نقوشِ دوراں (خودنوشت)

محترم کلیم اکبر صدیقی صاحب کی خودنوشت نہایت دلچسپ اور خاصے کی چیز ہے۔ کہنے کو تو یہ ان کی اور ان کے خاندان کی داستان ہے، مگر درحقیقت یہ ہماری مٹتی ہوئی تہذیب کے روشن اور درخشاں پہلوئوں کی دلکش جھلک ہے۔ صلۂ رحمی کی صفت کے گارے سے تعمیر کیے ہوئے اس خاندان کے نظام کی مضبوط عمارت کا تعارف ہے، جو اسلامی تمدن کے بیش بہا عطیات میں سے ایک قیمتی عطیہ ہے۔ مغرب میں اس خاندانی نظام کی بنیادیں کھوکھلی ہوچکی ہیں اور اب لاولد مغرب الفت، محبت، رحمت اور رافت کے رشتوں کو ترس رہا ہے۔ فطرت نے انسان کو اپنے قریبی رشتوں سے جو بے لوث محبت ودیعت فرمائی ہے وہ مغرب کی ہوس ناکیوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ ہرچندکہ ہمارے ہاں بھی ہر ممکن طریقے سے کوشش کی جارہی ہے کہ ہمارا یہ محبت بھرا خاندانی نظام بکھیر کر رکھ دیا جائے، حیا اور حجاب کی ثقافت کو بے ہودگی اور بے حیائی کی سرگرمیوں سے روند ڈالا جائے، اور نکاح سے قائم ہونے والے ایثار بھرے رشتوں کی جگہ نئی نسل میں ناجائز تعلقات قائم کرنے کے ہوس بھرے خودغرضانہ جذبات کو فروغ دیا جائے، مگر الحمدللہ! ہمارے معاشرے میں ابھی کثیر تعداد میں ایسے پاکیزہ مزاج لوگ موجود ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو اپنے خاندانی نظام کے مضبوط قلعے میں زمانے کی ہوس ناک دست برد سے بچاکر رکھا ہے اور ان کے بچے آج بھی اطمینان و سکون اور الفت و محبت سے بھری ہوئی عائلی زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

جناب کلیم اکبر صدیقی کا خاندان بھی انہی بچے کھچے چند وضع دار خاندانوں میں سے ایک ہے۔ کتاب کی ابتدا میں انہوں نے جتنی تفصیل سے اپنے آبا و اجداد اور اپنے ہم چشم رشتے داروں کا تعارف کرایا ہے، اس سے کتاب کے قاری کو بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ صلۂ رحمی کا جذبہ اور اپنے قریبی رشتے داروں کے تمام احوال سے باخبر رہنے کی روایت ان کے بزرگوں سے نسلاً بعد نسل ان کے خاندان میں منتقل ہوتی چلی آئی۔ کلیم اکبر صدیقی صاحب نے اپنے والدین کی خدمت اور بالخصوص معمر والد کے ادب، احترام اور اُن کے آگے عاجزی سے کندھے جھکائے رکھنے کے جو واقعات بیان کیے ہیں ان کی مثال ہمیں صرف اسلاف کے واقعات میں ملتی ہے۔ کتاب میں ایسے واقعات کا تذکرہ کرکے صدیقی صاحب نے ہماری نئی نسل کے لیے ایک قابلِ تقلید تربیتی مواد شامل کردیا ہے۔ ان کے رشتے داروں کا فرداً فرداً تعارف پڑھنے سے مسلمانوں کی اس تہذیبی روایت سے بھی آگاہی ہوتی ہے، جو اب سے دو نسلوں پہلے تک اپنے شجرۂ نسب کی تفصیلات محفوظ رکھنے کی صورت میں رائج تھی۔ اب اس روایت کو غیر اہم جان کر ترک کردیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سی عادات و صفات جینیاتی طور پر خون سے خون میں منتقل ہوتی ہیں۔ کفو کا خیال رکھنے کے لیے شجرۂ نسب کی حفاظت ایک اچھے خاندان کی تشکیل کا ضروری ذریعہ تھا۔

خاندانی نظام کے تعارف کے بعد کلیم اکبر صدیقی صاحب نے اپنے خاندان کی ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کے واقعات تفصیل سے سنائے ہیں۔ نئی نسل کے قارئین کے لیے ان واقعات میں گہرا سبق ہے۔ ہمارے بچوں کو اندازہ ہونا چاہیے کہ آج وہ جن نعمتوں سے آزادانہ و خودمختارانہ استفادہ کررہے ہیں ان کے حصول کے لیے ان کے آباو اجداد نے کیسی کیسی قربانیاں دی تھیں:

گل نو دمیدہ کو کیا خبر جو ہلاکتیں جو قیامتیں
دلِ شاخِ گل پر گزر گئی ہیں خزاں سے لے کے بہار تک

ہجرت کے بعد پیش آنے والے واقعات میں کلیم اکبر صدیقی صاحب نے اپنے خاندان کے معاشی سفر کی داستان کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور سیاسی سفر کی داستان بھی بیان کی ہے۔ ان کے اکابر جو خاکسار تحریک اور مسلم لیگ سے متاثر تھے بعد میں اس وجہ سے جماعت اسلامی کی نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں شریک ہوگئے کہ مسلم لیگ نے اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ وفا نہیں کیا، یوں ملتان میں ان کا گھر اور ان کے برادر بزرگ عقیل صدیقی کی دکان اس تحریک کا اہم مرکز بن گئی۔

کلیم اکبر صاحب نے اپنے بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی دورِ طالب علمی اور دورِ ملازمت کے بہت سے دلچسپ بلکہ قہقہہ بار واقعات بھی اپنی اس خودنوشت میں شامل کیے ہیں۔ ملک میں پیش آنے والے سیاسی واقعات، سیاسی تبدیلیوں اور ان تبدیلیوں کے معاشی و معاشرتی اثرات کا ذکر بھی اس کتاب میں ملتا ہے۔ کتاب کے صفحات سے گزرتے ہوئے قاری ان ادوار سے بھی گزرتا چلا جاتا ہے جن سے خود صدیقی صاحب گزرے اور جو اب ہمارے ملک کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان تمام قصوں اور واقعات میں بین السطور ہمیں اس خاندانی، دینی اور نظریاتی تربیت کی جھلک بھی صاف نظر آتی ہے، جس نے کلیم اکبر صدیقی صاحب کی شخصیت کی تعمیر میں حصہ لیا۔ نیز اس خودنوشت میں ہمیں اپنے ملک اور معاشرے کے تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی سفر کی داستان ملتی ہے۔ مادی ترقی کہاں سے کہاں تک پہنچی اور اخلاقی زوال کس بلندی سے اب تک کتنی پستی تک آگیا ہے، مطالعہ کرتے ہوئے اس کا احساس بھی ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پہلے ہمارے معاشرے میں کیسے کیسے بلند کردار اور بلند قامت لوگ پائے جاتے تھے، ان کا ذکر بھی کلیم صاحب کی زندگی کے واقعات میں موجود ہے۔

کلیم اکبر صدیقی صاحب کو اپنے بچپن میں مولانا مودودیؒ کے زانوں پر بیٹھنے، ان سے خود اپنے گھر پر فیض اٹھانے اور ان کی خدمت بجا لانے کا شرف حاصل ہوا۔ میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور مولانا گلزار احمد مظاہری جیسے اکابر سے ملاقاتیں رہیں۔ سید منور حسن سے بے تکلفی کے تعلقات تھے اور لیاقت بلوچ صاحب سے تو گویا اب تک یارانہ ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی تحریکی شخصیات کے متعلق اس خودنوشت سے معلومات حاصل ہوتی ہیں اور اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے کیسے دشوار حالات میں یہ بلند قامت لوگ استقامت اور عزم کے ساتھ اپنے مؤقف پر ڈٹے کھڑے رہے۔ کتاب کا اندازِ بیان سادہ، دل نشین اور مجلسی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے بے تکلفی سے گفتگو کررہے ہیں۔ کسی جگہ اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی، وہی کیفیت رہتی ہے کہ ’’وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘‘۔ اس کتاب کا مطالعہ بالخصوص ہماری نئی نسل کے لیے بہت مفید اور معلومات افزا ہے۔ اللہ کلیم اکبر صدیقی صاحب کو اس کارِ خیر اور صدقۂ جاریہ کا بہترین اجر عطا فرمائے، آمین۔