زیادہ دوری ہوگئی تھی، اس لیے جب نواب بگٹی مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن سے ملنے گئے تو نیپ کے ترجمان نے بیان داغ دیا کہ نواب بگٹی نیپ کے نمائندے نہیں ہیں۔ نواب نے شیخ مجیب سے ملاقات کرلی تھی مگر ہاتھ خالی تھے۔ نواب بگٹی اور نیپ میں سیاسی فاصلہ بڑھ گیا تھا اور دونوں آمنے سامنے آگئے۔ نواب بگٹی کے لیے نیپ کا راستہ بند ہوگیا۔ بھٹو جب سوویت یونین کے دورے پر گئے تو نواب بگٹی ساتھ تھے۔ بھٹو پاکستان آگئے جبکہ نواب بگٹی واپسی پر لندن میں ٹھیر گئے۔ فروری 1973ء میں پاکستان لوٹے تو بھٹو نے نیپ کی حکومت توڑدی اور نواب بگٹی گورنر بلوچستان بن گئے۔

اس پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم دوبارہ بلوچستان کے ممتاز سیاست دان باقی بلوچ کی طرف آتے ہیں۔ وہ جب کوئٹہ آئے تو میں اُن سے ملنے ہوٹل گیا۔ باقیؔ کی شخصیت ٹوٹ گئی تھی، اب وہ ایک مایوس انسان نظر آرہے تھے۔ وہ اپنی خودنوشت میں یوں بیان کرتے ہیں:

’’الحمدللہ میری سیاسی زندگی میں کوئی ایسی کمزوری نہ تھی جو میرے خلاف استعمال کی جاسکتی۔ آخرکار حکومت نے ایک موقع ڈھونڈ نکالا، جولائی 1966ء میں مَیں نے ایک سیاسی خاندان کی پڑھی لکھی لڑکی سے نکاح پڑھوا لیا، اُس کے ماں باپ اس شادی پر رضامند نہ تھے جبکہ خاتون شادی پر راضی تھی۔ یہ سہروردی کی نواسی تھی اور تعلیم یافتہ تھی، جبکہ میرا نکاح ہوچکا تھا۔ والدین راضی نہ تھے، خاتون رضامند تھی، اُس کے والدین نے کہا چند روز کے لیے ہمارے گھر بھیج دو، اس کے بعد ہم اسے قاعدے سے رخصت کریں گے۔

انہوں نے لڑکی کو مارا پیٹا، تب بھی وہ نہ مانی تو اسے میرے گھر چھوڑ گئے۔ ہم دونوں میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔ نواب کالا باغ کراچی آئے تو انہوں نے کمشنر کراچی اور آئی جی سے بات چیت کی۔ چند روز بعد مجھے بلوچستان میں گڑبڑ کرنے کے الزام میں ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کرلیاگیا۔ ڈھائی ماہ مجھے جیل میں گزارنا پڑے۔

ایوب خان نے اس دوران میرے پاس پیغام بھیجا کہ میری مخالفت چھوڑ دو، میں یہ قضیہ سلجھا دوں گا۔

میں نے اس کو پیغام بھیجا: میں حیران ہوں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کا سربراہ میرے بیڈ روم میں کیوں جھانک رہا ہے؟ پورا ملک میرے خلاف پروپیگنڈے سے گونج رہا تھا، حتیٰ کہ اپوزیشن کے بعض راہنما مجھ پر بگڑے، مگر میں نے تو یہی سیکھا تھا کہ جب آدمی حق پر ہو تو اسے دنیا کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اور جب آپ نے کوئی جرم نہیں کیا ہے تو آپ کو جھکنے کی کیا ضرورت ہے؟

کراچی، بہاولپور، ملتان میں میرے 25 ماہ جیل میں بیت گئے، حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے مجھے رہا کردیا۔ ان خاتون سے زندگی بھر پھر میری ملاقات نہیں ہوئی جنہوں نے کبھی آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا تھا کہ تمہارے بغیر ایک سانس لینا بھی میرے لیے دوبھر ہے، مجھے اکیلا نہ چھوڑنا۔ مگر خدا نے مجھے تلخ لمحوں کو بھلا دینے کا حوصلہ بخشا ہے۔ بے شک جو بھی چیز ظہور پزیر ہوتی ہے، اس میں خدا کی حکمت ہے۔ ایک آخری بات: میری شادی پر صرف ایک اعتراض کیا گیا تھا کہ میں نچلے طبقے کا آدمی ہوں اور وہ بڑے خاندان کی بیٹی ہے۔‘‘

جب میری ملاقات باقی بلوچ سے ہوئی تو وہ اندر سے ٹوٹ چکے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا ’’شادیزئی! کیا شادی میرا حق نہ تھا؟ صرف سرداروں اور نوابوں کا حق ہے شادی پر؟‘‘ جب انہوں نے یہ کہا تو وہ ماضی کے باقی بلوچ نہ تھے۔ سرداروں نے ان کی بہت مخالفت کی، اس کا انہیں علم تھا۔ یہ میری باقی بلوچ سے آخری ملاقات تھی۔ پھر نہ وہ کوئٹہ آئے اور نہ ان کو دیکھا۔ باقی بلوچ کی اپنی سوچ تھی۔

وہ اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں:
’’جب یحییٰ خان اقتدار میں آئے تو انہوں نے ون یونٹ توڑ دیا۔ اس کا میرے دل پر ایسا زخم لگا جو اس سے پہلے کبھی نہیں لگا تھا۔ میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اور میں قبرستان چلا گیا۔ پکارتا رہا مگر میری آواز کسی نے نہ سنی۔

میں نے قوم کو بتایا کہ پاکستان میں تین طاقتوں کو ابھارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے: مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن، سندھ میں بھٹو، سرحد اور بلوچستان میں نیپ۔ اور اتفاق دیکھیں کہ ایسا ہی ہوا اور مشرقی پاکستان] 1970ء کے[ انتخابات کے نتیجے میں الگ ہوگیا اور بنگلہ دیش بن گیا۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ منصوبہ امریکہ کی پشت پناہی سے بنایا گیا، اس کی پشت پر بھارت موجود تھا۔ مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج داخل ہوگئی اور جنرل نیازی نے اپنا پستول بھارتی جنرل کے سامنے رکھ دیا اور علیحدگی کی دستاویز پر دستخط کردیے۔‘‘

اب ایک طویل عرصے کے بعد بنگلہ دیش بھارتی گرفت سے نکل گیا ہے، مستقبل میں کیا ہوگا یہ ابھی ہمارے سامنے نہیں ہے اور نہ موجودہ تجزیے میں یہ ہمارا موضوع ہے۔ ہم دوبارہ اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔

باقی بلوچ کو پاکستان ٹوٹنے کا شدید صدمہ ہوا۔ وہ ہر محب وطن پاکستانی جیسے ہی تھے۔ اس المناک حادثے کے بارے میں یوں دل کی بات بیان کرتے ہیں:

’’ملک ٹوٹ گیا، میں کئی دن تک روتا رہا۔ میں نے زندگی میں بہت سے برے وقت دیکھے اور گزارے ہیں، میں تین دن تک بھوکا رہا ہوں، ہیرو بننے کے بعد بھی، رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد بھی 1966میں بھرے ملک میں اکیلا رہ گیا تھا، مگر کسی شخص نے مجھے روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں صرف دو بار رویا ہوں، پہلی بار اُس وقت جب قائداعظم کا انتقال ہوا، اور دوسری بار جب قائداعظم کا پاکستان ٹوٹا۔‘‘

وہ اپنی خودنوشت میں بیان کرتے ہیں: ’’لوگوں کو بھٹو کے ڈرامے سے دلچسپی تھی۔ جب بھٹو نے اسلامی سربراہ کانفرنس بلائی تو اپوزیشن کو بری طرح کارنر کردیا، میں نے اخبارات میں بیان جاری کیا کہ یہ سارا ڈراما بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس بیان کو اخبارات سے نکال دیا گیا، اور شائع نہیں ہونے دیا گیا۔

مجھے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرلیا گیا۔ ایک بار پھر ساڑھے سات ماہ کے لیے جیل میں بند کیا گیا۔ رہا ہوا تو بھٹو کی خواہش تھی کہ میں ان کا ساتھ دوں ورنہ دوبارہ گرفتار کرکے دلائی کیمپ میں پہنچا دیا جائوں گا۔ مگر خدا نے محفوظ رکھا۔ میری ملاقات جنرل ضیا الحق سے ہوئی تو میں نے اُن سے کہا کہ ون یونٹ بحال کردیں، انہوں نے کہا یہ مشکل ہے۔‘‘

باقی بلوچ اپنی کتاب میں جیل کی دل چسپ داستان بیان کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:

’’ جیل میں میری ملاقات سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے ہوئی، اور ان کی شوریٰ کے ارکان سے بھی ملاقات ہوئی۔ مجلس شوریٰ اور سید مودودیؒ کو ایوب خان نے گرفتار کرلیا تھا۔ اس سے پہلے میں پروفیسر خورشید احمد سے کراچی جیل میں ملاقات کرچکا تھا۔ لاہور میں مولانا مودودیؒ سے ملاقات رہی، وہ میرے ساتھ والے احاطے میں تھے۔ شام کو میں ان کے احاطے میں ملاقات کے لیے چلا جاتا تھا، کبھی ان کی کوٹھڑی میں ملاقات کے لیے چلا جاتا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو لوگ زاہدِ خشک سمجھتے ہوں گے، لیکن میں نے مودودی کو دیکھا ہے، وہ ایک ہنستا مسکراتا انسان ہے، حالات کا جبر جس کی شگفتگی نہیں چھین سکتا۔ جیل میں وزیر جیل خانہ جات یاسین وٹو ملنے آئے، ان کی خواہش تھی کہ جیل میں بی کلاس دوں۔ میں نے ان کی بات ہنس کر ٹال دی۔

مجھ سے جیل میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خاں ملنے آئے، مگر میں نے ان سے بی کلاس کی درخواست نہیں کی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے دس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا۔ 1964ء میں بلوچستان کے حوالے سے سخت تقریر کی اور کہا کہ وہاں غیر آئینی کارروائیاں بند کی جائیں۔ مرکز کی کم نظری نے مسئلے کو الجھا دیا ہے، فوج بھیجتے ہیں پھرکہتے ہیں کہ ملک کے ایک صوبے میں بغات کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ میں نے کہا: تمہاری مداخلت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ گورنر ہائوس میں میری تقاریر کو براہِ راست سنا جاتا تھا، مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ گورنر کالا باغ براہِ راست میری تقاریر سنتا تھا۔‘‘

باقی بلوچ کو بھی ایوب خان کے دور میں ملٹری آپریشن سے اختلاف تھا، ایسا ہی اختلاف 1963ء کے بعد سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق بلوچ مرحوم کو تھا۔

عبدالحق بلوچ کو ایک سیمینار میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ وہ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور قومی اسمبلی کے منتخب ممبر تھے۔ یہ اسمبلی جنرل ضیا الحق کی تخلیق تھی اور غیر جماعتی بنیاد پر تھی، اس میں مولانا عبدالحق بلوچ پھر منتخب ہوگئے۔ انہیں بلوچ قوم پرست اپنی نشستوں میں خطاب کے لیے بلاتے تھے۔ یہ بلوچ دانشوروں اور سیاسی سوچ رکھنے والوں کا سیمینار تھا۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گوادر کے حوالے سے کچھ نوٹس لیے تھے، وہ بیان کردیتا ہوں۔ بنیادی طور پر اس وقت جو ایشو ہے وہ گوادر ہے، میری رائے یہ ہے کہ پورے بلوچستان کو موضوع بناتے تو بہتر تھا۔ اب چونکہ گوادر موضوع ہے تو میں بھی اس سے متعلق اپنے خیالات بیان کروں گا۔ اس کے علاوہ جو گزارش کرنی ہے وہ اتحاد کے حوالے سے ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ریاست نے بجائے فلاحی ریاست کے، ایک غاصب ریاست کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ فلاحی ریاستیں یہ سوچتی ہیں کہ ان کے افراد آپس میں جڑ جائیں، خاندان جڑ جائیں، قبائل جڑ جائیں، خطے جڑ جائیں۔ اس طرح ایک فلاحی ریاست کی ہیئتِ ترکیبی بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بڑی بڑی وحدتوں تک افراد ایک یونٹ ہے، خاندان اس کے اوپر ایک یونٹ ہے، قبیلہ اس کے اوپر ایک وحدت ہے اور مملکت ایک چھوٹی بڑی وحدت بن جاتی ہے۔ وحدتوں کا استحکام اُس وقت ہوگا جب چھوٹی چھوٹی ریاستیں یا وحدتیں مستحکم ہوں۔

دوسرا تصورِ غاصبانہ ریاست کا ہے۔ ساتھیوں نے فرمایا ہے: غاصب سلطنتیں جب چھا جاتی ہیں تو یہ کوشش کرتی ہیں کہ ہم حکمرانی کو کیسے قائم کریں۔ حکمرانی کو قائم کرنے کے لیے مشہورہے سکندر نے جب دنیا پر حملے کیے، ہر خطے میں چھوٹی، چھوٹی ریاستیں بنائیں توارسطو صاحب نے اس سے کہا ان کو بادشاہ بنائو اور آپس میں لڑائو تمہاری حکومت مستحکم ہوگی۔ اس نے بنائے: توران شاہ، کابل شاہ، کرمان شاہ، مکران شاہ۔ یہ چھوٹی چھوٹی وحدتیں تھیں جو بنیادی طور پر سکندر صاحب کے تصور میں تھیں۔ اس طرح چھوٹی چھوٹی ریاستیں بادشاہتیں بنتی ہیں،پھر ان کو آپس میں متصادم کیا جاتا ہے، تو ہمارے حکمرانوں نے بھی یہی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ بدقسمتی سے فلاحی ریاست کا تصور نہیں تھا، آج تک غاصبانہ ریاست کا تصور ہے کہ قبیلے کو قبیلے سے لڑائو، خاندان کو خاندان سے لڑائو، طبقے کو طبقے سے لڑائو۔ یہ تصور پھیل گیا ہے اور اس وقت ہم اس کی سزا بھگت رہے ہیں، جب کہ اسلام نے ہر ایک کے حقوق متعین کردیے ہیں۔

دوسری گزارش یہ کرنی ہے کہ عام طور پر ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو کچھ حضرات سمجھتے ہیں کہ پھر سارے علاقے غصب ہوجائیں گے۔ اسلام کہتا ہے جس خطے میں قبیلہ رہتا ہے وہ خطہ اسی قبیلے کا ہے، جس خطے میں قوم رہتی ہے وہ سرزمین اسی قوم کی ہے، جس زمین پر خاندان رہتا ہے وہ زمین اسی خاندان کی ہے۔ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں جا کر غاصبانہ قبضہ جمائے اور مداخلت کرے۔ ہر ایک کے حقوق اپنی جگہ متعین ہیں۔ اب اس گوادر کے مسئلے کو ہی لے لیں، گوادر بنیادی طور پر بلوچستان کا ساحل ہے، مکران کا ایک حصہ ہے، وہاں کی شہری آبادی کی زمین ہے۔ اب اگر کوئی وہاں جائے تو ان کی مرضی کے بغیر نہیں جانا چاہیے، بنیادی طور پر کوئی حق ہی نہیں بنتا، البتہ تھوڑا سا پس منظر میں آپ سے عرض کروں کہ گوادر میں اسماعیلی برادری کی بھی ایک دل چسپی قدیم سے چلی آرہی ہے۔ سر آغا خان نے غالباً 1932ء میں مسقط کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی حکومت کو درخواست دی تھی کہ یہ علاقہ مجھے دے دیا جائے۔ یہ درخواست منظور نہیں ہوئی۔ پھر 1934ء میں جب وہ لیگ آف نیشن کے صدر بنے تو دوبارہ درخواست دائر کی، اس کی بھی منظوری نہیں ہوئی۔ آخر میں غالباً 1935ء میں مرحوم احمد یار خان صاحب جب خان قلات ہوگئے تو کوئی مسٹر واک فیلڈ صاحب اس کے وزیراعظم تھے، ان کو درخواست دی گئی تھی کہ پسنی سے 20 کلومیٹر دور اورماڑہ کی طرف ایک جزیرہ ہے ہپت تلار، یہ مجھے دے دیا جائے۔ پھر پاکستان بننے کے بعد اس کمیونٹی نے بھی کوشش کی۔ مقصد یہ ہے کہ صنعت کاروں کی دل چسپی گوادر میں رہی ہے، ہمیں گوادر کے آباد ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یہاں ایک دفعہ گورنر قادر صاحب تشریف لائے، انہوں نے کچھ حضرات کو بلایا تھا، غالباً ڈاکٹر مالک صاحب بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے: جناب 2005ء تک گوادر کی آبادی کو 5 لاکھ تک بڑھایا جائے۔ اس پر ہم نے کہا: اِس وقت گوادر کی جو آبادی ہے اس کا کیا بنے گا؟ دوسری بات انہوں نے کہی کہ کوئی 33 میل دور جاکر وہاں گوادر والوں کو بٹھایا جائے گا۔ ہم نے کہا: یہ اسی سمندر کی امید پر یہاں بیٹھے ہیں، ان کو وہاں لے جائو گے تو کیا سمندر کو بھی وہاں لے جائو گے؟ تیسری بات انہوں نے کہی کہ ترقی ہوگی۔ میں نے ان سے عرض کیا: دو اچھی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، ایک کراچی کی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کراچی میں مہاجرین یا کسی دوسرے کو آباد نہیں ہونا چاہیے، لیکن وسائل کی تقسیم میں عدم تناسب نے وہ کیفیت پیدا کردی ہے کہ جو بنیادی طور پر اس کے مقامی باشندے تھے، بلوچ یا کچھ میمن و سندھی ٹائپ کے لوگ… آج وہ لیاری، چاکیواڑہ میں پڑے ہوئے ہیں، اور باقی ساری ترقی جو ہے وہ دوسری طرف چلی گئی ہے۔ اس طرح مقامی باشندے آج وہیں کے وہیں ہیں۔ یہ وسائل کی تقسیم میں عدم تناسب کا نتیجہ تھا۔

اگر یہاں بھی جو کمپنیاں ہوں گی یا جو آبادکار و صنعت کار ہوں گے وہ آگے اسی طرح بلڈنگیں بنائیں گے، محلے آباد کریں گے اور کالونیاں بسائیں گے، بنیادی سوال یہی ہے کہ جو مالکِ زمین ہیں اس ٹکڑے کے، اُن کا کیا بنے گا؟ دوسری مثال جو ہے وہ ڈیرہ بگٹی کی ہے، سوئی کی ہے۔ بگٹی قبائل کی زیادہ سے زیادہ 90 ہزار یا ایک لاکھ تعداد ہوگی، اور جس زمین پر وہ رہ رہے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ 9 یا 10 ہزار مربع میل ہے، مگر وہاں اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی معدنی دولت سوئی گیس ہے جو نکل رہی ہے۔ اعداد و شمار یہاں ساتھیوں نے بتائے ہیں کہ کتنے کھرب سالانہ اس کی آمدنی ہے۔ لیکن جب آپ اس خطے میں جائیں گے تو حیران ہوجائیں گے کہ بگٹی جو اس زمین کے مالک ہیں، جن کی زمین سے یہ سب کچھ نکل رہا ہے اُن کے پاس رہنے کے لیے گھر ہے اور نہ چلنے پھرنے کے لیے راستہ ہے۔ کمپنی کی تنصیبات کھڑی ہیں اور وہ بے چارے وہیں دربدر ہیں۔ دربدری جائے جہنم میں، اب اُن کو آپس میں لڑایا جارہا ہے کہ یہ بگٹی ہے، یہ کلپر ہے، یہ اُس کو مارے، وہ اِس کو قتل کرے۔ اس کے اوپر ہر گلی میں سپاہی کھڑے ہیں اور وہ جامہ تلاشی لے رہے ہیں، اور سوال کررہے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو، کدھر جا رہے ہو؟ یعنی یہ بدحالی ہے۔ اگر یہ فلاحی ریاست ہوتی تو کم سے کم باقی پاکستان میں، بلوچستان جائے جہنم میں، اتنا تو ہو جاتا کہ کوئی دیکھتا تو اُس کور شک آجاتا۔ سب سے تباہ حال خطہ گوادر ہے، ہمارے لیے تو اس کے ہونے سے نہ ہونا ہی بہتر ہے۔ ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں، ماضی بنیادی طور پر قابلِ اصلاح نہیں ہوتا، عبرت کے لیے ہوتا ہے۔

اپنے قارئین کے سامنے دو مختلف شخصیات کے خیالات بیان کررہا ہوں۔ ان میں سے ایک کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور دوسرا ایک آزاد سیاست دان ہے۔ یہ تجزیہ اس لیے پیش کیا جارہا ہے کہ بلوچستان کے حالات اور وہاں کے رہنے والوں کے خیالات سے آگہی حاصل ہو۔