کیا ساری کی ساری کامیابی صرف یہ ہے کہ انسان مادّی اعتبار سے خوش حال ہو؟
دنیا بھر میں یعنی کم و بیش ہر معاشرے میں اکثریت اُن کی ہے جو غیر معمولی خواہش کے باوجود زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ کامیابی کا مفہوم ہر معاشرے میں کم و بیش یکساں ہے۔ دنیا کا ہر انسان کامیابی سے صرف یہ مراد لیتا ہے کہ بہت سی چیزیں ہوں جن سے وہ مستفید ہوتا رہے اور دوسرے اُسے دیکھ کر رشک کریں۔ زیادہ سے زیادہ مادّی سُکھ کو انسان اپنے لیے بڑی کامیابی سمجھنے کا ہمیشہ سے عادی رہا ہے۔ یہ بہت حد تک جبلّت کا معاملہ ہے۔
کیا واقعی کامیابی صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھا گھر ہو، گاڑیاں ہوں، گھر مختلف النوع اشیاء سے بھرا ہوا ہو، ہمارے پاس اتنا بینک بیلنس ہو کہ جب بھی کسی حوالے سے خدمات حاصل کرنا چاہیں تو حاصل کرلیں؟ کیا ساری کی ساری کامیابی صرف یہ ہے کہ انسان مادّی اعتبار سے خوش حال ہو؟ کیا مادّی خوش حالی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا؟ دنیا بھر میں کامیابی سے کیا صرف یہی سمجھا جاتا ہے کہ انسان کا اچھا کیریئر ہو، اچھی تنخواہ ہو، بہترین تعلیم و تربیت پانے کا موقع ملے، کسی شعبے میں خاص مہارت ممکن بنائی جائے اور لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھیں؟
کامیابی کے حوالے سے ذہنوں میں بہت سے سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا کا حصہ ہیں جس میں عام آدمی کامیابی کو صرف مادّی آسائشوں کے پیمانے سے ناپتا ہے، تولتا ہے۔ وہ اگر ایسا کرتا ہے تو کچھ خاص غلط نہیں کرتا، کیونکہ وہ یہی تو دیکھتا آیا ہے۔ ہر دور میں کامیابی سے صرف یہ مراد لی گئی ہے کہ انسان کے لیے بہت کچھ ہو، گھر بھرا ہوا دکھائی دے، خدمات میسر ہوں۔
آج دنیا بھر میں کامیابی کے گُر سکھانے کا دھندا عروج پر ہے۔ کیا کامیاب اور کیا ناکام، ہر معاشرے میں ایسے ماہرین کی کمی نہیں جو عام آدمی کو ڈھنگ سے جینے کے آداب اور طریقے سکھانے کے نام پر ایسا بہت کچھ بتا رہے ہیں جس کا بڑا حصہ اُس کے کسی کام کا نہیں۔ عام آدمی زیادہ سے زیادہ کامیابی چاہتا ہے مگر اس کے لیے جو کچھ کرنا ہے وہ اس پر تیار نہیں ہوتا۔ کامیابی کسے ملتی ہے اور کیسے ملتی ہے یہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ کسی بھی شعبے میں نام بنانے اور دام کمانے کے لیے انسان کو بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض شعبوں میں جسمانی محنت زیادہ ہے اور بعض میں ذہنی مشقت زیادہ درکار ہوتی ہے۔
بازار میں ایسی ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں جن کے مطالعے سے کوئی بھی جان سکتا ہے کہ بھرپور کامیابی کیسے مل پاتی ہے۔ کتابوں کے علاوہ کامیابی کے گُر سکھانے کے پروگرام بھی دستیاب ہیں۔ اب چونکہ سمعی اور بصری مواد کی تیاری بھی کوئی مسئلہ نہیں، اس لیے ایسی بہت سی آڈیو اور وڈیو فائلز بھی آسانی سے میسر ہیں جن کے ذریعے عام آدمی بھرپور کامیابی اور بلند تر معیارِ زندگی کے بارے میں بہت کچھ جان سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی اور زمانے کے مقابلے میں آج کامیابی کے بارے میں جاننا بہت آسان ہوگیا ہے۔ انٹرنیٹ کی مدد سے کامیابی کے بارے میں سب کچھ جانا جاسکتا ہے۔ تو کیا محض مطالعے سے کوئی کامیابی کے گُر سیکھ سکتا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی کامیابی کے بارے میں بہت پڑھے اور کچھ زیادہ کرنے کی لگن اپنے اندر محسوس کرے؟ اس سوال کا جواب اثبات میں بھی ہے اور نفی میں بھی۔
کامیابی کے بارے میں عام آدمی جو کچھ جاننا چاہتا ہے وہ سب کچھ کتابوں میں اُس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جو پڑھنے والے کو پسند آئے۔ آج شخصی ارتقا ایک باضابطہ موضوع ہے جس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں ہزاروں ماہرین کتابوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں اور کامیابی کے حوالے سے تحریک دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ کامیابی کے نسخے تجویز کرنے والا بیشتر مواد سطحی نوعیت کا ہے، اُتھلے پانیوں جیسا ہے۔ لوگ اس مواد کو پڑھ کر کچھ زیادہ حاصل نہیں کر پاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کامیابی سمیت کسی بھی موضوع کے بارے میں ایسی باتیں پڑھنا پسند نہیں کرتا جن میں زیادہ سنجیدگی اور گہرائی ہو۔ وہ اپنے مطلب کے جملے تلاش کرتا ہے اور اُن سے محظوظ ہوتا ہے۔ معاملات حِظ اٹھانے سے شروع ہوکر حِظ اٹھانے تک ختم ہوتے ہیں۔ عام آدمی کی یہ نفسی کمزوری کامیابی کے موضوع پر لکھنے والوں نے اچھی طرح بھانپ لی ہے۔ وہ ایسا مواد تیار کرتے ہیں جن میں راگ پاٹھ دیئے گئے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی شخص راتوں رات کامیابی سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔ کامیابی کبھی آسان نہیں ہوا کرتی، اور جو آسان ہو وہ کامیابی نہیں ہوتی۔ کسی کو اچانک کچھ مل جائے تو اِسے محض نصیب کا معاملہ سمجھیے۔ ایسے اتفاقات ہر دور میں اور ہر معاشرے میں ہوتے رہے ہیں۔ اِس ایک حقیقت کی بنیاد پر کوئی بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی بچوں کا کھیل ہے۔
آج شخصی ارتقا کے موضوعات پر لکھنے والے دن رات ایسا مواد تیار کررہے ہیں جس میں لوگوں کو یہ آسرا دیا گیا ہوتا ہے کہ وہ جب بھی چاہیں کامیابی کی طرف اپنا سفر پوری قوت کے ساتھ شروع کرسکتے ہیں۔ حقیقت کی دنیا میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ عام آدمی زندگی بھر غلطیاں کرتا رہتا ہے اور ڈھلتی ہوئی عمر میں جب بہت سے معاملات کو ایک ساتھ درست کرنے نکلتا ہے تب اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی وہ کرچکا ہے اُس کے اثرات سے چھٹکارا پانا ایسا آسان نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ شخصی ارتقا کے ماہرین اور تحریک دینے کی خاطر لکھنے اور بولنے والے یہ نکتہ زور دے کر بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی انسان کچھ بھی کرسکتا ہے اور یہ کہ کچھ کردکھانے کے لیے عمر کی بھی کوئی حد یا قید نہیں۔ یہ بات ایک خاص حد تک اور ایک خاص تناظر میں تو درست مانی جاسکتی ہے کہ انسان عمر کے کسی بھی مرحلے میں خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اپنے لیے ایک نئی دنیا پیدا کرسکتا ہے۔ ایسا ہوتا بھی آیا ہے، مگر یہ سب کچھ راتوں رات نہیں ہوتا اور محض سطحی تحریک پانے سے نہیں ہوتا۔ کسی بھی شعبے میں کامیابی یقینی بنانے کے لیے چند مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، متعلقہ ماحول کے تقاضوں کو سمجھنا پڑتا ہے۔
اپنے آپ کو کامیابی کے لیے ذہنی یا نفسی طور پر تیار کرنا ہر دور میں ایک جاں گُسل مرحلہ رہا ہے۔ عمومی سطح پر زندہ رہنا کبھی زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ گزارے کی سطح پر رہتے ہوئے جینا انسان کو کسی مشکل میں نہیں ڈالتا۔ وہ اپنے پسندیدہ معمولات کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ جب فقیدالمثال کامیابی کے لیے ذہن بنانا ہو تب اندازہ ہوتا ہے کہ بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔ بھرپور اور قابلِ رشک کامیابی بچوں کا کھیل نہیں۔ اِس کے لیے بہت پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ کامیابی کے نسخے تجویز کرنے والے عام آدمی کو دلاسا دیتے رہتے ہیں کہ ہمت کرو، کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے۔ انسان اگر چاہے تو بہت کچھ کرسکتا ہے۔ سوال چاہنے ہی کا تو ہے۔ کسی مضمون یا کتاب کو پڑھنے یا پھر کوئی تقریر یا انٹرویو سننے کے بعد کچھ کر دکھانے کی جو لگن پیدا ہوتی ہے وہ کچھ ہی دیر میں دم توڑ دیتی ہے۔ زمینی حقیقتیں انسان کو تھوڑی ہی دیر میں بے دم کردیتی ہیں۔ کسی بھی شعبے کے کامیاب ترین افراد نے بہت چھوٹی عمر میں کچھ بننے کا فیصلہ کیا اور بن گئے۔ اگر کوئی پچاس سال کی عمر میں بھرپور کامیابی کی تحریک پائے تو کیا کرے؟ وہ دم لگاکر تھوڑی بہت کامیابی تو حاصل کرسکتا ہے مگر عمر کے اِس مرحلے میں اُس کے لیے اپنی کامیابی سے بھرپور حِظ اٹھانا ممکن نہیں ہوتا۔
میدان کھیلوں کا ہو یا فنونِ لطیفہ کا، شعبہ علم و ادب کا ہو یا کاروبار کا، کسی بھی انسان کو بھرپور کامیابی صرف اُس وقت ملتی ہے جب وہ اپنے گزشتہ وجود کو مٹاکر ایک نئے وجود کے ساتھ سفر شروع کرتا ہے۔ نئے وجود کا مطلب یہ ہے کہ سوچ کے ساتھ اعمال بھی بدلنا پڑتے ہیں، چند پرانی عادتیں ترک کرنا پڑتی ہیں، وقت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہوئے چلنا پڑتا ہے، معمولات کا جائزہ لے کر ہر وہ چیز ترک کرنا پڑتی ہے جو نقصان پہنچا رہی ہو یا وقت ضایع کررہی ہو۔ کسی بھی انسان کے لیے وقت ہی سب کچھ ہے، یہی سب سے بڑی دولت ہے۔ اگر کچھ کرنا ہے تو وقت کو سب کچھ سمجھتے ہوئے چلنا پڑے گا۔ وقت سے بخوبی مستفید ہونے کے لیے انسان ٹائم مینجمنٹ کے طریقے سیکھتا ہے۔ ٹائم مینجمنٹ دراصل اپنے وجود کی مینجمنٹ ہے۔ وقت اس بات کا محتاج نہیں کہ اُس کے نظم و نسق کے بارے میں سوچا جائے۔ نظم و نسق کے مرحلے سے تو انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ جو کامیابی کے حوالے سے سنجیدہ ہوتے ہیں وہ اپنے معاملات درست کرتے ہیں تاکہ وقت ضایع نہ ہو، یعنی جب بھی کچھ کرنا چاہیں تو اِس طور کریں کہ وقت کا بہترین استعمال ممکن ہو۔
ہر عہد کے انسان کے لیے وقت ہی سب سے اہم معاملہ رہا ہے۔ ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہوتا ہے وہ ایک خاص ٹائم فریم کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔ عمومی سطح پر ہم اس حقیقت کو نظرانداز کیے رہتے ہیں۔ جو لوگ کامیابی کے حوالے سے سنجیدہ ہوتے ہیں وہ ٹائم فریم کے معاملے کو کبھی نظرانداز نہیں کرتے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وقت کو ڈھنگ سے بروئے کار لائے بغیر وہ اپنے آپ کو بلند نہیں کرسکتے۔ وقت کے معاملے میں سنجیدہ رہنے کی صورت میں انسان اِس طور بدلتا ہے کہ پہچانا نہیں جاتا۔
کامیابی کی تحریک دینے والے بیشتر مصنفین اور مقررین یہ نکتہ نظرانداز کردیتے ہیں کہ شاندار کامیابی یقینی بنانے کے لیے انسان کو پوری طرح بدلنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی انسان عمومی انداز سے زندگی بسر کرتے ہوئے غیر معمولی کامیابی یقینی نہیں بناسکتا۔ جنہیں کسی بھی شعبے میں کچھ کر دکھانا ہو وہ نائن ٹو فائیو والے معمول کے ساتھ جیتے ہوئے کچھ خاص نہیں کر پاتے۔ اپنے آپ کو بدلے بغیر کوئی بھی انسان زیادہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ جس نے یہ راز جانا وہی کامیاب ہوا، اور کامیاب بھی ایسا کہ دنیا نے پھر اُسے بہ نگاہِ رشک دیکھا۔
کامیابی کے طریقے اور نسخے سیکھنے کے شوقین یہ نکتہ ذہن نشین رکھیں کہ کسی بھی شعبے میں مثالی نوعیت کی کامیابی اُسی وقت ممکن ہو پاتی ہے جب انسان اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بڑی کامیابی بڑی قربانیاں چاہتی ہے۔ شخصی ارتقاء کے بارے میں لکھنے اور بولنے والے عام آدمی کو یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ وہ عام آدمی کی طرح زندگی بسر کرتے ہوئے بہت کچھ پاسکتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں۔ عام آدمی کے طور پر جینے کی صورت میں زندگی عمومی ہی رہتی ہے۔ کچھ خاص کرنے کے لیے عام ڈگر سے ہٹنا پڑتا ہے۔ بعض شعبے غیر معمولی محنت کے طالب ہوتے ہیں۔ ایسی محنت اُسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی زندگی کے سانچے اور ڈھانچے کو اِس حد تک تبدیل کرے کہ لوگ پہچان نہ پائیں۔ محض کہنے، سننے اور سوچنے سے کامیابی نہیں ملتی۔ بیل اُس وقت منڈھے چڑھتی ہے جب انسان کچھ کرنے کا ذہن بناتا ہے۔ کامیابی کا ’’فنڈا‘‘ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بدلے، دنیا کو یقین دلائے کہ وہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ جب کوئی اپنے آپ کو کامیابی کے لیے بدلنے پر آمادہ ہوتا ہے تب طرزِ فکر و عمل بدل جاتی ہے۔ ایسا ہر انسان دُور سے پہچانا جاتا ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے، دوسروں کے لیے مثال بننے کی شدید خواہش و لگن کا حامل ہوتا ہے۔
کامیابی کے حوالے سے یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر دوسروں سے الگ دکھائی دینا ہے تو دوسروں سے الگ دکھائی دینا پڑے گا۔ عمومی طرزِ زندگی کے ساتھ کوئی بھی کچھ زیادہ نہیں کر پاتا۔ ہماری دنیا اُسی وقت بدلتی ہے جب ہم بدلتے ہیں۔ محض پند و نصائح سے کچھ نہیں ہوتا۔ کامیابی کے نسخے تجویز کرنے والے بیشتر معاملات میں محض راگ پاٹھ دیتے ہیں، بہلاتے پھسلاتے ہیں۔ اِس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ حقیقی کامیابی اُسی وقت ممکن ہو پاتی ہے جب انسان اپنے آپ کو بدلتا ہے، وقت کا بہترین استعمال یقینی بناتا ہے۔ کامیابی محض مادّی سُکھ کا نام نہیں۔ روحانی تسکین یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ کامیابی کی تحریک دینے والے یہ نکتہ اکثر نظرانداز کردیتے ہیں۔

