مایوسی مغرب کا تلخ چیلنج

ناصر فاروق

(گزشتہ سے پیوستہ)
اگر میں اسٹاربکس (امریکی کافی کمپنی) کا ملازم ہوتا، تو کافی کے کپ میں لوگوں کے ناموں کے بجائے یہ لکھتا ’’ایک دن تم اور ہر وہ انسان جو تم سے محبت کرتا ہے، مرجائے گا۔ وقت کے مختصرسے حصے میں اپنی بات کہنے اور برتنے والا یہ انسانی گروہ فنا ہوجائے گا، کسی کوکوئی فرق نہ پڑے گا۔ یہ زندگی کی تلخ سچائی ہے۔ اور جو کچھ تم سوچتے ہو اور کرتے ہو، اس سچائی سے گریز کے سوا کچھ نہیں۔ ہم کائنات کی دھول ہیں، ہماری کوئی منزل نہیں۔ ہم اپنی اہمیت متصور کرتے ہیں۔ ہم اپنی غایت تراشتے ہیں… جب کہ ہم حقیقت میں کچھ نہیں ہیں‘‘۔ کافی کا مزا لیجیے!
یقینا مجھے اس بات کو چند الفاظ میں سمیٹنا چاہیے (کافی کپ میں جگہ مختصرہوتی ہے)۔ شاید اس میں مجھے کچھ وقت بھی صرف کرنا پڑے۔ اس طرح گاہکوں کا رش شاید چھٹ جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں ملازمت کا اہل ہی نہیں ہوں۔ مگر سچی بات ہے، تم دل سے کس طرح کسی کو ’تمہارا دن اچھا گزرے‘ کہہ سکتے ہو؟ جب کہ تم جانتے ہو کہ یہ سب بے کار باتیں ہیں، یہ بے معنی زندگی کی اذیت سے بچنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں(2)۔
زمان ومکاں کی لامحدود وسعتوں پر محیط کائنات کی بلا سے، تمہاری والدہ کے مرض کا ٹھیک علاج ہوتا ہے یا نہیں، یا تمہارے بچے کالج میں داخلہ پاتے ہیں یا نہیں، یا پھرتمہارے باس کا رویہ کیسا ہے؟ کیا فرق پڑتا ہے! صدارتی انتخاب ڈیموکریٹس جیتیں یا ری پبلکنز! کیا فرق پڑتا ہے اگر جنگل آگ میں جل جائیں! سمندروں کا پانی بلند ہوجائے! گلیشیئرپگھل جائیں! ہواؤں میں سنسناہٹ آجائے! یا کوئی خلائی مخلوق ہمیں بھاپ بناکر اڑادے!(3)
ہاں تم پروا کرتے ہو! کیونکہ تھک ہار کر تم خود کو آخرکار اس بات پر آمادہ کرتے ہوکہ اس عالمِ رنگ وبوکی کوئی روح کوئی معنی ہیں! تم پروا کرتے ہو، کیونکہ تم اپنے اندر کہیں گہرائی میں اس تلخ سچائی سے واقف ہو، کہ وجود کے کوئی معنی نہیں! تم اپنے وجود کی تفہیم سے دانستہ گریز کررہے ہو، اور اپنے وجود کی حقارت تلے کچلے جاتے ہو۔ تم، میری طرح، ہر ایک کی طرح، اردگرد کی دنیا میں اپنی اہمیت گھڑتے ہو، کیونکہ یہ تمہیں ’امید‘ دلاتی ہے(4)۔
بات شاید بہت دور تک چلی گئی! ایک کافی اور ہوجائے؟ اس بار میں نے ایک مسکراتا چہرہ بھی اس پر نقش کردیا ہے، ہے ناں پیاری تصویر؟ تم چاہو تو انسٹاگرام کرلو، میں انتظارکرلیتا ہوں۔
او کے! ہم کہاں تھے؟ اپنے وجود سے لاعلمی پر… ٹھیک! اب تم شاید سوچ رہے ہو گے’’ویل مسٹر مارک، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم یہاں کسی نہ کسی وجہ سے ہیں، کچھ بھی محض اتفاق نہیں، ہم میں سے ہر ایک بہت اہم ہے، اور ہمارے اعمال ایک دوسرے پر ہراعتبار سے اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں ، تب تو اس بات کی بڑی اہمیت ہے، ٹھیک؟
دیکھو، یہ تمہاری ’اُمید‘ ہے، جواندر سے بول رہی ہے۔ تمہارے دماغ میں یہ کہانی اس لیے گردش کررہی ہے تاکہ تمہاری صبح بامقصد ہوسکے، کیونکہ کچھ نہ کچھ ایسا ہونا چاہیے جس کی زندگی میں اہمیت ہو۔ ایسا نہ ہو تو جینے کی کوئی امنگ ہی نہ رہے۔ اگرکچھ نہ کچھ کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو، تو یہ دماغ خرابی میں جاپڑے۔
مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ انسانی نفس ’اُمید‘ کے بغیر مُردہ ہے۔ یہ ’اُمید‘ ہمارے نظام نفس کی توانائی ہے، یہ ناامید ہوجائے تو ختم ہوجائے۔ ہمارے لیے مستقبل سے ’مایوسی‘ روحانی موت ہے۔ اگر ’امید‘ ہی نہ ہو، توپھر زندگی بھی کیوں ہو؟ کوئی کیا کرے؟ کچھ بھی کیوں کرے؟ یہ زندگی چہ معنی دارد!(5)
اکثر لوگ یہ بات سمجھ نہیں پاتے کہ ’خوشی‘ کی ضد ’غصہ‘ یا ’اداسی‘ نہیں ہے۔ نہیں! ’خوشی‘ کی ضد ہے ’مایوسی‘۔ ایک مہیب اندھیرا! اس بات پر یقین رکھناکہ سب بکواس ہے! پھر کوئی انسان کچھ بھی کیوں کرے؟ مایوسی ’سرد مہر ویرانی‘ کی مانند ہے، یہ احساس کہ کہیں جینے کی کوئی وجہ نہیں، کوئی کیوں جیے؟ (6) پھر کیوں ناں سب کو مار دیا جائے! کسی اسکول میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جائے! ایک خاموش احساس کہ لامحدود کائنات کی وسعتوں میں ہماری کارگزاریوں کی کیا وقعت ہے؟ ہماری ساری کاوشوں کا کیا حاصل ہے، صفر؟ (7)
مایوسی ہر پریشانی اوردماغی مرض کی جڑ ہے۔ ہاں! یہ ہر غم ہر بُری لت کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ ہرگز مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ ہر مصیبت ’مایوسی‘ کے بحران سے ہے۔ یہی ناکام مستقبل کے خوف کی وجہ ہے۔ ذہنی تناؤ اور ’ناامیدی‘ کا حاصل ہے۔ اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ مستقبل بے معنی ہے۔
’مایوسی‘ سے کیسے بچا جائے؟ ’امید‘ کی تعمیر کرو! اسے اولین کام بنالو! زندگی کے معنی سمجھو! اس دنیا میں تمہارا کیا مقام ہے؟ سمجھو! تاکہ ’امید‘ پیدا ہو۔ امید ہی وہ چیز ہے جس کے لیے خوشی خوشی جان بھی دے دینی چاہیے! یہ ’امید‘ اپنے وجود سے بلند ہونے کا احساس ہے۔ اس کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اس طرح مرے کہ اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔
ہم ’امید‘ کے ایسے بیانیے بناتے رہتے ہیں، جینے کے سبب گھڑتے رہتے ہیں، اور ہمیں چاہیے کہ اس امید کو بہرصورت زندہ رکھیں! یہ امید ہی ہے جو ہمیں ’تلخ سچائی‘ کے ہاتھوں تباہی سے بچاسکتی ہے۔ یہ ’امید‘ کے بیانیے ہی ہیں جو ہماری زندگی کی ضمانت ہیں۔ یہ مستقبل میں ’کچھ‘ بہتر کی امید ہیں۔ یہ زندگی اور بعد از زندگی کی کہانی ہے، جو جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔
یہ ایک مشکل مرحلہ ہے: زندگی میں کیا کھویا، کیا پایا؟ یہ جاننا کیسے ممکن ہو؟ یہی وجہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مذہب کی جانب لپکتے ہیں، مذہب عالم الغیب پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مذہبی افراد میں خودکشی اور نفسیاتی امراض کی شرح انتہائی کم ہے۔ یہ ایمان ہی ہے جو مذہبی افراد کو’مایوسی‘ کی ’تلخ سچائی‘ سے محفوظ و مامون رکھتا ہے(8)۔
مگر ’امید‘ کے بیانیوں کو مذہب کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔ میری یہ کتاب میری چھوٹی سی امید ہے۔ یہ مجھے مقصد اور معنی فراہم کرتی ہے۔ یہ شاید میری زندگی اور دنیا کی بہتری کے لیے کسی کام آسکے۔ کیا میں اس بارے میں پُر یقین ہوں؟ نہیں! مگرکیا کیا جائے یہی میری امید میری کہانی ہے، اور میں اس سے چمٹا ہوا ہوں (9)۔ یہی مجھے صبح سویرے اٹھنے پرمائل کرتی ہے۔ میری زندگی میں جوش بھردیتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ یہ بُری بات نہیں، بلکہ صرف یہی ’بات‘ ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے زندگی اولاد کی بہتر سے بہتر پرورش میں ہے۔ کچھ کے لیے یہ ماحول محفوظ بنانے میں ہے۔ دیگر کے لیے یہ دولت کے انبار لگانے میں ہے۔ چاہے ہم محسوس کریں یا نہ کریں، ہم ’امید‘ کے ان بیانیوں کو چنتے ہیں، اور ان کے لیے کچھ نہ کچھ جواز گھڑ ہی لیتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم ’امید‘ کے لیے دلیل کہاں سے لاتے ہو۔ سب آخرکار اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ: مستقبل پرکسی نہ کسی طور یقین کرنا ہوگا، کیونکہ زندگی کی اور کوئی صورت نہیں بنتی۔ دن بہ دن، سالہاسال ہماری زندگی ان ہی بیانیوں پر چل رہی ہے۔ یہ نفسیاتی گاجر کے سرے پر حرکت کرتی چھڑی کی مانند ہے (10)۔
اگر یہ سب تمہیں غیر حقیقی nihilistic لگ رہا ہے، تو برائے مہربانی تصحیح کرلو! یہ ہرگز nihilism کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ یہnihilism کے خلاف ہے۔ یہ ہمارے وجود کی ’بے معنویت‘ اور جدید دنیا کی ’بے معنویت‘ سے متصادم ہے۔ وہ ’تلخ سچائی‘ بے معنویت ہی کا نتیجہ ہے، جو یہاں مرکزی موضوع ہے۔ یہیں سے ہمیں دھیر ے دھیرے ’اُمید‘ کا مقدمہ مستحکم کرنا ہے۔ اورصرف امید نہیں، بلکہ باقی رہنے والی ’امید‘۔ ایک ایسی امید جو ہمیںایک دوسرے سے پھاڑنے کے بجائے جوڑ دے! ایک طاقتور ’امید‘، جو حقیقت پسند ہو۔ ایک ایسی ’اُمید‘ جو ہمیں اطمینانِ نفس کی جانب لے جائے۔
یہ آسان نہ ہوگا۔ اکیسویں صدی میں یہ دشوار ترین کام ہے۔ ’بے معنویت‘ اور خواہشِ نفس نے جدید دنیا کوشکنجے میں کس لیا ہے(11)۔ کامیابی محض کامیابی کی خاطر ہے۔ لذت محض لذت کی خاطر ہے۔ یہاں کہیں وسیع ’کیوں؟‘ کی گنجائش نہیں! یہ کسی عظیم سچ سے وابستہ نہیں! یہ ہر شے کو بدنما بنارہا ہے!
ترقی کا معما!
ہم بہت ہی انوکھے دور میں جی رہے ہیں۔ مادی اعتبار سے سب کچھ بہترین ہے۔ ترقی یافتہ مال دار دنیا میں ایک نامعقول سی ’مایوسی‘ وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ یہ ترقی کا عجب معما ہے: چیزیں جتنی بہتر ہورہی ہیں لوگ اُتنی مایوسی میں گھر رہے ہیں (12)۔
حالیہ برسوں میں اسٹون پنکر اور ہانس رولنگ جیسے بہت سے مصنفین یہ مقدمہ مستحکم کررہے ہیں کہ مایوسی کی باتیں بے سبب ہیں۔ سارے معاملات بہترین چل رہے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے خوشحالی ثابت کرنے کے لیے اپنی کتابوں میں چارٹس اور گرافکس بھردیے ہیں۔ دونوں حضرات کی دلیل ہے کہ تاریخِ جدید میں ترقی کا سفر مسلسل ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ صدیوں بعد حالیہ دہائیوں میں پُرتشدد واقعات بہت کم ہوچکے ہیں۔ خواتین کے خلاف جنسی امتیاز اور تشدد تاریخ کی کم ترین شرح پرآگئے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ آدھی دنیا کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ دنیا بھر میں انتہائی غربت کی شرح بہت کم ہوچکی ہے۔ جنگیں مختصر اور غیر مسلسل ہوچکی ہیں۔ ہمیشہ سے زیادہ دولت ہمارے پاس ہے، ہمیشہ سے بہتر ہماری صحت ہے۔ یہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ حقائق جاننا بہت اہم ہے۔ مگر یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنے انکل کی باتیں سن رہے ہوں کہ جب وہ جوان تھے تومعاملات کتنے مشکل ہوا کرتے تھے، مگر آج سب کتنا آسان ہوچکا ہے۔ اس سب کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ یہ سب سُن کر آپ کو اپنے مسائل کم لگنے لگیں۔ کیونکہ اچھی خبروں کے ساتھ ساتھ کچھ اور اعداد و شمار بھی آج کی ’تلخ سچائی‘ ہیں: امریکہ کی اسّی سالہ تاریخ میں جوانوں کے دماغی اور اعصابی امراض ریکارڈ انتہا پر ہیں، اور بیس سال کے دوران نوجوانوں میں یہ شرح تشویش ناک ہے۔ نہ صرف یہ کہ لوگوں کی بڑی تعداد اعصابی تناؤ سے گزر رہی ہے بلکہ ایسا کم عمری میں ہورہا ہے۔ 1985ء سے مرد وخواتین میں ’ اطمینانِ زندگی‘ کی شرح کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ تین دہائیوں میں اعصابی تناؤ کی سطح بہت بڑھ چکی ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں منشیات کا حد سے زیادہ استعمال ریکارڈ انتہا پر ہے۔ امریکہ میں’فرد کی تنہائی‘ اور’ معاشرتی تنہائی‘ دونوں بہت بڑھ چکی ہیں۔ امریکہ کی تقریباً آدھی آبادی تنہائی کا شکار ہے۔ معاشرے کی ساکھ برباد ہے۔ بہت کم لوگ حکومت، میڈیا، یا کسی اور پر بھروسا کرتے ہیں۔
اس دوران ماحول بھی تباہ ہوچکا ہے۔ نیوکلیئر ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں نہیں۔ دنیا بھر میں مذہبی اور سیکولر دونوں طرح کی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ سازشی نظریہ ساز، شہری ملیشیا، اور آرمیگیڈون کا جنگی جنون مقبول رویّے بن چکے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہم تاریخ کے محفوظ ترین مگر مایوس ترین انسان بن چکے ہیں۔ یہی اس ترقی کا معما ہے! یہاں یہ بھی چونکا دینے والی حقیقت ہے کہ آسائش وآرام سے بھرپور زندگی میں خودکشی کا خدشہ بھی بھرپور ہوچکا ہے۔
صرف ’امید‘ ہے جو اس خوفناک صورت حال سے ہمیں نکال سکتی ہے(13)۔ اس امید کی تعمیر کے لیے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے: زندگی پر اختیار کا احساس، اعلیٰ اقدار پر یقین، اور اجتماعیت۔ ہمیں اپنی زندگی میں بہتری لانی چاہیے۔ ایسی اعلیٰ اقدار کے لیے کام کرنا چاہیے جو جدوجہد پر مائل کرسکیں۔ ایک ایسی اجتماعیت اختیار کرنی چاہیے جو اعلیٰ اقدار کی پیروی میں آپ کی ہم خیال ہو۔ اجتماعیت کے بغیر ہم تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں، ہماری اقدار بے وقعت ہوجاتی ہیں۔ یہ تینوں چیزیں ہی ’امید‘ کی تشکیل کرتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایک چیز پوری نہ ہو تو امید ادھوری رہ جائے گی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ’امید‘ کا یہ بحران کیوں ہے؟ ہمیں اس کے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ کس طرح یہ ’امید‘ پیدا ہوتی ہے، اور باقی رہتی ہے(14)۔
حواشی
1۔ ’’اپنے رب کی رحمت سے مایوس توگمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔‘‘(الحجر، 56)
2۔ یہ خدا بیزار معاشرے کی اصل اخلاقی کیفیت ہے، مسٹر مینسن دیانت داری سے اس کا اظہار کررہے ہیں۔ کسی بھی احساسِ ذمے داری سے بے بہرہ، اور صلے کی اُمید سے عاری بے معنی اخلاقیات یقیناً بے کار بات ہے۔
3۔ ’’اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز، جو آسمانوں میں ہے، اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔ اُسی کی بادشاہی ہے اور اُسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادرہے۔ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اُس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے، اور اُسی کی طرف بالآخر تمھیں پلٹنا ہے۔‘‘(التغابن، 3-1)
4۔ حالتِ کفر کی بے معنویت پر اظہار ’مایوسی‘ کو ’تلخ سچائی‘ کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔
5۔ ’اُمید‘ یہاں وجود کی معنویت پر ’ایمان‘کے معنوں میں ہے۔
6۔’’ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے اُن کا نورِ بصارت سلب کرلیا اور انھیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انھیں کچھ نظر نہیں آتا۔‘‘(بقرہ، 16۔17)
۷۔’’جنھوں نے کفر کیا اُن کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشتِ بے آب میں سراب، کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا… یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اُس کے اوپر بادل تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں۔‘‘ (نور،38۔39)
8۔ ’’زمانے کی قسم، انسان درحقیقت خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘ (العصر)
9۔’’ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا ٹوپ اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کراپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ ان منکرینِ حق کو ہرطرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا بجلی عنقریب ان کی بصارت اچک لے جائے گی۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں، اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے توکھڑے ہوجاتے ہیں۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا، یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔‘‘(بقرہ، 19۔20)
10۔ ’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے، یہاں تک کہ (اِسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ پھر (سُن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرزِعمل نہ ہوتا)۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے، پھر (سُن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لوگے۔ پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی‘‘ (التکاثر)۔ ’’دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے، حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھرکیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے؟ ‘‘(الانعام، 32)
11۔’’تم نے اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو خدا بنالیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگادی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟‘‘(الجاثیہ، 23)
12۔ کامیابی کے دنیاوی (مغربی) تصور کی بے وقعتی واضح ہے۔
13۔ امید یعنی ’ایمان‘ ہی مایوسی یعنی ’کفر‘ کی حالت سے نکال سکتا ہے۔
14۔ضبطِ نفس، ایمان، اور اجتماعیت کی ضرورت کا فطری احساس بھرپور طور پر سامنے آیا ہے۔ تلاشِ حق کے لیے مسٹر مینسن کی جستجو واضح ہے۔