کتاب
:
رودادِ سیاست (2)
مصنف
:
محمد نواز رضا
ضخامت
:
352 صفحات
قیمت
:
1500 روپے
ناشر
:
قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل،یثرب کالونی بیک اسٹاپ، والٹن روڈ، لاہور، چھائونی
رابطہ
:
0300-0515101-0323-4393422
برقی پتا
:
qalamfoundation3@gmail.com
برادر محترم حاجی محمد نواز رضا کی صحافت سے وابستگی کا قصہ نصف صدی سے زائد پر محیط ہے، خاندانی لحاظ سے اگرچہ ایک کاشت کار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ذاتی رجحان صحافت کی جانب ہونے کے سبب 1970ء میں اس شعبے سے وابستہ ہوئے اور پھر ثابت قدمی سے ساری عمر اس دشت کی سیاحی میں بسر کردی، جہاں آغا شورش کاشمیری، الطاف حسن قریشی، مجید نظامی، محمد صلاح الدین، مجیب الرحمٰن شامی، سید اصغر بخاری اور سید سعود ساحر جیسے بلند پایہ اہلِ قلم سے استفادے کا موقع ملا۔ چالیس برس سے زائد ’’نوائے وقت‘‘ سے وابستہ رہنے کے بعد گزشتہ برس چیف رپورٹر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے اور آج کل ’’جنگ‘‘ میں کالم نویسی کے علاوہ سماجی ذرائع ابلاغ پر سیاسی تجزیے کرتے ہیں۔ صحافت کے آغاز میں ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ اور روزنامہ ’’جسارت‘‘ سے بھی وابستہ رہے… صحافتی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے اور سولہ برس تک مسلسل راولپنڈی، اسلام آباد پریس کلب کا صدر منتخب ہوکر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 1986ء میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے قیام کے وقت اوّل روز سے اس سے وابستہ ہوئے، انہیں پہلا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ آج کل تیسری بار اس کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔
’’رودادِ سیاست۔2‘‘ حاجی نواز رضا کے کالموں کا مجموعہ ہے جس کا پہلا حصہ قبل ازیں شائع ہوکر شائقینِ سیاست و صحافت سے سندِ قبولیت حاصل کرچکا ہے۔ پہلے حصے میں ان کے 2014ء اور 2015ء کے برسوں میں شائع ہونے والے کالم شامل تھے، جب کہ دوسرا حصہ یکم جنوری 2016ء سے 30 جون 2017ء کے عرصے میں شائع شدہ کالموں کا مجموعہ ہے۔ تیسرے حصے میں یکم جولائی 2017ء سے 2020ء تک کے کالموں کو یکجا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اپنی تحریروں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے حصہ دوئم کے پیش لفظ میں محمد نواز رضا یوں رقم طراز ہیں:
’’مجھ پر یہ ’الزام‘ ہے کہ میری بیشتر تحریروں کا محور میاں نوازشریف اور چودھری نثار علی خان رہے ہیں، یا میں نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس الزام میں کسی حد تک صداقت بھی ہے، میں مسلم لیگ (ن) کی سیاست پر اتھارٹی رکھتا تھا، میری مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت تک ذاتی طور پر رسائی ہے، لیکن میں نے اُن کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا ہے اپنے دل و دماغ سے لکھا۔ کبھی کسی کے کہنے پر یا ایما پر نہیں لکھا…‘‘
پیش لفظ کے آخری پیراگراف میں وہ مزید لکھتے ہیں:
’’میں نے جماعت اسلامی کی سیاست پر بھی قلم اٹھانے کی جسارت کی ہے۔ میرے کالموں میں جماعت اسلامی کے لیے جہاں محبت کے زمزمے پھوٹتے نظر آتے ہیں وہاں اس کے اندازِ سیاست پر نشتر بھی چلائے ہیں۔ میں نے پیپلز پارٹی کے اندازِ سیاست پر بھی نشتر چلائے ہیں۔‘‘
ممتاز کالم نویس جو بعد ازاں میاں نوازشریف کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوکر سیاست کی نذر ہوگئے اور بطور وزیراعظم میاں نوازشریف کے مشیر بن کر کوچۂ صحافت کو خیرباد کہہ گئے ’’رودادِ سیاست۔2 ‘‘ میں ’’نواز رضا ایک دبستان‘‘ کے عنوان سے بجا طور پر لکھتے ہیں:
’’پاکستان کی سیاست میں ایسا کون سا قابلِ ذکر نام ہے جس سے نواز رضا کی دوستانہ قربت نہ رہی ہو! اس قربت میں اس پیشہ ورانہ لگن کے سوا کوئی آلائش نہ تھی۔ تین بار وزیراعظم رہنے والے محمد نوازشریف سے ان کا بے تکلف یارانہ رہا، میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ یہ یارانہ نذر، نیاز اور نذرانہ سے ہمیشہ پاک رہا۔ نواز رضا نے کبھی اپنی پیشہ ورانہ صحافت کی عصمت داغ دار نہ ہونے دی۔ خبر، اس کی تلاشِ پیہم کا عنوان جلی رہا اور بس۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں برسوں نواز رضا کی صحافت کا طوطی بولتا رہا، وہ خونِ جگر سے اپنے اخبار کی آبیاری کرتا رہا۔ وہ عامل صحافیوں کی آواز بن کے گونجتا اور ان کے حقوق کا پاسبان بن کر میدانِ عمل میں دندناتا رہا۔‘‘
’’رودادِ سیاست۔2‘‘ کا انتساب نواز رضا نے اپنے مرحوم والدین کے نام ان الفاظ میں کیا ہے:
’’مرحوم والدین کے نام… جن کی محبت آج بھی میرے وجود کے گرد ہالہ کیے ہوئے ہے اور جن کی دعائیں میری کامرانی اور ظفرمندی کا واحد ذریعہ ہیں۔‘‘
کتاب میں 90 کے قریب کالم شامل ہیں جن میں زیادہ تر سیاست اور اس کے اتار چڑھائو سے متعلق تبصروں پر مشتمل ہیں، جب کہ حالاتِ حاضرہ سے متعلق بعض دیگر موضوعات پر کالم بھی کتاب میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کتاب ملک کی سیاست کے حقائق سے دلچسپی رکھنے والوں خصوصاً نوواردانِ صحافت کے لیے ایک اچھے رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔
عمدہ سفید کاغذ پر معیاری طباعت سے آراستہ کتاب مضبوط جلد، بامقصد رنگین سرورق اور گرد پوش سے مزین ہے۔ توقع ہے کہ سیاسی، صحافتی اور تعلیمی حلقوں میں کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا اور نئی نسل اس سے خاطر خواہ استفادہ کرے گی۔

