مہلب اموی خلیفہ عبدالملک کا ایک سپہ سالار تھا۔ جب اس کا آخری وقت قریب آیا تو اس نے اپنی اولاد کو جمع کیا۔ اس نے کچھ تیز منگوائے اور انہیں رسی سے باندھ دیا اور اپنی اولاد سے پوچھا: ’’کیا تم انہیں توڑ سکتے ہو؟‘‘ آل مہلب نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘ مہلب نے پھر پوچھا کہ اگر تیروں کو الگ الگ کردیا جائے تو کیا توڑ لوگے؟ سب نے جواب دیا کہ ’’ہاں ہم توڑ لیں گے‘‘۔ مہلب نے کہاکہ ’’اتحاد و اختلاف میں یہی فرق ہے کہ، تم سب کو مل جل کر رہنا چاہئے‘‘۔ اس کے بعد مہلب نے درج ذیل وصیتیں کیں:
’’میں تمہیں خوف خدا اور صلہ رحمی کی وصیت کرتا ہوں، اس سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے، مال میں زیادتی ہوتی ہے اور قوت بڑھتی ہے۔ بے رحمی اور ظلم سے منع کرتا ہوں کہ اس کا نتیجہ آخرت میں دوزخ اور دنیا میں قلت و ذلت ہے۔ ایک دوسرے کی اطاعت و فرمانبرداری اور اتحاد و اتفاق کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ دیکھو جو کچھ کہو اس سے زیادہ کر دکھائو۔ زبان سے بات نکالتے وقت خوب سوچ لو اور زبان کی لغزش کے نتائج سے ڈرو کیونکہ آدمی کا قدم لڑ کھڑائے تو وہ سنبھل سکتا ہے اور زبان لڑکھڑائے تو ہلاک ہوسکتا ہے۔ اپنے پاس آنے جانے والوں کے حقوق کا خیال رکھو۔ ان کی صبح و شام کی آمدورفت تمہاری یاد دھانی کے لئے کافی ہے۔ سخاوت کو بخل پر ترجیح دو۔ بھلائی کو عزیز رکھو اور سب کے ساتھ اچھا برتائو کرو۔ اگر تم کسی عربی سے بھلائی کا وعدہ بھی کروگے تو وہ تمہارے لئے اپنی جان قربان کردے گا۔ لڑائی کے موقع پر تدبر اور چالاکی سے کام لو کیونکہ یہ بہادری سے زیادہ مفید ہے۔ جب لڑائی شروع ہوتی ہے تو تقدیر الٰہی ہی اس کا فیصلہ کرتی ہے، لیکن اگر تدبر سے کام لے اور کامیاب ہوجائے تو کہا جاتا ہے کہ اپنا فرض صحیح طور پر انجام دیا اور کامیاب ہوا اور ناکام ہو تو کہا جاتا ہے کہ کوشش میں کسر نہیں چھوڑی مگر تقدیر میں کامیابی نہ تھی۔ تم قرآن مجید کی تلاوت کو ضرور سمجھو۔ سنت رسولﷺ کی تعلیم حاصل کرو اور بزرگان دین کے طور طریقوں پر کاربند رہو۔ دیکھو اپنی مجلسوں میں فضول گفتگو نہ کیا کرو‘‘۔ (ماہنامہ چشم بیدار۔ فروری2021ۓء)

