راہ پر ان کو لگا لگائے تو ہیں باتوں میں
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
(داغ)
……٭٭٭……
رہیں نہ رند یہ زاہد کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
(اسد ملتانی)
……٭٭٭……
روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے
اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے
(درد)
……٭٭٭……
راہِ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
(میر تقی میر)

