ممتاز ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی اقتصادی صورتِ حال پر منفرد اور آسان زبان میں تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی نظر صرف معاشی سرگرمیوں پر نہیں ہوتی، بلکہ ان کے تجزیے میں ملک کے سماجی، سیاسی، اور عالمی حالات کا گہرا عکس ہوتا ہے۔وہ پاکستان، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے مالیاتی اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ’’اسلامک بینکنگ‘‘ جیسی قابل قدر کتاب کی تصنیف کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں تین سو سے زائد مقالات و مضامین بھی تحریر کرچکے ہیں۔ فرائیڈے اسپیشل ان سے وقتاً فوقتاً ملکی اور بین الاقوامی معاشی صورت حال پر اپنے قارئین کے لیے تجزیہ لیتا رہتا ہے۔ اِس بار ہم نے افغانستان سے امریکی انخلا اور اس کے بعد خطے اور مملکتِ خداداد کی صورتِ حال پر دیرپا اثرات معاشی تناظر میں کیا ہوں گے، اس پس منظر میں گفتگو کی ہے، جس پر انہوں نے خاصی تفصیل اور نئے تناظر میں روشنی ڈالی ہے جس سے اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہے لیکن یہ امریکہ، پاکستان، افغانستان اور عالمی حالات کے پس منظر میں بہت اہم ہے جو نذرِ قارئین ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی سے جب میں نے پوچھا کہ افغانستان سے امریکہ کے چلے جانے کے بعد خطے کی صورت کو معاشی تناظر میں کس طرح دیکھتے ہیں؟ تو آپ کا کہنا تھا کہ ”امریکی انخلا بھی منصوبے کا ہی حصہ ہے، کیونکہ اس کے مقاصد تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ 9/11 کے بعد امریکی مقاصد کے طریقہ کار بدلتے رہے ہیں، مگر مقاصد ہرگز تبدیل نہیں ہوئے۔ امریکہ کا بنیادی مقصد خطے میں صورت حال کو کشیدہ رکھنا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ خطے میں بدنظمی اور انتشار رہے۔“ اس کی وجہ پر گفتگو کرتے ہوئے آپ کا کہنا تھا کہ ”چونکہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے، اس لیے امریکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ پاکستان کے دو پڑوسی ممالک افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ خراب ہیں۔ امریکہ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک نہ ہوں بلکہ کشیدگی برقرار رہے، تاکہ ایران بھارت کے قریب آئے جو کہ اس کا اسٹرے ٹیجک پارٹنر ہے۔ یہ گیم کا ایک حصہ ہے، اور یہ کہنا کہ وہ شکست کھا گئے ہیں، محض خوش فہمی ہے۔ میں نے 9/11 کے بعد کئی آرٹیکلز لکھے، اور جو کتاب لکھی ہے اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ امریکہ یہ جنگ جیتنا نہیں چاہتا۔ وہ جنگ جیت کر کیا کرے گا؟ افغانستان میں کوئی بھی بیرونی طاقت حکومت نہیں کرسکتی، اور امریکیوں کو اس بات کا پتا ہے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ ان میں آپس میں چپقلش ہوجائے جس کے نتیجے میں افغانستان غیر مستحکم رہے۔ طالبان کو ختم کرنا امریکہ کا مقصد کبھی نہیں رہا تھا۔ یہ تمام میری تحریروں میں موجود ہے۔ امریکہ نے جان بوجھ کر اسامہ کو زندہ رکھا تھا، حالانکہ ایک وقت وہ آیا تھا جس کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی تحریر موجود ہے کہ امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کو گھیر لیا تھا اور 9/11 کے بعد اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، لیکن امریکیوں نے اسے نکلنے دیا، اس لیے کہ اگر وہ اسی وقت اسامہ بن لادن کو مار دیتے تو یہ جنگ اس قدر طویل نہیں ہوسکتی تھی، جبکہ ان کا مقصد جنگ کو طول دینا تھا۔ امریکہ کے ایک اور سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر جن کی بڑی اہمیت ہے، کا کہنا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی اصل جنگ تب شروع ہوگی جب افغانستان میں فوجی کارروائیاں دم توڑ رہی ہوں گی اور اس اصل جنگ کا فوکس افغانستان سے باہر ہوگا۔ یعنی اب اس کا فوکس پاکستان اور ایران ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ وسط ایشیائی ممالک تک ہماری رسائی نہ ہو اور بھارت و ایران سے ہمارے تعلقات کشیدہ رہیں۔ پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچایا جائے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام میں بداعتمادی پیدا کی جائے۔ پاکستان کی فوج اور عوام میں بداعتمادی پیدا کی جائے تاکہ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے اور پاکستان میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری رہے۔ اور امریکہ ان مقاصد کے حصول میں بڑی حد تک کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔ تو میں پھر کہتا ہوں، اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔“
ایک اور سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ ”کسی کو اعتماد میں لیے بغیر اور سب سے بڑھ کر وہاں کے حالات ٹھیک کیے بغیر امریکی انخلا سے افغانستان میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگی اور افغان حکومت اور طالبان کے پاکستان سے تعلقات کشیدہ رہیں گے۔ موجودہ صورت حال میں ہماری اہمیت بہت زیادہ ہے، اور ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے رہے اور ایف اے ٹی ایف کے شکنجے میں پھنسے رہے، ہمارے حکمراں امریکی آشیرباد پر بھروسا کرتے رہے تو ہماری مشکلات بڑھیں گی، بلکہ ملکی سلامتی کے لیے خطرات بھی بڑھیں گے۔“
آپ کہہ رہے ہیں کہ امریکی انخلا اپنی حکمت عملی اور ضرورت کے تحت ہے اور یہ طالبان سے مفاہمت کے ساتھ ہے؟ میرے اس سوال پر آپ کا کہنا تھا کہ ”میں نے عرض کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے ہلیری کلنٹن کا یہ بیان موجود ہے کہ امریکی افواج نے دسمبر 2001ء میں تورابورا کی پہاڑیوں میں اسامہ بن لادن کو گھیر لیا تھا اور اس کے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہ تھا، لیکن امریکی افواج نے اسے بچ نکلنے کا موقع دیا تاکہ دہشت گردی کی جنگ جاری رکھی جاسکے اور اس کا دائرہ آگے چل کر پاکستان تک پھیلایا جائے۔ امریکی دانشور نوم چومسکی نے بھی کہا تھا کہ اس بات کے مستند شواہد موجود ہیں کہ امریکہ افغانستان میں دہشت گردوں سے لڑنا چاہتا تھا، حالانکہ بغیر جنگ کیے امریکی مقاصد حاصل کرنے کے قابلِ اعتماد متبادل موجود تھے۔ میں نے اپنی کتاب میں متعدد ایسے شواہد دیے ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کی جنگ جیتنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، اور وہ طالبان کی طاقت کو ختم بھی نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ اگر ایسا ہوجاتا تو پھر خود افغانستان کی حکومت اور طالبان مخالف قوتیں اس سے کہتیں کہ اب آپ افغانستان سے رخصت ہوجائیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی مدد سے طالبان کو گرانے کے بعد امریکی افواج نے طالبان کو بحفاظت کابل سے قندھار تک سفر کرنے دیا تاکہ وہ وہاں سے امریکہ کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں اور امریکی افواج کو افغانستان میں لمبے عرصے تک رہنے کا جواز مل جائے۔“
اسی حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ ”یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ امریکہ نے خطے میں اپنے استعماری مقاصد تبدیل کیے بغیر حکمت عملی تبدیل کی ہے، اور اس کے تحت افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائی ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ نے طالبان کے ساتھ ایک حکمت عملی کے تحت جو ”مفاہمت“ کرلی تھی اور طالبان کو افغانستان کے بڑے حصے پر قدم جمانے کا دانستہ موقع فراہم کیا تھا اس کا واضح مقصد یہ تھا کہ متعدد گروپ مل کر طالبان کے ساتھ لڑائی کرتے رہیں تاکہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی رہے اور وہاں نہ صرف معیشت تباہ ہو بلکہ انسانی المیہ بھی جنم لے، اور جنگ سے متاثرہ افغانی پاکستان اور ایران میں داخل ہوں، جس کے بعد متعدد سنگین چیلنج اور خطرات سامنے آئیں گے۔ یہ مسئلہ صرف معیشت کا ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے، مگر اس وقت صرف یہ عرض ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت مہنگی شرح سود پر بے تحاشا بیرونی قرضے لے کر، برامدات کے بجائے بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات پر انحصار بڑھا کر آگ سے کھیل رہی ہے۔“
معاشی تناظر کے ہی سوال پر آپ کا کہنا تھا کہ ”یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ آج بھی وہی منظر ہے جو 2009ء میں فرینڈز آف پاکستان کا ہوا تھا، یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا دھوکا تھا۔ اُس وقت جو ٹیم تھی آج بھی وہی ٹیم ہے۔ اُس وقت جو وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ تھے آج بھی تاریخ کے اہم موڑ پر وہی دونوں حضرات ان پوزیشنوں پر فائز ہیں یعنی شوکت ترین اور شاہ محمود قریشی۔“
آپ کے بیان کردہ چیلنجز اور حالات سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت کی حکمت عملی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور کارکردگی کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ ”صحیح سمت پر اگر نہیں ہیں تو غلط سمت پر بھی نہیں ہیں۔ میں نے ایک کتاب 2012ء میں لکھی تھی ’’پاکستان اور امریکہ… دہشت گردی، سیاست اور معیشت‘‘۔ یہ تمام چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جس طرح پرویزمشرف نے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا مگر ایک بات صحیح کہی تھی کہ جو لوگ بھکاری ہوتے ہیں ان کے پاس اختیار نہیں ہوتا۔ تو اگر آپ آئی ایم ایف سے قرضہ لے رہے ہیں جو امریکہ کی مدد کے بغیر نہیں مل سکتا تو شوکت ترین کا یہ بات کرنا کہ ہم آئی ایف ایف کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، ہم نے منع کردیا کہ آپ کی شرائط نہیں مانیں گے۔۔ یہ بچپنا ہے۔ پرویزمشرف کے الفاظ تھے کہ بھکاریوں کے پاس اختیار نہیں ہوتا، اور نوازشریف کے الفاظ تھے کہ آئی ایم ایف ہم سے یہ کہتا ہے کہ غریب کے منہ سے نوالہ چھین لو تو ہم یہ نوالہ چھیننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تو اب بھی یہی کچھ ہوگا اور امریکہ ان کو بتائے گا جو اس کے مقاصد ہیں۔“
ایک سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ ”ابھی جو ہم نے بجٹ بنایا ہے اُس میں آئی ایم ایف کی شرائط نظرانداز کردی ہیں۔ وہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق نہیں بنایا۔ ہم نے بجلی کے نرخ اتنے نہیں بڑھائے جتنا آئی ایم ایف کا تقاضا تھا۔ آئی ایم ایف نے کیا کیا، میں آپ کو بتادوں کہ انہوں نے جولائی میں جو ہم سے معاہدہ کرنا تھا وہ ملتوی کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب ہم ستمبر کے بعد آئیں گے۔ اور ستمبر میں وہ یہ دیکھیں گے کہ جو کچھ آپ نے اُن سے زبانی وعدے کیے تھے وہ پورے کیے؟ وہ دیکھیں گے کہ بجٹ کے بعد آپ نے کیا اقدامات معاہدے کے خلاف اٹھائے ہیں۔ جولائی اور اگست میں ان کی شرائط پر عمل درآمد کسی نہ کسی حد تک ہوتا نظر آرہا ہے۔ یہ عمل ابھی جاری ہے، اور میرے خیال میں وہ پاکستان کو باقی قرضہ نہ بھی دیں تو وبا کی آڑ میں پاکستان کو دو ارب ڈالر دیں گے، مقصد یہ ہے کہ قرضوں کے بوجھ میں پاکستان جکڑا رہے۔ اور دوسری طرف ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہماری برآمدات آپ جتنا بھی کہیں کہ بڑھ گئیں، یا تعریفیں کریں، مگر جو اعداد و شمار اسٹیٹ بینک اور منسٹری کے ہیں وہ میں آپ کو بتادوں، پاکستان کی برآمدات جو 2011ء میں تھیں 2021ء میں بھی وہی ہیں۔ دس سال کے بعد ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ زبردست کارنامہ انجام دے دیا۔ حالانکہ 2011ء میں ڈالر 88 روپے کا تھا، آج 159روپے کا ہے۔ ہم نے برامدکنندگان کو کئی سو ارب روپے کی اضافی مراعات دی ہیں، اس کے باوجود پاکستان کی برآمدات 2011ء والی ہی ہیں۔ اسی طرح 2021ء کا جو معاشی سال جون میں ختم ہوا ہے اُس میں ہمارا تجارتی خسارہ 8 ارب ڈالر بڑھ گیا ہے۔ ایک وقت تک دعوے تھے کہ ہمارا کرنٹ اکائونٹ فاضل ہوگیا، جبکہ یہ پھر منفی ہوگیا ہے اور اب یہ دوبارہ مزید بڑھنے والا ہے۔ ہمارا ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہوا حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے ایف بی آر کو مبارک باد دی ہے اور یہ کہاہے کہ ہم نے ہدف سے زیادہ حاصل کرلیا۔ ضرور کیا ہوگا آپ نے، لیکن جو ہدف رکھا گیا تھا اور جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا اُس سے 231 ارب روپے کم ہے۔ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی مد میں مالی سال 2021ء میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 630ملین ڈالر کی کمی ہوئی ہے، روپے کی قدر گرنے کا سلسلہ جاری ہے، اور ہم نے یہ کیا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو کچھ مراعات دی ہیں تاکہ ہمارا گروتھ ریٹ بڑھے۔ اس کے مقابلے میں وہ چونکہ عوام کی بات کہتے ہیں، تو میں یہ بتادوں کہ پاکستان کے قانون کے تحت 6لاکھ روپے سالانہ سے کم جس کی آمدنی ہے اس کو انکم ٹیکس ریٹرن نہیں دینی ہوتی اور اسے انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوتا۔ یہ پاکستان کا قانون ہے۔ مگر اِس بار بجٹ میں انہوں نے یہ کیا ہے کہ اگر کسی نے قومی بچت اسکیموں میں پیسہ لگایا اور اس کا منافع ایک سال میں ایک لاکھ بھی ہوا اور کوئی اور آمدنی نہیں، اُس سے تیس فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔ دوسرے لوگ 15 فیصد دیتے ہیں لیکن ان سے 30 فیصد لیا جائے گا جن سے آپ ایک فیصد بھی نہیں لے سکتے۔“
شوکت ترین کے معاشی دعووں کے تناظر میں آپ کا کہنا تھا کہ ”دو باتیں آپ کو بتادوں۔ ایک حرکت اسٹیٹ بینک نے کی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے یہ کیا ہے کہ جو بینکوں کے کھاتے ہیں وہ نفع اور نقصان میں شراکت کی بنیاد پر ہیں، یعنی بینکوں کا جو منافع ہوتا ہے اس میں وہ حصہ دیں گے۔ تو فروری 2020ء میں اگر ایک آدمی نے ایک لاکھ روپیہ بینک میں رکھا تھا تو اس کو گیارہ ہزار روپیہ اس سال منافع ملنا تھا۔ مارچ سے جون تک اسٹیٹ بینک نے شرح سود گرانے کے بعد بینکوں کو احکامات جاری کردیئے کہ آپ ان کی شرح منافع کم کردیں۔ تو جو شرح منافع 11.25 فیصد تھی وہ ساڑھے پانچ فیصد پر آگئی۔ میں آپ کو ایک فیگر دے رہا ہوں، دو کروڑ دس لاکھ سے زیادہ بچت کھاتے داروں کے بینکوں میں سات ہزار ارب روپے جمع ہیں۔ ان کو گزشتہ ایک برس میں بینکوں نے کم ازکم 500ارب روپیہ کا نقصان پہنچایاجو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بینکنگ کمپنی آرڈیننس 26(الف )، 40(الف) اور آئین پاکستان کی شق 3 کے تحت یہ دو کروڑ سے زائد لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا۔تو میں نے سوچا کہ زبانی باتیں کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے، اس لیے میں نے آئینی درخواست سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئین پاکستان کی شق( (3 184کے تحت ڈال دی ہے کہ گزشتہ ایک برس میں قانون توڑ کر پانچ سو ارب کا نقصان پہنچایاگیا ہے۔ یہ درخواست ملک کے ممتاز وکیل حشمت حبیب صاحب کی وساطت سے دائر کی گئی ہے۔ اس طریقے سے معیشت کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور غریبوں کو ختم کیا جارہا ہے۔ اب چونکہ درخواست جمع ہوچکی ہے، سپریم کورٹ میں اس کی شنوائی تعطیلات کے بعد ہوگی۔ تیسری زیادتی یہ ہے کہ قومی بچت کی اسکیموں میں جو لوگ پیسے لگاتے ہیں جن میں بیوائیں، یتیم، معذور افراد بھی شامل ہیں ان کی شرح منافع میں کمی کردی گئی ہے، اور اس سے بڑھ کر ظلم جو کیا ہے وہ یہ کہ بجٹ میں یہ منظور ہوا ہے کہ ہم 570 ارب روپے فاضل دیں گے، یعنی این ایف سی ایوارڈ میں آپ پیسہ دیں گے اسے خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ 570 ارب روپے روک لیں گے۔ اب جب صوبوں کے بجٹ منظوری سے پہلے آگئے تو انہوں نے 555 ارب روپے کا جھٹکا ماردیا۔ پنجاب نے فاضل نہیں دیا، کے پی کے نے بھی نہیں دیا جہاں ان کی حکومت ہے، اور سندھ و بلوچستان میں خسارے کا بجٹ دے دیا، تو اس طرح 555 ارب روپے کا جھٹکا تو پہلی جولائی میں لگ گیا۔ پھر بھی پارلیمنٹ نے بجٹ منظور کردیا۔ دوسرا ظلم یہ کیا کہ انہوں نے ٹیکسوں کی وصولی کی مد میں اس سال 9600ارب روپے کا ہدف رکھا ہے ٹیکس ریونیو اور نان ٹیکس ریونیو کا، جس میں سے 3400 ارب روپے صوبوں کو جانا ہیں جسے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بجٹ میں رکھا گیا ہے۔ اب آپ کے پاس بچے 4500ارب روپے۔ آپ کو سود میں 3000 ارب روپے دینے ہیں اور دفاع میں تقریباً 1400ارب روپے… تو 4500 ارب روپے تو یہاں ختم ہوگئے۔ اب آپ کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔ آپ کو پورا ملک ایک سال تک چلانا ہے تو یہ قرضوں پر چلے گا، ادھار پر چلے گا، تعلیم کا بجٹ کم کرکے چلے گا، سینیٹ کا بجٹ کم کرکے چلے گا۔“
اس پس منظر میں ہی ایک سوال کے جواب میں آپ کا کہناتھا کہ ”وزیر خزانہ شوکت ترین نے حلف اٹھانے سے کچھ عرصہ قبل ایک نجی چینل پر کہا تھا کہ تین برسوں میں تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے اور اس حکومت کی پالیسی کی سمت درست نہیں ہے، اور یہ کہ معیشت کو ٹھیک کرنے میں چار پانچ سال کا عرصہ درکار ہوگا، لیکن حلف اٹھاتے ہی انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ تحریک انصاف نے تباہ حال معیشت کو بحال کردیا تھا لیکن کووڈ19کی وجہ سے معیشت میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ان کا یہ بیان چند ہفتے پہلے کے بیان سے یکسر مختلف ہے، چنانچہ ان کے بیانات کی کوئی ساکھ نہیں رہی۔“

