اس دھرتی کو بیٹیوں کے لیے جہنم نہ بنائیے

ڈاکٹر عصمت طور کی خودکشی کے حوالے سے لکھی گئی تحریر

ہمارے معاشرے میں جس طرح صنفِ نازک کے ساتھ سنگ دل اور بے رحم افراد قانون کا عملاً صحیح معنوں میں اطلاق نہ ہونے کی بنا پر ظلم و جبر کا سلسلہ روا رکھے ہوئے ہیں، کالم نگار نظام شیخ نے بروز اتوار 9 جنوری 2022ء کو اپنے زیر نظر کالم میں اسی حوالے سے خامہ فرسائی کی ہے، جس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
’’حکومت اور قانون کہاں ہے؟ اور میڈیکل کی طالبات کی لاشیں ملنے کا سلسلہ آخر کب ختم ہوگا؟ یہ سوال ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں جنم لے رہا ہے۔ اگرچہ زندگی اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، اور زندگی بے حد خوبصورت اور حسین ہے۔ یہ درد تو بے اولاد والدین ہی جان سکتے ہیں۔ خوبصورت زندگی کا احساس کوئی ہاتھ پائوں سے معذور اور آنکھوں کی روشنی سے محروم فرد ہی کرسکتا ہے۔ والدین کا خواب ہوتا ہے کہ اولاد بڑی ہوکر عالمِ پیری میں ہمارا سہارا بنے گی، لیکن جب میڈیکل کے شعبے جیسے مقدس اعلیٰ ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیاں، بیٹیاں جو بیماروں کا علاج کرکے انہیں شفایاب کرنے اور موت کے منہ میں جاتے ہوئے غریب مسکین افراد کا علاج کرکے انہیں نئی زندگی عطا کرنے کی خاطر دن رات محنت کرتی ہوں، ان مسیحائوں کی نعشیں ملنے کے متواتر دل دہلا دینے والے واقعات والدین کے لیے کسی چٹان تلے آکر کچلے جانے سے کم نہیں ہیں۔
ایسی درد بھری کتھا طالبہ عصمت کے والدین کی بھی ہے۔ دو ماہ کے دوران دادو سے تعلق رکھنے والی میڈیکل میں پڑھنے والی چوتھے سال میں زیر تعلیم دو طالبات کی نعشیں ملنے کے افسوس ناک واقعات نے سماج کا دل زخمی کر ڈالا ہے۔ نواب شاہ میں زیر تعلیم میڈیکل کی طالبہ عصمت کی گولی زدہ نعش سیتا روڈ میں واقع اس کے گھر سے ملنے کے واقعے سے ڈیڑھ ماہ پیشتر چانڈکا لاڑکانہ کے ہاسٹل سے سندھ کے عظیم شاعر استاد بخاری کی نواسی دادو کی رہائشی بیٹی ڈاکٹر نوشین شاہ بخاری کی پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی۔ سندھ میں آئے روز عورتوں پر تشدد، بے جوڑ شادیاں، مال و جائداد ہڑپ کرنے کے لیے عورتوں پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں موت کی نیند سلانے، غیرت کی آڑ میں کارو کاری کے من گھڑت الزامات، بچیوں سے ظلم و زیادتی اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں جس کی وجہ سے جنت جیسی سندھ دھرتی بچیوں اور بیٹیوں کے لیے جہنم جیسا عذاب بنانے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں بظاہر تو میڈیکل کی طالبات کی لاشیں ملنے پر مبنی واقعات بھی معمول کے کیس گردانے جارہے ہیں، لیکن ان الم ناک واقعات کے پس پردہ والدین کے لیے بے انتہا درد پل پل کے عذاب بن کر چبھتے ہیں کہ آخر ایسی کون سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے بچیوں نے اپنی زندگی کا چراغ آپ ہی گل کرڈالا۔
ڈاکٹر نوشین کے خون سے تاحال انصاف نہیں ہوسکا ہے۔ واقعے کے پسِ پردہ خفیہ چھپے ہوئے ہاتھ یا ذمے دار ملزمان بھی ظاہر نہیں ہوسکے ہیں۔ متاثرہ دُکھی خاندان اور اہلِ دادو کے دلوں سے تاحال نوشین کی موت کا صدمہ ختم نہیں ہوا ہے اور سوگ ابھی تک ان پر طاری ہے۔ اس پر مستزاد گزشتہ روز ڈاکٹر عصمت کی مبینہ خودکشی کے واقعے نے ان پر ایک طرح سے گویا سکتہ کی کیفیت طاری کردی ہے کہ بیٹیاں اور بچیاں جنہیں ہمارے معاشرے میں ماں، بہن، بیوی اور دیگر رشتوں کے حوالے سے بے حد عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ہماری یہ بیٹیاں رہزنوں کی بُری نگاہوں کا مرکز بنتی جارہی ہیں۔ ہمارا یہ معاشرہ آخر کس طرف جارہا ہے؟ بچیوں کو تنگ کرنے والے افراد کے روپ میں بھیڑیے آخر کسی قسم کی قانونی کارروائی سے کس لیے محفوظ ہیں؟ بہت سارے سوالات اس حوالے سے جنم لے رہے ہیں کہ کیا وحشی ملزمان کو کبھی سزا نہیں مل پائے گی؟ اور کیا نوجوان بیٹیوں، بچیوں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری رہے گا؟ اگر واقعتاً یہ صحیح ہے تو پھر ہمارے معاشرے کے لیے یہ بڑا المیہ گردانا جائے گا۔ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ ان واقعات کی اصل ذمے دار حکومت ہے۔ قانون پر صحیح عمل درآمد نہیں ہوتا، اور سزا و جزا کا عمل ایک لحاظ سے یکسر ناپید ہوچکا ہے۔
ہر شعبۂ زندگی کے افراد نائلہ، ڈاکٹر نمرتا کماری اور ڈاکٹر نوشین کی مثال دیتے ہیں کہ اگر میڈیکل کی ان طالبات کے خون سے انصاف ہوتا اور پردے کے پیچھے چھپے ہوئے اصل ذمے داران کو سخت سے سخت سزائیں دی جاتیں تو شاید دیگر بچیوں کی نعشیں ملنے کا سلسلہ بند ہوچکا ہوتا۔ اگرچہ حال ہی میں پیش آنے والے نوشین شاہ کے واقعے کے ذمے داران کو سزا دلانے کے لیے سارا سندھ سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ سیاسی، سماجی، کاروباری، علمی، ادبی تنظیموں، طلبہ و اساتذہ نے احتجاجی مظاہرے کیے، دھرنے دیے، بھوک ہڑتالیں کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دادو سے منتخب شدہ حزبِ اقتدار کے تمام ارکانِ صوبائی اسمبلی کے ساتھ سندھ اسمبلی میں حزبِ مخالف کے ارکان وغیرہ نوشین شاہ کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کے لیے ان کے ہاں پہنچے اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی، لیکن ابھی تک ذمے داران کسی بھی قسم کی کارروائی سے محفوظ ہیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاسکا ہے۔ نتیجتاً عصمت کے روپ میں دوسرے مہینے دادو کی ایک اور طالبہ کی لاش ملی ہے۔ پولیس ہر بار روایتی لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ پہیلی اور معما بننے، اور ملزمان ظاہر نہ ہونے کے جواز تراشتے ہوئے بچیوں اور بیٹیوں کی زندگی ختم کرکے موت جیسے واقعات کو بھی داخلِ دفتر کرتی رہی ہے، لیکن ڈاکٹر عصمت کے واقعے کے ملزمان ظاہر ہوچکے ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک یہ خبریں سامنے آچکی ہیں کہ طالبہ عصمت کو دو برس سے شمن سولنگی نامی شخص بلیک میل اور ہراساں کررہا تھا۔ اس نے ڈاکٹر عصمت سے پیسے بھی لیے اور منظم گروہ کے ساتھ مل کر جعلی نکاح نامہ تیار کرواکر ڈاکٹر عصمت کی زندگی کو ایک طرح سے زہر کر ڈالا تھا اور جہنم بنادیا تھا۔ ڈاکٹر عصمت کے خودکشی کرنے سے پہلے تک اس کے والدین حصولِ انصاف کے منتظر رہے۔ ڈاکٹر عصمت سے کی جانے والی ان زیادتیوں کے خلاف پولیس کو بھی مطلع کیا گیا، تھانہ میں کیس بھی داخل ہوا، لیکن قانون کے نفاذ کے تمام ادارے اس عرصے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش تماشائی بنے رہے۔ ذمے دار ملزم قانون کی پکڑ میں نہیں آیا اور بالآخر طالبہ ڈاکٹر عصمت نے عالم ِمایوسی میں اپنی زندگی کا دیا آپ ہی بجھا ڈالا۔
میڈیکل کی طالبات کی نعشیں ملنے کے واقعات نہ صرف اُن کے والدین کے لیے لحظہ لحظہ عذاب بن کر سامنے آئے ہیں بلکہ سندھ کی ہر بیٹی کا والد بھی درحقیقت اس وقت سوگوار اور سکتے کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ان کے اذہان میں سیکڑوں سوالات ابھرے ہیں کہ سرکار، پولیس اور دیگر انصاف دینے والے ادارے آخر کس مرض کی دوا ہیں اور کس کام میں مصروف ہیں؟ کہ وحشی ملزمان بے خوف و خطر ہر جا قانونی کارروائی سے محفوظ دندناتے پھر رہے ہیں۔ آخر سندھ میں بچیوں اور بیٹیوں کی عزتیں کیوں غیر محفوظ ہیں؟ بچیوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے والے ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ مستقبل کی معمار طالبات کی نعشیں ملنے کا سلسلہ بند ہوسکے، کیوں کہ لاکھوں لڑکیاں اس وقت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔
مذکورہ واقعات کی وجہ سے اُن کے والدین بجا طور پر خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ معاشرے میں اس وقت یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ ایسے واقعات کی وجہ سے سندھ کی بچیوں کی تعلیم کو شدید نوع کے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ سندھ کے علم، عقل، ادب، سمجھ اور شعور کو مقتل میں تبدیل کرنے والے رہزن ملزمان خواہ کوئی بھی ہوں اور چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، انہیں بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں، تا کہ آئندہ کسی کی بیٹیاں ظلم، زیادتی، تشدد کا شکار نہ ہوسکیں اور کسی اور ماں کی گود خالی نہ ہوپائے۔ امن، محبت، پیار، بھائی چارے کی علَم بردار سندھ کی سرزمین کو جہنم کی آگ بنانے جیسی سازشوں سے پاک کیا جائے۔