قصہ یک درویش! کینیا کی مزید یادیں

کینیا میں قیام کے دوران مقامی طور پر بھی کئی مرد و خواتین عیسائیت چھوڑ کر یا اپنا مقامی مذہب بت پرستی (Paganism) ترک کرکے مسلمان ہوئے۔ اسی طرح دیگر مختلف ملکوں میں جب دورہ ہوتا تو کبھی اکا دکا، اور کبھی بڑی تعداد میں بیک وقت غیر مسلم داخلِ اسلام ہوتے۔ ایسے ہر موقع پر مسلم مخیر حضرات نومسلم مرد و خواتین کی تالیفِ قلب کے لیے کھلے دل سے خرچ کرتے۔ ہمارے اسلامی مراکز جو مختلف ملکوں میں وہاں کی اسلامی تنظیموں کے تحت قائم تھے، ان نومسلم نوجوانوں اور مرد و خواتین کی تربیت کا حسبِ استطاعت اہتمام کرتے۔ ایک مرتبہ زمبیا کے شہر لنڈازی (Lundazi) میں خصوصی طور پر ایک تقریب کا اہتمام ہوا۔ وہاں ہمارے دوست پروفیسر محمد عثمان انگوی دارالافتا (سعودی عرب) کی طرف سے بطور مبلغ و مدرس کام کرتے تھے۔

عثمان انگوی صاحب کے علاوہ مختلف دوروں کے دوران مقامی آبادی کے کئی ہندی الاصل کاروباری مسلمانوں سے بھی دوستانہ تعلقات قائم ہوچکے تھے۔ ایک بہت بڑے تاجر (میری یادداشت کے مطابق موصوف کا نام فقیر ملّا تھا) کے ساتھ مل کر عثمان صاحب نے تبلیغ کا بہت کام کیا۔ عثمان صاحب نے مجھے دعوت دی کہ یہاں کے ساتھیوں کی کاوشوں سے سیکڑوں کی تعداد میں مقامی لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، ان کی خواہش ہے کہ اس موقع پر آپ بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کریں۔ میں چوں کہ سال میں کم از کم ایک بار زمبیا اور دیگر ممالک میں جایا کرتا تھا، اس لیے یہ سفر کوئی مشکل نہیں تھا۔ حسبِ پروگرام میں وہاں گیا اور آج تک وہ منظر یاد ہے جب سیکڑوں مرد و خواتین، نوجوان اور بچے جمع تھے اور ان کو دو تین بار بلند آواز میں کلمہ پڑھایا گیا، اس کے معنی انگریزی اور مقامی زبان میں سمجھائے گئے اور ان کے حق میں استقامت کی دعا کی گئی۔ برادرم عثمان انگوی پروفیسر رشید انگوی مرحوم کے بڑے بھائی ہیں۔

اسلامک فائونڈیشن کے ادارے جن شہروں میں چل رہے تھے ان میں سب سے اہم ادارہ اسیولو (Isiolo) میں تھا۔ اسیولو نیروبی سے شمال مشرق کی جانب 273کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ہے۔ یہاں اسلامی مدرسہ، دارالایتام، میڈیکل کلینک اور مرکزی جامع مسجد اسلامک فائونڈیشن کے سینٹر میں قائم تھی۔ سب سے زیادہ دورے اسی مرکز کی طرف ہوتے تھے۔ یہاں کے مہتمم شیخ محمد سلفی تھے جو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل اور کراچی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا جمعیت غربائے اہلِ حدیث میں اہم مقام ہے۔ آپ کے بڑے بھائی مولانا عبدالرحمٰن سلفی صدر جمعیت ہیں۔ ان کے ساتھ اسیولو مرکز میں اساتذہ اور دیگر عملے کی تعداد تقریباً پچیس تھی۔

اسلامک مرکز کی جامع مسجد اسیولو میں سب سے بڑی مسجد تھی۔ یہاں جمعہ کی خطابت کے فرائض ایک بہت عظیم مقامی عالم دین شیخ عزّالدین مرحوم اعزازی طور پر ادا کیا کرتے تھے۔ مرحوم کینیا بھر کے علما کے درمیان بڑی عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ محترم میاں طفیل محمدؒ کے دورۂ اسیولو کے دوران ان سے آپ کی ملاقات ہوئی تو شیخ بعد میں جب بھی ملتے، فرماتے ’’وہ مہمان، تمھاری جماعت کا امیر ولی اللہ تھا، جسے دیکھتے ہی دل گواہی دیتا تھا کہ یہ بندہ محض اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔ میں نے اسے جس طرح نماز پڑھتے دیکھا ویسے مجھے کبھی کوئی نظر نہیں آیا۔‘‘

اسی ادارے میں ہمارے دوروں کے دوران ڈنمارک کے ایک عیسائی مشنری مسٹر پریبن بوگارڈ (Prabon Bundgard) سے ملاقات ہوئی اور خوش قسمتی سے چند ملاقاتوں کے بعد اس نے اسلام قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اُس نے اس دوران مولانا مودودیؒ کا کتابچہ ’’شہادتِ حق‘‘ بزبانِ انگریزی کئی بار پڑھا تھا اور اس کے بعد ’’رسالہ دینیات‘‘ کا مطالعہ بھی کرلیا تھا۔ ایک تقریب میں مسٹر پریبن نے کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ میں نے اپنے کسی مضمون میں موصوف کے قبولِ اسلام کے واقعے کو خاصی تفصیل سے لکھا ہے۔ یہاں تو بس اشارات ہی کرنے کا موقع ہے۔ اس واقعے سے اسیولو کے تمام مسلمانوں کے گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مسٹر پریبن کا اسلامی نام عبدالرحمٰن رکھا گیا۔

یہ ایک طویل داستان ہے جس کے تفصیلی بیان کا اس وقت موقع نہیں۔ مختصر یہ کہ اسے اس کے ادارے نے اپنی ملازمت سے نکال دیا۔ اب اس کا مطالبہ تھا کہ اسے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی مل جائے اور اس کے پاسپورٹ میں اس کے مطابق نام کی تبدیلی بھی ہوجائے۔ یہ کام بھی الحمدللہ چیف قاضی صاحب کی مدد سے بحسن و خوبی ہوگیا۔ عبدالرحمٰن نے اس کے بعد عمرہ کیا اور واپس آیا تو ہم سے الوداعی ملاقات کرنا چاہی۔ ہم نے اسے پیش کش کی کہ وہ کچھ عرصہ ہمارے ساتھ کام کرے۔ ہم وہ معاوضہ تو نہیں دے سکیں گے جو اُسے اس کے مشن سے مل رہا تھا، تاہم دو وقت کی روٹی کا انتظام بخوبی ہوجائے گا۔

اللہ کے اس مخلص بندے نے ہماری پیش کش خوش دلی سے قبول کی اور پھر اس نے ہمارے ساتھ دو ڈھائی سال کام کیا۔ اس دوران اُس نے اسلامی تعلیمات بھی حاصل کیں اور پھر ہم سے اجازت لے کر واپس اپنے وطن چلا گیا۔ ماشاء اللہ مکمل شرعی داڑھی کے ساتھ اس کی شخصیت بہت خوب صورت اور بارعب نظر آتی ہے۔ ڈنمارک جانے کے بعد ایک یا دو بار عبدالرحمٰن پاکستان بھی آیا تھا۔ اس کی اہلیہ پاکستانی خاتون ہے جو لالہ موسیٰ سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ کی قدرت کہ اس جوڑے کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا۔ بہرحال عبدالرحمٰن کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ کفر سے اسلام کی طرف اسے رہنمائی مل گئی اور وہ ایک مثالی مسلمان بننے میں کامیاب ہوگیا۔ اللہ پیدائشی مسلمانوں کو بھی اخلاصِ نیت اور اعمالِ صالحہ کی ایسی ہی دولت سے سرفراز فرمائے۔

عبداللہ جان صاحب جماعت اسلامی کے بزرگ رکن تھے۔ آپ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی میں کئی سال تک ماہانہ انگریزی رسالہ ’’یونیورسل میسج‘‘ (Universal Message) کے ادارتی عملے میں شریک رہے۔ جب یونیورسل میسج بعض وجوہات کی بنا پر بند ہوا تو عبداللہ جان صاحب عملاً ذمہ داریوں سے فارغ ہوگئے۔ آپ کو انگریزی زبان میں مہارت حاصل تھی۔ ہمیں بھی کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ہمارے انگریزی مسودات کو چیک کرنے اور ان میں اصلاح کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس عرصے میں ہمارا سہ ماہی رسالہ ’’الاسلام‘‘ بھی شائع ہورہا تھا۔

غالباً 1980-81میں آپ نیروبی آئے۔ یہ اب یاد نہیں رہا کہ آیا وہ منور صاحب کی وساطت سے آئے تھے یا رائو محمد اختر صاحب کی کاوش کا اس میں عمل دخل تھا۔ بہرحال آپ کا قیام قرآن ہائوس میں رہا، جب کہ میں اُس زمانے میں پروفیسر ملک محمد حسین مرحوم (سابق داعی تنزانیہ) کے ساتھ قرآن ہائوس سے باہر کرائے کے ایک فلیٹ میں شفٹ ہوچکا تھا (ملک محمد حسین مرحوم کے حالات ہماری کتاب ’’عزیمت کے راہی‘‘ جلد اول میں صفحہ 280تا 287 درج ہیں)۔ عبداللہ جان صاحب کو بھی ہم نے پیش کش کی کہ وہ ہمارے پاس آجائیں، مگر آپ نے قرآن ہائوس میں رہائش کو ترجیح دی۔ آپ کے ناشتے اور کھانے کا اہتمام وہی باورچی کرتا رہا جو شروع سے وہاں کام کررہا تھا۔

عبداللہ جان صاحب ڈیڑھ دو سال کے بعد واپس کراچی چلے گئے۔ کینیا سے واپس آنے کے بعد میں ایک دفعہ کراچی میں ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر حاضر ہوا۔ ملاقات پر بہت خوش ہوئے اور نیروبی میں قیام کے کئی خوشگوار واقعات کو یاد کرکے مسرت کا اظہار کرتے رہے۔ پھر وہاں کے دوستوں اور اداروں کے بارے میں بہت سے سوالات پوچھ کر تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہے۔ عبداللہ جان صاحب کی یادیں تو دل میں موجود ہیں، مگر زیادہ تفصیلی معلومات محفوظ نہیں ہیں۔ (اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔)

اسیولو کے علاقے میں رائو محمد اختر مرحوم، راقم الحروف اور دیگر ساتھیوں کی کاوش سے اسلامک فائونڈیشن کو حکومت کی طرف سے ایک غیر آباد زرعی زمین الاٹ کی گئی جو میری معلومات کے مطابق 625 ایکڑ پر مشتمل تھی۔ تاہم حافظ وصی محمد خاں جو اس فارم پر خدمات سرانجام دیتے رہے، فرماتے ہیں کہ یہ 640 ایکڑ تھی۔ اسے آباد کرنے کی کوشش کی گئی، مگر بارانی علاقہ ہونے کی وجہ سے زیادہ کامیابی نہ ہوسکی۔ اس فارم پر حافظ وصی محمد خاں، ڈاکٹر شفیق بٹ مرحوم، میاں محمد الیاس مرحوم اور عبدالغنی صاحبان مختلف ادوار میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اب بھی یہ زمین اسلامک فائونڈیشن کے پاس ہے۔ تازہ ترین صورتِ حال کا پتا نہیں، تاہم ایک زمانے میں یہاں ڈیری فارم کے لیے بڑی تعداد میں اعلیٰ نسل کی دودھ دینے والی گائیں رکھی گئی تھیں جن سے اخراجات نکالنے کے بعد معقول ماہانہ انکم آجاتی تھی۔ پولٹری فارم کا تجربہ بھی کیا گیا تھا، مگر زیادہ دیر نہ چلایا جا سکا۔

دوسرا بڑا سینٹر گربت اللہ میں تھا۔ اس شہر کا فاصلہ نیروبی سے 355کلومیٹر ہے۔ یہ بھی اسیولو کی جانب ہی واقع ہے۔ یہاں بچیوں کا بہت بڑا ادارہ تھا جس میں تعلیم، رہائش اور بچیوں کو مختلف ہنر سکھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس شہر میں عیسائیوں کا بھی بہت بڑا ادارہ تھا جس میں یتیم اور غریب مسلمان بچیوں کو داخل کیا جاتا اور پھر ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر انھیں عیسائیت قبول کرنے پر آمادہ کرلیا جاتا۔ اس ادارے میں مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’رسالہ دینیات‘‘ کا سواحلی ترجمہ کسی بچی کے ہاتھ آیا تو اُس نے چھپ چھپا کر اس کا مطالعہ کیا۔ پھر یہ کتاب اپنی ایک اور سہیلی کو پڑھنے کے لیے دی۔ یوں بہت سی مسلمان بچیوں نے اس کتاب کو پڑھا اور آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کرلیا کہ ہمیں عیسائیت کا انکار کرکے اپنے دینِ حق پر واپسی کا اعلان کردینا چاہیے۔

وہاں کے حالات میں یہ کام آسان نہیں تھا مگر باہمی مشاورت سے انھوں نے فیصلہ کیا کہ پاسنگ آئوٹ تقریب کے موقع پر وہ کسی نہ کسی طرح یہ اعلان کریں گی۔ چناں چہ اس روز وہ اپنے بستروں میں لیٹی رہیں اور چرچ میں سرمن سننے کے لیے نہیں گئیں۔ جب انتظامیہ نے ان کے ہاسٹل میں آکر وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ چرچ میں ہمارا کیا کام؟ ہم عیسائی نہیں مسلمان ہیں۔ ایک لڑکی نے ہمت کرکے کہا ’’میرا نام حلیمہ ہے جسے تم لوگوں نے تبدیل کرکے ’میری‘ بنادیا‘‘۔ دوسری نے کہا ’’میرا نام مریم ہے جسے تم نے ’مارگریٹ‘ میں بدل دیا‘‘۔ تیسری نے کہا ’’میرا نام خدیجہ ہے جسے تم نے ’الزبتھ‘ کردیا‘‘۔

اسی طرح بیس پچیس بچیوں نے یکے بعد دیگرے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس کے نتیجے میں انھیں دھمکیاں بھی دی گئیں اور انھیں سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کردیا گیا۔ مقامی آبادی میں اس واقعے سے خاصی ہلچل پیدا ہوئی۔ پھر یہ مسئلہ مسلمان ممبر پارلیمان حاجی محمد خولے خولے نے اسمبلی میں اٹھایا اور ان بچیوں کو ان کے سرٹیفکیٹ دلوائے۔ حاجی خولے خولے اسی خطے کے قدرے فاصلے پر ایک شہر مرسابت (Marsabit) سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ملک میں اُس زمانے میں چوںکہ ایک ہی سیاسی پارٹی تھی، اس لیے وہ بھی اس پارٹی کے رکن تھے۔ ان سے میری ذاتی دوستی تھی۔ ایک بار ہم نے اکٹھے حج بھی کیا تھا۔ گربت اللہ میں اس واقعے کے بعد اسلامک فائونڈیشن کے سینٹر میں بہت سی بچیاں داخل ہوئیں۔

مچاکوس (Machakos) نیروبی سے 61کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب ضلعی صدر مقام ہے۔ یہاں اسلامک فائونڈیشن کا ایک دینی تعلیمی ادارہ بہت اچھی عمارت کے ساتھ شہر کے مرکز میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں ہاسٹل بھی تھا اور طلبہ کے لیے تعلیم کے علاوہ کھیل کود کی سہولت بھی موجود تھی۔ یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اسکول کی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔ یہ اسکول بھی اسلامک فائونڈیشن نے قائم کیا تھا، مگر بعد میں ایک ایم او یو کے ذریعے وزارتِ تعلیم، حکومتِ کینیا کے ساتھ معاہدہ ہوا کہ اسکول کی عمارت کی ملکیت تو فائونڈیشن کی ہوگی جبکہ اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات حکومت ادا کرے گی۔ حکومت طلبہ سے حسبِ ضوابط و قواعد فیس وصول کرسکے گی تاہم مچاکوس اسلامک سینٹر کے طلبہ کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ یہ ہائی اسکول ہے جو اب تک حکومت کے زیر اہتمام چل رہا ہے۔ اسلامی مرکز بوجوہ بند کردیا گیا ہے۔ اب نئے سرے سے اسے بحال کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

کسائونی (Kisauni) نیروبی سے 485کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف واقع ایک خوب صورت چھوٹا سا شہر ہے۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے بعد ملک کا دوسرا بڑا شہر ممباسہ جو بہت بڑی بندرگاہ اور سیاحت کا مرکز ہے، نیروبی سے 482کلومیٹر دور ہے، اور کسائونی ممباسہ سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اب تو کسائونی کی آبادی ممباسہ شہر سے تقریباً مل گئی ہے۔ یہاں پر ایک بڑا قیمتی اور وسیع قطعہ زمین ایک میمن تاجر حاجی قادر دینہ مرحوم نے وقف کیا تھا جس پر ایک بہت بڑا ادارہ قائم کیا گیا۔ اس میں اعلیٰ دینی تعلیم اور عصری تعلیم کے ساتھ بہترین ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔ درمیان میں مالی مشکلات کی وجہ سے اس ادارے کا کام بھی خاصا متاثر ہوگیا تھا۔ اب بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔(جاری ہے)