معروف کالم نگار نثار لغاری نے بروز پیر 17 فروری 2025ء کو کثیرالاشاعت سندھی روزنامہ ’’عوامی آواز‘‘ سکھر کے ادارتی صفحے پر چھپنے والے اپنے زیرنظر کالم میں جو خامہ فرسائی کی ہے اس کا اردو ترجمہ قارئین کی معلومات اور دل چسپی کے لیے پیش خدمت ہے:
’’یہاں پر ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے، لیکن اب تو عالمی ادارے بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان دنیا کا کرپٹ ترین ملک ہے۔ کرپشن اور رشوت خوری اس وقت ایسے ناسور ہیں جنہوں نے سب کچھ ہی تباہ و برباد کرڈالا ہے۔ کرپشن کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کا درجہ اور بھی نیچے ہے۔ بدعنوانی بڑھنے کے اسباب آخر کیا ہیں؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسپشن انڈیکس رپورٹ 2024ء جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے اور پاکستان 180 ممالک کی فہرست میں 135 ویں نمبر پر ہے جو اسے دنیا کا 46 واں بدعنوان ترین ملک بناتا ہے۔ کرپشن میں سب سے آگے پولیس، عدلیہ، سرکاری ٹھیکے دینے والے ادارے اہم مراکز ہیں۔ پاکستان کا اسکور 100 میں سے 27 ہے جو گزشتہ برس کے 29 ویں نمبر سے کم ہے، اور اس کمی سے یہ صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں مزید اضافہ ہوا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان میں کرپشن کی سب سے بڑی وجہ نظامِ انصاف، سماجی رویّے اور مشکل معاشی صورتِ حال ہے جس میں کرپشن کو ایک عام سا عمل سمجھا جاتا ہے، اور یہ کمی اب دن بہ دن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے، یعنی بدعنوانی کے عمل میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کی اصلاح کے لیے کوئی خاص کوششیں بھی روبہ عمل ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرپشن پرسپشن انڈیکس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے آٹھ مخلف ذرائع بروئے کار لائے گئے ہیں۔ ’’ورائٹیز آف ڈیموکریسی پراجیکٹ‘‘ میں پاکستان کا اسکور20 سے کم ہوکر 14 پر آن پہنچا ہے، جب کہ ’’اکنامک انٹیلی جنس یونٹ‘‘ میں اسکور 20 سے کم ہوکر 18 ہوگیا ہے۔
ڈنمارک کو سب سے کم بدعنوان ملک قرار دیا گیا ہے، جب کہ جنوبی سوڈان، صومالیہ اور وینزویلا کو سب سے کرپٹ ترین ممالک قرار دیا گیا ہے۔ ایران، عراق اور روس میں بھی کرپشن میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس 154 ویں نمبر پر ہے۔ افغانستان 165 اور بنگلہ دیش 151 ویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔ ہر ملک کے لیے ہی اس کا انفرادی اسکور شمار کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کی درجہ بندی طے کی جاتی ہے۔ اسکور کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے عوامی شعبے (پبلک سیکٹر) میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوام کا تاثر کیا ہے؟ اگر کسی ملک کا اسکور صفر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملک انتہائی کرپٹ ہے، اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا وہاں پر کسی نوع کی کوئی بھی بدعنوانی نہیں ہے۔ اس اسکور کی بنیاد پر ہی ملکوں کی درجہ بندی کی جاتی ہے، اور اگر فہرست میں ممالک کی تعداد بڑھ جائے تو درجہ بندی بھی اس صورت میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ بندی سے بھی کہیں زیادہ کسی ملک کا اسکور اہمیت رکھتا ہے جو کسی بھی ملک میں ہونے والی کرپشن میں بڑھوتری یا کمی کی پیمائش کا معیار ہے۔ پاکستان کے لیے سالِ گزشتہ اس حوالے سے بہت زیادہ خراب رہا ہے اور 2015ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا اسکور 30 سے بھی کم ہوگیا ہے۔ پلڈاٹ کے سربراہ اور تجزیہ نگار احمد بلال محبوب کے مطابق ملک میں ’’رول آف لا‘‘ یا ’’قانون کی حکمرانی‘‘ میں کمی واقع ہوئی ہے اور حکومت کے لیے کسی بھی بدعنوان شخص پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے مخالفین کے خلاف تو کارروائی ہورہی ہے لیکن اپنے لوگوں کے لیے نرم رویہ اختیار کیا جارہا ہے اور ان کی کرپشن کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ کچھ وقت پہلے موسمیاتی تبدیلی کے نام پر متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے پاکستان میں آنے والی مالی امداد میں بھی بے قاعدگیاں دیکھی گئی ہیں۔ یہ سب اہم اسباب ہیں جن کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ احمد بلال محبوب نے مزید کہا کہ ہمارا نظامِ انصاف کمزور ہونے کی وجہ سے بھی بہت سارے خلا پیدا ہوچکے ہیں، اگر کسی کے پاس کوئی اچھا وکیل ہو تو وہ شخص بدعنوانی یا قتل کے کیس سے بھی بآسانی بچ سکتا ہے۔ انصاف کے اس نظام میں محض عدالتیں ہی شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سارے ادارے شامل ہیں جو کرپشن کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لیے قائم کیے گئے ہیں مثلاً نیب، ایف آئی اے اور پولیس وغیرہ۔ یہی نہیں بلکہ یہ ادارے سیاسی دبائو کی وجہ سے بھی کمپرومائز کررہے ہیں جس کی بنا پر کرپشن میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
سینٹر فار ایرواسپیس اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کے تجزیہ نگار ڈاکٹر عثمان چوہان کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ریٹنگ صرف اس بنیاد ہی پر نہیں ہوتی کہ کسی ملک میں کتنی کرپشن بڑھی ہے، بلکہ دیگر ممالک کی ریٹنگ بہتر ہونے کی وجہ سے بھی کسی ملک کی ریٹنگ کم ہوسکتی ہے۔ پاکستان سمیت جو ممالک 130 تا 140 کی ریٹنگ میں ہیں ان سب کی صورتِ حال لگ بھگ یکساں ہے، اور ان کی ریٹنگ میں کوئی بڑا فرق دیکھنے میں نہیں آسکا ہے۔ ڈاکٹر موصوف کے مطابق کرپشن کا درست اندازہ لگانا کوئی اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔ یہ زیادہ تر اندازوں اور کبھی کبھی تعصب کی بنیاد پر بھی بنایا جاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں دو پوائنٹس کی کمی سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔

