وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے خلاف تحریک ِعدم اعتمادکی واپسی

خیبرپختون خوا اسمبلی میں حزب اختلاف نے گزشتہ جمعتہ المبارک کووزیراعلیٰ خیبرپختون خوا محمود خان کے خلاف جمع کرائی جانے والی تحریک عدم اعتمادپیر کواچانک غیر متوقع طورپر واپس لے لی ہے۔پیر کو شروع ہونے والے اجلا س کے دوران کے پی اسمبلی کے اسپیکر مشتاق احمد غنی نے ایوان کو بتایا کہ مشترکہ اپوزیشن جماعتوں نے اے این پی کے پارلیمانی لیڈرسردار حسین بابک،اے این پی کے سابق ڈپٹی اسپیکرخوشدل خان ایڈوکیٹ اور مسلم لیگ(ن) کی ممبر صوبائی ا سمبلی صوبیہ شاہد کی جانب سے سپیکر کولکھے جانے والے ایک خط کے ذریعے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں پیدا ہونے والے سیاسی اور آئینی بحران کے تناظر میں کے پی اسمبلی کو ممکنہ تحلیل سے بچانے کے لیے پیش کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ کے پی میں متحدہ اپوزیشن صوبے میں جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کے استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے سرکاری بنچوں کو مشورہ دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی جیسے حالات پیدا نہ کریں۔پیپلز پارٹی کی ایم پی اے نگہت یاسمین اورکزئی نے کہا کہ ٹریژری بنچوں کو وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر مشترکہ اپوزیشن کو سراہنا چاہیے۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان نے کہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں ہیں اور ان سے اس حوالے سے من گھڑت اور جھوٹ پرمبنی بات منسوب کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا موجودہ سیاسی بحران اور صورتحال کے حوالے ایک واضح موقف ہے، جس کی ملک کے عوام اور سنجیدہ طبقوں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت مفاد پرستی پر مبنی اس گندے سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنے گی اور اپنے آزادانہ موقف اور پالیسی کے تحت ملک میں صاف ستھری سیاسی کلچر کے فروغ اور وطن عزیز کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے مشن پر کاربند رہے گی۔اس موقع پر ایم پی اے سلطان محمد خان نے وزیراعلیٰ محمود خان کے حق میں قرارداد پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔سلطان محمد نے کہا کہ ایوان نے وزیراعلیٰ محمود خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ان کے کام کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمودخان نے روایات کے مطابق حکومت چلائی اور کے پی کے ساتھ ساتھ انضمام شدہ اضلاع میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے۔اس دوران وزیر خزانہ اور اپوزیشن بنچوں نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔
دریں اثناء وزیراعلی خیبر پختون خوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے وزیراعلی محمودخان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے عمل کو بوکھلاہٹ کے ثبوت سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خیبر پختون خوا اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ایک ناکام کوشش کی گئی لیکن اپنی اوقات کو جانچتے ہوئے انہوں نے تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے۔ عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ قائد اعظم ثانی عمران خان کے خلاف بین الاقوامی شیطانی قوتوں کی کوشش وقتی طور پر تو کامیاب ہو چکی ہے لیکن اب اسے عوامی طاقت کے زور پر سمندر برد کر دیں گے۔عمران خان کی قیادت میں غریب عوام ایک دفعہ پھر چالیس چوروں کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ خیبر پختون خوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 145 رکنی ایوان میں 94 ارکان کے ساتھ واحد سب سے بڑی جماعت ہے، جب کہ 51 ارکان اسمبلی کا تعلق اپوزیشن کی مختلف جماعتوں سے ہے جن میں جماعت اسلامی کے تین ممبران بھی شامل ہیں جو ایک واضح پالیسی کے تحت مرکز اور صوبے میں عدم اعتماد کی تحریک سے لاتعلق رہے ہیں۔عدم اعتماد کا نوٹس اپوزیشن ارکان کے ایک گروپ نے اسمبلی کے سیکرٹری کفایت اللہ آفریدی کو ان کے دفتر میں جمع کرایاتھا۔
نوٹس جمع کرانے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے سردار حسین بابک، خوشدل خان اور شگفتہ ملک، پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم پی اے نگہت اورکزئی، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے ایم پی اے میاں نثار گل اور بلوچستان عوامی پارٹی کے بلاول آفریدی شامل تھے۔نوٹس پر مشترکہ اپوزیشن کے 36 قانون سازوں کے دستخط تھے جن میں ایم ایم اے کے 17، اے این پی کے 12، پیپلز پارٹی کے چھ اور جماعت اسلامی کے ایک رکن کے دستخط بھی شامل تھے۔
یاد رہے کہ عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے پی ٹی آئی کے سترہ ارکان اسمبلی کے توڑنے کا دعویٰ کیاتھا۔بعض ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کو حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی، جس میں ناکامی کی صورت میں اپوزیشن کی طرف سے بھی تعاون دینے کاعندیہ دیا گیا تھاجس پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے اپوزیشن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے میڈیاکو بتایا تھا کہ اگلے بجٹ میں فنڈز کے حصول کے لیے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی بھی پی ٹی آئی کی حمایت کریں گے۔دوسری جانب اس سلسلے میں پی ڈی ایم کے ایک اعلی عہدیدار کاکہناتھاکہ پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ، ملاکنڈ ڈویژن اور جنوبی اضلاع سے پی ٹی آئی کے مختلف ایم پی ایز اور ہزارہ ڈویژن سے بھی بعض ایم پی ایز کے ساتھ مذاکرات کیے گئے ہیں جبکہ نصف درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی نے بھی اگلے انتخابات میں اے این پی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ساتھ جانے کا عندیہ دیا ہے۔میڈیا کے بعض ذرائع کاکہنا تھاکہ اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز پر واضح کیا ہے کہ پارٹی کے اندر سے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے کی صورت میں اپوزیشن کی طرف سے ان ہاؤس تبد یلی کی حمایت کی جائے گی جبکہ اندرونی طور پر ناکام ہونے کی صورت میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدوارمنحرف ارکان کی مدد سے اسمبلی میں تبدیلی لائیں گے۔جب کہ تیسری جانب ذرائع کے مطابق خیبر پختون خوا اسمبلی تحلیل کیے جانے کا خدشہ تھا اس وجہ سے جمعہ کے روزتحریک عدم اعتماد کا مسودہ جمع کرایا گیاتھا۔
متحدہ اپوزیشن جس کی صوبائی اسمبلی میں عددی پوزیشن بظاہر بہت کمزور اور منتشر ہے کی جانب سے جب تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرائی جا رہی تھی تو غیر جانبدار سیاسی مبصرین نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا تھا لیکن مرکز اور پنجاب میں چلنے والی تبدیلی کی ہواوئوں اور اکثریت کی اقلیت میں تبدیل ہوتی ہوئے عملی مظاہرے کے نتیجے میں یوں لگ رہا تھا کہ اپوزیشن نے پی ٹی آئی کی واضح اکثریت کے خلاف کمزور بنیادوں کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک کچھ دیکھ کر پیش کی ہوگی خاص کر جیسے ایک موقع پر اپوزیشن کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہیں پی ٹی آئی کے سترہ منحرف ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہو گئی ہے تو اس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی صفوں میں ہلچل پیدا ہو گئی تھی بلکہ مبصرین بھی یہ نتائج اخذ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ شاید اپوزیشن خیبر پختون خوا اسمبلی میں بھی کوئی بڑا سرپرائز دینے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن اب جب متحدہ اپوزیشن نے اپنے قراردادخود ہی واپس لے لی ہے تو اس سے اگر ایک طرف صوبائی حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہوگا تو دوسری جانب صوبے میں ممکنہ سیاسی افراتفری کا خدشہ بھی فی الحال ٹل گیا ہے۔
البتہ یہاں یہ سوال جواب طلب ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کے نمبر پورے نہیں تھے تو پھر انھوں نے یہ انتہائی قدم آخر کس امید اور یقین دہانی کی بنیاد پر اٹھایا تھا۔ ثانیاًیہ کہ آخر دو دن کے اندر اندر ایسا کیاکچھ رونما ہو گیا ہے کہ اپوزیشن کو اپناتھوکا واپس چاٹناپڑا ہے۔ اس حوالے سے بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ درحقیقت ا پوزیشن میں پی ٹی آئی کو صوبائی اسمبلی کی واضح اکثریت کی موجودگی میں سرے سے یہ دم خم موجودہی نہیں ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی اکثریت کو توڑ سکے کیونکہ پی ٹی آئی کم ازکم خیبر پختون خوا کی حد تک اب بھی نہ صرف متحد ہے بلکہ زیادہ جارحانہ انداز میںسامنے آئی ہے جسکی عملی اظہار پی ٹی آئی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے کامیابی کے خلاف صوبے کے طول و عرض میں رمضان المبارک کے باوجود بھر پور احتجاج اور بروز بدھ کو پشاور میں ایک بڑے جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان اور اس سے عمران خان کا خطاب اور نئی منتخب حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز ہے۔