ہم جس مملکتِ خداداد، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں، بدقسمتی سے وہ اسلامی ہے نہ جمہوری، اور نہ ہی کسی بھی پہلو سے اس کے پاک ہونے پر اظہارِ اطمینان کیا جا سکتا ہے۔ بگاڑ اس کے ہر شعبے کا طرۂ امتیاز بن چکا ہے۔ کسی محفل میں بیٹھے ہوں، کسی گفتگو میں شریک ہوں، ہر جگہ آپ کو اسی ہمہ نوع بگاڑ کی شکایات سننے کو ملیں گی، خصوصاً نوجوان نسل اس صورتِ حال سے نہایت پریشان اور مایوسی کا شکار دکھائی دیتی ہے، اور اصلاح کے امکانات سے ناامید ہوکر نوجوانوں کی بھاری اکثریت ترکِ وطن پر آمادہ اور تیار محسوس ہوتی ہے۔ یہ تو بھلا ہو بیرونی دنیا کا کہ جہاں آبادکاری کے قوانین ترکِ وطن کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور تارکینِ وطن کو قبول کرنے میں سخت رکاوٹیں حائل ہیں، اگر یہ عمل کہیں آسان ہوتا تو شاید اب تک وطنِ عزیز کی آبادی کی اکثریت نقل مکانی کرچکی ہوتی۔ بھاری رقوم خرچ کرکے اور جان جوکھوں میں ڈال کر آئے روز ڈوبتی کشتیوں کے مسافر بننے والے پاکستانیوں کی اموات کے باوجود اس سلسلے کا پھیلتے چلے جانا ہمارے اس دعوے کا بیّن ثبوت ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ باقی دنیا خصوصاً مہذب، خوش حال اور ترقی یافتہ ہونے کے دعویدار ممالک میں بھی کہیں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہتیں، نہ ہی وہاں نوٹ درختوں سے توڑ کر موج میلے اور عیش و عشرت کا سامان دستیاب ہے۔ معاملہ ’’دور کے ڈھول سہانے‘‘ سے مختلف نہیں۔ وہاں موجود غیر ملکیوں کو درپیش مصائب، مشکلات، اور مسائل کی داستانیں سننا بھی آسان نہیں، تاہم کچھ فرق تو ہے جو لوگ اس جانب سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے بھی تکلیف دہ ہے کہ کسی کو اصلاح کی پروا تک نہیں۔ وہ جو شاعر نے کہا تھا، حقیقتِ حال اس سے بھی بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے:
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
حکمران طبقہ جس کی یہ ذمہ داری تصور کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے کو بڑھتی ہوئی برائیوں اور بگاڑ سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا، خود گردن تک اس دلدل میں دھنس چکا ہے۔ وہ ادارے جن کا کام عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے، اپنی اپنی بالادستی کے لیے باہم دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی عدالتِ عالیہ کے ایک فاضل جج جسٹس محسن کیانی نے یہ کہہ کر ملکی اداروں کے ذمہ داران کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی کہ ’’عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت ریاست کے تمام ستون زمیں بوس ہوچکے ہیں، یہاں رہنا مستقل لڑائی ہے، چوبیس پچیس کروڑ لوگوں میں لڑائی کرنے والے زیادہ اور بچنے والے کم ہیں، ریاست کا ستون عدلیہ تو ہوا ہی میں معلق ہے، پھر بھی ہم مایوس نہیں ہیں‘‘۔ فاضل جج کا یہ بیان براہِ راست کسی ادارے پر حملہ نہیں تھا بلکہ ملک کی مجموعی صورتِ حال کا عکاس تھا، مگر قومی اسمبلی کے اسپیکر محترم ایازصادق نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور انہیں پارلیمنٹ کی سپر میسی خطرے میں دکھائی دینے لگی، چنانچہ انہوں نے فاضل جج کے بیان پر فوری ردعمل دینا اپنی انا کی تسکین کے لیے ضروری خیال کیا اور فرمایا کہ ’’کوئی بھی پارلیمنٹ کے بارے میں بیان دینے کا حق نہیں رکھتا، معزز جج تک یہ بات پہنچائی جائے کہ یہ پارلیمنٹ کے لیے قابلِ قبول نہیں… اس طرح نظام نہیں چلتا، میں یہ برداشت نہیں کروں گا… یہ اس پارلیمنٹ پر حملہ ہے‘‘۔ اسپیکر ایاز صادق نے وفاقی وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ جج کو یہ پیغام پہنچائیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ محترم اسپیکر صاحب کی طبع نازک پر جو بات گراں گزری ہے کون نہیں جانتا کہ ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ پارلیمنٹ میں کس طرح اور کس کی ہدایت پر قانون سازی ہوتی ہے، عدالتوں کے فیصلوں کے لیے رہنمائی کہاں سے فراہم کی جاتی ہے، اور انتظامیہ کس کے حکم پر فارم 45 کے نتائج کو نظرانداز کرکے فارم 47 کی بنیاد پر ارکانِ اسمبلی کے لیے کامیابی کے پروانے جاری کرتی ہے، اور پھر کس کی خواہش اور مرضی پر وفاق اور صوبوں میں حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔
محترم اسپیکر صاحب نے عدالتِ عالیہ کے فاضل جج کی رائے پر ردعمل تو دے دیا مگر وہ کس کس کی زبان پکڑیں گے! اخبارات میں جس روز فاضل جج کی رائے اور محترم اسپیکر صاحب کا ردعمل شائع ہوا ہے، اسی روز کے اخبارات میں قومی احتساب بیورو، جس کے پَر ہماری پارلیمنٹ ہی نے کاٹ کر اسے پرواز کے قابل نہیں چھوڑا، اس کے باوجود اس کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ صاحب کا ایک خاصا تلخ و ترش بیان بھی شائع ہوا ہے کہ ’’کشمیر کی زمین سے زیادہ کراچی میں زمین کا مسئلہ ہے، سندھ کی زمینوں میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی جاری ہے، کراچی میں ساڑھے سات ہزار ایکڑ زمینوں میں جعل سازی ہے اور تین ہزار ارب روپے کی خوردبرد کی گئی ہے، یہ فائلیں کھول دیں تو دنگل مچ جائے گا۔ ایل ڈی اے، کے ڈی اے اور ایم ڈی اے وغیرہ کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے بائیس برس سے الاٹیز کو قبضے نہ دینا افسوس ناک ہے‘‘۔ یہ تو اندرون ملک کے عدل و احتساب کے اداروں کی شہادت ہے کہ ہمارا نظام کس قدر گل سڑ چکا ہے، مگر اسی روز شائع ہونے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ بھی بہت سے حقائق سے پردہ کشائی کرتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ’’پاکستان میں بدعنوانی مزید بڑھ گئی ہے اور دو درجے کمی کے بعد 180 ممالک میں پاکستان 135 ویں نمبر پر آکر دنیا کا 46 واں بدعنوان ترین ملک بن چکا ہے، خطے کی صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اُن ممالک میں سے ایک ہے جو بدلتے رجحان کے خلاف کھڑے ہیں، کہ یہاں عوامی وسائل کے غلط استعمال کے انڈکس کا اسکور بیس سے کم ہوکر اٹھارہ تک گر گیا ہے‘‘۔ قومی و بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اور اعداد و شمار کے بعد ملک میں امانت و دیانت کی علامت واحد سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا اسی روز کے اخبارات میں شائع ہونے والا بیان بھی خاصا حقائق کشا ہے کہ ’’جعلی مینڈیٹ والے حکمران کراچی میں ٹریفک قوانین پر بھی عمل نہیں کرا سکے، ڈیڑھ ماہ میں ڈمپرز اور ٹینکرز نے سو سے زائد جانیں لے لیں، کراچی میں گورننس ہے نہ عوام کو ریلیف مل رہا ہے، بلکہ نوجوانوں کی تعلیمی نسل کُشی کی جا رہی ہے اور دہرے ڈومیسائل بناکر انہیں داخلوں تک سے محروم کیا جارہا ہے‘‘۔ اپنوں اور پرایوں کی زبانی سامنے آنے والے ان حقائق کے بعد سوال یہ ہے کہ ان حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات میں آخر لوگ ترکِ وطن نہ کریں تو کیا کریں؟ وہ اگر وطن میں رہنے پر ڈوبتی کشتیوں کے مسافر بن کر جان دینے کو ترجیح دیتے ہیں تو آخر کیا غلط کرتے ہیں؟ اللہ ہمارے حکمرانوں کو اصلاحِ احوال کے لیے سنجیدگی سے سوچنے اور عملی اقدامات کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
(حامد ریاض ڈوگر)
