ہم مویشیوں کے گوبر فضلے سے میتھین کا اخراج کیسے روک سکتے ہیں؟ یہ بہت مشکل ہے۔ محققین ہر طرح کے خیال پر کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے ایسی ویکسین مویشیوں پر آزمائی ہیں، جوmethanogenic microbesگھٹاتی ہیں، تاکہ کسی طرح میتھین اخراج کی مقدار کم ہوجائے۔ اس سلسلے میں مویشیوں کی خوراک اور ادویہ میں خاص ردوبدل بھی کیا ہے۔
یہ کوششیں زیادہ تر ناکام رہی ہیں۔ تاہم ایک طریقہ مستثنا ہے، اسے 3-nitrooxypropanolکہا جاتا ہے۔ یہ مرکب تیس فیصد میتھین اخراج گھٹا دیتا ہے۔ مگرفی الوقت یہ مرکب جانور کو دن میں ایک بار ہی دیا جاسکتا ہے۔ یہ مرکب ابھی اکثر استعمالات میں زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔
تاہم اس یقین کی وجہ اب بھی موجود ہے کہ ہم میتھین اخراج کم کرسکتے ہیں، اور ہم ایسا بغیر کسی نئی ٹیکنالوجی اورگرین پریمیم کے کرسکتے ہیں۔ کہاں کے مویشی کتنی میتھین خارج کرتے ہیں، اس کا انحصار اُن کے جغرافیہ اور ماحولیات پر ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی امریکہ کے مویشی شمالی امریکہ کے جانوروں سے پانچ گنا زائد گرین ہاؤس گیس خارج کرتے ہیں، اور افریقہ کے مویشی اور بھی زیادہ میتھین خارج کرتے ہیں۔ اگر ایک گائے شمالی امریکہ یا یورپ میں نشوونما پارہی ہے، اس کا مطلب ہے وہ زیادہ بہتر دودھ اور گوشت مہیا کررہی ہے۔ اس کی طبی دیکھ بھال بھی مناسب ہورہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کم میتھین خارج کررہی ہے۔
اگر ہم ان مویشیوں کی بہتر نشوونما وسیع پیمانے پر کریں، خاص طور پر افریقی گائے کی کراس نسلی افزائش بہت زیادہ بارآور ہوسکتی ہے، اس طرح کاربن اخراج میں کمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اسی طرح ہم کھاد کی کھپت اور اس سے کاربن اخراج پر بھی قابو پاسکتے ہیں۔ امیر دنیا کے کسانوں کے پاس ایسی بہت سی تکنیک ہیں، جن سے کھاد سے کاربن کا اخراج کافی گھٹایا جاتا ہے۔ جوں ہی یہ تکنیک مزید سستی دستیاب ہوگی، کسان زیادہ سے زیادہ کاربن اخراج گھٹا سکیں گے اور اچھی آمدنی کما سکیں گے۔
سبزی خوری شاید ایک اور حل ہوسکتا ہے: وہ یہ کہ کاربن اخراج خاتمے کے ان سارے طریقوں کے بجائے ہم مویشیوں کی نشوونما ہی روک دیں۔ اس دلیل کوسنا جاسکتا ہے، مگر میں نہیں سمجھتا کہ یہ حقیقت پسندی پرمبنی ہوسکتی ہے۔ پہلی بات، گوشت انسانی ثقافت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا بھر میں، اور جہاں گوشت کی کھپت بہت کم بھی ہے، تقریبات اورتہواروں پرگوشت سے ضیافت بہت اہم تصور کی جاتی ہے۔
فرانس میں کھانے کا مینیوگوشت یا مچھلی سے شروع ہوتا ہے، اور یہ وہاں کی سرکاری ثقافتی روایت کا لازمہ ہے۔ لیکن ہم گوشت کا مزہ قائم رکھتے ہوئے بھی اس کا استعمال کم کرسکتے ہیں۔ ایک طریقہ نباتی گوشت (plant-based)ہے: یہ نباتی پراڈکٹس گوشت کا ذائقہ مہیا کرتی ہیں۔ اس قسم کا مصنوعی گوشت زیادہ مزے دار ہوتا ہے۔ یہ گائے کے گوشت کا اچھا متبادل ہوتا ہے۔ یہ ماحولیات کے لیے بھی اچھا ہوتا ہے، کیونکہ یہ کم سے کم زمین پرکم پانی سے تیار ہوجاتا ہے، اورکم کاربن خارج کرتا ہے۔ اس کی پیداوار کے لیے تمہیں زیادہ دانوںکی ضرورت بھی نہیں۔ اس سے اجناس کی پیداوارکا دباؤ اور کھاد کا استعمال بھی کم ہوجائے گا۔ اس طرح مویشی پالنے کی شرح بھی کم ہوجائے گی۔
مصنوعی گوشت کی تیاری میں بھاری گرین پریمیم لگتا ہے۔ اگراوسط نکالا جائے تو گائے کا مصنوعی گوشت اصل سے 86 فیصد زیادہ مہنگا پڑتا ہے، لیکن جیسے جیسے ان متبادلات کی خرید وفروخت بڑھتی جارہی ہے، میں پُرامید ہوں کہ یہ جانور کے اصل گوشت سے سستا ہوجائے گا۔ اس وقت جو اصل سوال مصنوعی گوشت کے بارے میں پیدا ہوتا ہے وہ لاگت کا نہیں بلکہ ذائقے کا ہے۔ یہ بہت مشکل ہے کہ لوگوں کویہ سوچنے پرمائل کیا جائے کہ وہ اصلی چکن یا تکہ بوٹی کھا رہے ہیں۔ کیا لوگ صرف مصنوعی گوشت سے مطمئن ہوجائیں گے، اور اصل گوشت کھانا چھوڑ دیں گے؟ کیا اس طرح کوئی اہم تبدیلی آپائے گی؟
ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ برینڈز Beyond Meat اور Impossible Foods عمدہ کام کررہے ہیں۔ سیاٹل سمیت بہت سے شہروں میں ان کا کام کمال کا ہے۔ اس میں شاید ایک دہائی اور لگ جائے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جیسے جیسے مصنوعی گوشت کی مصنوعات بہتر ہوں گی، سستی ہوں گی، ان کی پذیرائی بڑھے گی۔ وہ لوگ جو بدلتی ماحولیات سے خائف ہیں، انہیں ایسی مصنوعات کی پذیرائی کرنی چاہیے۔
ایک اور طریقہ ہے، نباتی گوشت کی پیداوار کے بجائے گوشت لیبارٹری میں تیار کیا جائے، یہ خلیات سے تیار (cell-based meat)کیا جارہا ہے۔ اس خلیاتی گوشت (cell-based meat) پر دو درجن اسٹارٹ اپ کمپنیاں کام کررہی ہیں۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ گوشت جعلی نہیں ہے۔ مصنوعی گوشت میں برابر چربی، عضلات، اور نسیں موجود ہوتی ہیں، جو کسی بھی چوپائے میں پائے جاتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ اسے فارم کے بجائے لیب میں تیار کیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے اسے جانوروں سے لیے گئے خلیات سے شروع کیا ہے۔ یہ خلیات جیسے جیسے ضرب دیے جائیں گے، گرین ہاؤس گیس اخراج کا خاتمہ ہوجائے گا، یا اس میں بہت حد تک کمی آجائے گی۔ تاہم اس طریقے کا مسئلہ لاگت ہے، یہ مہنگا سودا ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ کس طرح اس لاگت کو کم کیا جاسکتا ہے۔
ایک اور آخری طریقہ بھی ہے جس سے کاربن اخراج کم کیا جاسکتا ہے۔ ہم خوراک کا زیاں کم سے کم کردیں۔ (باقی صفحہ 41 پر)
یورپ، ایشیا کے صنعتی حصے، اور صحرائے افریقہ میں 20 فیصد خوراک پھینک دی جاتی ہے، اور سڑنے کے لیے چھوڑدی جاتی ہے۔ یہ شرح امریکہ میں 40 فیصد ہے۔ یہ بات اُن غریبوں کے لیے بہت تکلیف دہ ہے جنہیں گوشت میسر نہیں۔ یہ معیشت اور ماحولیات کے لیے بُری بات ہے۔ جب ضایع شدہ کھانا سڑتا ہے تو خاصی مقدار میں میتھین خارج کرتا ہے، ہر سال فضا میں 3.3 ارب ٹن کاربن چھوڑتا ہے۔
سب سے اہم بات رویّے میں تبدیلی ہے، یہ ضرورت سے بہت زیادہ کا استعمال ہے۔ مگر ٹیکنالوجی مدد کرسکتی ہے۔ دوکمپنیاں اس وقت نباتی کوٹنگ کے ذریعے پھلوں اور سبزیوں کی پائیداری بہتر بنانے پر کام کررہی ہیں، وہ ایسا کرسکتی ہیں، اور اس سے ذائقے میں کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔
(جاری ہے)

