قیدیوں کی رہائی کے بارے میں صدر ٹرمپ کا الٹی میٹم اہلِ غزہ نے نظر اندازکردیا ،غزہ بے دخلی منصوبہ کلیسائے روم نے مسترد کردیا،نصف کے قریب اسرائیلی شہری ذہنی دبائو کا شکارہیں
غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام بلکہ نسل کشی کے 500 دن مکمل ہوگئے، اور اب جنگ بندی کا مستقبل بھی مشکوک نظر آرہا ہے۔ اچانک پیدا ہونے والی غیریقینی صورتِ حال کے ذمہ دار امریکی صدر ٹرمپ ہیں۔ مہینوں بات چیت کے بعد اسرائیل اور اہلِ غزہ تین مرحلوں پر محیط مفاہمت کی ایک تجویز پر متفق ہوئے تھے، جس کے مطابق 6 ہفتوں پر مشتمل پہلے مرحلے میں عارضی جنگ بندی ہوگی اور 1904 فلسطینیوں کے عوض ضعیف، بیمار، خواتین اور کم عمر بچوں سمیت 33 اسرائیلی رہا کیے جائیں گے۔ معاہدے کے ایک ضامن سابق امریکی صدر جوبائیڈن کے مطابق یہ بھی طے پایا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے 6 ہفتوں کے دوران دیرپا اور مکمل جنگ بندی کے لیے مذاکرات ہوں گے اور ان کے منطقی انجام تک تلواریں نیام میں رہیں گی۔
پہلے مرحلے پر9 فروری تک معاملہ ٹھیک چل رہا تھا۔ معاہدے کے مطابق غزہ کو تقسیم کرنے والی خونیں لکیر ’نظارم راہداری‘ (Netzarim Corridor) سے اسرائیلی فوج بھی ہٹالی گئی اور بمباری کے دوران شمالی غزہ سے جنوب کی طرف ہجرت کرجانے والے فلسطینی اپنے گھروں کو واپس آنا شروع ہوگئے۔ اُس وقت تک اہلِ غزہ 16 اسرائیلیوں اور 5 تھائی باشندوں کو رہا کرچکے تھے کہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی غیر معمولی آئوبھگت سے وزیراعظم نیتن یاہو شوخی پر اتر آئے۔ شمالی غزہ کی طرف آنے والے قافلوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، کئی مقامات پر واپس آتے نہتے لوگوں کو ٹینک کے گولوں اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، امدادی سامان خاص طور سے خیمے، عارضی مکانات اور ایندھن لانے والے ٹرکوں کو روک دیا گیا۔ اس پر ضامنوں کے نام ایک سندیسے میں غزہ کے بانکوں نے کہا کہ مزاحمت کار امن معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق عمل کررہے ہیں۔ نظارم راہداری سے پسپا ہونے والی اسرائیلی سپاہ ہمارے نشانے پر تھیں لیکن ہم نے اپنے ہاتھ باندھے رکھے۔ دوسری جانب اسرائیل امدادی ٹرکوں کا راستہ روک کر، اور گھر واپس آنے والے فلسطینیوں کو دہشت زدہ کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کی بنا پر 15 فروری کو ہونے والا تبادلہ اہلِ غزہ نے معطل کردیا۔ تاہم انھوں نے یقین دلایا کہ قبضہ گردوں کی جانب سے معاہدے کی پاسداری تک مزاحمت کار بھی اپنے عہد پر قائم رہیں گے کہ ہمارے رب نے وعدے کی پاسداری کا حکم دیا ہے۔
اس خبر پر صد ٹرمپ کو تو گویا آگ لگ گئی۔ اپنے مخصوص دانت پیستے لہجے میں انھوں نے کہا کہ اگر 15 فروری 12 بجے دوپہر تک تمام کے تمام اسرائیلی قیدی رہا نہ کیے گئے تو عارضی جنگ بندی ختم کرکے غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اب قسطوں میں رہائی قابلِ قبول نہیں، سب کو فوراً رہا کرو۔ غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر اصرار کرتے ہوئے وہ متکبرانہ لہجے میں بولے کہ اگر اردن اور مصر نے غزہ مہاجرین کو قبول نہ کیا تو ان کی امداد منسوخ کردی جائے گی۔ مصاحبین اور درباریوں کو مصرع طرح ملنے کی دیر تھی، کیا وزیرخارجہ مارکو روبیو اور کیا وزیردفاع و قومی سلامتی کے مشیر… سب ہی نے آتشیں غزلیں بلکہ دو غزلے ارشاد فرمانے شروع کردیے۔ اس ہلہ شیری پر نیتن یاہو نے جرنیلوں کو 15 فروری کی رات سے دوبارہ بمباری کا حکم دے دیا۔ قوم کے نام خطاب میں انھوں نے کہا کہ اگر ہفتے کی دوپہر تک ہمارے قیدی رہا نہ ہوئے تو جنگ بندی ختم ہوجائے گی اور اسرائیلی فوج حماس کی مکمل شکست تک شدید لڑائی جاری رکھے گی۔ دلچسپ بات کہ اس آتش فشانی پر اہلِ غزہ کی طرف سے جواب آنے سے پہلے ہی اسرائیلی سڑکوں پر آگئے۔ قیدیوں کی رہائی اور امن معاہدے کی پاسداری کے لیے لواحقین نے اسرائیلی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کا گھیرائوکرلیا۔ چوراہوں پر ٹائر جلائے گئے۔ تل ابیب میں امن کی علامت کے طور پر سفید چھتری کے ساتھ قیدیوں کے لواحقین نے دھرنا دیا جس پر اسرائیلی میڈیا نے سرخی جمائی کہ صرف غزہ ہی نہیں بلکہ تل ابیب کی سڑکوں پر بھی مزاحمت کاروں کا راج ہے۔ اسی کے ساتھ یمن کے ایران نواز حوثیوں نے دھمکی دی کہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں حوثی اہلِ غزہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اسرائیل نہ بھولے کہ ہمارے ہاتھ اس وقت بھی لبلبی یا Trigger پر ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے جنگی جنون پر مشتعل ہونے کے بجائے مزاحمت کاروں نے انتہائی شائستہ لیکن دوٹوک انداز میں کہا کہ دھمکیوں کا کوئی فائدہ نہیں، معاہدے پر عمل درآمد میں سب کا بھلا ہے۔ اگر اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتا ہے تو امن منصوبے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے اور امن کی راہ پر آگے بڑھنے کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔
اسی دوران اردن کے بادشاہ عبداللہ چہارم صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شاہِ اردن نے بہت محتاط رویہ اختیار کیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اہلِ غزہ کو اردن بسانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم 2000 بیمار فلسطینی بچوں کو اردن لے جارہے ہیں۔ شاہ صاحب نے تجویز دی کہ ٹرمپ منصوبے کو ایسے نافذ کیا جائے جوسب کے مفاد میں ہو، اس معاملے میں ہمیں مصر اور دوسرے عرب رہنمائوں کے جواب کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس پر صدر ٹرمپ نے گرہ لگائی کہ ’’میں 99.9فیصد پُراعتماد ہوں کہ مصر مان جائے گا‘‘۔ جب کسی صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ’’کیا وہ غربِ اردن کے اسرائیل سے الحاق کی حمایت کرتے ہیں؟‘‘ تو انھوں نے کہا ’’الحاق تو ہوہی رہا ہے اور بہت اچھی طرح ہورہا ہے‘‘۔ اس دوران شاہ صاحب خاموش رہے۔ اپنے دوست کو شرمندگی سے بچانے کے لیے صدر ٹرمپ نے کہا ’’ہماری ملاقات میں اس معاملے پر بات نہیں ہوئی۔‘‘
جہاں تک مصر کا تعلق ہے تو جنرل السیسی نے 18فروری کو امریکہ آنے کی دعوت پر صدر ٹرمپ سے معذرت کرلی ہے۔ اہلِ غزہ کی وطن بدری کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے جنرل السیسی نے کہا کہ عرب ممالک فلسطینیوں کو بے دخل کیے بغیر غزہ کی تعمیرنو کا منصوبہ بنارہے ہیں۔
ادھر اسرائیلی حکومت دہرا کھیل کھیل رہی تھی، یعنی جرنیلوں کے اجلاس کی میڈیا پر خوب تشہیر کی گئی اور تاثر یہ ابھرا کہ ہفتے کی شام خوفناک بمباری کا دوبارہ آغاز ہوگا، لیکن امدادی قافلوں کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹاکر نیتن یاہو معاہدے کی پاسداری پر بلا اعلان راضی ہوگئے۔ چینل 12 کے مطابق قطر پیغام بھجوایا گیا کہ اگر مزاحمت کار معاہدے کی شرائط کے مطابق ہفتے کے روز قیدیوں کے چھٹے گروپ کو رہا کردیں تو اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر عمل جاری رکھے گا۔ معاملہ ٹھنڈا رکھنے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان امر دوستری نے کابینہ کے وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ کے بارے میں کوئی انٹرویو نہ دیں اور بیان بازی سے پرہیز فرمائیں۔
امدادی قافلوں کے راستے سے رکاوٹ ہٹتے ہی اہلِ غزہ نے اعلان کیا کہ 15 فروری کو 3 اسرائیلی قیدی رہا کیے جائیں گے جن میں روسی و اسرائیلی دہری شہریت کے حامل ساشا طرفانوف اور امریکی و اسرائیلی شہری ساقی دیکل شن شامل ہیں۔ اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی اعلامیے میں کہا گیا کہ ’’یہ قدم ٹھیک ہے لیکن Ok نہیں‘‘۔ جمعہ کی شام خان یونس میں اسٹیج سج گیا۔ وہاں نصب ایک بینر پر صدر ٹرمپ کے غزہ سے انخلا کا شائستہ جواب عبرانی و عربی میں درج تھاکہ ’’ہجرت تو بس القدس ہی کی طرف ہوگی‘‘۔ اسرائیلی قیدیوں کو تقریبِ حوالگی تک غنیمت میں ہاتھ آئی اسرائیلی فوجی گاڑیوں پر لایا گیا۔ مزاحمت کاروں کی وردی بھی اسرائیلی فوجیوں کی تھی جسے اہلِ غزہ نے 7 اکتوبر کو فوجی چھائونیوں سے ہتھیایا تھا۔
معاہدے کے مطابق تین اسرائیلیوں کے عوض 369 فلسطینی رہا کردیے گئے۔ ان افراد کو اسرائیل کے قومی نشان چھ کونے والے ستارہ داؤدؑ کی ٹی شرٹ پہنائی گئی جس پر عربی میں لکھا تھا’’ہم بھولیں گے نہ معاف کریں گے‘‘۔ اگلے چند دنوں اور ہفتوں میں اسرائیلی قیدیوں اور باقیات کی حوالگی کچھ اس طرح ہوگی:
٭جمعرات 20 فروری: 4 اسرائیلیوں کی لاشیں اقوام متحدہ کے حوالے کی جائیں گی۔
٭ہفتہ 22 فروری: 3 اسرائیلی قیدی رہا ہوں گے۔
٭جمعرات27 فروری: مزید 4 لاشیں اقوام متحدہ کے سپرد کی جائیں گی۔
٭اتوار 2 مارچ: دس سال پہلے پکڑے گئے دو افراد سمیت تین مزید قیدی چھوڑے جائیں گے۔
اتوار 16 فروری کی دوپہر، مشرق وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے واشنگٹن میں قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والز کے ہمراہ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات رواں ہفتے شروع ہوجائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر وہ اسرائیلی و قطری وزرائے اعظم اور مصر سراغ رسانی کے سربراہ حسن رشد سے رابطے میں ہیں۔ دلچسپ بات کہ ایک دن قبل تمام قیدیوں کی رہائی سے پہلے مزید بات چیت نہ کرنے کا اعلان کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نے مسٹر وٹکوف کے بیان کے فوراً بعد مذاکرات میں اسرائیل کی شرکت پر آمادگی ظاہرکردی۔ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے بھی رائے دی کہ جنگ کے دوبارہ آغاز سے غزہ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، اس لیے کہ فوجی طاقت سے مزاحمت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ صرف تین دن پہلے انھوں نے کہا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی ختم کرنے کے حامی ہیں تاکہ مزاحمت کاروں کو ختم کردیا جائے۔ ان باتوں سے امید پیدا ہورہی ہے کہ غزہ کا امن کم از کم اگلے چند ہفتے برقرار رہے گا۔ تاہم اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ غزہ کی طرف آنے والے عارضی مکانات (mobile homes)اور ایندھن سے لدے ٹرکوں کے راستے میں اسرائیلی فوج نے دوبارہ رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جس کی تصدیق کرتے ہوئے وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے کا ہنگامی کابینہ جائزہ لے رہی ہے۔
غزہ کے ساتھ شمالی غربِ اردن میں بھی صورتِ حال خراب ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنین، تلکرم، اس کے مضافات میں قائم نورشمس خیمہ بستی اور وادی اردن کی فارعہ خیمہ بستی سے 76 ہزار فلسطینیوں کو بے دخل کیا جاچکا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے International Federation for Human Rights (FIDH) نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مہذب دنیا اس غیر انسانی سلوک کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالے۔ غزہ بے دخلی منصوبے پر کلیسائے روم نے بہت سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ویٹی کن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ Pietro Parolinنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ سے no deportationہمارا اصولی مؤقف ہے جس میں لچک تو کیا، بات چیت کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
نیتن یاہو کے شوقِ کشور کشائی نے جہاں غزہ اور غربِ اردن کے لاکھوں فلسطینیوں کو تباہ کردیا، وہیں اسرائیلی بھی اس وحشت کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ مرکزی ناظم حسابات (Comptroller General) میتن یاہو انگلمین نے ذہنی صحت کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق جنگ کے نتیجے میں تیس لاکھ بالغ اسرائیلی شہریوں کو اضطراب، افسردگی اور پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی علامات کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی کُل یہودی آبادی 72 لاکھ ہے، یعنی ملک کے نصف کے قریب لوگ اس جنگ سے ذہنی طور پر متاثر ہیں۔
نسل کشی کے ذمہ داروں کا تعاقب بھی جاری ہے۔ اسرائیلی محفوظ دستے کا ایک سپاہی یووال وگدانی (Yuval Vagdani)جب تعطیلات منانے برازیل آیا تو مجرموں کا پیچھا کرنے والی ہند رجب فائونڈیشن نے عالمی فوجداری عدالت (ICC) کے فیصلے کی بنیاد پر اس فوجی کے خلاف پرچہ کٹوا دیا۔ دلائل اتنے جان دار تھے کہ موصوف کی گرفتاری کا پروانہ جاری ہوگیا۔ تاہم اسرائیلی خفیہ ایجنسی بھی غافل نہ تھی، راتوں رات یووال وگدانی کو برازیل سے فرار کرادیا گیا۔
اور آخر میں فلسطین دشمنی کے ایک اندھے مظاہرے کا ذکر۔ میامی بیچ (فلوریڈا) میں پولیس نے ایک 27 سالہ انتہا پسند یہودی مردخائے برافمین (Mordchai Brafman) کو گرفتار کیا ہے، جس نے اسرائیل سے تفریح کے لیے امریکہ آنے والے یہودی باپ بیٹے کو فلسطینی سمجھ کر قتل کرنے کی کوشش کی۔ مردخائے پر قتل کی ’’کوشش‘‘ کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور فردِ جرم میں نفرت پر مبنی حمہ یا hate crimeکاالزام نہیں لگایا گیا۔
آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

