قانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر مظفر آباد کے اجلاس کے دوران اطلاع ملی کہ سید منور حسن اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں ’’اِنا للّٰہِ و اِنا الیہِ راجِعُون‘‘میں نے فوراً ہی اسپیکر قانون ساز اسمبلی کو اطلاع دی کہ ان کے لیے فاتحہ خوانی کرائی جائے۔ اسپیکر قانون ساز اسمبلی اور دیگر اراکین نے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اس موقع پر مجھے فاتحہ خوانی کرانے کا اعزاز حاصل ہوا، بالخصوص کشمیر کے حوالے سے ان کی پشتی بانی اور ترجمانی کی تحسین کرتے ہوئے ان کی وفات کو ملّتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا۔ اگلے روز ایک اہم کُل جماعتی کشمیر کانفرنس بھی طے تھی، میزبان صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چودھری لطیف اکبر صاحب سے معذرت کرتے ہوئے کراچی کے لیے روانہ ہوگیا۔ اتفاق سے فلائٹ کا بھی انتظام ہوگیا تھا۔ یوں سارا راستہ سفر کے دوران میرے ذہن پر منور حسن مرحوم ؒکی یادوں کی فلم چلتی رہی۔
سید منور حسن مرحوم سے پہلی ملاقات 1974ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام تربیت گاہ منصورہ لاہور میں ہوئی۔ اُس وقت منصورہ مرکز زیر تعمیر تھا۔ شاید یہ پہلا پروگرام تھا جو وہاں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں دوسرے مربین کے علاوہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو بھی سننے اور دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مطیع الرحمان نظامی شہید بھی اُس وقت تک پاکستان میں ہی تھے۔ انہیں بھی سننے اور ان سے ملنے کا موقع اس پروگرام میں ملا۔ بہرحال یہ ہر لحاظ سے ایک یادگار پروگرام تھا اور سید منور حسن صاحب کے خطابات نے سب ہی شرکاء کو بے پناہ متاثر کیا۔ جمعیت کے زمانے میں کوئی اجتماع ان کی شرکت کے بغیر ادھورا تصور ہوتا تھا۔ جمعیت کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت بھی بے پناہ تھی اور تادمِ واپسیں وہ جمعیت کی وکالت اور حوصلہ افزائی کا حق ادا کرتے رہے۔ جمعیت کے کارکنان بھی اسی نسبت سے انہیں محبوب اور مقبول مربی سمجھتے تھے۔ ہماری خوش قسمتی کہ اس سارے عرصے میں ان سے مستفید ہونے کا موقع ملتا رہا۔ میری نظامتِ کشمیر کے دوران 1982ء میں کوٹلی کے مقام پر جماعت کی ایک تربیت گاہ میں محترم پروفیسر غفور احمد ؒ کے ساتھ منورحسن بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ تربیتی پروگرام کے بعد ایک جلسہ عام بھی منعقد ہوا جسے کامیاب کرنے میں جمعیت کے پُرجوش کارکنان نے بھرپور کردار ادا کیا۔ جلسے اور تربیت گاہ میں ان کے خطابات نے نوجوانوں کو بہت متاثر کیا جس کے نتیجے میں تحریکِ اسلامی کے کام کو تقویت ملی اور نئے کارکنان بھی دستیاب ہوئے۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں منور بھائی لاتعداد مرتبہ کشمیر کے مختلف مقامات پر تشریف لاتے رہے اور اپنے ایمان افروز خطابات کے ذریعے علم و تقویٰ کے گہرے نقوش ثبت کرتے رہے ۔مجھے جماعتی ذمہ داریوں کے دوران جب بھی کراچی جانے کا موقع ملا ،انہوں نے میزبانی کی اور کشمیری مہاجرین کے علاوہ ذرائع ابلاغ اور اہلِ دانش تک کشمیر کی آواز پہنچانے میں بھرپور تعاون فرمایا۔حلقہ کراچی کے سیکرٹری اور بعد میں امیر جماعت اسلامی کراچی کی حیثیت سے انہوں نے مہاجرین میں کشمیر جماعت کے نظم کی وسعت اور استحکام کے لیے ہمیشہ سرپرستی کی۔جماعت کے مرکز کی منصورہ منتقلی کے بعد وہ کشمیر کے حوالے سے قائدین کی مشاورتی ٹیم کے حصے کے طور پر تحریک ِ آزادیِ کشمیر کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بھرپور کردار ادا کرتے رہے ۔
پاکستان اور آزادکشمیر کے کونے کونے میں جہادِ کشمیر کانفرنسوں میں ان کی رفاقت میسر رہی۔ ہر فورم پر انہوں نے مجاہدانہ ترجمانی کا حق ادا کیا۔1990ء کی دہائی میں جب مسلح جہاد عروج پر تھا جس کے نتیجے میں بھارتی افواج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا، بھارت نے زچ ہوکر آزادکشمیر کی سول آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے شیلنگ شروع کردی جس سے شہری آبادی کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں۔ وادیِ نیلم برسوں تک محاصرے میں رہی۔ اس طرح چکوٹھی سیکٹر اور جہلم ویلی بھی متاثر رہی۔ ہزاروں لوگ گھربار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان متاثرین کو سنبھالنا اور حوصلہ افزائی کرنا بہت بڑا چیلنج تھا، جس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں محترم قاضی حسین احمدؒ ذاتی دلچسپی لیتے رہے، وہیں سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے سید منور حسن ؒ نے بھی سرپرستی اور رفاقت کا حق ادا کیا، اور نعمت اللہ خان صاحب جو امیر حلقہ کراچی تھے،کی سربراہی میں کراچی جماعت کے تمام ذمہ داران اور کارکنان کو متاثرین کی دیکھ بھال کا ہدف دیا، خود بھی تشریف لائے اور کئی روز تک متاثرین کی ضروریات کی فراہمی کا اہتمام کرتے رہے۔ علاوہ ازیں آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر منعقدہ آزادیِ کشمیر اور شہداء کے حوالے سے منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہوئے ہمارے حوصلے بڑھاتے اور حکمرانوں کو اس عظیم جہاد کے حوالے سے ذمہ داریوں کی ادائیگی پر متوجہ کرتے رہے۔
۔8 اکتوبر2005ء کے زلزلے کی جس قیامتِ صغریٰ سے ہم گزرے، آزمائش کے اس مرحلے پر بھی وہ باقی ذمہ داران کے ہمراہ متاثرین کی بحالی اور ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے متاثرہ علاقوں کے دورے کرتے رہے۔ میرے لیے سعادت تھی کہ وہ احباب کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے، مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب کیا اور ریلیف اور بحالی کے عمل کی سرپرستی کی۔ زلزلے سے کچھ عرصہ پہلے سدھن گلی کے مقام پر جماعت اسلامی باغ کے ایک تربیتی پروگرام میں انہیں مدعو کیا۔ آنے سے پہلے میں نے گزارش کی کہ ایک دو دن لے کر آئیے گا تاکہ پروگرام کے بعد آپ کو گنگا چوٹی کی سیر کرا سکیں۔ پروگرام کے دوسرے روز احباب نے گھوڑوں کا بندوبست کررکھا تھا۔ تقریباً دو گھنٹے کی مسافت کے بعد گنگا چوٹی کے دامن میں وسیع سبزہ زاروں میں وقت گزارا۔ لطیفے، واقعات، چٹکلے دورانِ سفر چلتے رہے جس سے کارکنان بہت محظوظ ہوئے اور مُصر رہے کہ ایک آدھ دن اور میزبانی کا شرف بخشیں، لیکن شام تک آپ کا اسلام آباد پہنچنا ضروری تھا، اس لیے اس تفریحی اور تربیتی سفر کے بعد اسلام آباد تک ہم سفر رہنے کی سعادت حاصل رہی۔ باغ کے کارکنان کے لیے یہ ایک یادگار دورہ تھا جسے آج بھی ہر ساتھی اپنا اثاثہ سمجھتا ہے۔
کشمیر کے ساتھ ان کی اس وابستگی کے نتیجے میں ان کا پورا گھرانا اور بچے بھی اس تحریک سے قلبی طور پر وابستہ رہے۔ اپنے اکلوتے صاحبزادے طلحہ کو بھی انہوں نے مجاہدین کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دیا جو طویل عرصہ بیس کیمپ میں رہے۔ اس طرح ان کی اہلیہ محترمہ عائشہ باجی کئی مرتبہ خواتین کے وفود لے کر مظفرآباد تشریف لائیں اور مہاجرین اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت اور حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ زلزلے کے بعد بھی وہ خواتین کے وفد کو لے کر متاثرین کی بحالی اور حوصلہ افزائی کے لیے تشریف لائیں۔ یوں اہلِ کشمیر کے ساتھ محبت سارے خاندان کا خاصہ ہے جو ہمارے لیے بے پناہ حوصلہ افزائی کا ذریعہ رہا۔
اسی طرح رابطہ عالم اسلامی کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس، اور سوڈان کی حکومت کی دعوت پر ایک کانفرنس میں بیرونِ ملک ان کا ہم سفر ہونے کا موقع ملا۔ عمرہ وطواف اور حرمین میں حاضری کے مراحل میں قدم قدم پر ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔کانفرنسوں میں خطابات ہوں یا اسلامی تحریکوں کے قائدین یا ذرائع ابلاغ سے ملاقاتیں… امتِ مسلمہ بالخصوص مسئلہ کشمیر کی بہترین ترجمانی کا حق ادا کرتے رہے۔کشمیر کے حوالے سے ان کا مؤقف بہت واضح اور دوٹوک تھا کہ مسئلہ ایک ہمہ گیر جہاد ہی کے نتیجے میں حل ہوگا۔ عوام اور خواص بالخصوص حکمرانوں کے ضمیر کو ہمیشہ جھنجوڑتے رہے۔ میں انہیں تحریکِ آزادیِ کشمیر کے حوالے سے اخذ کردہ معلومات کی بنیاد پر بالعموم تحریری طور پر اپنا فیڈ بیک دیتا رہتا تھا، جس کی ہمیشہ وہ اپنے ہاتھ کی خوبصورت تحریر سے حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے۔ ہر انسان فانی ہے، یہ ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن سعادت کی جو زندگی سید منور حسنؒ نے بسر کی وہ انہی کا خاصہ ہے۔ اخلاص، علم، تقویٰ، حق گوہی اور قناعت و استغنا کا وہ ایک ایسا مرقع تھے، جنہیں اسلامی تحریک کے ہر کارکن کو آج کے دور میں اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے۔ ان کے لیے اس سے بڑی اور کیا سعادت ہوسکتی ہے کہ آج اپنے اور بیگانے سب ان کے کردار کی عظمت کی گواہی دے رہے ہیں، اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان کا بیانیہ کہ پاکستان اور امتِ مسلمہ امریکہ اور مغربی استعمار کی غلامی سے نکلیں، غیروں کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر اپنے گھروں کو کھنڈرات میں بدلنے کے بجائے جہاد اور حریت کو اپنا شعار بناتے ہوئے دنیا اور آخرت میں سرخروئی حاصل کریں۔ ان کی نمازِ جنازہ میں کورونا کی پابندیوں کے باوجود لاکھوں افراد کی شرکت (مجھے بھی سعادت حاصل رہی) اور ان کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار تھا کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر فرد ان کی امانت، دیانت، جرأت اور بے باکی کا شاہد تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے حق میں ہماری گواہی قبول فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اسلامی تحریک اور ملّتِ اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا کرے، آمین۔

