وہی گوشۂ قفس ہے
وہی فصلِ گل کا ماتم
لاہور شہر کے زندۂ جاوید، متحرک اور گوناگوں خصوصیات کے حامل مردِ درویش کی جانب سے یہ شعر چند ماہ قبل فیس بک پر شیئر کیا گیا تو ہر کوئی تڑپ اُٹھا۔ ساتھ اُن کی وہ تازہ تصویر تھی جو دوستوں کے کرب میں مزید اضافہ کررہی تھی۔ میں نے جواباً پوسٹ کیا کہ اللہ کی کبریائی پر پختہ ایمان رکھنے والے آپ جیسے شخص کو امید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے، اور مجھ ناچیز کی رائے میں آپ اس شعر کو ضرورتِ وقتی کے تحت اس طرح کرلیں:
وہی گوشۂ مسرت ہے
وہی فصلِ گل کا موسم
بذلہ سنجی کے لیے مشہور اور محفلوں کو کشتِ زعفران بنائے رکھنے والے اس بندۂ خدا نے کوئی جواب نہ دیا۔ شاید وہ راضی برضا ہوگیا تھا۔ اللہ کی رضا کے سامنے سر جھکائے وہ چھ ماہ تک بیماری سے لڑتا رہا۔ لیکن کب تک! فالج کے باعث بار بار اسپتال گیا اور پھر وینٹی لیٹر پر آگیا۔ آخرکار 2 اور 3 اپریل کی درمیابی شب رات ایک بجے اُس سفر پر روانہ ہوگیا جس کے لیے وہ گزشتہ کئی سال سے تیاری کررہا تھا۔ ہر وقت باوضو، ہر نماز بروقت اور اہتمام کے ساتھ۔ درودِ پاک اور ذکر اذکار کی کثرت۔ دوستوں کے دکھ سُکھ میں پورے جذبے کے ساتھ شرکت۔ ساتھیوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُن کی حوصلہ افزائی کرنے والا یہ شخص جس کے جسم میں پارہ بھرا ہوا تھا، جب 3اپریل کی دوپہر نظام بلاک علامہ اقبال ٹائون کی مسجد عثمان پہنچایا گیا تو اس کی زندگی کا تحرک ختم اور جسم کے اندر کا پارہ بے سدھ ہوچکا تھا۔ چارپائی کے ایک جانب ڈاکٹر اجمل نیازی ڈبڈبائی آنکھوں، کانپتی آواز اور لرزاں ہاتھوں کے ساتھ اُسے اُٹھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ زندگی بھر کے ساتھیوں کو ایک لمحے کے لیے خیال آیا ہوگا کہ شاید وہ ایک بار پھر اُٹھ کر دوستوں کی زندگیوں میں تحرک بھر دے لیکن
جانے والوں کو کبھی روک سکا ہے کوئی
وہ اطمینان کے ساتھ لیٹا رہا کہ اب اسے اپنے رب سے ملاقات کی جستجو تھی۔ باقی ساری خواہشیں اس نے ترک کردی تھیں۔ اجمل نیازی نے جب کہا: ’’اٹھو، دیکھو کتنے دوست ملنے آئے ہیں‘‘ تو سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ صرف افتخار مجاز کی آنکھوں میں نمی آئی نہ چہرے پر کوئی تاثر۔ اس مسجد کی ہر ہر صف پر اُس کی جبینِ نیاز کے ہزاروں سجدے چمک رہے تھے اور آج اسی مسجد میں سیکڑوں افراد اس کی نماز جنازہ ادا کررہے تھے۔ شہر بھر کے ادیب، شاعر، صحافی، ٹی وی اور ریڈیو آرٹسٹ، اساتذہ، صحافت کے طلبہ سب افتخار مجاز کے جنازے میں اُمڈ آئے تھے۔ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور باہر بھی لوگ ایک دوسرے سے تعزیت کررہے تھے۔ ہر شخص اس دکھ کو اپنا ذاتی غم قرار دے رہا تھا۔ جمیل اطہر، ڈاکٹر اجمل نیازی، راشد لاہوری، رئوف طاہر، فرخ سہیل گوئندی، زابر سعید، انوار قمر، نورالعظیم، اداکار عاصم بخاری، احمد حسن شیخ، کامران الطاف قریشی، قیوم نظامی، امجد شاہین، ریاض مسعود اور سیکڑوں دوسرے۔ افتخار مجاز مرحوم کا ہر شخص سے ایک علیحدہ حوالے سے تعلق تھا۔ اور یہ تمام تر تعلق قلبی تھا۔ شعرا، ادباء، صحافی، دانشور، اساتذہ، صحافت کے طلبہ، ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ افراد، دائیں اور بائیں بازو کے جوشیلے سیاسی کارکن، سماجی کارکن، سول سوسائٹی، این جی اوز کے نمائندے، شہر کے فکری فورمز کے کرتا دھرتا… سب اُن کی محبت کے اسیر تھے۔ وہ ہر ایک کی دعوت پر پہنچ جاتے، مفید مشورے دیتے، حوصلہ افزائی کرتے، سب میں محبتیں تقسیم کرتے، قہقہے بکھیرتے اور صلہ و ستائش کی پروا کیے بغیر اپنا کام کرتے رہتے۔
افتخار مجاز پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں میرے سینئر تھے۔ میں جب داخلہ لے کر اس شعبے میں آیا تو یہاں اُن کے قہقہے گونجتے تھے، لطائف پھیلتے تھے، چٹکلے گدگدی کرتے تھے اور پُرلطف ذومعنی جملے جامعہ کی فضا میں ارتعاش پیدا کرتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اُن کی شاعری، خطابت، ظرافت اور صحافت پروان چڑھ رہی تھی۔ اُن کے ہم جماعتوں میں پی ٹی وی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اشرف عظیم، امجد شاہین، ریاض مسعود، ذوالفقار کاظم اورعابد کمالوی جیسے لوگ شامل تھے۔ وہ باقاعدگی سے کلاسی لیتے۔ اساتذہ سے اُن کی بے تکلفی تھی۔ اُن سے گپ شپ لگاتے، آنے جانے والوں پر دلچسپ جملے کستے اور ہنستے کھیلتے ہوئے وہاں سے نکل کر کسی اخبار کے دفتر میں شام تک کام کرتے۔ وقت بچتا تو پاک ٹی ہائوس، نیشنل سینٹر، آرٹس کونسل، حلقۂ اربابِ ذوق کے اجلاس یا کسی علمی، سماجی یا سیاسی تقریب میں چلے جاتے۔ وہ اُس زمانے میں ظہور عالم شہید کے اخبار ’صداقت‘ اور عباس اطہر کے اخبار ’آزاد‘ میں باقاعدہ کام کرتے تھے۔ یونیورسٹی سے فارغ ہوئے تو پی ٹی وی میں اسسٹنٹ پروڈیوسر ہوکر کراچی چلے گئے، باقی زندگی انہوں نے اسی ادارے میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کام کرتے ہوئے گزاری۔ اور ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ اُن کی ریٹائرمنٹ پر اُن کے اعزاز میں جتنی تقریبات ہوئیں اس کی کوئی اور مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ خود اُن کے مرحوم برادرِ بزرگ اعزاز احمد آزاد کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد تو لوگ سلام دعا چھوڑ دیتے ہیں، لیکن مجاز پر اللہ کا خاص انعام ہے۔
مجاز میری نظر میں ایک کامیاب انسان تھے۔ انہوں نے انسانوں کے درمیان بھرپور زندگی گزاری، اور آخرت کی زندگی کے لیے مقدور بھر کوشش کی۔ دورانِ ملازمت ہی انہیں حج کی سعادت نصیب ہوگئی تھی، جس کے بعد وہ مستقل باوضو رہنے لگے۔ نماز بروقت اور باجماعت ادا کرنے کو معمول بنالیا اور فارغ وقت میں ذکر اذکار کرتے۔ بعض دوستوں کے مطابق وہ صبح فجر کے بعد خاصا وقت ذکر اذکار میں صرف کرتے۔ انہیں زندگی سے کوئی گلہ نہیں تھا۔ اپنے رب کی رضا پر راضی تھے۔ بیماری بھی انہوں نے اسی جذبے کے تحت کاٹی۔ جب کوئی حال پوچھتا تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔ کسی فرد، ادارے یا حالات کا گلہ کم ہی کرتے۔ ان کی ذاتی زندگی میں ایامِ جوانی سے ہی کوئی اخلاقی خرابی نہیں تھی۔ بڑے بھائیوں کا، والد کی طرح احترام کرتے۔ اعزاز احمد آزاد کے انتقال پر وہ اس قدر پژمردہ تھے کہ ان کی قلبی کیفیت ان کے چہرے پر آگئی تھی۔ یہ صدمہ انہیں اندر سے توڑ گیا تھا۔ لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔
اس فانی دنیاوی زندگی میں وہ ایک سیلف میڈ انسان تھے۔ وہ کسی چھوٹے سے علاقے سے لاہور آکر پڑھتے رہے۔ دورانِ تعلیم کئی اخبارات میں معمولی معاوضے پر کام کرتے ۔ اس دوران ریڈیو کے لیے بھی کچھ مشقت کرتے۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں کرنٹ افیئرز کے اسسٹنٹ پروڈیوسر ہوئے تو وہاں اعجاز میاں اور اشرف عظیم پہلے سے موجود تھے۔ اشرف عظیم اُن کے یونیورسٹی دور کے کلاس فیلو بھی تھے۔ بعد میں انہیں اُن کے دو کلاس فیلوز امجد شاہین اور مزمل احمد خان نے جوائن کرلیا۔ ٹیلی ویژن پروگراموں کے دوران انہیں موقع پر جاکر رپورٹنگ کرنا ہوتی تھی، پروگرام وہ خود پروڈیوس کرتے یا پھر اسلام آبادکے پروگراموں کی لاہور میں پروڈکشن کرتے۔ اس طرح اُن کا حلقہ وسیع ہوتا گیا، جو کوئی اُن سے ایک بار ملتا، بار بار ملنے کی خواہش کرتا۔ اس عرصے میں سیاست، صحافت، ادب، سماجی امور، اسلامی علوم، ثقافت، موسیقی کے شعبوں سے وابستہ نامور افراد سے اُن کا رابطہ رہا، جو اُن کی موت تک جاری تھا۔ وہ خود شاعر، ادیب اور ادبی نقاد تھے، اس لیے ان حلقوں میں اُن کی پہلے سے موجود شناسائی آہستہ آہستہ پذیرائی میں تبدیل ہوگئی۔ لاہور ٹیلی ویژن سے وہ ’سوچ وچار‘ اور ’دائرہ‘ جیسے پروگرام کرتے رہے۔ انہیں ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے جن کا وہ برموقع خوبصورت انداز میں استعمال بھی کرتے۔ ان کی ذات کی سب سے اہم خوبی ان کی جملے بازی تھی، جو برمحل اور منفرد ہوتی۔ بے تکلف دوستوں کے درمیان وہ ذومعنی جملے بھی اچھال دیتے، لیکن عام مجالس میں ایسے جملے استعمال کرتے جن سے پوری محفل کشفِ زعفران بن جاتی، اور جس پر چوٹ کی گئی ہوتی وہ بھی بدمزہ نہ ہوتا۔ یہ کام وہ اسپتال جانے تک تسلسل کے ساتھ کرتے رہے۔ جو کوئی بلاتا، چلے جاتے۔ جو درخواست کرتا، اُس کے پروگرام کی کمپیئرنگ کردیتے۔ جو کوئی دعوت دیتا اُس کی تقریب میں شریک ہوجاتے۔ کتابوں کی تقریباتِ رونمائی میں بہت اچھی اور سیر حاصل گفتگو کرتے، جس سے اندازہ ہوتا کہ وہ کتاب کا مطالعہ کرکے آئے ہیں اور صاحبِ کتاب کا تاریخ جغرافیہ سب جانتے ہیں۔ راقم کے ساتھ وہ بہت سی ایسی تقریبات میں شریک ہوتے، ہر موقع پر خاکسار کی حوصلہ افزائی کرتے۔ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے فکری فورم میں اہتمام سے آتے۔ صحت و تندرستی کے ساتھ وہ اس فورم کی ایک تقریب میں آخری بار شریک ہوئے۔ اسی تقریب میں راقم نے نظامت کرتے ہوئے انہیں کسی بات پر ٹوک دیا۔ انہوں نے خاموشی سے اسے قبول کرلیا۔ رات کو میں نے اپنی اس حرکت پر اُن سے معذرت کی تو وہ بہت خوش ہوئے اور درگزر سے کام لیا۔ کسٹمر ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر آصف جاہ نے بتایا کہ دو ماہ قبل وہ اس سوسائٹی کی ایک تقریب میں وہیل چیئر پر تشریف لائے مگر کوئی بات نہ کرسکے۔ ان کی آخری پبلک تقریب ادارہ علوم ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی کتاب ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ کی تقریبِ رونمائی تھی، جس میں انہوں نے مجھ جیسے کئی لوگوں کی ستائش کی۔ خود اُن کی تقریر بتارہی تھی کہ وہ پوری کتاب پڑھ کر نہیں، جذب کرکے آئے ہیں۔ انھوں نے کتاب میں بیان کردہ واقعات پر اپنا سیر حاصل تبصرہ کیا۔ کتابیں اُن کی مجبوری تھیں۔ اُن کو سیکڑوں کتابیں ملتیں جنہیں وہ نہ صرف پڑھتے بلکہ موقع ملنے پر ان پر بات بھی کرتے اور کالم بھی لکھتے تھے۔ ہمارے مشترکہ دوست علامہ عبدالستار عاصم نے بتایا کہ وہ بیماری سے پہلے تک اُن کے ادارے کی کئی کتابوں پر کام کرتے رہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ادبی کتابوں پر تبصرے کی طرح بھی انہوں نے ہی ڈالی، ایسے کئی پروگراموں میں وہ خود بھی شریک ہوتے رہے۔ اتنا بھرپور انسان، اس قدر صاف دل اور شفاف کردار کا حامل ادیب، شاعر، کالم نگار اچانک ہمارے درمیان سے اٹھ جائے گا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ مگر یہ حکمِ ربی ہے۔ اللہ اُن کے درجات بلند کرے اور اُن کے اگلے مرحلوں کو آسان فرمادے۔آمین یارب العالمین۔

